پروفیسر فیروز بخاری مرحوم
خاکہ نگار۔ (عاصم بخاری میانوالی)
اس دھرتی کے گورے چِٹے
گبھرو عاصم سب کو بھاتے
بخاری صاحب کی شخصیت کے بارے خاکہ کا آغاز اپنے ہی ایک شعر سے کر رہا ہوں
وہی دھرتی
جو قد آور اور سرخ سفید وجیہہ جوانوں کی دھرتی میاں والی کہلاتی ہے۔ بخاری صاحب بھی اسی میاں والی سے ہی ہیں۔
دراز قامت
دراز زلف ۔۔۔
اور
زلف ِ دراز کے سنوارنے کےلیے ہینڈ بیگ میں مخصوص کنگھا۔۔۔
کاندھے پہ چادر
میانوالی کے روایتی خوب صورت جوانوں کے نمائندہ اعلٰی تعلیم وتہذیب یافتہ جوان
خوش مزاج ۔ذہین ، لائق و خوش اخلاق خاندان ِ سادات ِ نورنگا میانوالی کے چشم و چراغ اور مرنجاں مرنج ، طبیعت ، اور شرافت و لیاقت جن کی پہچان ۔سراپا عجز و انکسار ، درویش صفت ، صوفیانہ مزاج ، دنیا داری سے کوسوں دُور ، بامروت اور اتحاد ِ بین المسلمین کے علمبردار تھے۔
فارسی انگریزی و اردو ادب کا وسیع مطالعہ رکھتے تھے
شعبہ اردو کے پروفیسر۔۔۔ اردو اور ادب ہی جن کااوڑھنا بچھونا۔۔۔ ہمہ خانہ آفتاب کے فرد
ہمہ وقت جن کے ہاتھ میں کتاب ہی دیکھی ، جہاں موقع ملا مطالعہ میں مشغول پائے۔ احباب ، عزیزان و شاگردان کو کتاب کی بینی و کتاب خوانی کی تلقین ہی نہیں وصیت کی حد تک تاکید کرتے۔
مخصوص انداز میں سگریٹ کا کش لگانا۔۔۔
شفیع والا بِیڑا (نسوار ) جسے روش دماغ کا نام دیا کرتےتھے۔لطیف حسِ مزاح کے مالک فیروز بخاری صاحب محفلوں کی جان ہوتے علم و دانش کی گفت گو کے ساتھ ساتھ چُٹکلے محفل کو زعفران بناتے ۔انبالہ مسلم کالج سرگودھا علمی و ادبی فضا میں دہلوی و لکھنوی انداز میں کلام ِ شاعر بزبان ِ شاعر۔۔۔۔
عین عالم ِ شباب میں
تپ ِ دق (ٹی۔ بی) کا مرض کیا لاحق ہوا
ہمت و حوصلہ کی چٹان تھے بیماری کا تا دم ِ آخر مردانہ وار مقابلہ کیا۔پیارے کرنے والے انسان تھے۔
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
اور
23 دسمبر 2003ء میں بالآخر
اس بیماریءدل نے۔۔۔۔ دل کا کام تمام کیا۔۔۔۔۔
شاید فیروز بخاری صاحب کو واپسی کی جلدی تھی۔ کاتب ِ تقدیر نے کچھ ایسا ہی لکھا تھا۔ایک وسیع حلقہ ء احباب کو افسردہ چھوڑ گئے جو آج بھی ان کی یادوں کے سہارے اپنی ادبی محفلیں سجا رہا ہے۔اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |