ایران کیلیئے معاہدے کا آخری موقعہ
صدر ٹرمپ نے حج وارننگ کے بعد ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ مؤخر کیا۔ اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر 28 فروری کو ماہ رمضان میں حملہ کیا تھا۔ امریکہ ایران پر کم از کم قربانی کی عید تک حملہ نہیں کرے گا۔ صدر ٹرمپ دیر یا بدیر اپنے بیانات بدلتے رہتے ہیں۔ ٹرمپ اپنے فیصلے بھی بدلنے میں دیر نہیں کرتے مگر وہ خلیجی ممالک اور پاکستان کو ناراض کر کے ایران پر حملہ کرنے کی غلطی بھی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ایران پر گزشتہ اسرائیل امریکی حملے میں عرب ممالک کی خاموش مرضی شامل تھی۔ اس بار حملے کو ملتوی کرنے کے بارے خود ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر حملے کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے کہنے پر موخر کیا ہے۔ اس معاملے پر صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان دوبارہ تلخی کلامی ہوئی۔ اسرائیل ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی ضد پر اڑا ہوا ہے۔ جب صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے اسے بتایا کہ ثالث ایک ایسے معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس پر امریکہ اور ایران دستخط کریں گے تو نیتن یاہو نے ٹرمپ کے اس فیصلے سے شدید اختلاف کرتے ہوئے غم و غصے کا اظہار کیا جس سے صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو آڑے ہاتھوں لیا۔ صدر ٹرمپ کے کچھ وقت کے لیئے ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کے فیصلے سے مذاکرات اور ان کے کامیاب ہونے کا واقعی امکان پیدا ہو گیا ہے۔
ٹرمپ بار بار اعلان کرتے ہیں کہ وہ ایران کو کیمیائی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ دونوں ممالک یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ عنقریب ڈیل ہو رہی ہے مگر ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر سائن بھی نہیں ہوئے ہیں۔ پھر ایسا ہوتا ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کو دھمکی دیتے ہیں اور ڈیل ہوتے ہوتے رہ جاتی ہے۔ اس وقت بھی پاکستان کے وزیر داخلہ اور فیلڈ مارشل ایران کے دورے پر ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ڈیل ہو گئی ہے اور پاکستانی حکام ایرانی قیادت کو اس ڈیل پر سائن کرنے پر راضی کرنے کے لیئے گئے ہیں۔ اسی دوران ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنائی کا ایک بیان سامنے آیا ہے کہ ایران اپنی افزودہ یورینیئم کسی دوسرے ملک میں منتقلی کی اجازت نہیں دے گا۔ صدر ٹرمپ مارچ کے وسط میں اس جنگ سے نکلنا چاہتے تھے۔ یورپی ممالک اور برطانیہ نے اس جنگ میں ٹرمپ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا اور امریکا میں یہ جنگ بہت غیر مقبول ہو گئی تھی۔ ٹرمپ کی خواہش پر پاکستانی قیادت نے ایران کے ساتھ سیز فائر کی کوشش شروع کی تو ایرانی قیادت سیز فائر پر آمادہ نہیں تھی۔ حالانکہ ایرانی ملاوں پر مبنی قیادت اچھی طرح جانتی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ جہاں ایران میں رجیم چینج کرنا چاہتے ہیں وہاں وہ ایران کو جلد یا بدیر تین ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں یعنی وہ ایران کے تین ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی قوم کو متحد کر دیا جس سے اسرائیل امریکہ کا یہ خفیہ منصوبہ وقتی طور پر ناکام ہو گیا۔ جب سے پاکستان سیز فائر کیلئے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے ایرانی قیادت نے بارہا کہا ہے کہ ٹرمپ ناقابلِ اعتبار ہے۔ ایران کے مطابق ٹرمپ ایک طرف ایران کے ساتھ مذاکرات کرتا ہے اور دوسری طرف ایران پر حملہ کر دیتا ہے۔ ایران اسی صورت میں امریکہ سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے جب صدر ٹرمپ ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے گا۔ پاکستان نے ایرانی قیادت کا جواب ٹرمپ تک پہنچا دیا۔ ٹرمپ نے بھی یقین دلایا کہ وہ تیسری دفعہ ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ اس وقت امریکہ ایک جامع معاہدے کیلئے تیار ہے۔اسلام آباد میں 11اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان تقریبا 50 سال کے بعد پہلی دفعہ اعلیٰ سطحی مذاکرات شروع ہوئے۔ ایران اور امریکہ میں ایک پرامن معاہدے کے اہم نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا مگر پھر اچانک معاہدے پر دستخط نہ کیئے جا سکے اور دونوں ممالک نے دوبارہ ایک دوسرے کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے اور امن معاہدے پر دستخط بھی ہو گئے تو اس معاہدے کے کامیاب ہونے کا امکان اس بات پر ہے کہ امریکہ اور ایران معاہدے کی کتنی پابندی کرتے ہیں۔ ایران نے امریکی حملے کے موخر ہونے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز میں کنٹرول زون قائم کر دیا ہے جس کے مطابق وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو ایران سے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس پابندی کے بدلے میں ایران کو جہاں اپنی مرضی کے دوست ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہو گی وہاں وہ دوسرے ممالک کے آئل ٹینکروں سے ٹول ٹیکس بھی وصول کرے گا۔ یہ خلیج فارس کے انٹرنیشنل پانیوں پر ایک قسم کی ایرانی بدمعاشی ہے جو تاریخ میں پہلی بار امریکی حملے کے بعد شروع ہوئی ہے۔ ایران کے پاس آبنائے ہرمز پر ٹیکس کے ذریعے عالمی کردار حاصل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز پر ٹیکس لینے کا اختیار دے دیا جائے جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انڈیا نے بھی ایران کے اس موقف سے اتفاق کرنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ چین اور امریکہ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہاز گزرنے پر کوئی ٹیکس نہیں ہونا چایئے۔ چین اور ایران میں اسی بنیاد پر پہلے ہی اختلاف موجود ہے۔ اس لیئے ایران اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ بلآخر ایران آبنائے ہرمز کھولے گا اور امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کرے گا تو ایران ایک ذلت امیز معاہدہ کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ یوں ایران اگر پاکستان کی بات نہیں مانتا اور کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرتا ہے تو وہ ایک جیتی ہوئی جنگ ہار سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت پر منفی اثرات پڑے ہیں۔ جنگ کے آغاز میں تو اس کا قصوروار امریکہ ہی کو ٹھہرایا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیئے یورپ اور نیٹو (NATO) ممالک نے امریکہ کی مدد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن جب سے ایران نے اسلام آباد مذاکرات میں تعاون کرنے سے پس و پیش کی ہے ایران کے مظلوم ملک ہونے کا تاثر تقریبا ختم ہو گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے دورہ چین کے بعد تو ایران کے قابل ترس ہونے کی رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی ہے۔ اس دوران ایرانی تیل کے سب سے بڑے خریدار چین نے توانائی کے متبادل راستے تلاش کر لیئے ہیں۔ چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار تھا مگر اب چین نے اپنی انرجی کے راستے بدل لیئے ہیں۔ چین تیل کی سپلائی روس سے لے رہا ہے، وہ الیکٹرک وہیکلز پر جا رہا ہے اور نیوکلیئر فیوژن پر بھی کام کر رہا ہے۔ اس لیئے چین پر آبنائے ہرمز کا اتنا کوئی پریشر نہیں ہے۔ الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر کے ایک بیان کے بعد کہا رہا ہے کہ چین امریکہ سے تیل خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں اور قبضے کے خدشات کے باعث بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ اگر چین واقعی امریکہ سے تیل خریدنا شروع کر دیتا ہے تو ایران تیل کے اپنے سب سے بڑے خریدار چین سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ ایران کا انفراسٹرکچر پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے۔ اس بار بھی ایران معاہدہ نہ کرنے کی غلطی کرے گا تو اسے ناقابل تلافی حد تک نقصان اٹھانا پڑے گا۔ سعودی عرب، امارات اور قطر نے بھی آبنائے ہرمز کو چھوڑ کر تیل کی نئی پائپ لائنوں کو بچھانا شروع کر دیا ہے۔ ایران کے پاس اب آبنائے ہرمز کو بند کر کے فائدہ اٹھانے کے کوئی امکانات باقی نہیں بچے ہیں۔ روس بھی ایران کا ساتھ دینے سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ ایران خطے میں جاری کشمکش کا مقابلہ کرنے کے لیئے مکمل طور پر تنہا ہو چکا ہے۔ایران کے پاس مشرق وسطی میں کشیدگی ختم کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔ اس وقت پاکستان اور ترکی کے علاوہ چین اور سعودی عرب بھی امن معاہدہ کروانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر ایران اس بار بھی پاکستان کی ثالثی میں امن معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کرتا ہے تو پھر اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان بھی ایران اور امریکہ کے درمیان مصالحت کرانے میں دلچسپی لینا بند کر دے گا۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |