”یوتھ فار نیشن پاک“ خدمتِ انسانیت کا روشن استعارہ
رپورٹ: سید حبدار قائم
عاشورِ محرم کا دن صرف غمِ حسینؑ کا استعارہ نہیں بلکہ ایثار، قربانی، صبر اور خدمتِ خلق کے لازوال پیغام کی تجدید کا دن بھی ہے۔ جب مرکزی جلوسِ عاشور اپنے جلال اور وقار کے ساتھ رواں تھا، عزادارانِ سیدالشہداءؑ اپنے لہو سے وفا کی داستان رقم کر رہے تھے، ایسے میں فلاحی تنظیم "یوتھ فار نیشن پاک” خاموشی سے خدمتِ انسانیت کی ایک ایسی مثال قائم کر رہی تھی جو بلاشبہ قابلِ تحسین اور لائقِ تقلید ہے۔
تنظیم کی جانب سے قائم کردہ فری طبی امدادی کیمپ میں مستند ڈاکٹرز، تربیت یافتہ طبی عملہ اور نوجوان رضاکار پوری مستعدی کے ساتھ زخمی عزاداروں کی خدمت میں مصروف رہے۔ زنجیر زنی کے باعث زخمی ہونے والوں کی فوری مرہم پٹی کی گئی، جراثیم کش ادویات استعمال کی گئیں اور ہر زخمی کو بروقت طبی امداد فراہم کی گئی۔ کیمپ میں ادویات، پٹیاں اور دیگر طبی سامان وافر مقدار میں موجود تھا، جس سے عزاداروں کو بروقت سہولت میسر آئی۔
اسی دوران ایک ایسا مریض کیمپ میں لایا گیا جس کی حالت نہایت تشویشناک تھی۔ اس کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر چکا تھا اور زندگی کی ڈور کمزور پڑتی محسوس ہو رہی تھی۔ مگر ڈاکٹرز نے فوری مہارت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مریض کی جان بچ گئی۔ یہ لمحہ اس حقیقت کا گواہ تھا کہ بروقت طبی امداد کسی بھی قیمتی جان کو نئی زندگی عطا کر سکتی ہے۔
تنظیم کے تمام رضاکاروں نے خندہ پیشانی، اخلاص اور نظم و ضبط کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ وہ صرف خدمت نہیں کر رہے تھے بلکہ اپنے عمل سے یہ پیغام دے رہے تھے کہ انسانیت کی خدمت ہی درحقیقت حسینی فکر کی عملی تعبیر ہے۔
اس پورے فلاحی مشن میں تنظیم کے صدر نعلین حیدر سلطان کا کردار نہایت نمایاں رہا۔ انہوں نے ہر مرحلے پر انتظامات کی نگرانی کی، رضاکاروں کی حوصلہ افزائی کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی زخمی بروقت امداد سے محروم نہ رہے۔ ایسے باکردار نوجوان معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جو خدمت کو اعزاز اور انسانیت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
فری طبی کیمپ کے ساتھ حضرت علی اصغرؑ کے نام سے منسوب ٹھنڈے پانی کی سبیل بھی قائم کی گئی۔ یہ سبیل صرف پیاس بجھانے کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ میدانِ کربلا کی اس ابدی پیاس کی یاد بھی تازہ کر رہی تھی جس نے رہتی دنیا تک انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ عزادار اور راہگیر اس سبیل سے فیض یاب ہوتے رہے اور رضاکار محبت و عقیدت سے انہیں پانی پیش کرتے رہے۔
جذبۂ خدمت کی ایک خوب صورت مثال کاروانِ قلم اٹک کے چیئرمین نزاکت علی نازک نے بھی قائم کی۔ وہ خود زخمی تھے، مگر زخموں کی تکلیف ان کے عزم کے سامنے بے بس دکھائی دی۔ انہوں نے سبیل پر موجود رہ کر پیاسوں کو پانی پلایا اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ جو دل خدمتِ حسینؑ سے سرشار ہو، اسے اپنی تکلیف بھی دوسروں کی راحت کے سامنے معمولی محسوس ہوتی ہے۔
آج کے پُرآشوب دور میں، جب معاشرہ بے حسی کی شکایت کرتا دکھائی دیتا ہے، "یوتھ فار نیشن پاک” جیسے ادارے امید کی روشن کرن ہیں۔ یہ نوجوان نسل کو یہ سبق دیتے ہیں کہ عزاداری صرف غم منانے کا نام نہیں بلکہ زخمی کے زخم پر مرہم رکھنے، پیاسے کو پانی پلانے، دکھی انسان کے کام آنے اور انسانیت کی خدمت کرنے کا نام بھی ہے۔
بلاشبہ "یوتھ فار نیشن پاک” نے عاشورِ محرم میں جس خلوص، نظم، محبت اور خدمت کے جذبے کا مظاہرہ کیا، وہ لائقِ تحسین ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس تنظیم کے تمام ذمہ داران، ڈاکٹرز، رضاکاروں اور معاونین کی اس بے لوث خدمت کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں آئندہ بھی اسی جذبۂ اخلاص کے ساتھ انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |