Tag: پٹواری

  • محکمہ مال اور حکومت کی ذمہ داری

    محکمہ مال اور حکومت کی ذمہ داری

    محکمہ مال اور حکومت کی ذمہ داری

    Dubai Naama

    سرکاری زمینوں کی نیلامی میں تیزی آ گئی ہے۔ آپ صرف پانچ فیصد ایڈوانس دے کر باقی آسان اقساط پر دو چار ایکڑ ہی نہیں کئی مربع جات سرکاری زمین حاصل کر سکتے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے بہت سے اضلاع میں طاقتور اور اثر و رسوخ رکھنے والے زمیندار یہ کام محکمہ مال سے مل ملا کر آسانی کے ساتھ کر لیتے ہیں۔ پنجاب کی تقریبا ہر ڈویژن، ضلع اور تحصیل میں سرکاری زمینیں مربع جات ہی نہیں کئ کئ کلومیٹروں تک پھیلی ہوئی ہیں جن کا حساب کتاب اور نگرانی کا کام محکمہ مال اور ریوینیو بورڈ انجام دیتا ہے۔ سکول کالج کے دور میں جب ہمیں والدین اور خاندان کے دیگر بڑے اے سی یا ڈی سی بننے کے لیئے مقابلے کا امتحان دینے کا کہتے تھے تو ہم اتنا ہی جانتے تھے کہ یہ عہدے کوئی بہت بڑی چیز ہیں۔ حالانکہ امن و امان کی بحالی کی زیادہ تر ذمہ داریاں محکمہ پولیس انجام دیتا ہے۔ لیکن پنجاب کے کسی بھی علاقے میں تب بھی اور آج بھی اختیارات اور رعب و دبدبے کے اعتبار سے جتنا ٹہکہ محکمہ مال کے اے سی یا ڈی سی وغیرہ کا ہوتا ہے اتنا محکمہ پولیس کے ایس پی یا اے ایس پی کا نہیں ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس وقت بھی اور اب بھی اے سی، ڈی سی کو تو چھوڑیں، بہت سارے پٹواریوں کے بھی ڈیرے ہیں اور وہ کاروں وغیرہ پر گھومتے ہیں۔

    چند روز قبل مظفر گڑھ میں سرکاری زمینوں کی نیلامی کا اشتہار نظر سے گزرا تو یہ خیال آیا کہ ویسے تو پورا پاکستان ہی محکمہ مال کا ہے مگر جہاں جہاں سرکاری زمینیں موجود ہیں اور جن اضلاع میں یہ زمینیں جتنی زیادہ ہیں وہاں کا محکمہ مال اتنا ہی زیادہ خوشحال اور طاقتور ہے۔ ان علاقہ جات کے بڑے زمیندار اور سیاست دان جہاں محکمہ پولیس سے بنا کر رکھتے ہیں وہاں وہ محکمہ مال سے اس سے بھی زیادہ بنا کر رکھتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ محکمہ مال کی ملی بھگت سے انہی سرکاری زمینوں کا قبضہ، ٹھیکہ جات اور نیلامی کا دھندہ ہے۔ پنجاب میں جہاں جہاں یہ سرکاری زمینیں موجود ہیں پنجاب اور وفاقی حکومتیں اس کا ریکارڈ منگواتی رہتی ہیں اور حسب ضرورت وہ یہ زمینیں اپنے محبوب ریٹائرڈ جرنیلوں، بیوروکریٹس یا بااثر افراد کو الاٹ کرتی ہیں یا کاشت کاری کے لیئے عام لوگوں کو ٹینڈر کے ذریعے کچھ سالوں یا ننانوے سالہ سکیم کے ذریعے دے دیتی ہیں۔ کچھ علاقوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ شہروں اور دیہاتوں کے گرد و نواح میں سرکاری زمینوں کو کچھ دھڑلے والے لوگ ٹینڈر کے ذریعے اپنے نام لگوا کر اس کی پلاٹنگ کرتے ہیں اور آگے مہنگے داموں بیچ دیتے ہیں۔

    اس دھندے میں ملوث کچھ افراد تو اتنے منہ زور ہوتے ہیں کہ وہ محکمہ مال اور ریونیو بورڈ کے سرکاری افسران سے مل کر بغیر نیلامی یا ٹینڈر کے یہ سرکاری زمینیں سالہا سال تک کاشت کرتے ہیں یا پھر کوڑیوں کے مول سیدھا اپنے نام کروا لیتے ہیں۔

    محکمہ مال پنجاب کے اس اشتہار کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ پچپن میں ہمارے بڑے ہمیں ڈی سی بننے کا خواب کیوں دکھاتے تھے۔ مسلم لیگ نون کے کارکنوں کو "پٹواری” کہنے کے پیچھے بھی شائد کچھ ایسی ہی سائنس کارفرما ہے کہ سرکاری زمینوں کو ہتھیانے میں جو کردار پٹواری حضرات ادا کرتے ہیں وہ کوئی اور ادا نہیں کر سکتا ہے۔ دراصل پٹواریوں کی محکمہ مال میں وہی اہمیت ہوتی ہے جو محکمہ پولیس میں تھانیدار کی ہے۔ ایک پٹواری کے پاس کھیوٹ، کنال اور مربع جات کا پورا ریکارڈ ہوتا ہے اور وہی اس کی ملکیت یا کاشت وغیرہ کا اندراج کرتا ہے۔ محکمہ مال کو اسی نسبت سے "محکمہ پٹوار” بھی کہا جاتا ہے۔ جبکہ محکمہ پولیس کے تھانیدار کا بھی یہی کمال ہے کہ جس کیس کی رپورٹ تھانیدار محکمہ انصاف کو بھیجتا ہے اور جس کی بنیاد پر مجسٹریٹ اور جج صاحبان فیصلہ دیتے ہیں، وہ جس کے حق میں ہو فیصلہ جات بھی اسی کے حق میں آتے ہیں۔

    اگر محکمہ مال ٹھیک ہو جائے یا یہ بدعنوانی سے پاک ہو جائے تو نہ صرف پاکستان کا بیرونی قرضہ اکیلا محکمہ مال اتار سکتا ہے بلکہ اس سے پاکستان میں کسان سے لے کر عام مزدور تک کی زندگی میں خوشحالی بھی آ سکتی ہے۔ جب عمران خان وزیراعظم تھے تو قبضہ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا تھا جس سے مختلف آپریشنز کے ذریعے پنجاب بھر سے اربوں روپے مالیت کی 53516 ایکڑ، 79721 کنال سرکاری و نجی اراضی واگزار کروائی گئی تھی جس میں صرف لاہور میں 435 ایکڑ اور 498 کنال اراضی واگزار کروائی گئی تھی۔ اسی طرح شیخوپورہ، گوجرانوالہ، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، ڈی جی خان، ساہیوال اور بہاولپور وغیرہ میں بھی بہت سے مقدمات درج کیئے گئے اور سرکاری زمینیں واگزار کروائی گئیں تھیں۔

    پنجاب اور دیگر صوبوں میں جاگیرداری نظام بھی محکمہ مال کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ جہاں کسی کا زور چلتا ہے وہ وہیں سرکاری زمینوں پر قابض ہے۔ بھٹو صاحب نے زرعی اصلاحات کے نام سے کسانوں میں زمینیں تقسیم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ سنہ 2010ء میں پنجاب کے سابق وزیر اعلی شہباز شریف جو اس وقت وزیراعظم ہیں، انہوں نے صوبہ پنجاب کے زرعی گریجویٹس کو زرعی اراضی فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا مگر دونوں بار یہ بیل کبھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔ یاد رہے کہ اس مد میں سنہ 2010ء میں سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے ضلع راجن پور کے ایک زرعی گریجویٹ شہزاد نسیم کو 197 کنال زمین الاٹ کی تھی۔ سنہ 2019ء تک سرکاری کاغذات میں زمین ان کے نام تھی۔ اطلاعات کے مطابق وہ سرکار کے خزانے میں سالانہ پانچ سو روپے فی ایکڑ کے حساب سے لیز کی رقم بھی جمع کرواتے رہے مگر ریاست کی طرف سے الاٹ کی گئی 197 کنال زمین پر کوئی اور قابض رہا۔ ہمارے پیرمحل کے شفقت اللہ مشتاق بھی راجن پور میں ڈپٹی کمشنر رہے ہیں۔ میری معلومات کی حد تک وہاں سات زرعی گریجویٹس کو زمینیں الاٹ کی گئی تھیں مگر پرانے قابضین عدالت چلے گئے تھے۔ قانون کے مطابق جب تک عدالت اس معاملے میں فیصلہ نہ کر دے انتظامیہ پرانے قابضین سے قبضہ واپس نہیں لے سکتی ہے۔

    ایک قول ہے کہ "جس کی لاٹھی اس کی بھینس”، محکمہ مال شاد و آباد رہے کہ یہ ایک بار جسے ٹینڈر یا زمین کا قبضہ دے دے تو پھر یہ قبضہ چھڑانا آسان نہیں ہوتا ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ پنجاب کے بہت سے دیگر اضلاع میں بھی زرعی گریجویٹس کو زمینیں الاٹ کی گئیں جن پر ایک مخصوص سیاسی جماعت کے سابق و حاضر ممبران اسمبلی کا تا ہنوز قبضہ جاری ہے۔

    پنجاب میں انگریز حکمرانوں نے محکمہ مال کا موجودہ نظام سنہ 1848ء میں متعارف کروایا تھا۔ محکمہ مال کے ریکارڈ کی ابتدائی تیاری کے وقت ہر گاوں کو "ریونیو اسٹیٹ” قرار دیا گیا تھا جو ہر گاؤں کے نمبردار کی صورت میں آج بھی جاری ہے۔ زمینوں کے اندراج کی تفصیل میں اس گاوں کے نام کی وجہ، اس کے پہلے آباد کرنے والے لوگوں کے نام، قومیت، عادات و خصائل، ان کے حقوق ملکیت حاصل کرنے کی تفصیل، رسم و رواج، مشترکہ مفادات کے حل کی شرائط اور حکومت کے ساتھ گاوں کے معاملات طے کرنے جیسے قانون کا تذکرہ، زمینداروں، زراعت پیشہ، غیر زراعت پیشہ دست کاروں، پیش اماموں تک کے حقوق و فرائض، انہیں فصلوں کی کاشت کے وقت شرح ادائیگی اجناس اور پھر نمبردار، چوکیدار کے فرائض و ذمہ داریاں، حتیٰ کہ گاوں کے جملہ معاملات کے لئے دیہی دستور کے طور پر دستاویز واجب العرض تحریر کی جاتی تھیں جو آج بھی ریونیو ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ لھذا پنجاب ہی نہیں محکمہ مال کی پاکستان بھر میں وہ اہمیت ہے کہ جس کے اس محکمہ میں ہاتھ پڑتے ہیں ان کی چاندی ہو جاتی ہے۔ اگر یہ محکمہ صحیح ہو جائے اور اس سے اقربا پروری اور کرپشن ختم ہو جائے تو کسان ہی نہیں عام پاکستانیوں کی بھی چاندی ہو سکتی ہے۔

    محکمہ مال کا ایک اور تلخ پہلو پنجاب کی زرعی زمینوں کا ہاؤسنگ سوسائیٹیز کی نذر ہونا ہے۔ وسطی پنجاب، لاہور اور کراچی کے گردونواح جہاں کبھی زرخیز اور سرسبز لہلہاتے کھیت ہوا کرتے تھے وہاں اب دور دور تک مکانات اور بحریہ ٹاؤن جیسی ہاؤسنگ سوسائیٹیز دکھائی دیتی ہیں جن کے ذریعے ملک ریاض جیسے پراپرٹی ٹائیکون پیدا ہوئے ہیں جس میں گوجرانوالہ شہر کے قریب واقع گاوں تلونڈی موسی خان بھی شامل ہے جہاں 20 سال پہلے کم و بیش 3500 ایکڑ رقبے پر گندم اور چاول کی کاشت کی جاتی تھی مگر اب یہ زرعی زمین ہاؤسنگ سوسائیٹیوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔

    بنیادی طور پر پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ایوب خان دور تک پاکستان صنعتی ملک بھی تھا۔ لیکن اب ایک طرف آبادی بڑھنے کی وجہ سے مکانات کی طلب میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف ملک میں اجناس کی پیداوار بڑھنے کی بجائے ہر سال کم ہو رہی ہے۔ نتیجتا خوراک میں خود کفیل ایک زرعی ملک اب گندم سمیت دیگر اجناس دوسرے ممالک سے خریدنے پر مجبور ہے۔

    زرعی ماہرین کے مطابق سالانہ بنیادوں پر زرعی پیداوار اور زیر کاشت رقبے میں کمی سے مستقبل میں غذائی عدم تحفظ کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں جسے ختم کرنے کے لیئے حکومت اور محکمہ مال کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ خصوصی طور پر محکمہ مال کا کام صرف زمینوں کی الاٹمنٹ یا نیلامی ہی نہیں ہے بلکہ آباد اور غیر آباد زمینوں پر کاشت کاری اور ان سے اچھی فصلیں حاصل کرنے کے لیئے زمینداروں سے تعاون اور انہیں سہولیات فراہم کرنا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے۔

    Title Image by Adnan Khalid from Pixabay

  • جو مری شبوں کے چراغ تھے

    جو مری شبوں کے چراغ تھے

    دادی خدیجہ صاحبہ 1895-1969

    جو مری شبوں کے چراغ تھے

    ہماری دادی جان کا نام نور جہان تھا۔ ان کے تین بھائی اور دو بہنیں تھیں ۔ عبد الجلیل ( طارق کے دادا) عبدا لعزیز( انوار کے دادا) عبدالحق ( میرے نانا) حمیدہ بانو( آفتابِ کی دادی) اور خدیجہ بی بی(اباجی کی تائی)۔ دادی خدیجہ سب سے بڑی تھیں ۔ وہ لاولد تھیں ۔ان کے میاں قاضی محمد جی۔۔ ایک خاندانی جھگڑے میں قتل ہو گئے اور وہ بیوہ ہوکر گنڈاکس سے اپنے پیکے ملہووالے آ گئیں۔

    خدیجہ بانو 1920  میں بیوہ ہوگئی تھیں خدیجہ بانو کے شوہر کی وفات کے بعد ان کی چھوٹی بہن نور جہاں کی شادی ہوئی تھی۔

    اباجی کی بہن ،والد اور والدہ یکے بعد دیگرے 1945 میں فوت ہو گئے۔ اباجی اپنے نانکے ملہووالے آ گئے۔ دادی خدیجہ نے ان کو سنبھالا ۔1946 میں ہماری نانی جان چیچک سے فوت ہوئیں۔ ان کی پانچ بچیاں بھی دادی خدیجہ کی زمہ داری میں آ گئیں ۔ 1949 میں دادی خدیجہ کے والد قاسم صاحب بیمار ہو گئے ان کی خدمت بھی دادی جان نے کی۔

    ہمارے نانا جی  پٹواری تھے ( نون لیگ والے نہیں بلکہ اصلی پٹواری ) ۔وہ نوکری کے سلسلے میں ملہووالے سے باہر رہتے تھے ۔ گاؤں میں انہوں نے  گھاڑویں  ( تراشیدہ  گھڑے ہوئے) پتھروں کا مکان بنایا۔  یہ پتھر بڑی نفاست سے تیسے (تیشے) سےتراشے ہوئے تھے۔

    اس گھر کی سربراہ  دادی خدیجہ تھیں ۔ میرے والد اور والدہ بھی یہیں رہتے تھے۔  آرائیں بابے نانا جی کے مزارع تھے۔ فصل کٹنے پر غلہ پہنچا دیتے تھے ۔ اس گھر کی ڈیوڑھی کی دو سیڑھیاں تھیں۔ سیڑھیاں چڑھانے کے لئے کھوتی کو دھکا لگانا پڑتا تھا ۔دانوں کی بوریاں ۔۔اگے اندر  (next room) میں سٹور کی جاتیں ۔ امی جان کی آٹے والی چکی بھی اسی کمرے میں تھی ۔یہ کمرہ پرائیویسی کی وجہ سے بوقت ضرورت لیبر روم / آئیسولیشن روم بن جاتا۔ ہمارے گھر کے اکثر بچوں نے اسی کمرے میں جنم لیا ۔1973 میں سانپ نے کاٹا تو بحکم  دم سپیشلسٹ بابا صاحب خان مجھے دس دن  کے لیےاس کمرے میں بند کر دیا گیا۔  گرمی کے یہ دن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سخت تھے۔دس دن  مادر مہربان اور طبیب نامہربان کے علاوہ کسی کی شکل نہیں دیکھی۔

    ماسٹر بیڈ روم کا نام وڈا  اندر  تھا۔اس میں دو پلنگ اور  دو چارپائیاں تھیں۔ ان  پر دادی خدیجہ ، خالہ شمیم اور بچہ لوگ سوتے تھے۔ ابا جی کا کمرہ  نواں اندر کہلاتا تھا ۔اس میں دو پلنگ اور ایک چارپائی تھی. پلنگ رنگین پاووں والا جمبو سائز بیڈ ہوتا ھے اس کو صرف سالانہ فرش دھلائی کے موقع پر بڑے اہتمام اور احترام سے اپنی جگہ سے ہلایا جاتا تھا۔ ۔اینٹوں کے فرش کی دھلائی ایک خاص ایونٹ ہوتا تھا۔سکرب برش (scrub) سے رگڑ رگڑ کر اینٹیں صاف کی جاتی تھیں ۔سیمنٹ کے فرش کو سلیٹ فرش کہتے تھے اس کا رواج کم تھا۔  پلنگ بچھانے کا انداز  اینڈ ٹو اینڈ end to end تھا۔ چوڑائی کے رخ اکٹھے دو بیڈ بچھا کر ڈبل بیڈ کا  ٹچ  دینے کا تصور ۔

    برتر از  قیاس و خیال و گمان و  وہم تھا۔

    لمبائی کے رخ بچھے دو پلنگوں پر ایكسٹرا لانگ کھیس ڈالا جاتا۔اس مہا ۔کھیس کا نام  دوہر(dohar) ہوتا تھا ۔

    دادی خدیجہ سلم  سمارٹ پاورفل شخصیت تھیں ۔ ان کا کسی کے گھر جانا یاد نہیں پڑتا۔ سارا دن صبح سے کفتاں (عشاء) تک گاوّں کے مرد و زن آتے رہتے ۔ کوئی مشورہ لیتا۔کوئی سفارش طلب کرواتا۔ کوئی اپنا دکھڑا سنا کر آنسو بہا کر غم ہلکا کرتا۔ کوئی لوکل خبریں سنا کر چلا جاتا۔ ساس اپنی بہو کے گلے کر کے اٹھتی تو تھوڑی دیر بعد بہو اپنی ساس کے ظلم و ستم کا رونا رونے آجاتی ۔

    روزانہ نماشاں (نماز شام) کے بعد بابا نیک اور ان کے بھائی بابا عباس آتے ان بزرگوں سے جو باتیں ہوتیں وہ ہم بچوں کی سمجھ میں نہ آتیں ۔اور بعض اوقات ٹاپک بھی سمجھ میں نہ آتا ۔

    میری دادی اور نانی میری پیدائش سے پہلے فوت ہوگئی تھیں۔  دادی خدیجہ ان دونوں رشتوں کا نعم البدل تھیں۔ ہم لوگ ان کو دادی یا نانی کی بجائے ۔۔ما۔جی۔۔کہتے تھے۔ اور اپنی والدہ کو صرف  ما  کہتے تھے   جی  کے اضافے کے بغیر۔ باقی فیملی کے بچے اپنی والدہ کو امی کہتے۔ وہ ہنستے کہ دیکھو عبدالسلام سکول جاتا  ہے پھر بھی جٹوں کی طرح اپنی والدہ کو  ما   کہتا ہے،امی نہیں کہتا  ۔

    دادی خدیجہ بچیوں کو قرآن مجید پڑھاتی تھیں۔ صبح صبح آٹھ دس بچیاں آجاتیں۔ کچھ سبق پڑھتیں اور کچھ باری باری استاد جی کے گھر کے کاموں میں مدد کرتیں اور کام کرنے کا ۔۔چج اور وسب  ( سلیقہ) سیکھتیں۔ استاد جی کا گھر گویا finishing school.  تھا۔ جھاڑو لگاتیں , ڈھیری (کوڑے)کو ڈھیر پر پھینک کر آتیں، استاد جی کی بکری شریف کو آجڑی ( گڈریے) shepherd کے گھر چھوڑنے جاتیں ، کھوہ سے گھڑا بھر کر لاتیں ۔۔مزید بر آں ۔۔اگر استاد جی کا کوئی کیوٹ سا پوتا / نواسہ ہوتا تو اس کو گود اٹھانے کے لیے آپس میں لڑتیں ۔  چاچے غلام شاہ قاضی کی بیٹی تعظیم باجی سے روایت ہے کہ مِنا عبدالسلام بھی اس قسم کی جنگوں کا سبب بنتا تھا  ۔اس طرح ان کے تین گھنٹے پڑھنے اور سیکھنے اور گزرتے ۔ مُنے عبدالسلام کو گود میں اٹھانے کے قرآن مجید پڑھنے والی بچیوں میں لڑائی ہوتی تو بعض اوقات ماسٹر کرم الہی کی بیٹی ابرار  عبدالسلام کو لےکر پڑوس میں اپنی نانی ۔۔مکھاں ۔۔کے گھر بھاگ جاتی ۔ نانی کہتی ۔۔ای استاداں نا  لوڈا جاکت اے  اس کو کہیں کچھ ہو نہ جاۓ اس کو گھر چھوڑ آؤ ۔

    آداب و اطوار اور پڑھائی میں اچھا ہونے کی وجہ سے بخش جفت ساز (Cobbler) کی بیٹی دادی جان کی منظور نظر تھی ۔اس بچی کی شادی1970میں  الہی بخش سے ہوئی۔ عبدالسلام دولہا کا  سبالا (شہ بالا ـ grooms friend)تھا۔ کھانے میں  لَوت  مانگا تو پتہ چلا کہ اب اس کو  سالن  کہتے ہیں ۔

    فسانے اپنی محبت کے سچ ہیں، پر کچھ کچھ

    بڑھا بھی دیتے ہیں ہم  زیب داستاں کے لئے

    شیفتہ

    دادی جان کا ڈسپلن بہت ٹائٹ تھا۔ گھر کے بچوں ، بڑوں اور  پڑھنے والی بچیوں پر کڑی نظر ہوتی۔ عام طور پر ڈانٹ سے کام چل جاتا۔۔کبھی کبھار برکت کے واسطے ایک آدھ تھپڑ لگا دیتیں۔ اس برکت سے کبھی کبھی اس فقیر کو بھی حصہ مل جاتا۔اپنی بھتیجیوں کی تربیت ان کا سب سے بڑا کام  (concern) تھا۔ وہ تحدیث بالنعمت کے طور پر  فرماتیں۔اللہ کا شکر ہے کہ میری بھتیجیاں میری آنکھ کا اشارہ سمجھ جاتی ہیں ۔مجھے ان کو زبان سے کچھ کہنا نہیں پڑتا۔ بھتیجیوں کی شادیوں میں دادی جان کا فیصلہ حرف آخر ہوتا تھا۔

    دادی خدیجہ صاحبہ بڑی نفاست پسند تھیں ۔ساری عمر ملہووالا کی بنی ہوی دیسی جوتی پہنی۔۔آدھا وضو کچے صحن میں کرتیں۔ پھر مصلے پر بیٹھ کر باؤل (bowl)  میں پاؤں دهوتیں۔ہماری والدہ اور خالہ منیر جسامت ۔شکل و صورت اور نفاست میں اپنی پھوپهی خدیجہ صاحبہ پر گئی تھیں  اور   ان کی  ٹرو  کاپی   تھیں

    , دادی خدیجه جمعرات  کو کھانےپر درود پڑھتی تھیں  ۔ اس کے کچھ الفاظ یاد ہیں ۔ اگر کسی پرانی بڈھی یا پرانی مڈھی کو.. کھانے پر دیے یا پڑھے جانے والے درود 1960 کا version یاد ہو تو اصلاح فرمائیں

    نذر خدا   ارواح محمد  مرسل نبی تمام •

    اولاد انہاں دی ۔زوجات تے جوائی۔

    عالم ۔زاہد۔کل۔

    ما پیو میرا انہاں  تھیں

    بھی استاد خویش قبیلہ کل

    جو کوئی مسلم مرد زن ربا  فا نی ہو

    بدلہ اس درود نا  رہا بخشی سو

    دادی خدیجہ صاحبہ عید کے دن اپنے گھر حلوہ پکانے سے فارغ ہو کر فیملی کے رنڈے بابوں کےگھر جاتیں اور ان کا حلوہ پکاتیں۔

      1942 میں آپا عجائب اپنی پھو پھی خدیجہ بی بی کے ساتھ  چوتھی جماعت کا سنٹرل امتحان کے لیے کمریال گئیں۔  ریاض ہاشمی احمدال کے والد محمد شاہ  کمریال میں استاد تھے۔ انہوں  نے آپا عجائب کو ریوڑیاں دیں۔ یہ چکوال کی پہلوان ریوڑیاں نہیں تھیں بلکہ خلوص مارکہ ریوڑیاں تھیں اسی لئے ان کی لذت آپا عجائب کو پچہتر سال تک یاد رہی ۔آپا عجائب ہماری سب سے بڑی خالہ اور میری بیگم صاحبہ کی والدہ تھیں ۔ان کا انتقال 2020 میں ہوا۔

    دادی خدیجہ بانو کا انتقال 1969میں ہوا۔ اباجی اور چاچا  الطاف اس وقت کیمبل پور میں تھے۔ اباجی اپنے پیر صاحب کے پاس ڈی جی خان گئے ہوئے تھے۔ چا چے الطاف صاحب نے عبدالسلام اور اسکی اپنی بہنوں کو سکول سے چھٹی کروائی اور سب  کو ملہو والا لے گئے۔

    لالاجی اکرام کہتے ہیں- اس وقت میں اپنے والد کے ساتھ راولپنڈی میں تھا۔ پڑوسی فضل داد راولپنڈی افسوسناک خبر لے  کر آیا۔ میں اسے سب رشتہ داروں کے گھر لے گیا۔ راولپنڈی سے گنڈاکس کے لیے صرف ایک بس دوپہر کے وقت روانہ ہوئی تھی۔ نماز جنازہ میں شرکت کے لیے وقت پر پہنچنا ہمارے لیے ممکن نہ تھا۔ چنانچہ مجھے صبح سویرے روانہ کیا گیا تاکہ جنازہ شام تک مؤخر کرنے کی درخواست کروں۔۔ میں نے گنج منڈی لاری اڈہ میں تندور کے پاس رات گزاری۔ ۔پہلی بس سے نکلا اور نوتھیاں سے پیدل ملہو والا پہنچا۔نماز جنازہ شام کو ہوئی لیکن بابا عبدالحق گاؤں سے دور کسی نامعلوم اسٹیشن پر ہونے کی وجہ سے جنازے میں شریک نہ ہو سکے۔

    میری بیگم میری بڑی خالہ کی بیٹی ہیں ۔وہ فرماتی ہیں۔۔دادی خدیجہ صاحبہ کے پاس اندھیرے میں چمکنے والی تسبیح تھی ۔وہ مجھے رضائی میں چھپا کر اس کا تماشا دکھاتی تھیں۔ انہوں نے مجھے نماز کا سبق سکھایا اور نماز ۔۔نتائی ( عملی طور پر پڑھنا سکھایا)۔۔میرے خالہ زاد ۔ڈاکٹر  ثاقب قاضی فرماتے ہیں۔۔۔اللہ دادی خدیجہ صاحبہ از کے درجات بلند فرمائے۔ میری یادداشت میں ان سے وابستہ کچھ یادیں محفوظ ہیں وہ محبت اور شفقت کا پیکر تھیں میرے ساتھ بہت پیار سے پیش آتیں ان کے انتقال کے وقت میری عمر چار سال تھی لیکن ان کی شخصیت کے انمٹ نقوش آج بھی میرے دل کے نہاں خانوں میں محفوظ ہیں

    لَذِیذ بُود حِکایَت دَراز تَر گُفْتَم

     اللہ پاک دادی جان کی مغفرت فرمائے اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔ آمین