ماہر انساب ، قائد اعوان
کریم اعوان صاحب کا شمار پاکستان کے ان چند محققین میں ہوتا ہے جنھوں نے انساب شناسی کے میدان میں اپنی شناخت قائم کی ہے۔آپ معروف محقق اور انساب نگار (genealogist) ہیں جنھوں نے خاص طور پر اعوان قبیلے کی تاریخ، شجرہ نسب، اور تمدنی و تہذیبی پہلوؤں پر قابلِ قدر کام کیا ہے۔ کریم اعوان صاحب نے قبیلہ اعوان کی ابتدا، اس کی ہجرتوں، اور مختلف علاقوں میں اس کی موجودگی پر مفصل تحقیقی مواد فراہم کیا ہے۔ ان کی تحریروں میں تاریخی حوالہ جات، روایات، اور مقامی بیانیوں کو یک جا کیا گیا ہے ۔آپ نے اعوان قبیلے کے مختلف خاندانوں اور ذیلی شاخوں کے شجرہ نسب مرتب کیے ہیں، جنھیں علمی اور تاریخی اسناد کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ یہ شجرے نہ صرف زبانی روایات پر مبنی ہیں بل کہ انھیں تحریری ذرائع سے بھی تقویت دی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی تصانیف اپنے موضوع کے اعتبار سے حوالے کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ کریم اعوان کی لکھی ہوئی کتابوں یا تحریروں کی بات کریں تو ان میں ہر بات کو مکمل تاریخی حوالہ جات سے ثابت کیا گیا ہے۔ کریم اعوان صاحب کی تحقیق کے مطابق اعوان حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی غیر فاطمی اولاد ہیں۔ یہ قبیلہ حضرت محمد الاکبر حضرت حنفیہ بن علیؑ بن ابو طالبؑ کی اولاد میں سے ہے۔ان کا اندازِ تحریر محققانہ ہے، جس میں علمی حوالہ جات، تاریخی مواد، اور جغرافیائی معلومات کو مربوط انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اگر ہم کریم اعوان صاحب کے اس سفر کو دیکھیں تو یہ 2007ء میں تحقیق الانساب کی پہلی جلد کے بعد شروع ہوا۔ چھے سال کی محنت کے بعد تحقیق الانساب جلد دوم 2013ء میں منظرِ عام پر آئی ۔ تاریخِ قطب شاہی علوی اعوان 2015ء میں زیورِ طبع سے آراستہ ہوئی۔ اسی سال 2015ء میں مختصر تاریخ علوی اعوان مع ڈائریکٹری کریم اعوان صاحب کی چوتھی تصنیف کے طور پر سامنے آئی ۔ اپنے جدِ امجد حضرت بابا سجاول کے احوال کو 2019ء میں حضرت بابا سجاول علوی قادری تاریخ کے آئینے میں کے نام سے شائع کیا۔ 2022ء میں آپ کی چھٹی تصنیف برصغیر پاک وہند کے قطب شاہی اعوان کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی ۔خاک سار کو اس کتاب کا پیش لفظ لکھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 2024ء کے سال میں آپ کی چار کتب کاروانِ محبت (سوانحی حالات محبت حسین اعوان)، مآخذ بنی عون قطب شاہی اعوان ، تحقیق الانساب جلد سوم اور نگارشاتِ علوی منصہ شہود سے آراستہ ہوئیں۔ 2025ء میں شائع ہونے والی کتاب تحقیق الانساب کی جلد چہارم ہے۔ علاوہ ازیں کریم صاحب کی نصف درجن کتب اشاعت کے قریب ہیں۔ کریم اعوان صاحب کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لانے کی خاطر مانسہرہ سے ملک عظیم ناشاد اعوان صاحب نے ایک کتاب "قائدِ اعوان” کے نام سے مرتب کر کے شائع کی۔ کریم صاحب کی انساب کے تناظر میں کی گئی کاوشوں کو ہر ذی شعور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تحقیق ایک مشکل کام ہے اس میں بھی انساب کی تحقیق مشکل ترین ہو جاتی ہے۔ کریم صاحب نے اپنی زندگی میں اس مشکل کو نہ صرف قبول کیا بل کہ اس کو اپنی شبانہ روز محنت سے آسان بھی کر لیا بہ قول غالب:
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
کریم اعوان صاحب کی شائع ہونے والی آخری کتاب اپریل میں موصول ہوئی۔ جونھی ان کو کتاب ملی اپنی کمال محبت اور شفقت کا ثبوت دیتے ہوئے مجھے کال کی کہ کتاب موصول ہو گئی ہے اپنا نسخہ حاصل کر لیں ۔ میں تجسس کا مارا فورآ برادر عزیز سالک محبوب اعوان سے رابطہ کیا۔ 16 اپریل کو اوپن یونی ورسٹی کا پرچہ لینے کے بعد کریم صاحب کے دولت کدے کی جانب روانہ ہوئے ۔ ابھی کچھ فاصلہ ہی طے کیا کہ شدید آندھی اور طوفان نے گھیر لیا۔ بڑی مشکل سے ایک جگہ پناہی لی۔ کریم صاحب نے جب دیکھا کہ موسم بھی شدید خراب ہے اور ہم پہنچے بھی نہیں تو مجھ کال کر کے معلوم کیا۔ بتایا کہ یہ حالات ہیں آپ کے گھر کے قریب ہی ہیں۔ کہنے لگے آ جائیں میں منتظر ہوں۔کال کٹ گئی۔ کچھ ہی دیر میں دوبارہ موبائل کی گھنٹی بجی۔ سالک نے بات کی تو کہنے لگے کس جگہ ہیں میں چھتری لے کر ادھر ہی آ جاتا ہوں۔ سالک نے حسبِ عادت مسکراتے ہوئے منع کیا کہ نہیں قائدِ محترم ہم موسم کے سنبھلتے ہی پہنچتے ہیں۔ کچھ دیر بعد موسم سنبھلا تو ہم ان کے درِ دولت پر پہنچے۔ کمال محبت سے ہمیں اندر لے گئے خوب گپ شپ ہوئی اور چائے پلانے کے بعد یہ خوب صورت تحفہ عطا کیا۔ کریم صاحب کی 528 صفحات پر مشتمل یہ کتاب ادادہ تحقیق الاعوان اور ادارہ تحقیق الانساب نے شائع کی ہے۔ کتاب کا انتساب کریم اعوان صاحب کے والدین نمبردار سردار محمد خان مرحوم اور ریشم جان مرحومہ کے نام کیا گیا ہے۔ مختلف قبائل کے تعارف کی حامل یہ کتاب تحفہ ہے ان کے لیے جو علم الانساب میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ کتاب میں میرے اور میری اہلیہ کے خاندان کے بارے معلومات دینے پر کریم صاحب کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اگر آپ یہ کتاب حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر پر رابطہ کر کے رعایتی قیمت پر حاصل کر سکتے ہیں۔
محمد کریم اعوان صاحب۔ 0312.9206639

مضمون نگار فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد سے ہے۔اردو زبان و ادب میں پی ایچ ڈی ہیں۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط کے ایڈیٹر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |