Tag: عربی

  • محسنِ پاکستان:معمارِ ریاستِ بہاولپور

    محسنِ پاکستان:معمارِ ریاستِ بہاولپور

    محسنِ پاکستان:معمارِ ریاستِ بہاولپور

    شہر خواب ۔۔۔ صفدر علی حیدری 

    برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی پیدا ہوتی ہیں جن کے کارنامے وقت کی حدود سے بلند ہو کر ہمیشہ کے لیے تاریخ کا روشن باب بن جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک نابغۂ روزگار شخصیت جنرل نواب الحاج سر صادق محمد خان پنجم عباسی کی تھی، جنہیں بجا طور پر “محسنِ پاکستان” کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی غیر معمولی ذہانت، سیاسی بصیرت، بے مثال سخاوت، حب الوطنی اور عوام دوستی سے نہ صرف ریاستِ بہاولپور کو ترقی و خوشحالی کی مثال بنایا بلکہ قیامِ پاکستان کے نازک ترین دور میں نوزائیدہ مملکتِ خداداد کو مالی، سیاسی اور اخلاقی سہارا دے کر تاریخ میں ہمیشہ کے لیے اپنا نام امر کردیا۔

    نواب صادق محمد خان پنجم 29 ستمبر 1904 کو بہاولپور کے شاہی محل دولت خانہ میں پیدا ہوئے۔ وہ عباسی خاندان کے چشم و چراغ تھے، جو اپنی نسبت خلافتِ عباسیہ سے جوڑتا ہے اور صدیوں سے بہاولپور پر حکمرانی کرتا آرہا تھا۔ کم عمری میں ہی والد کے انتقال کے بعد 1907 میں وہ تخت نشین ہوئے۔ ابتدا میں ریاستی امور ایک کونسل کے ذریعے چلائے گئے، تاہم مارچ 1924 میں نور محل میں ایک عظیم الشان تقریبِ تاج پوشی منعقد ہوئی، جس میں وائسرائے ہند لارڈ ریڈنگ نے انہیں مکمل اختیارات سونپے۔ اس تقریب نے انہیں برصغیر کے ممتاز مسلم حکمرانوں کی صف میں نمایاں مقام عطا کیا۔

    ابتدائی تعلیم انہوں نے ایچی سن کالج سے حاصل کی، جبکہ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے۔ عربی، فارسی، اردو اور انگریزی زبانوں پر انہیں غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ وہ نہایت ذہین، معاملہ فہم، باوقار اور دور اندیش حکمران تھے۔ ان کی شخصیت میں شرافت، انکساری، دینی رجحان اور عوامی خدمت کا جذبہ نمایاں تھا۔

    ریاستِ بہاولپور برصغیر کی دوسری بڑی مسلم ریاست تھی، جس کا رقبہ کئی یورپی ممالک سے زیادہ تھا۔ نواب صادق کے دورِ حکومت میں یہ ریاست ترقی، امن، خوشحالی اور بہترین نظم و نسق کی مثال بن گئی۔ ریاست کا اپنا بینک، کرنسی، ڈاک کا نظام، ریلوے، فوج، عدلیہ اور کابینہ موجود تھی۔ بہاولپور کو ایک مکمل فلاحی ریاست کی حیثیت حاصل تھی جہاں عوام کو انصاف، صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولیات میسر تھیں۔

    انہوں نے ریاست کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے زرعی اصلاحات نافذ کیں۔ دریائے ستلج سے متعلق آبپاشی منصوبوں نے بنجر زمینوں کو سرسبز کھیتوں میں بدل دیا اور بہاولپور اناج کی پیداوار میں نمایاں حیثیت اختیار کر گیا۔ تجارت اور صنعت کو فروغ دیا گیا جبکہ عوامی بہبود کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ان کے دور میں سڑکیں، اسپتال، نہریں، مساجد اور رفاہی ادارے قائم ہوئے۔

    نواب صادق محمد خان پنجم کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو ان کی تعلیم دوستی تھی۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ قوموں کی ترقی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے انہوں نے تعلیم کو اپنی ریاست کی بنیاد بنایا۔ ریاستِ بہاولپور میں پرائمری سے لے کر یونیورسٹی تک تعلیم مفت تھی اور مستحق طلبہ کو وظائف دیے جاتے تھے۔ غریب اور نادار طلبہ کی مدد کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیے گئے۔

    انہوں نے جامعہ عباسیہ قائم کی، جو بعد میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور بنی۔ یہ ادارہ جامعہ الازہر کے طرز پر قائم کیا گیا اور جنوبی پنجاب میں علم و ادب کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ ہزاروں طلبہ نے یہاں سے تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کی خدمت کی۔

    1951 میں انہوں نے صادق پبلک اسکول کے قیام کے لیے پانچ سو ایکڑ زرخیز زمین عطیہ کی۔ یہ ادارہ آج بھی پاکستان کے ممتاز تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی سخاوت صرف بہاولپور تک محدود نہ رہی بلکہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور ایچی سن کالج کی مسجد کے لیے بھی جائیدادیں اور خطیر رقوم عطیہ کیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے سینیٹ ہال کی تعمیر میں بھی ان کی نمایاں مالی معاونت شامل تھی۔

    تحریکِ پاکستان میں ان کا کردار نہایت اہم اور تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے محمد علی جناح سے قریبی تعلقات تھے اور وہ مسلم لیگ کے مخلص معاونین میں شمار ہوتے تھے۔ کراچی کے علاقے مالیر میں واقع ان کا محل “القمر” قائداعظم کی رہائش اور تحریکِ پاکستان کی سرگرمیوں کا اہم مرکز تھا۔ علامہ محمد اقبال سے بھی ان کی خط و کتابت رہی اور وہ مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے تصور کے بھرپور حامی تھے۔

    محسنِ پاکستان:معمارِ ریاستِ بہاولپور

    قیامِ پاکستان سے قبل ہندوستانی قیادت نے ریاستِ بہاولپور کو پاکستان سے دور رکھنے کے لیے مختلف کوششیں کیں۔ یہاں تک کہ نواب صادق کو ایک خالی چیک پیش کیا گیا تاکہ وہ بھارت کے ساتھ الحاق پر آمادہ ہوجائیں، مگر انہوں نے یہ پیشکش مسترد کردی۔ ان کا تاریخی جملہ آج بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ:

    “بہاولپور کے تیس لاکھ عوام میرے غلام نہیں، میں صرف ان کے حقوق کا محافظ ہوں۔”

    5 اکتوبر 1947 کو انہوں نے “Instrument of Accession” پر دستخط کرکے ریاستِ بہاولپور کو پاکستان کے ساتھ شامل کردیا۔ یوں بہاولپور پاکستان سے الحاق کرنے والی اولین ریاستوں میں شامل ہوگئی۔ اس فیصلے نے پاکستان کو نہ صرف جغرافیائی بلکہ مالی اور سیاسی طور پر بھی مضبوط کیا۔

    قیامِ پاکستان کے بعد نواب صادق محمد خان پنجم نے نئی مملکت کی بے مثال مالی مدد کی۔ اس وقت پاکستان شدید مالی بحران کا شکار تھا اور سرکاری خزانہ تقریباً خالی تھا۔ ایسے نازک وقت میں انہوں نے پاکستان حکومت کو ستر ملین روپے یعنی سات کروڑ روپے عطیہ کیے۔ یہ رقم اتنی خطیر تھی کہ ایک اندازے کے مطابق آج اس کی مالیت سینکڑوں ارب روپے بنتی ہے۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق پاکستان کے سرکاری ملازمین کی ابتدائی تنخواہیں بھی ایک ماہ تک ریاستِ بہاولپور کے خزانے سے ادا کی گئیں۔ قائداعظم نے ان خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا تھا:

    “نواب صادق محمد خان عباسی نے ہمارے قلم کی روشنائی بھی عطیہ کی۔”

    یہ جملہ ان کی بے مثال حب الوطنی اور ایثار کا سب سے بڑا اعتراف سمجھا جاتا ہے۔

    نواب صادق محمد خان پنجم فوجی امور میں بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ انہوں نے ریاستی فوج کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ ریاستِ بہاولپور کی فوج بعد میں پاک فوج کا حصہ بنی۔ دوسری جنگِ عظیم میں بہاولپور کی فوج نے برطانوی افواج کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ انہوں نے رحیم یار خان میں ایک ہوائی اڈہ بھی تعمیر کرایا جو جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

    ان کی شخصیت کے ساتھ کئی دلچسپ واقعات بھی وابستہ ہیں۔ ایک مشہور واقعہ رولز روائس کمپنی سے متعلق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لندن میں ایک رولز روائس شو روم میں انہیں ان کے لباس اور رنگت کی وجہ سے مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ اس پر انہوں نے کئی مہنگی گاڑیاں خریدیں اور بہاولپور واپس آکر انہیں گلیوں کی صفائی کے لیے استعمال کیا۔ جب یہ خبر دنیا بھر میں پھیلی تو رولز روائس کمپنی کو باقاعدہ معذرت کرنا پڑی۔ یہ واقعہ ان کی خودداری اور وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    یکم مئی 1946 کو ریاستِ بہاولپور کی جانب سے قیامِ امن کے سلسلے میں خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کیے گئے، جبکہ 2013 میں پاکستان پوسٹ نے ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ یہ ان کی قومی خدمات کا اعتراف تھا۔

    1955 میں جب ون یونٹ کا قیام عمل میں آیا تو انہوں نے قومی اتحاد اور پاکستان کے استحکام کی خاطر اپنی ریاست کو مغربی پاکستان میں ضم کرنے پر رضامندی ظاہر کردی۔ انہوں نے صرف چند لمحوں میں معاہدے پر دستخط کردیے اور کہا کہ وہ عوام کے بہتر مستقبل کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ یوں ایک خودمختار ریاست نے پاکستان کی وحدت کے لیے اپنی علیحدہ حیثیت قربان کردی۔

    ان کی خدمات کے اعتراف میں محمد ایوب خان نے انہیں “نشانِ قائداعظم” عطا کیا۔ روایت ہے کہ جب انہیں اسلام آباد آکر اعزاز وصول کرنے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر حکومت انہیں اعزاز دینا چاہتی ہے تو صدرِ پاکستان خود بہاولپور آئیں۔ بعد ازاں ایوب خان بہاولپور تشریف لائے اور انہیں یہ اعزاز پیش کیا گیا۔

    1965 کی پاک بھارت جنگ میں بھی انہوں نے پاکستان کی بھرپور حمایت کی اور دفاعی فنڈ میں مالی عطیات دیے۔ وہ آخری وقت تک پاکستان کی ترقی، سلامتی اور استحکام کے لیے سرگرم رہے۔

    24 مئی 1966 کو لندن میں 62 برس کی عمر میں جنرل نواب الحاج سر صادق محمد خان پنجم عباسی کا انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات کی خبر پورے پاکستان خصوصاً بہاولپور میں غم کی لہر بن کر پھیلی۔ حکومتِ پاکستان نے سرکاری سوگ کا اعلان کیا، قومی پرچم سرنگوں کیے گئے، اور ان کی میت کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ پاکستان لایا گیا۔

    کراچی ایئرپورٹ پر پاک فوج کے اعلیٰ افسران نے ان کی میت وصول کی۔ بعد ازاں ایک خصوصی ٹرین کے ذریعے ان کا جسدِ خاکی بہاولپور پہنچایا گیا، جہاں لاکھوں افراد اپنے محبوب حکمران کی آخری جھلک دیکھنے کے لیے موجود تھے۔ صادق گڑھ پیلس سے ان کا جنازہ توپ گاڑی پر نکالا گیا اور فوجی دستوں نے سلامی پیش کی۔ بعد ازاں انہیں قلعہ دراوڑ کے قریب اپنے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔

    آج بھی بہاولپور کے عوام انہیں بے حد محبت اور احترام سے یاد کرتے ہیں۔ ان کی برسی کے موقع پر مختلف تقریبات، سیمینار اور دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ان کی خدمات پر تحقیقی نشستیں منعقد ہوتی ہیں اور انہیں پاکستان کے عظیم محسنین میں شمار کیا جاتا ہے۔

    نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجمؒ نے اپنی پوری زندگی اس حقیقت کو ثابت کیا کہ ایک حکمران کی اصل عظمت اس کے محلوں، خزانوں یا اقتدار میں نہیں بلکہ اس کی عوامی خدمت، عدل، تعلیم دوستی، فیاضی اور حب الوطنی میں ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی دولت، اقتدار اور ریاست کو پاکستان کے لیے وقف کردیا۔ اگر پاکستان کی تاریخ کے محسنین کی فہرست مرتب کی جائے تو ان کا نام ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔

    وہ صرف بہاولپور کے حکمران نہیں تھے بلکہ ایک نظریہ، ایک کردار اور ایک ایسی تاریخ تھے جو آنے والی نسلوں کو حب الوطنی، خدمتِ خلق، علم دوستی اور قربانی کا درس دیتی رہے گی۔

  • دنیا، زہد، رزق اور مومن کی شان

    دنیا، زہد، رزق اور مومن کی شان

    دنیا، زہد، رزق اور مومن کی شان

    شہر خواب ۔۔۔ صفدر علی حیدری 

    انسان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان دنیا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو ہر دور میں ایک جیسی رہی ہے، مگر ہر انسان اسے نئے سرے سے جیتا ہے۔ کوئی اسے مقصد بنا لیتا ہے، کوئی اس سے بھاگ جاتا ہے، اور کوئی اسے سمجھ کر اس کے اندر رہتے ہوئے اس سے بلند ہو جاتا ہے۔ اصل فرق سمجھنے اور نہ سمجھنے کا ہے۔

    دنیا بظاہر بہت حسین ہے، مگر اس کی حقیقت بڑی مختصر اور تلخ ہے۔ عربی زبان میں دنیا کا لفظ “دنو” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں ادنیٰ، قریب یا کمتر۔ گویا دنیا اپنے نام ہی سے یہ اعلان کرتی ہے کہ وہ اعلیٰ نہیں بلکہ ادنیٰ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک اعلیٰ روح، جو اللہ کی طرف منسوب ہے، وہ کسی ادنیٰ چیز پر مر سکتی ہے؟

    قرآن مجید نے دنیا کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے:

    کہ دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔ یہ دنیا ایک سایہ ہے جو بدلتا رہتا ہے۔ ایک لمحہ خوشی ہے تو دوسرا لمحہ غم۔ ایک دن دولت ہے تو دوسرے دن محتاجی۔ ایک وقت طاقت ہے تو دوسرے وقت کمزوری۔ یہی اس کی فطرت ہے۔

    اس حقیقت کو سب سے زیادہ جس شخصیت نے سمجھا اور سمجھایا وہ حضرت علی ابن ابی طالب ہیں۔ انہوں نے دنیا کو صرف دیکھا نہیں بلکہ جیا بھی اور پہچانا بھی۔ ان کے نزدیک دنیا کی حیثیت ایک ٹوٹی ہوئی جوتی  سے زیادہ نہ تھی اگر وہ اللہ کے بغیر ہو۔

    دنیا، زہد، رزق اور مومن کی شان

    ایک مشہور واقعہ ہے کہ حضرت علیؓ اپنا پرانا جوتا گانٹھ رہے تھے ۔ عبداللہ ابن عباسؓ نے جب دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ فرمایا اپنا جوتا سی رہا ہوں ۔ آپ نے ابن عباس سے پوچھا کہ اس جوتے کی قیمت کیا ہو گی ؟  ابن عباسؓ نے عرض کیا کہ اس کوئی مفت میں بھی نہیں لے گا تو حضرت علیؓ نے فرمایا: “اللہ کی قسم! تمھاری اس دنیا اور اقتدار سے مجھے یہ جوتا زیادہ محبوب ہے، بشرط یہ کہ میں حق قائم کروں یا باطل مٹا دوں۔” یہ جملہ دراصل دنیا کے پورے فلسفے کو بدل دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اقتدار مقصد نہیں، حق مقصد ہے۔ مال مقصد نہیں، بندگی مقصد ہے۔ دنیا نہیں، آخرت اصل ہے۔

    جبھی تو آپ کو زاہدوں کا امام مانا گیا ہے اور زہد دنیا چھوڑنا نہیں، دنیا سے آزاد ہونا ہے لوگ زہد کو غلط سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ زہد کا مطلب فقر، فاقہ، جنگل اور دنیا سے فرار ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

    زہد دنیا سے نکل جانا نہیں، بلکہ دنیا کا اپنے من سے نکالنے کا نام ہے ۔  گویا دنیا کے اندر رہ کر اس کے غلام نہ بننا ہے۔ زاہد وہ نہیں جس کے پاس کچھ نہیں ، بلکہ وہ ہے جس کے پاس سب کچھ ہو مگر دل میں کچھ نہ ہو ، کم از کم دنیا نہیں ، دنیا اس کا مطلوب و مقصودِ نہیں 

    شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
    نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی 

    اقبال کا یہ شعر دراصل مولا علی کی شخصیت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ کیوں کہ  
    مولا علی کا طرزِ زندگی اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ وہ خلیفہ تھے، حاکم تھے، مگر ان کے لباس میں پیوند لگے ہوتے تھے۔ ان کے پاس اختیار تھا مگر دل میں عاجزی تھی۔

    ان کا قول ہے:

    “دنیا سانپ کی مانند ہے، چھونے میں نرم مگر اندر سے زہر قاتل۔” یہی زہد کا اصل تصور ہے  دنیا ہاتھ میں ہو مگر دل میں نہ ہو۔ دنیا کی فطرت سایہ، دھوکہ اور حرکت دنیا کو اگر سمجھنا ہو تو اسے سایے سے سمجھو۔ اگر تم اس کے پیچھے بھاگو گے تو وہ آگے بڑھ جائے گی، اور اگر تم رک جاؤ گے تو وہ تمہارے پیچھے آ جائے گی۔

    یہی بات حکیم اسلام علی مولا نے فرمائی کہ دنیا سایہ ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا پانی کی مانند ہے۔ اگر پانی کشتی کے نیچے ہو تو وہ اسے اٹھائے رکھتا ہے، لیکن اگر وہی پانی کشتی کے اندر آ جائے تو اسے ڈبو دیتا ہے۔

    اسی طرح دنیا اگر دل کے نیچے رہے تو نعمت ہے، لیکن اگر دل میں اتر جائے تو بربادی ہے۔

    رزق ، خوف نہیں، یقین کا نام ہے

    انسان کی سب سے بڑی کمزوری رزق کا خوف ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے زیادہ محنت نہ کی، زیادہ چالاکی نہ دکھائی، یا زیادہ دوڑ دھوپ نہ کی تو وہ بھوکا رہ جائے گا۔

    حالاں کہ قرآن واضح اعلان کرتا ہے

    ” زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو "

    یہی وہ حقیقت ہے جسے انسان بھول جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرو جیسا کرنے کا حق ہے تو تمھیں پرندوں کی طرح رزق دیا جائے گا، جو صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ واپس آتے ہیں۔

    حضرت علیؓ نے فرمایا:

    “رزق دو طرح کا ہے: ایک جو تم تلاش کرتے ہو اور ایک جو تمھیں تلاش کرتا ہے” نیز فرمایا  رزق تمھیں ایسے ڈھونڈتا ہے جیسے موت ، سو خود کو رزق کے لیے مت گراؤ 

    یہ نظریہ انسان کو اندر سے آزاد کر دیتا ہے۔ کیوں کہ رزق صرف دوڑنے سے نہیں ملتا، بلکہ مقدر سے ملتا ہے۔ مومن کی شخصیت چار بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہے

    1. قناعت

    قناعت کا مطلب ہے اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا۔

    یہ حرص کو ختم کرتا ہے اور دل کو سکون دیتا ہے۔

    حضرت علی فرماتے ہیں: “قناعت ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔”

    2. توکل

    توکل کا مطلب اسباب چھوڑنا نہیں بلکہ اسباب کے ساتھ اللہ پر بھروسہ رکھنا ہے۔

    مومن محنت کرتا ہے مگر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔

    3. صبر

    صبر صرف مصیبت برداشت کرنا نہیں بلکہ گناہ سے بچنے کی طاقت بھی ہے۔

    یہ مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، جو اسے ٹوٹنے نہیں دیتا۔

    4. شکر

    شکر نعمت کو پہچاننے اور اس کا حق ادا کرنے کا نام ہے۔

    شکر دل کو حسد سے بچاتا ہے اور نعمت کو بڑھاتا ہے۔

    اگر پوری گفتگو کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ یہ ہے کہ:

    دنیا ایک امتحان گاہ ہے، منزل نہیں۔

    یہ فانی ہے، باقی نہیں۔

    یہ سایہ ہے، حقیقت نہیں۔

    یہ ذریعہ ہے، مقصد نہیں۔

    فرعون، قارون، شداد اور بے شمار طاقت ور لوگ دنیا کے پیچھے بھاگے مگر مٹی ہو گئے۔ دنیا نے کسی کو نہیں چھوڑا۔

    زہد کا مطلب نہ مال کا نہ ہونا ہے، نہ دنیا سے بھاگنا ہے، بلکہ: دنیا کا ہاتھ میں ہونا مگر دل سے نکل جانا ہے۔ یہی اصل آزادی ہے۔ رزق خوف سے نہیں ملتا، بلکہ یقین سے ملتا ہے۔ جو چیز تمہارے لیے لکھی جا چکی ہے وہ تم تک پہنچ کر رہے گی، چاہے تم بھاگو یا ٹھہر جاؤ۔

    مومن کی پہچان یہ ہے:

    وہ کم پر راضی ہوتا ہے (قناعت)

    وہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے  (توکل)

    وہ مشکل میں ٹوٹتا نہیں (صبر)

    وہ نعمت میں غرور نہیں کرتا (شکر)

    اگر پورے مضمون کا نچوڑ نکالا جائے تو وہ صرف چند سطروں میں سمٹ جاتا ہے:

    دنیا ادنیٰ ہے، اس پر مرنا عقل مندی نہیں۔

    زہد دنیا چھوڑنا نہیں، دل کو آزاد کرنا ہے۔

    رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے خوف کی کوئی جگہ نہیں۔

    مومن کی شان چار چیزیں ہیں: قناعت، توکل، صبر اور شکر۔

    اور سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ: اعلیٰ روحیں ادنیٰ چیزوں پر نہیں مرتیں۔

    انسان کی اصل نسبت زمین سے نہیں، آسمان سے ہے۔ وہ چند روزہ دنیا کے لیے نہیں بلکہ ابدی آخرت کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔

    اللہ ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے آزاد رہنے کی توفیق دے، رزق میں حلال کی برکت دے، دل میں قناعت، عمل میں صبر، زندگی میں توکل اور ہر حال میں شکر عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین

  • أھلًا و سہلًا اور مرحبا :معنی اور ثقافتی و مذہبی تاریخ

    أھلًا و سہلًا اور مرحبا :معنی اور ثقافتی و مذہبی تاریخ

    أھلًا و سہلًا اور مرحبا :معنی اور ثقافتی و مذہبی تاریخ

    عربی زبان میں مہمان نوازی کے اظہار کے دو خوبصورت الفاظ “أھلًا و سہلًا” اور “مرحبا” صدیوں سے بھائی چارے، گرم جوشی اور روحانی استقبالیہ کے مترادف ہیں۔ ان کا استعمال نہ صرف روزمرہ معاشرت میں بلکہ اسلامی تاریخ اور ادب میں بھی بارہا ملتا ہے۔ان اصطلاحات نے نہ صرف روزمرہ گفتگو کو مٹھاس بخشی بلکہ اسلامی تہذیب، ادب اور صوفیانہ روایت میں بھی ان کی اہمیت بارہا اجاگر ہوئی۔ ذیل میں ہم ان دونوں الفاظ کے معنی، ارتقا، تاریخی، ثقافتی ، مذہبی معنی اور استعمال کے چند کلیدی پہلوؤں کا مفصل جائزہ لیتے ہیں۔  

    ۱. لسانی و أصلِ اصطلاح  

      “أھلًا” لفظ “أھل” (گھرانے، خاندان) سے نکلا ہے، مطلب “اپنے گھر یا خاندان کا فرد”۔  

      “سہلًا” یعنی “آسان، نرم”؛ جب دونوں کو ملا کر بولا جاتا ہے تو مراد یہ ہے کہ مہمان کو اتنی آسائش و اطمینان مہیا ہو جیسے وہ گھر کا اپنا فرد ہو اور ہر چیز اس کے لیے آسان ہو۔  

      “مرحبا” الفاظ کی جڑ “ر ح ب” ہے جس کا معنی “وسعت دینا، جگہ پھیلانا”۔ اس سے مراد یہ ہوئی کہ مہمان کے لیے دل و دماغ اور آنگن کو پھیلا لیا گیا ہے۔

       مرحبا بقدومک: “آپ کے قدم  خوش آئند ہوں” یا “خوش آمدید”۔  

    مزید

    أھلًا و سہلًا

        أھلًا (aḥlan): “خاندان” یا “گھر کے افراد” سے ماخوذ، یعنی آپ ہمارے گھر کے اہل ہیں۔  

        سہلًا (sahlan): “ہموار راستہ” یا “آرام دہ مقام” کی طرف اشارہ، یعنی یہاں آپ کے لیے ہر سہولت میسر ہے۔  

        مجموعی معنی: “آپ ہمارے گھر کے فرد ہیں اور ہر سہولت کے ساتھ خوش آمدید ہیں۔

    أھلًا و سہلًا اور مرحبا :معنی اور ثقافتی و مذہبی تاریخ

     ۲. تاریخی پس منظر   

      جزیرۂ عرب میں بدو قبائل کی مہمان نوازی صدیوں پرانی روایت تھی۔ صحرا کی کڑی زندگی میں مسافروں، شگوفوں (تجارت کے قافلوں) یا کسی مصیبت زدہ کو سہارا دینا سماجی اخلاقیات کا سنگِ بنیاد تھا۔

      صحرائے عرب میں خانہ بدوش قبائل کے درمیان مہمان نوازی پہلا اصول تھی۔ راستے کے مسافر کو  (پنچھی کا گھونسلہ) یعنی گھر جیسا معتدل ماحول فراہم کرنا قبائلی رسم تھی۔  

      “أھلًا و سہلًا”  کے مستعمل ہونے کے آثار 7ویں قبل مسیح سے ملتے ہیں، جب عرب معاہدے اور میل ملاپ اپنے عروج پر تھے۔ بعدها اسلامی دور میں یہ اصطلاح سفراء اور زائرین کے استقبال کا بھی رسمی دعویٰ بن گئی۔  

      “مرحبا” کا داستان میں تذکرہ شاعروں اور حکیموں کے اشعار میں اسی اندازِ استقبالیہ کے موقع پر ملتا ہے، جہاں “ر ح ب” یعنی “وسیع دل” کی تمثیل کی گئی۔

      جب پیغمبرِ اسلام ﷺ نے مدینۂ منورہ کا رخ کیا تو انصار نے انہیں “أھلًا و سہلًا یا رسولَ اللہ ﷺ” کہا، جو کہ ان کی بے مثال پذیرائی کا عکاس تھا۔ اسی روایت نے بعد ازاں “أھلًا و سہلًا” کو خوش‌آمدیدی علامت بنا دیا۔  

     ۳. ثقافتی اور معاشرتی اہمیت   

       ادبی صنفیں:  کلاسیکی دیوانوں، سفرناموں اور حماسی شعر و نثر میں میزبانی کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔ یہ صرف خوش‌امد کا اظہار نہیں بلکہ عزت و وقار کی علامت بھی ہے۔  

       معاشرتی رسم و رواج:  آج بھی خلیجی ممالک میں قہوہ کا انتظام، شاہانہ دسترخوان اور مقامی نغمات “مرحبا” کے جواب میں پیش کیے جاتے ہیں۔  

       فنِ خوش‌آمدید:  اسے صوفی کلمات، خطاطی اور دیوار آرائی (وال اینامیلنگ) میں نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے—خاص طور پر مسجدوں، مہمان خانوں اور ثقافتی مراکز کے دروازوں پر۔  

     ۴. مذہبی اور روحانی ابعاد   ۔  

       حدیثِ نبوی ﷺ:  “مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ ضَيْفَهُ 

    ” یعنی “جو اللہ اور یومِ آخرت کا ایمان رکھتا ہے، وہ مہمان کی عزت کرے”۔  

       روحانی تعلّق:  مہمان کو گھر کا فرد جتانا اسلامی بھائی چارے اور امتِ مسلمہ کی رفاقت کو مضبوط کرتا ہے۔  

     ۵. اردو اور دیگر زبانوں میں نفوذ اور ارتقا   

      فارسی، اردو اور ترک زبانوں میں “أھلًا و سہلًا” اور “مرحبا” نے مقامی لہجوں کے ساتھ جذب ہو کر ایک تہذیبی میراث کا روپ دھارا۔  

      شاہ عالم انداز میں بولے جانے پر اچھوتے اردو شاعروں نے بھی ان اصطلاحات کو مثالی خوش‌آمدید اور سوزِ سخن میں ڈھالا۔  

    “أھلًا و سہلًا” اور “مرحبا” صرف الفاظ نہیں بلکہ گھریلو محبت، اجتماعی پیار اور روحانی خلوص کا استعارہ ہیں جو منزلِ مہمان سے لے کر دلِ میزبان تک رشتے کو گہرا کرتے ہیں۔  

  • وجود اور معانی: سرفراز بزمی کی نظم

    وجود اور معانی: سرفراز بزمی کی نظم

    وجود اور معانی: سرفراز بزمی کی نظم

     سرفراز بزمی عہدِ حاضر کے ایسے شاعر ہیں جو اقبال کے رنگ میں لکھتے ہیں۔ ان کے ہاں فکری شعور بہت بلند ہے۔ تراکیب سازی میں ان کی مہارت واضح دکھائی دیتی ہے۔ عربی اور فارسی کی ترکیبیں ان کی شاعری میں کثرت سے ملتی ہیں۔ بزمی صاحب نے 22 دسمبر 2025ء کو اس پیغام کے ساتھ اپنی یہ تازہ نظم ارسال کی۔

    "حالات کی مناسبت سے میری اک نظم کا کچھ حصہ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ آپ کی رائے اور کمنٹس کا انتظار رہے گا۔”

    (نظم)

    دیکھتا رہتا ہوں ہر دم جاگتی آنکھوں سے خواب

    ٹوٹتے ہیں ساغر صہبا میں اٹھ اٹھ کر حباب

    بازگشت قلقل مینا سے گھبراتا ہے دل

    بے نوا ہو کر نوا پیرا ہوا جاتا ہے دل

    شعلۂ خورشید سے تھوڑی چمک پاتی ہے خاک

    پھر چمک کر اس چمک پر خوب اتراتی ہے خاک

    سرد ہو جاتا ہے لیکن جب شرارِ آرزو

    مار دیتا ہے دل آدم کو مارِ آرزو

    اے خدائے لم یزل کیا حرص ہے میری سرشت

    ورنہ جنت اور ہجوم خواہش برگ بہشت

    یا مجھے رکھا گیا محروم اسرار حیات

    ورنہ مسجود ملائک اور جہان بے ثبات

    یا یہ وہ جوہر ہے خاکی جس کو پا سکتا نہیں

    کوزہء کم ظرف میں دریا سما سکتا نہیں

    یا فقط کارِ جہاں کے واسطے میری نمود

    عقل انساں اور ہزاروں عقدہ ہائے ہست و بود

    درد دل کی انجمن میں میر محفل کون ہے

    یہ بتا اس کائنات درد کا دل کون ہے

    محرم راز دروں کر عشق کی توفیق دے

    پیکر مہر و وفا کو حسن نستعلیق دے

    :2

    کھول چشم دل کو اے جویائے اسرارِ حیات

    مضطرب ہے دیکھ ہر ذرے میں روحِ کائنات

    شور سناٹوں کا سن خاموشیوں سے بات کر

    رات کی تنہائیوں میں احتساب ذات کر

    ہے مسبب ہر سبب کا بے سبب کچھ بھی نہیں

    گرچہ دنیامیں بجز منشائےرب کچھ بھی نہیں

    پا بگل ہے عالم محسوس میں آدم ابھی

    برق راز کن سے ہے محروم نامحرم ابھی

    قیس کیا گر آرزوئے ناقۂ لیلی نہ ہو

    کیا جنون عشق جب تک نجد کا صحرا نہ ہو

    زندگی مینا سے وابستہ نہ یہ مرہون جام

    ہے دوائے قلب مضطر جستجوئے ناتمام

    تجھ میں پوشیدہ ہے روح لایزال و لم یزل

    تیری پیشانی پہ لکھی ہے محبت کی غزل

    محفل کون و مکاں میں شمعِ محفل تیری ذات

    ہے وجود آدمیت سے وجود کائنات

    کیا طلوع روز و شب کیا انتہائے ماہ وسال

    دائمی شےکو ہے بے معنی شب ہجر و وصال

    کل جو تھا رنگ شفق رنگ شفق ہے آج بھی

    کل جو تھا بھولا سبق بھولا سبق ہے آج بھی

    یہ ہلال سالِ نو کچھ بھی نہیں اس کے سوا

    گم ہوا ایک اور دانہ رشتۂ تسبیح کا

    ہے طلوع صبح نو بزمی یہ شامِ زندگی

    موت کے پردے میں پنہاں ہے دوامِ زندگی

    نظم پڑھ کر حامی بھر لی کہ ان شاءاللہ جلد تبصرہ لکھوں گا۔ ایک ماہ بعد کوشش بارآور ثابت ہوئی اور کچھ لکھنے میں کامیاب ہوا۔

    وجود اور معانی: سرفراز بزمی کی نظم

    اردو نظم کی فکری روایت میں وجودی سوالات کوئی نئی واردات نہیں، تاہم جدید عہد میں یہ سوالات محض فلسفیانہ تجسس تک محدود نہیں رہے بلکہ انسان کی داخلی شکست، روحانی بے سمتی اور معنوی اضطراب کی علامت بن چکے ہیں۔ جدید اردو شاعر اب کائنات کو سمجھنے سے زیادہ خود کو سمجھنے کی جدوجہد میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ سرفراز بزمی کی زیرِ نظر نظم اسی فکری روایت کا تسلسل ہے، جہاں انسان اپنی آرزوؤں، محدود عقل اور لافانی معنی کے درمیان معلق نظر آتا ہے۔ یہ نظم انسانی وجود کو کسی قطعی نتیجے تک نہیں پہنچاتی بلکہ اسے سوال کی صورت میں قائم رکھتی ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی فکری قوت ہے۔

    سرفراز بزمی کی اس نظم کا بنیادی مسئلہ “وجود” ہے۔ یہ وجود کسی فلسفیانہ اصطلاح کی طرح جامد نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور مضطرب انسانی کیفیت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ شاعر انسان کو نہ مکمل باخبر مانتا ہے اور نہ مکمل بے خبربلکہ اسے ایک ایسی ہستی کے طور پر پیش کرتا ہے جو شعور رکھتے ہوئے معنی سے محروم ہے۔

    نظم کے آغاز میں ہی شاعر بےداری اور خواب کے تضاد کے ذریعے سے انسانی ذہنی کیفیت کو واضح کرتا ہے۔ خواب یہاں محض رومانوی یا تخیلاتی شے نہیں بلکہ انسان کی نامکمل خواہش اور مسلسل جستجو کی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے:

    دیکھتا رہتا ہوں ہر دم جاگتی آنکھوں سے خواب

    ٹوٹتے ہیں ساغرِ صہبا میں اٹھ اٹھ کر حباب

    یہ شعر اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ انسان کی آرزوئیں شعوری حالت میں بھی خواب بنی رہتی ہیں اور ان کا انجام اکثر ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی داخلی شکست نظم کے فکری سفر کو آگے بڑھاتی ہے۔

    دل کی کیفیت نظم میں محض جذباتی سطح پر نہیں رہتی بلکہ ایک تخلیقی اور فکری عمل میں بدل جاتی ہے۔ شاعر اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کا دکھ خاموش نہیں رہتا وہ یا تو سوال بن جاتا ہے یا تخلیق۔ یہی وجہ ہے کہ نظم میں داخلی اضطراب مسلسل اظہار کی صورت اختیار کرتا ہے۔

    نظم کا ایک نمایاں پہلو انسان کی خود فریبی پر تنقید ہے۔ انسان کائنات سے مستعار لی گئی معمولی سی روشنی کو اپنی ذات کا کمال سمجھ بیٹھتا ہے۔ شاعر اس عارضی چمک کو بے نِقاب کرتا ہے ۔ وہ واضح کرتا ہے کہ آرزو کی حرارت ختم ہوتے ہی وجود کی کم زوری آشکار ہو جاتی ہے۔

    آرزو نظم میں نجات نہیں بلکہ آزمائش بن کر سامنے آتی ہے۔ شاعر اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے کہ خواہش کی شدت خود انسان کے لیے زہر بن جاتی ہے:

    سرد ہو جاتا ہے لیکن جب شرارِ آرزو

    مار دیتا ہے دلِ آدم کو مارِ آرزو

    یہاں آرزو انسان کو زندگی کی طرف نہیں بلکہ فنا کی طرف لے جاتی ہےاور یہی جدید وجودی شعور کی بنیادی پہچان ہے۔

    نظم کے وسط میں شاعر انسان کی عظمت اور محرومی کو بہ یک وقت پیش کرتا ہے۔ انسان وہی ہے جو کبھی مسجودِ ملائک تھامگر آج اسرارِ حیات سے ناآشنا ہے۔ اس تضاد کی اصل وجہ شاعر انسانی جوہر میں نہیں بلکہ انسانی ظرف میں دیکھتا ہے۔ یہی خیال اس شعر میں نمایاں ہوتا ہے:

    یا یہ وہ جوہر ہے خاکی جس کو پا سکتا نہیں

    کوزۂ کم ظرف میں دریا سما سکتا نہیں

    یہ شعر نظم کے فکری ڈھانچے کی کلید ہے جہاں معنی کا دریا موجود ہے مگر انسانی شعور اسے سمیٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

    نظم کا دوسرا حصہ قاری کو خارجی دنیا کے شور سے کاٹ کر داخلی خاموشی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہاں خود احتسابی کسی اخلاقی نصیحت کے طور پر نہیں بلکہ وجودی بےداری کی شرط کے طور پر سامنے آتی ہے۔ شاعر کے نزدیک حقیقت تک رسائی کا راستا باہر کی نہیں بلکہ اندر کی طرف جاتا ہے۔

    وقت کا تصور نظم میں ایک اور اہم معنوی پہلو ہے۔ سالِ نو، دن رات اور مہ و سال محض فریبِ تسلسل ہیں۔ شاعر کے نزدیک وقت آگے نہیں بڑھتا بلکہ انسان تحلیل ہوتا جاتا ہے۔ یہی احساس اس شعر میں مرتکز ہو جاتا ہے:

    یہ ہلالِ سالِ نو کچھ بھی نہیں اس کے سوا

    گم ہوا ایک اور دانہ رشتۂ تسبیح کا

    اختتام پر شاعر زندگی اور موت کو متضاد نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو رخ قرار دیتا ہے۔ موت یہاں اختتام نہیں، پردہ ہے اور اس پردے کے پیچھے دوامِ زندگی کا تصور پوشیدہ ہے۔ یہ خیال نظم کو وجودی فکر کے ساتھ ساتھ صوفیانہ معنویت سے بھی جوڑ دیتا ہے۔

    ہم کہ سکتے ہیں کہ سرفراز بزمی کی یہ نظم اردو نظم کی وجودی روایت میں ایک سنجیدہ اور بامعنی اضافہ ہے۔ اس کی اصل طاقت لفظی صناعی یا علامتی چمک میں نہیں بلکہ انسانی وجود پر اٹھائے گئے ان سوالات میں ہے جو قاری کو بے چین کر دیتے ہیں۔ شاعر جواب فراہم نہیں کرتا فقط سوچنے کی جرات عطا کرتا ہے اور یہی جدید نظم کا اصل جوہر ہے۔ یہ نظم انسانی وجود، آرزو، وقت اور معنی کے مابین ایک ایسا فکری مکالمہ قائم کرتی ہے جو دیر تک قاری کے ذہن میں گونجتا رہتا ہے۔

  • سیّد علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن

    سیّد علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن

    (6 دسمبر یوم وفات پر خصوصی تحریر)

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    سید علی عباس جلالپوری برصغیر کے ان چیدہ چیدہ دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے فکری سفر کو روایتی حدود سے آزاد رکھا۔ ان کا تعلق ایسے سید گھرانے سے تھا جہاں عربی، فارسی اور کلاسیکی حکمت کی فضا موجود تھی۔ ڈنگہ اور جلالپور شریف کی تہذیبی فضا میں پلنے والے جلالپوری نے گھر کی کتابوں، ادبی رسائل اور داستانوی ادب کے زیر اثر ابتدائی ذہنی تربیت پائی۔ بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں پیدا ہونے والی نسل کے لیے یہ دور سوال اٹھانے اور نئی دنیا کو سمجھنے کا زمانہ تھا، اور عباس جلالپوری نے اسی دور کے بدلتے ہوئے فکری دباؤ میں اپنی سمت بنائی۔عباس جلالپوری اپنے گھر کے ماحول کے بارے میں کہتے تھے:

    ” خوش قسمتی سے میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوا جہاں علم و حکمت کا چرچا تھا۔ ہمارے ہاں کم وبیش تمام ادبی رسائل آتے تھے۔ میں ساتویں جماعت میں تھا کہ بچوں کے رسالے ” پھول“ کے ساتھ ساتھ “ ہمایون”، “زمانہ” وغیرہ میں چھپے ہوئے افسانے بھی پڑھنے لگا تھا۔ ان کے علاوہ خواجہ حسن نظامی، راشد الخیری اور نذیر احمد دہلوی کی کتابیں بھی میری نظر سے گزرنے لگی تھیں۔ اس زمانے میں ایک دن اپنے کتب خانے کو کھنگالتے ہوئے دو نایاب کتب مرے ہاتھ لگیں جن کے مطالعے نے مجھے دنیا و مافیہا سے بے خبر کر دیا۔ ان میں، ایک ” داستان امیر حمزہ“ اور دوسری ” الف لیلیٰ، “ تھی“۔

    گورنمنٹ کالج لاہور کی علمی فضا نے ان کی ذہنی تربیت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ احمد شاہ پطرس بخاری جیسے اساتذہ نے نہ صرف فکری رہنمائی دی بلکہ جلالپوری کے اندازِ نظر کو بھی تشکیل دیا۔ فلسفہ، تاریخ، مذہبیات، شاعری، موسیقی ان سب سے ان کی دلچسپی نے انہیں ایک ہمہ جہت دانشور بنایا۔ ول ڈیورانٹ سے خط و کتابت اور علمی گفتگو اس بات کی گواہ ہے کہ وہ فلسفے کو محض کتابی اصطلاحات کے بجائے ایک زندہ تجربہ سمجھتے تھے۔

    ملازمت کے دوران وہ گاؤں، قصبوں اور شہروں کی عملی زندگی سے گزرے۔ یہ تجربہ ان کے شعور کو زیادہ زمینی اور حقیقت شناس بناتا ہے۔ گوجرانوالہ، ملتان، لاہور، سیٹلائٹ ٹاؤن ان سب مراحل نے ان کی تحریروں میں وہ حقیقت پسندانہ انداز پیدا کیا جس نے انہیں تحریک خرد افروزی کا نمایاں نام بنایا۔ عباس جلالپوری کہتے ہیں:

    ”مسٹر ھیچ میرے ٹٹوریل گروپ کے انچارج تھے۔ انہوں نے مجھے دنیا کی سو بہترین کتابوں کی فہرست دی جس میں ہر موضوع پر کتابیں شامل تھیں، مجھے عام اور کلاس کی کتاب کا فرق یہاں سے معلوم ہوا“۔

    سیّد علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن

    عباس جلالپوری نے اردو میں جس موضوعاتی تنوع کے ساتھ کام کیا، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ فلسفہ ہو، تصوف ہو، سماجیات ہو یا مذہبی فکر ہر میدان میں انہوں نے واضح اور غیر مبہم موقف پیش کیا۔ ”روح عصر“، ”روایات فلسفہ“، ”عام فکری مغالطے“، ”مقامات وارث شاہ“، ”اقبال کا علم الکلام“، ”رسوم اقوام“ اور ”خردنامہ“ جیسی کتابیں ان کی تحقیقی محنت اور فکری استقامت کی دلیل ہیں۔ جلالپوری کہا کرتے تھے:

    ” اگر میں فلسفی نہ ہوتا تو موسیقار ہوتا“۔

    انہوں نے رائج تصورات کے ابطال یا تصحیح میں کوئی تامل نہیں کیا۔ اقبال کے فلسفی ہونے پر اعتراض ہو یا تصوف کی تعبیر نو، عباس جلالپوری نے ہمیشہ دلیل اور استدلال کو بنیاد بنایا۔ ان کا تعلق ایسی نسل سے تھا جو فکری آزادی کو ذاتی وقار سمجھتی تھی، اور اپنی تحریر میں اس آزادی کا اظہار بھی کرتی تھی۔ عباس جلالپوری اپنے بارے میں کہتے ہیں:

    ”دنیا میں ایک چیز ایسی ہے جس کے لیے میں جان بھی دے سکتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مجھے کوئی دبا نہیں سکتا۔ نہ نظریئے سے، نہ باتوں میں، نہ کسی قسم کے رعب سے، جب سے ہوش سنبھالا ہے میں باغی ہوں“۔

    اگرچہ جلالپوری بنیادی طور پر فلسفی اور محقق کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، مگر ان کے شعری اظہار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ طالب علمی کے زمانے میں یہ شوق زیادہ نمایاں تھا، مگر بعد میں فکری تحریروں نے شاعری کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کے باوجود ان کی شاعری میں وہی فکری شفافیت، مشاہدے کی گہرائی اور زبان کی سادگی ملتی ہے جو ان کی نثری تحریروں کا خاصہ ہے۔

    ان کا کلام روایتی رومان یا رسمی تصوف سے الگ نظر آتا ہے۔ وہ جذبات کی شدت سے زیادہ ذہنی وضاحت اور فکری سچائی کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے اشعار میں موضوعات کی سنجیدگی، بیانیے کی سادگی اور اظہار کی راست گوئی غالب رہتی ہے۔ عباس جلالپوری کی شاعری میں تین بنیادی رنگ نمایاں طور پر نظر آتے ہیں جن میں سرفہرست ان کی فکری تمثیل اور فلسفیانہ طنز ہے ۔ ان کے اشعار میں بیشتر معاملات زندگی کو فلسفیانہ شدت کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔ وہ معاشرتی تضادات، مذہبی تعصبات اور ذہنی جمود پر طنز کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں سوال اٹھانے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔

    ان کی شاعری میں انسان دوستی کے ساتھ ساتھ روشن خیالی کا ذکر بھی جابجا ملتا ہے۔ تحریک خرد افروزی کا اثر ان کی شاعری میں بھی ملتا ہے۔(تحریکخِردافروزی اٹھارھویں صدی کی مشہور عقلیاتی تحریک کا عنوان ہے جو ہالینڈ اور فرانس سے شروع ہوئی اور مقبول ہوکر تمام مغربی ممالک میں پھیل گئی) وہ انسان کی عظمت، فطری آزادی اور شعور کی بلندی کی بات کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان اپنی عقل کے ذریعے اپنی قسمت لکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    عباس جلالپوری روایتی شاعری سے بغاوت نہیں کرتے، مگر اسے اندھی تقلید کی نذر بھی نہیں ہونے دیتے۔ وہ روایت کو پرکھ کر اپناتے ہیں اور نئے فکری جواز کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں کلاسیکی بہاؤ بھی ہے اور جدید ذہن کا سوال بھی ان کی شاعری کا حصہ ہے۔

    عباس جلالپوری کی شاعری اگرچہ ان کے فکری کام کے مقابلے میں کم حجم رکھتی ہے، مگر اپنی فطرت میں اہم ہے۔ یہ شاعری کسی روایتی شاعر کا کارنامہ نہیں بلکہ ایک مفکر کا تخلیقی رد عمل ہے۔ ان کے اشعار میں رزمیہ شان نہیں، جذبات کی بارش نہیں، بلکہ سوچ کی ٹھہراؤ اور سوالات کی حرارت موجود ہے۔ وہ قومی، فکری اور تہذیبی تاریخ میں ایسے مقام پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں جہاں شاعر، محقق اور فلسفی ایک شخصیت میں گھل جاتے ہیں۔ محمد ارشاد رقمطراز ہیں:

    ”اس بات کو تو معرض بحث میں نہیں لایا جاسکتا کہ اس انداز فکر کا جسے پروفیسر صاحب مغالطہ کہتے ہیں واضح طور پر تہذیب و علوم کے ارتقاء میں رکاوٹ ہے۔ اس لحاظ سے عام فکری مغالطے کی علمی حیثیت عیاں ہے اور غالباً اس موضوع پر پہلی کتاب ہے جو دنیا کی کسی زبان میں لکھی گئی ہے۔“

    سید علی عباس جلالپوری کی زندگی مسلسل جدوجہد کا سفر تھی۔ فکری آزادی، علمی دیانت، سماجی حقیقت پسندی اور دلیل پر مبنی سوچ ان کا اثاثہ تھی۔ سید علی عباس جلالپوری کہتے ہیں:

    ” راقم نے bayle کی طرح علمی اور تحقیقی نکتہ نظر سے اس لغات کی تدوین کی ہے۔ اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کے ذہن و دماغ کو روشن کیا جائے اور انہیں تنگ دلی و تنگ نظری سے نجات دلاکر ایسی معلومات بہم پہنچائی جائیں جن سے قاری کی نگاہیں وسعت اور ذہن و قلب میں کشادگی پیدا کی جائے اور وہ انفرادی و اجتماعی مسائل کا جدید سائنس اور جدید فلسفے کی روشنی میں سامنا کرسکیں“۔

    اردو دنیا میں وہ نہ صرف خرد افروزی کے علمبردار رہے بلکہ ایسے محقق بھی ثابت ہوئے جنہوں نے روایت کے دباؤ کے بغیر زندہ سوال اٹھائے۔ ان کی شاعری میں اگرچہ کمیت کم ہے مگر کیفیت نمایاں ہے۔ یہ شاعری ایک فلسفی کا ذاتی بیان ہے، جو اپنے وقت کی ذہنی گتھیوں کو لفظوں میں کھولنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کی فکر آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ایک روشن تصور رکھتی ہے۔ ان کا علمی ورثہ آج بھی اسی طرح تازہ ہے جس طرح ان کی تحریروں کے پہلے جملے نے قاری کو چونکایا تھا۔

    ó

    نمونہ کلام

    ó

    آنکھوں کے ستاروں کو چمکائے ہوئے رہنا

    رخسار کے پھولوں کو مہکائے ہوئے رہنا

    دزدیدہ نگاہوں سے رہ رہ کہ تکے جانا

    کینائے ہوئے رہنا، گھبرائے ہوئے رہنا

    اظہار محبت کی جرات نہ کبھی کرنا

    سید تیری قسمت ہے پچھتائے ہوئے رہنا

  • اقبالیاتی اسلوب کی کھوار شاعری

    اقبالیاتی اسلوب کی کھوار شاعری
    (یوم اقبال پر خصوصی فیچر)

    محمد ظہیرالدین خان

    نعتیہ ادب کا تاریخی سلسلہ عربی معاشرت کے انہدام کے عہد سے جڑا ہوا ہے۔ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس نے انسانیت کو جو فکری ولولہ، تہذیبی استقامت اور اخلاقی نظام دیا، اس کے اظہارِ محبت کا پہلا نقطۂ آغاز خود صحابہ کرامؓ کی وہ شعری و خطابی روایات ہیں جن میں سیرتِ مصطفویؐ کی روشنی کو بطور دلیل پیش کیا گیا۔ بعد کے ادوار میں یہ روایت فارسی سے اردو تک اور پھر برصغیر کے علاقائی لسانی سرمائے تک پھیل گئی۔ خاص طور پر فارسی کے بعد اردو اور پھر اردو سے آگے چل کر پشتو، پنجابی، براہوی، بلتی، شینا، گوجری، کھوار اور لداخی لہجوں تک نعتیں لکھی جارہی ہیں۔
    رحمت عزیز خان چترالی کی کھوار شاعری میں اقبال کی فکری رمق، مقصدی حرارت اور علامہ اقبال کے فکری ڈھانچے کی داخلی توانائی نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کے کھوار اشعار میں خودی کی آگہی، فرد کی مرکزیت، عمل کی حرارت، جہد مسلسل اور مسلم ذہن کی ازسرِ نو تعمیر کا اخلاقی و فکری مطالبہ جھلکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ چترالی نے اقبالیاتی فکر کو کھوار linguistic expression دے کر وادی چترال کے فہم و ذوق کے لئے نئے امکانات کھولے۔ ان کی کھوار نظموں اور غزلوں میں “عمل، فکر، خودی، مقصد، نصب العین” جیسے موضوعات بنیاد کی صورت میں وارد ہوتے ہیں۔
    کھوار زبان کی اندرونی موسیقیت اور اقبال کے فلسفۂ خودی کا امتزاج ایک نئی regional hermeneutics پیدا کرتا ہے جو مقامی ذہن کے اندر “زبانِ مادری اور اقبالی معنویت” کے نئے جہان تخلیق کرتا ہے۔
    یہ وہ تمدنی ”دارالمعرفہ“ ہے جہاں ادب، محض اظہار ہی نہیں بلکہ تشخص، فکر اور تہذیب کی تاویل بھی ہے۔
    خصوصاً بیسویں صدی کی تحریکات، خلافت، ہجرت، تحریکِ پاکستان نے نعت کو صرف عقیدت نہیں دیا بلکہ فکری جہت بھی عطا کی۔
    یہاں علامہ اقبال کا نام مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ اقبال نے نعت کو ’’حالات کی تعبیر‘‘ اور ’’تہذیبی موقف‘‘ عطا کیا۔ نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات مبارکہ بطور مثالی انسان اقبال کے ہاں ’’Axis of Universe‘‘ ہے۔
    اس پوری تاریخی روایت کے اثرات کا عکس، آج جب ہم کھوار ادب سے اردو تراجم کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں مدینہ کی سرزمین، مصطفویؐ سیرت کے کڑی کڑی استعارے اور ’’کثرتِ عنوان‘‘ کے ساتھ ’’وحدتِ مرکز‘‘ بھی واضح نظر آتی ہے۔
    کھوار زبان میں ’’سیرت النبیؐ‘‘ کی منظوم تشکیل اور اسے اردو متن میں درجہ بہ درجہ منتقل کرنا صرف ادبی عمل نہیں بلکہ یہ ’’فکری پل کی تعمیر‘‘ بھی ہے۔
    اسی لیے رحمت عزیز خان چترالی کا کھوار شعری مجموعہ اردو تراجم کے ساتھ جو مکمل طور پر ’’مصطفویؐ مرکزیت‘‘ میں لکھا گیا داخلی طور پر وحدتِ مقصد رکھتا ہے یعنی مدینہ منورہ کا تذکرہ بطور شہر رسول کیا گیا ہے۔
    کھوار اشعار میں ختمِ نبوت کو بطور عقیدہ پیش کیا گیا ہے اور سیرت النبی کو بطور ضابطۂ حیات، عدلِ مصطفویؐ کو بطور مثالی انصاف، حلم، شفقت، شفاعت کو بطور فکری اثاثہ کے طور پیش کیا گیا ہے۔
    یہ پورا متن ’’حسّی جذبے‘‘ کی دنیا سے نکل کر ’’فکری یقین‘‘ کی دنیا میں داخل ہوگیا ہے۔
    رحمت عزیز خان چترالی کی یہ نعتیں ’’صِرف شاعر کے جذبات‘‘ ہی نہیں بلکہ ’’کھوار زبان میں نظریہ‘‘ بھی ہے۔ یہاں شاعر کا منصب محض قاری کو رُلا دینا نہیں بلکہ فکری یادداشت میں نصّابی حوالہ بن جانا ہے۔
    یہ علمی موقع بھی قابلِ توجہ ہے کہ کھوار لسانیات میں ’’شعری ترجمہ‘‘ تقریباً زیرِ مطالعہ باب ہے۔ یہاں ترجمہ ابلاغ کے ساتھ تہذیبی امینت بھی ہے۔
    رحمت عزیز خان چترالی کی اقبالیاتی اسلوب کی کھوار شاعری کی مخصوص شناخت یہ ہے کہ وہ نعت کو ’’اندرونی سیرت‘‘ اور ’’عقلی یقین‘‘ کے امتزاج سے لکھتے ہیں۔ ان کے ہاں حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ صرف محبت کی وجہ ہی نہیں بلکہ ایمان کی بنیاد بھی ہیں۔ یہی اسلوب انہیں محض کھوار نعت خواں ہی نہیں بلکہ اقبالیاتی اسلوب شاعر بھی بناتی ہے۔
    کھوار زبان کے اندر استعارات مدینہ، بازارِ مدینہ، خاکِ مدینہ، نورِ مصطفیٰ ﷺ صرف اسلامی عقیدے کے عناصر ہی نہیں بلکہ ’’Ideal World‘‘ کا structure بھی ہیں۔ اسی مقام پر رحمت عزیز خان چترالی کی کھوار شاعری ’’خالص عقیدے کی شاعری‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’مقصدی فکر کی شاعری‘‘ بن جاتی ہے۔ اور یہی مقام انہیں کھوار نعت کی تاریخ میں حلقہءِ جلالِ اقبال کی فکری نسل میں شامل کرتا ہے۔


    کھوار زبان سے اقبالیاتی اسلوب کی شاعر سے اقتباس پیش خدمت ہے
    *
    کھوار ادب سے اردو تراجم
    *
    احمد مجتبیٰؐ اَسور اِسپہ نبیؐ
    محمد مصطفٰیؐ اَسور اِسپہ نبیؐ
    ترجمہ:ہمارے نبی احمد مجتبیٰ ﷺ ہیں، ہمارے نبی محمد مصطفیﷺ ہیں (۱)
    ہسے ختم الرسل اَسور بے شک
    خاتم الانبیاء اَسور اِسپہ نبیؐ
    ترجمہ:اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں (۲)
    ہتوعو اَچہ ادا اَرینی نمیژ نبیان
    ہسے اِمام الانبیاء اَسور اسپہ نبیؐ
    ترجمہ:میرے نبیﷺ کی اقتداء میں سارے نبیوں نے نماز ادا کی، بے شک ہمارے نبیﷺ امام الانبیا ء ہیں (۳)
    ہر اِی مسلمان طھلبگار مدینو
    یومونی اِسپہ بچے نوبہار مدینو
    ترجمہ:ہر ایک مسلمان مدینہ کی زیارت کے لیے بے چین ہے اور اللہ سے مدینہ جانے کی دعا مانگ رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ مدینے میں گزارے ہوئے سردی کا موسم ہمارے لیے کسی نوبہار سے کم نہیں (۴)
    نبیءاکرمؐ تشریف اَنگیکو سُم تان
    ڑاپھئیکا پرائے نوروسورا دربار مدینو
    ترجمہ:جب نبیءاکرم حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعات ہوئی تو اس وقت نور کی روشنی سے مدینہ کے دربار روشن ہوگئے۔(۵)
    ڑوسپہ مہ اَرمان مدینا کی تاروم رے
    خوشپہ دی کی بیسیر دیدار مدینو
    ترجمہ:حقیقت میں میرے دل میں تمنا ہے کہ کب مدینہ پہنچ جاؤں اور اگر خواب میں بھی مدینہ کا دیدار نصیب ہو تو بھی ٹھیک ہے ۔(۶)
    قیصرو کسرو تخت دی ڑیݩگیتانی
    دنیا تشریف آلائے سرکار مدینو
    ترجمہ:جب سرکارِ مدینہﷺ دنیا میں تشریف لائے تو قیصر اور کسریٰ کے تخت بھی لرز گئے۔(۷)
    سور ورازنیا لاکھیکو سُم خوشپ پاشیمان
    مہ غیچھی گونیان ہتے بازار مدینو
    ترجمہ:جب میں سونے کے لیے اپنے بستر پر جاتا ہوں اور جب میری آنکھ لگتی ہے تو اس وقت میں خواب میں مدینےکے حسین و خوبصورت بازاروں کو دیکھتا ہوں۔(۸)
    بو پاک، حسین اوچے صفا شیر
    ہتے گہت اوچے غبار مدینو
    ترجمہ: مدینہ پاک کی وہی گردو غبار بھی صاف، شفاف ، بہت ہی پاک، حسین، صاف ستھرے اور پاکیزہ ہیں ۔(۹)
    اے عزیزؔ تان غیچھان مژی لوڑے
    گمبوریان ساری خار مدینو
    ترجمہ:اے رحمت عزیز اپنی گردو غبار والی آنکھیں ٹشو یا رومال سے صاف کرکے مدینے کا نظارہ کرو تو تمہیں پھولوں سےزیادہ کانٹے ، زیادہ خوبصورت نظر آئیں گے ۔(۱۰)
    نبیوؐ صورتو سُم پیار شیر اِسپہ
    ہتوعو ہر سنّتو سُم پیار شیر اِسپہ
    ترجمہ:نبی ٔمحترم حضرت محمد ﷺ کی صورت مبارکہ سے ہمیں دلی پیار ہے اور آپ ﷺ کے ہر قول و فعل اور سنت سے بھی ہمیں دل سے پیار ہے۔(۱۱)
    ہتوعو صورتو کیہ تعریف کوروم
    ہتوعو سیرتو سم پیار شیر اِسپہ
    ترجمہ:نبیٔ اکرم حضرت محمد ﷺ کی صورت مبارکہ کی کیا تعریف کروں ، آپ ﷺ صورت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہیں، ہمیں آپ ﷺ کی صورت کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی سیرت سے بھی بہت پیار ہے۔(۱۲)
    ہسے ختم الرسلؐ ہسے شفیعِ اُممؐ
    ہتوعو شفاعتو سم اِسپہ پیار شیر
    ترجمہ:ختم الرسل بھی آپ ﷺ ہیں اور شافعِ اُمم بھی آپ ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کی شفاعتِ اُمت پر ہمیں ناز اور پیار ہے۔(۱۳)
    ہتوعو ہرلو شیرقابلِ اطاعت
    ہتوعو ہر نصیحتو سُم اِسپہ پیار شیر
    ترجمہ:بحیثیت مسلمان ہمیں آپ ﷺ کی ہر نصیحت پر صدق دل سے عمل کرنا چاہئیےآپ ﷺ کی ہر نصیحت (سنت) سے ہمیں پیار ہے۔(۱۴)
    مہ نبیوؐ غون کا دی نیکی رویان
    ہتوعو نسبتو سُم مہ پیار شیر
    ترجمہ:اے دنیا کے لوگو ! سنو، میرے نبی ﷺ جیسی شخصیت پوری دنیا میں نہ کوئی ہے اور نہ ہوگی، میں آپ ﷺ کا اُمتی ہوں اور اس نسبت سے مجھے آپ ﷺ سے پیار ہے۔ (۱۵)
    ہسے آخیری نبیؐ وا کا نبیؐ نیکی
    ہیغین دیتی ختم نبوتو سُم پیار شیر اِسپہ
    ترجمہ:آپ ﷺ ہی آخری نبی یعنی خاتم النبینﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کے کوئی بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اس لیے بحیثیت مسلمان ہمیں ختم نبوت سے پیار ہے۔(۱۶)
    ہتوعو فیصلہ شینی بے مثال عزیزؔ
    ہتوعو عدالتو سُم پیار شیر اِسپہ
    ترجمہ:اے رحمت میرے نبی ﷺکے کیے گئے فیصلے بے مثال ہیں۔ ان فیصلوں کی پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی۔آپ ﷺکے عدل و انصاف اور عدالت سے ہمیں پیار ہے۔(۱۷)
    فیضانِ محمدوؐ سُم مہ پیار شیر
    فرمانِ محمدوؐ سُم مہ پیار شیر
    ترجمہ:مجھے نہ صرف محمدالرسول اللہ سے پیار ہے بلکہ آپ ﷺ کے فرمانِ مبارک سے بھی دلی پیار ہے۔(۱۸)
    مہ نبیوؐ کیہ شان شیر رویان
    شانِ محمدوؐ سُم مہ پیار شیر
    ترجمہ:اے لوگو! میرے نبی ﷺ کی کیا اعلیٰ شان ہے، اسی شانِ محمدیؐ سے میں محبت کرتا ہوں۔(۱۹)
    بے مثال شیر احسان ہتوعو
    احسانِ محمدوؐ سُم مہ پیار شیر
    ترجمہ:میرے نبی ﷺ کے احسانات کی کوئی مثال نہیں دے سکتا بلکہ آپ ﷺ کے احسانات بے مثال ہیں، اس لیے محمد ﷺ کے احسانات سے میں پیار کرتا ہوں(۲۰)۔
    سف آسمانی کتابَن مانیمَن
    قرآنِ محمدؐو سُم مہ پیار شیر
    ترجمہ:میں بحیثیت مسلمان تمام آسمانی کتابوں اور صحائف کو مانتا ہوں اور ان پر ایمان بھی رکھتا ہوں،لیکن محمد ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید سےزیادہ پیار کرتا ہوں کیونکہ یہ کتاب میرے نبیﷺ پر نازل ہوئی ہے(۲۱)
    نعت ہے بچین نیویشیمان عزیزؔ
    ہر عنوانِ محمدوؐ سُم مہ پیار شیر
    ترجمہ: رحمت عزیز نعت نبی اس لیے لکھ رہا ہے کہ اسے محمد ﷺ کے نام سے منسوب ہر عنوان سے دلی پیار ہے(۲۲)
    جو دنیو سردارؐوتے سلام
    اِسپہ پیغُمباروتے سلام
    ترجمہ: اے حاجیا جب تم روضہ ٔرسولﷺ پر حاضری کے لیے جانا تو دونوں جہاں کے سردار ﷺ کو میرا سلام کہنا، ہمارے پیغمبر حضرت ﷺ کو میرا سلام کہنا(۲۳)۔
    احمدِ مُجتبیٰ، محمدؐ مصطفیؐ
    غریبانن غمخواروتے سلام
    ترجمہ: احمد مجتبیٰؐ کو محمد مصطفی ﷺ کو اور غریبوں کے غم خوار کو میرا سلام کہنا۔(۲۴)
    محمدؐ مصطفیٰ دی اَسوس تو
    امام الانبیاء دی اَسوس تو
    ترجمہ:محمد مصطفی ﷺ بھی آپ ہی ہیں اور امام الانبیاء بھی آپ ﷺ ہی ہیں۔(۲۵)
    تو اَسوس احمد مرسلؐ، نبیء اکرمؐ
    نورِمجسم، نورالہدیٰ دی اَسوس تو
    ترجمہ:آپ ہی احمد مرسل اور نبیءِ اکرم ﷺ ہیں، آپ ﷺ ہی نور مجسم ہیں اور نور الہدیٰ بھی آپ ﷺ ہی ہیں۔(۲۶)
    دنیوتے ہنون خیرالانامؐ ہائے
    سف نبیانن سے امام ہائے
    ترجمہ:دنیا میں خیرالانام ﷺتشریف لائے ہیں اور سارے نیبوں کے امام تشریف لائے ہیں۔(۲۷)
    تان اُمتو بچے سے گنی
    خدایو لوٹ کلام ہائے
    ترجمہ:اپنی اُمت کے لیے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا کلام (قرآن مجید)اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں۔(۲۸)
    اُمتو سورا شیر احسانِ مصطفٰیؐ
    مہ ہردیا شیر اَرمان مصطفٰیؐ
    ترجمہ:امت محمدیہ پر حضرت محمد ﷺ کا بہت بڑا احسان ہے ، میرے دل میں دیدار مصطفیٰﷺ کی دلی تمنا ہے۔(۲۹)
    ہائے ہائے خدائے کیاوت بوم
    مدینا بی اَوا مہمانِ مصطفٰیؐ
    ترجمہ:اے میرے ربّ میری یہ دعا قبول کیجیے گا کہ میں مدینہ شریف جاکر محمد مصطفیﷺ کا مہمان بننے کا شرف حاصل کرسکوں۔(۳۰)
    نبیانن موژی بو خوش نصیب تو
    خداوندِ کریمو بو حبیب تو
    ترجمہ:سارے انبیاء میں سب سے زیادہ خوش نصیب آپ ﷺ ہی ہیں اور خداوند کریم کے بھی سب سے زیادہ حبیب آپ ﷺ ہی ہیں۔(۳۱)
    حاضری نو دیتی اَسوس تو رضہء اطہرا
    اے رحمت عزیزؔ کِچہ غریب تو
    ترجمہ:ابھی تک تم نے روضہء اطہر پر حاضری نہیں دی ہے ۔اے رحمت عزیز تم کتنے غریب ہو۔(۳۲)
    اُمتی اَسوم ہتے عالی جنابوؐ
    بخششو اُمیدوار رسالت مآبوؐ
    ترجمہ:میں اس عالی جناب(حضرت محمد ﷺ)کا اُمتی ہوں اور پراُمید ہوں کہ روز قیامت آپ ﷺ میری شفاعت کریں گے تاکہ میں بخش دیا جاؤں۔(۳۳)
    کوثر مہ پئیر روزِ محشرا
    ساقی، نو پیم دنیا اَوا شرابو
    ترجمہ: روز قیامت حضرت محمد ﷺ اپنے مبارک ہاتھوں سے مجھے کوثر پلائیں گے(انشاء اللہ)اس لیے میں دنیا میں شراب کو ہاتھ نہیں لگاتا۔(۳۴)
    خیر البشرؐ مہ نبی ؐ
    شافعِ محشر مہ نبیؐ
    ترجمہ:خیرالبشر ﷺ میرے نبی ہی ہیں۔ انسانوں میں ان سے اچھا کوئی نہیں اور شافعِ محشر ﷺبھی میرے نبی ہیں۔(۳۵)
    حوضِ کوثرار ٹیپ مہ پئیر
    صاحب ِ کوثر مہ نبیؐ
    ترجمہ:حوض کوثر سے گلاس بھر بھر کر مجھے پلائیں گے (انشاء اللہ)، میرے نبی ﷺ کو صاحب کوثر ہونے کا اعزازبھی حاصل ہے۔(۳۶)
    سید المرسلینوؐ اعزاز تہ نامہ
    خاتم النبینوؐ اعزاز تہ نامہ
    ترجمہ:رسولوں کے سردار کا اعزاز بھی آپ ﷺ کو حاصل ہے اور نبیوں میں سے سب سے آخری نبیﷺ ہونے کا اعزاز بھی آ پ ﷺ کے نام ہے(۳۷)
    بیان کوم کی کی اعزازو
    رحمت اللعالمینوؐ اعزاز تہ نامہ
    ترجمہ:میں اپنے نبیﷺ کے کس کس اعزاز کو بیان کروں، رحمت اللعالمین کا اعزاز بھی آپ ﷺ کے نام ہے۔(۳۸)
    شہرِ مصطفوؐ مہ پوشارو گویَن
    مدینو کوچاہی مہ کوسارو گویَن
    ترجمہ:حضرت محمد مصطفی ﷺکے شہر کو دیکھنے کی خواہش دل میں لیے گھوم رہا ہوں اور مدینہ منورہ کی گلیوں میں گھومنے کی خواہش شدت سے محسوس ہورہی ہے۔(۳۹)
    طوافِ خانہء کعباری اَچی عزیزؔ
    مبارک تہ روضا گیارو گویَن
    ترجمہ:اے رحمت عزیز خانہ کعبہ میں طواف کرنے کے بعد آپﷺ کے روضہء مبارک پر حاضر ہونے کی دلی آرزو ہے۔(۴۰)
    نویدمسیحا بیتی مہ نبیؐ ہائے
    خیرالوریٰ بیتی مہ نبی ہائے
    ترجمہ:میرے نبی ﷺاس دنیا میں نوید مسیحا بن کر آئے ہیں اور خیرالوریٰ ﷺ بن کر آئے ہیں۔(۴۱)
    ہتوعو صفتان کھیو کوروم بیان
    محبوبِ کبریا بیتی مہ نبیؐ ہائے
    ترجمہ:آپ ﷺ کی صفات کی کیا تعریف کروں،آپ محبوبِ کبریا بن کر آئے ہیں۔(۴۲)
    تہ ؐ نبوت عالمگیر اوشوئے
    تہ دعوت ہمہ گیر اوشوئے
    ترجمہ:آپ ﷺ کی نبوت عالمگیر نبوت ہے اور آپ ﷺ کے دینِ اسلام کی دعوت، ہمہ گیر دعوت کے نام سے مشہور ہے۔(۴۳)
    ابو جہل نو مانیتائے تہؐ نبوتو
    اے محمدؐ سے کِچہ چِکر گیر اوشوئے
    ترجمہ:اے محمد ﷺ ابوجہل(جاہلوں کے باپ) نے آپ ﷺ کی نبوت کو تسلیم نہیں کیا، وہ کتنا سخت کافر تھا۔(۴۴)
    نبیانن موژی شیر لوٹ مقام تہؐ
    ہر کوس ہردیا شیر لوٹ احترام تہؐ
    ترجمہ:سارے انبیاء میں سب سے بڑا مقام و رتبہ آپ ﷺ کا ہے اور ہرمسلمان کے دل میں آپ ﷺ کا بڑا احترام پایا جاتا ہے۔(۴۵)
    شرمندہ مو بائے روزِ قیامت
    ہیہ گناہگار اُمتی، یہ غلام تہؐ
    ترجمہ:قیامت کے روز آپ ﷺ کا یہ گناہگار اُمتی، یہ غلام (رحمت عزیز چترالی)شرمندہ ہو کر آپ ﷺ کی شفاعت سے محروم نہ ہو۔(۴۶)
    تہؐ نظرِ کرمو اُمیدوار اَسوم
    تہؐ پوشیکو بچے بے قرار اَسوم
    ترجمہ:آپ ﷺ کی ایک نظرکرم کا منتظر ہوں اور آپ ﷺ کے دیدار مبارک کے لیے یہ آنکھیں بے قرار ہیں۔(۴۷)
    گناہگار، گناہگار تھے صحیح
    مگم تہ ؐ شفاعتو اُمیدوار اَسوم
    ترجمہ:میں بہت گناہگار ہوں یہ بات بالکل درست ہے لیکن اتنے گناہوں کے باوجود آپ ﷺ کی شفاعت کا طلب گار ہوں۔(۴۸)
    اے حاجی مہ سلامو تو تاراوے
    روضا بی مہ پیغامو تو تاراوے
    ترجمہ:اے حاجیا! نبی ء اکرم ﷺ کو میرا سلام پہنچا دینا اور روضے میں جاکر میرا پیغام پہنچا دینا۔(۴۹)
    عزیزؔ کیاوت تہ روضا حاضیری دوئے
    مہ ہردیو یہ اَرمانو تو تاراوے
    ترجمہ:رحمت عزیز کب آپﷺ کے روضہء مبارک پر حاضری دے گا، میرےدل کی یہ تمناہے،اے حاجیا تو پہنچادے۔(۵۰)
    کی بیسیر مہ دیدارِ محمدؐ
    بہہ کوریسام رُخسارِ محمدؐ
    ترجمہ:اگر محمد ﷺ کا دیدار نصیب ہوجائے تو میں حضور ﷺ پرنور کے چہرہ مبارک کو بوسہ دینے کی سعادت حاصل کرلیتا۔(۵۱)
    تہ کوسیرو گنځول، کوچاہ
    کِچہ بونی بازار ِ محمدؐ
    ترجمہ:آپ ﷺ جن گلی اور کوچوں میں پھرتے رہے بہت خوبصورت ہیں اور آپ ﷺ کےبازار بھی کتنے حسین ہوں گے۔(۵۲)
    بو سخت گناہگار اَسوم اَوا
    گناہ کوری سزاوار اَسوم اَوا
    ترجمہ:میں بہت زیادہ گناہ گار بندہ ہوں اور اپنے گناہوں کی وجہ سے سزا کا مستحق ہوں۔(۵۳)
    ھیسوم جُستہ دی تہ اُمتی رے
    شفاعتو طلب گار اَسوم اَوا
    ترجمہ:گو کہ میرے گناہ بہت زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود میں آپ ﷺ کااُمتی ہونے کے ناطے روز قیامت شفاعت کا طلب گار ہوں۔(۵۴)
    اِسپہ شفاعتو بچے خیر الوریٰؐ ہائے
    محمد مصطفٰؐی ہائے احمد مجتبیٰؐ ہائے
    ترجمہ:ہماری شفاعت کے لیے خیرالوریٰ آگئے، محمد مصطفی ﷺ آگئے ، احمد مجتبیٰ ﷺ آگئے۔(۵۵)
    اے رویان شکر کورور، شکر
    اِسپہ بچے حبیبِ خدا ہائے
    ترجمہ:اے لوگو!جتنا بھی شکر کروگے کم ہے اس لیے شکر کرو کہ ہمارے لیے حبیبِ خدا آگئے ہیں۔(۵۶)
    نبیء آخر زمان تو
    اُمتو شیرین ژان تو
    ترجمہ:اس زمانے کے آخری نبی آپ ﷺ ہی ہیں اور اپنی امت کو ان کی جان سے بھی بڑ ھ کر پیارے ہیں۔(۵۷)
    اے جو دنیو سردارؐ
    رہبر عظیم الشان تو
    ترجمہ:اے دونوں جہانوں کے سردار ﷺ، آپ ﷺ دنیا کے عظیم الشان رہبر ہیں۔(۵۸)
    تہ ؐ انگیرو دِینہ کیہ کمی نیکی
    تہ سار اَچی کآ نبی نیکی
    ترجمہ:تیرے لائے ہوئے دین میں کوئی کمی نہیں اور آپ ﷺ آخری نبی ہیں آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔(۵۹)
    تہ سورا درود ریک بو ثواب
    ہیغار توری لوٹ ثوابی نیکی
    ترجمہ:تیرے اوپر درود شریف بھیجنا بہت زیادہ ثواب کا باعث ہے ، درود کے وردسےبڑھ کر اور کوئی نیکی نہیں ہے۔(۶۰)
    صادق و اَمین دی تو
    رحمت اللعالمین دی تو
    ترجمہ:آپ ﷺ ہی صدیق اور امین ہیں اور آپ ﷺ ہی سارے جہانوں کے لیے رحمت ہیں۔(۶۱)
    تہ سورا رینیان سف درود
    محبوبِ ربّ اللعالمین دی تو
    ترجمہ:سب آپ ﷺ پر درود پاک بھیجتے ہیں، آپ ﷺ ہی محبوب رب اللعالمین ہیں۔(۶۲)
    تو اَسوس پیغمبرِ اعظم
    عہدِحاضرو تو رہبر اعظم
    ترجمہ:آپ ﷺ ہی پیغمبر اعظم ہیں اور آپ ﷺ ہی عہد حاضر کے رہبر اعظم ہیں۔(۶۳)
    تہؐ منبرو کیہ مثال نیکی
    ہے منبر، منبرِ اعظم
    ترجمہ:آپ ﷺ کے منبر کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی، آپ ﷺ کا جو منبر ہے وہ منبر اعظم ہے ۔(۶۴)
    تو گیکو تان موژی عداوت ختم ہوئے
    نسلہ گیرو بغاوت ختم ہوئے
    ترجمہ:جب آپ ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو لوگوں کی آپس کی عداوتیں ختم ہوگئیں اور نسل در نسل چلنے والی بغاوتوں کا نام و نشان آپ ﷺ کے آنے سے مٹ گیا۔(۶۵)
    تو ریتاؤ کی ” لا نبیَّ بعدی”
    تہ سار اَچی نبوت ختم ہوئے
    ترجمہ:آپ ﷺ نے فرمایا کہ "لا نبیَّ بعدی” یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا،بے شک آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوگیا۔(۶۶)
    قرآنو شکلہ اِسپتے ای دستور اَلاؤ
    ای ضابطہء حیات ای منشور اَلاؤ
    ترجمہ:آپ ﷺ ہمارے لیےقرآن جیسا، ایک دستور لے کر آئے، ایک منشور اور ضابطہء حیات لےکر آئے۔(۶۷)
    ژور اَژیکو سُم ژونو کھاڑئیاوا
    تو ہیتان موژا شعور اَلاؤ
    ترجمہ:آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے عرب کے لوگ اپنی بچیوں کو زندہ درگور کرتے تھے ، آپ ﷺ نے آتے ہی ان میں شعور بیدار کیا اور ان کی بیٹیوں کو زندہ دفن ہونے سے بچالیا۔(۶۸)
    تہ سار اَچی نہ نبی گوئے نہ رسول
    ہیہ شیر خدائے پاکو لوٹ اُصول
    ترجمہ:آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی رسول ، یہی تو خداوند تعالیٰ کا ایک پکا اُصول ہے۔(۶۹)
    بحیثیت اُمت محمدیؐ اے عزیزؔ
    محمدوؐ نبوت سفوتے قابلِ قبول
    ترجمہ:اے رحمت عزیز !اُمت محمدیہؐ ہونے کی حیثیت سے محمد ﷺ کی نبوت سب کو قابل قبول ہے۔(۷۰)
    سف انسانن تو برابار کوریتاؤ
    کوس لوٹ نہ کوس کمتار کوریتاؤ
    ترجمہ:دنیا کے تمام انسانوں کو آپ ﷺ نے برابر قرار دیا ۔ آپ نے کسی کی حیثیت کو بڑھایا اورنہ کسی کی حیثیت کو کم کیا۔(آپ ﷺ نےبرتری کا معیار صرف تقویٰ قرار دیا )(۷۱)۔
    تہ نیشِک، روپھِک تہ لو حدیث
    کھیو کہ تان زندگیہ تو اظہار کوریتاؤ
    ترجمہ:آپ ﷺ کا بیٹھنا، اُٹھنا اور آپ ﷺ کا قول و فعل سب کے سب حدیث ہیں، اور جوکچھ بھی آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں انجام دیا، وہ سارے کا سارا حدیث ہے۔(۷۲)
    بو زیات محترم تو
    رحمتِ مجسم تو
    ترجمہ:آپ ﷺ ہمارے لیے بہت ہی محترم ہیں اور آپ ﷺ رحمت مجسم ہیں۔(۷۳)
    اُمتو شان تو
    فخرِ عالم تو
    ترجمہ:اُمت محمدیہؐ کی آپ ﷺ شان ہیں، اور دنیا کے لیے آپ ﷺ باعث فخر ہیں۔(۷۴)
    جسم اطہرو کی دیدار مہ بیسیر
    مُخِ منّورو کی دیدار مہ بیسیر
    ترجمہ:کاش کہ حضور ﷺ کے بدن مبارک کا میں دیدار کرلیتا۔ کاش کہ حضور ﷺ کے چہرہء انور کا میں دیدار کرلیتا۔(۷۵)
    تو پوریرو موڑا بہہ کوریسام
    محمدوؐ بسترو کی دیدار مہ بیسیر
    ترجمہ:میں حضور ﷺ کے بستر مبارک کو بوسہ دیتا، کاش کہ محمد ﷺ کے بستر کا مجھے دیدار نصیب ہوتا۔(۷۶)
    جو دنیوسردارئےؐ تہ لباس مبارک
    تہ قول و فعل، تہ قیاس مبارک
    ترجمہ:اے دونوں جہانوں کے سردار ﷺ !آپ ﷺ کا لباس مبارک ہے۔آپ ﷺ کا قول مبارک ہے ۔ آپ ﷺ کا ہر فعل اور ہر قیاس مبارک ہے۔(۷۷)
    تہ پیران کی ملاو بوئے تو غیچھہ دوم
    تہ څادار ، تہ کرمیچ، تہ لباس مبارک
    ترجمہ:اگر آپ ﷺ کا کرتہ مبارک مل جائے تو اسے اپنی آنکھوں پر لگاؤں گا۔آپ ﷺ کی چادر،جوتے اور لباس مبارک ہیں۔(۷۸)
    وختہ تو شکر تان اَرو
    تہؐ ، تہ صبر، تہ پیاس مبارک
    ترجمہ:قحط کے زمانے میں بھی آپ ﷺ نے ناشکری نہیں کی بلکہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ادا کیا۔ آپ ﷺ کی بھوک، آپ ﷺ کا صبر اور آپ ﷺ کی پیاس بھی مبارک ہے۔(۷۹)
    تو اویوؤ عام خناکہ تان
    تہ مشربہ، اوغ پینی،تہ طھاس مبارک
    ترجمہ:آپ ﷺ نے ہمیشہ عام برتن میں کھانا کھایا ۔آپ ﷺ کا لوٹا، پانی پینے کابرتن اور طاس (پینے کا پیالہ )مبارک ہیں۔(۷۹)
    سف عِشقَن ساری جم عِشقِ مصطفٰؐی
    ہیہ عِشقو متے کورے نصیب اے خدا
    ترجمہ:دنیا کے سارے عشاق کے عشق سے سب سے اچھا اور بابرکت عشق،عشقِ مصطفی ﷺہے۔ اے خداوند عز وجل مجھے بھی یہ عشق نصیب فرما۔ آمین۔(۸۰)
    دیدار کوراوے تو جو دنیو سردار محمدوؐ
    ہیہ مہ آرزو شیر، وا ہیہ مہ تمناّ
    ترجمہ:اے ربّ کعبہ !دونوں جہاں کے سردار حضرت محمد ﷺ کا دیدار کرادے، اور یہی میری آرزو ہے یہی میری دلی تمناّ ہے۔(۸۱)
    تہ تشریف گیکو زمین و آسمان روشت ہونی
    دور روشت ہونی،چھوئے ختان روشت ہونی
    ترجمہ:تیری ولادت با سعادت کے موقع پر زمین و آسمان میں روشنی پھیل گئی، سارے گھر روشن ہوگئے اور جن جن گھروں میں اندھیروں نے ڈیرہ ڈالا تھا وہ گھر بھی آپ ﷺ کے آنے سے روشن ہوگئے۔(۸۲)
    روشت ژاغہ تھے روشتاری روشت ہونی
    تہ گیکو اَنوس چھوئے ٹونگ ٹانگ روشت ہونی
    ترجمہ:دنیا میں تیری تشریف آوری کے مبارک دن جو روشن تھے وہ روشن تر ہوتے چلے گئے اور ان کی روشنی میں مزید اضافہ ہوا اور جو تاریکیاں اور اندھیرے ادھر ادھر پھیلے ہوئے تھے، وہ بھی یک دم روشن ہوگئے۔ یہ آپ ﷺ کی ولادت باسعادت کا کرشمہ تھا۔(۸۳)
    جو دنیو سردارؐ دنیا ہائے، خیر الانام ؐ ہائے
    اُمتو بچے خدایو وولٹیاری ای انعام ہائے
    ترجمہ:دونوں جہانوں کے سردار ﷺ دنیا میں تشریف لائے۔ خیرالانام ﷺ دنیا میں تشریف لائے ۔اُمت محمدیہؐ کی ہدایت کی خاطر اللہ کی طرف سے محمد ﷺ کی شکل میں یہ انعام آیا ہے۔(۸۴)
    مہ نبیوؐ صورتو کیہ صفت اے عزیزؔ
    کی مثالِ ماہِ تمام ہائے
    ترجمہ:میرے نبی ﷺ کی شکل و صورت بے مثال ہے۔آپ ﷺ کے جیسا پوری دنیا کے انسانوں میں کوئی نہیں۔ بس یوں سمجھئے کہ آپ ﷺ کی مثال ایسی ہے جیسے چودھویں کا چاند زمین پر اُتر آیا ہے۔(۸۵)
    خدایو ذگرار اَچی ذگرِ مصطفی کورے
    یادِ خدار اَچی یادِ خیر الوریٰ کورے
    ترجمہ:ذکرالٰہی کے بعد ذکر مصطفی ﷺ کیجیے یعنی حضور ﷺ پر کثرت سےدرود بھیجو اور اللہ تعالٰی کے کلام قرآن مجید کی تلاوت کے بعد درود نبی ﷺ کو اپنا معمول بنالو(۸۶)۔
    درود و سلام راوے تو صبح و شام
    صلو علیہ راوے، صلی علٰی راوے
    ترجمہ:حضور پر نورﷺ پر صبح و شام درود و سلام پیش کیجیے گا۔ صلو علیہ اور صل علٰی کا ورد کیجیے گا۔(۸۷)
    شانِ محبوبِ وحدت مہ پیغُمبار
    رحمت، ہسے باعثِ رحمت مہ پیغُمبار
    ترجمہ:حضرت محمد ﷺ شانِ محبوب وحدت ہیں، وہی رحمت ہیں اور وہی باعث رحمت ہیں۔(۸۸)
    ہسے نبیؐ، نبیؐء آخر زمان دی ہسے
    سے امام الانبیاء، تاجدارِ رسالت مہ پیغُمبار
    ترجمہ:وہی نبی ہیں، وہی آخری نبی ہیں، وہی نبیوں کے امام ہیں اور تاجدارِ رسالت بھی وہی ہیں۔(۸۹)
    تہؐ کرداروتے مہ سلام
    تہ گُفتاروتے مہ سلام
    ترجمہ:اے میرے نبی ﷺ تیرے کردار کو میں سلام پیش کرتا ہوں اور آپ ﷺ کی گفتار کو بھی میں سلام پیش کرتا ہوں۔

    Title Image backgraund by Joe from Pixabay

  • عصرِ حاضر کی ایک عہد ساز شخصیت

    عصرِ حاضر کی ایک عہد ساز شخصیت

    عصرِ حاضر کی ایک عہد ساز شخصیت

    تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    پروفیسر کمال الدین خاکی

    ولدیت : لعل خان

    نام : کمال الدین ۔ تخلص : خاکی

    جاۓ پیدائش : شاہی شمالی ۔

    تحصیل دریا خان ۔ ضلع بھکر

    حال مقیم : شاہ والا جنوبی ۔

    تحصیل نور پور تھل ۔ ضلع خوشاب

    تعلیم : ایم ۔اے اُردوُ + فاضل اُردوُ +

    ایم اے ایجوکیشن ۔

    تاریخ پیدائش : ( 4 جنوری 1966ء )

    ابتدائی تعلیم : اپنے گاؤں شاھی شمالی سے پرائمری پاس کیا ۔ پھر قریبی گاٶں جھمٹ شمالی ( UC ) سے مڈل پاس کرنے کے بعد ہائی سکول دریاخان سے بطور ریگولر سٹوڈنٹ ( سرگودھا بورڈ ) کے انڈر میٹرک کا امتحان 1981ء میں پاس کیا ۔ بعد ازاں گھریلو نامساعد حالات کے سبب مزید ریگولر تعلیم جاری نہ رکھ سکے جبکہ تعلیم کے حصول کا جنون سر پہ سوار رہا ۔ پھر 1982ء میں انھوں نے ایلیمنٹری کالج میانوالی میں پی ٹی سی کلاس میں بطور ریگولر داخلہ لیا اور ٹیچنگ سرٹیفکیٹ ( انڈر سرگودھا بورڈ ) حاصل کرتے ہی فوراََ 9 فروری 1983ء کو گورنمنٹ پرائمری سکول جھمٹ جنوبی پہ تقرری ہوگئ ۔ یہی شعبہ ٹیچنگ کا نقطہ ٕ آغاز تھا ۔

    پھر حصولِ تعلیم کا جنوں ہرگز کم نہ ہوا ۔

    جس کا اظہار انھوں نے اپنے ایک شعر میں کچھ یوں کیا ۔

    جنوں کب حامی ٕ سکوں ٹھہرا خاکی

    بدن زندہ میں بہتےہوۓ خوں کی طرح

    یوں ریگولر نہ سہی مگر ان کی تعلیم جاری و ساری تھی ۔ ایف اے پرائیویٹ ۔ ساتھ ہی پیشہ ورانہ سی ٹی سرٹیفکیٹ پرائیویٹ ۔ پھر بی اے پرائیویٹ پنجاب یونیورسٹی سے 1994ء میں اور ساتھ ہی 1995ء میں بی ایڈ بھی پنجاب یونیورسٹی سےبطور پرائیویٹ پاس کیا ۔ اسی دوران ان کی بطور EST ٹیچر پروموشن ہو گئ اور وہ پرائمری سکول سے ہائی سکول چک 56/ DB ضلع بھکر میں چلے گۓ ۔ وہیں پہ انھوں نے ایم اے اُردوُ 1999ء پنجاب یونیورسٹی سے بطور پرائیویٹ پاس کیا ۔ آپ بہت محنتی اور تعلیم کے رسیا تھے ۔ حضرت علامہ اقبال رح کے روحانی شاگرد کہلواتے ہیں ۔ اپنے روحانی مرشد کی طرح جذبہ ٕ جنوں کو کامیابی کا واحد حل سمجھتے ہیں ۔ جس کا اظہار ایک جگہ یوں کیا ۔

    میرے سب دکھوں کا مداوا ہے خاکی

    الٰہی میں تجھ سے جنوں مانگتا ہوں

    2000ء میں اُردوُ سے لگاٶ کے سبب فاضل اُردوُ بھی سرگودھا بورڈ سے اوّل درجے میں پاس کیا اور یوں کچھ علم عروض اور علمِ بیان کا بھی تعارف حاصل کیا ۔

    عصرِ حاضر کی ایک عہد ساز شخصیت

    اسی دوران انھوں نے مائیگریشن کروائی اور ضلع بھکر سے ضلع خوشاب آ گۓ اور کچھ عرصہ وادی سون کے علاقہ میں گورنمنٹ ہائی سکول پیل میں تعلیمی خدمات سر انجام دیں پھر 2006ء کا سورج جوہر آباد میں طلوع ہوا اور تقریباً دس سال تک نواحی قصبے گورنمنٹ ہائی سکول خالق آباد میں تدریسی فرائض سر انجام دیتے رہے اور ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رھا ۔

    پھر ایم ایڈ 2006ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بطور پرائیویٹ اوّل درجے میں پاس کیا ۔ بعد ازاں انھوں نے 2017ء میں 53 سال کی عمر میں قبل از وقت ریٹائر منٹ لے کر پرائیویٹ کالج جوائن کر لیا جہاں انٹر میڈیٹ کلاسز کو اُردوُ اور مطالعہ پاکستان پڑھاتے آ رہے ہیں ۔

    شاعری کا شوق انھیں بچپن سے تھا اور کلاس ہفتم سے انھوں نے شعر کہنا شروع کیا مگر پھر چھوڑ دیا پھر میڑک تک پہنچ کر دو بارہ شروع کیا اور کہا جا سکتا ہے کہ 1982ء سے ان کا باقاعدہ شاعری کا آغاز ہوا جو تا حال جاری و ساری ہے البتہ دوران میں 1987ء سے 1994ء تک ایک حرف بھی نہیں لکھا گیا ۔ ان کا یہ دورانیہ خاموشی پر مشتمل ہے ۔ پھر 1994ء سے ان کی نشاة ثانیہ شروع ہوئی ۔ انھوں نے اُردوُ شاعری کا بھی آغاز کر دیا ۔

    شاعری تین زبانوں میں کرتے ہیں۔ اُردُو ۔ پنجابی ماجھی ۔اور سرائیکی ۔ البتہ عربی فارسی اور ہندی تراکیب کا استعمال خوب کیا ۔ بجا طور پہ وہ ایک قادر الکلام شاعر ہیں ۔

    ہر صنف پہ انھوں نےطبع آزمائی کی ۔ دوہڑا ۔ماھیا ۔ گیت ۔ ہیمڑی ۔ غزل ۔کافی ۔ نظم ۔ قطعہ ۔ قصیدہ ۔ ملی نغمے ۔ حمد ۔ نعت ۔ وغیرہ سب پہ کچھ نہ کچھ کام ضرور کیا ۔ البتہ ان کا پسندیدہ موضوع ہمیشہ تصوف ہی رہا ۔ حسن و عشق کا تقابل اور عشق اور عقل کا مقابلہ ان کے بہت دلچسپ ٹاپک رہے ہیں ۔ معاشرتی تفاوت اور ناھمواری ، ناانصافیاں ، جبر ، ظلم اور تشدد کے خلاف بھی خوب لکھا ۔ رومانس بھی ان کے عنوانات میں شامل ہے ۔ سچائی ، خلوص ، محبت ، بھائی چارا ، اخوّت جیسے عنوانات بھی زیرِ بحث رہے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے طنز و مزاح اور حالاتِ حاضرہ پہ بھی خامہ فرسائی کی ہے ۔ غرض شاعری کے چالیس سالہ دور میں وسیع و عریض افکار کو زیبِ قرطاس کیا ۔ یہ امر انھیں ایک اعلیٰ پاۓ کے شعراء میں شامل کرتا ہے ۔

    ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مختلف قسم کے فوک اور کلاسیکل سنگرز نے ان کا کلام گایا بھی ہے ۔ جن میں طالب حسین درد ، بشیر احمد مخلص ، اللّٰہ دتہ لونے والا ، فرقت سوکڑی ، محمد حسین بندیالوی ، الفت خوشابی ، فتح علی کمالیہ والے ، میڈم انمول سیال ، عابد کنول جوہر آبادی ، امجد ڈھاکہ والے ، لطافت ڈھاڈی ، اشفاق خان شاقی وغیرہ شامل ہیں ۔

    ان کے ہاں شاعری کا بہت زیادہ مواد موجود ہے اور اب کتب چھپوانے کا قصد کیۓ ہوۓ ہیں ۔ سرائیکی کی دو ضخیم کتب جن کے نام ٫٫ ریت دی خشبو ،، اور ٫٫ میڈی جاگیر ،، تجویز کیۓ گۓ ہیں ۔ اس کے علاوہ تیسری کتاب ٫٫ عقل ۔ عشق ۔ حسن دی روئیداد ،، اپنے مخصوص انداز میں زیرِ غور ہے ۔

    اُردُو کی دو کتب جن کے نام یہ ہیں ۔

    ٫٫ جنوں کے تیور ،، اور ٫٫ شعارِ خاکی ،،

    جو زیرِ طباعت ہیں ۔ ہم تو ہر وقت دستِ دُعا ہیں کہ اللّٰہ پاک ان کی اس محنتِ شاقہ اور کاوش پیہم کو کامیابی و کامرانی سے ھمکنار فرماۓ ۔ آمین

    آخر میں چند اشعار ملاحظہ فرمائیں

    ۔۔ھے بچھڑنے میں پوشیدہ لطف خاکی

    وجودِ وصل بھی ہے مرھونِ جدائی

    مومن کو بھی میراث کا کچھ علم ہو خاکی انساں کے بنا بنتا نہیں ابدال و قلندر ضوفشانی کر رہا تھا ہاں وہ اوروں کے لیے ٹمٹماتا زندگی کا اک دیا اچھا لگا

    خاکی دلِ ویراں کا کیا بزم سے تعلق

    یکجا بھلا ہوئے ہیں کبھی دشت و انجمن بھی

  • علامہ حافظ محمد ذیشان جلالی کا اعزاز

    علامہ حافظ محمد ذیشان جلالی کا اعزاز

    علامہ حافظ محمد ذیشان جلالی کا اعزاز


    راولپنڈی( احمد سلطان سے  ) کھڑپہ سیدال سے تعلق رکھنے والے علامہ حافظ محمد ذیشان جلالی نے جامعہ اسلام آباد العالمیہ سے درس نظامی ایم اے عربی و اسلامیات مکمل کر لیا ۔ تفصیلات کے مطابق گاؤں کھڑپہ سیدال کے علامہ حافظ محمد ذیشان جلالی نے عالم اسلام کی مستند علمی درسگاہ جامعہ اسلام آباد العالمیہ سے الشھادۃ العالمیہ فی علوم العربیہ والاسلامیہ  ایم اے عربی و اسلامیات کی تعلیم استاذ العلماء پروفیسر ڈاکٹر مفتی پیر محمد ظفر اقبال جلالی چانسلر اسلام آباد انٹرنیشنل یونیورسٹی پاکستان کے زیر نگرانی مکمل کر لی۔ موصوف اپنی ابتدائی تعلیم کے بعد حفظ القرآن کی تکمیل قریبی ڈھوک رتوال میں استاذ الحفاظ قاری شوکت رضوی کے پاس کرنے کے بعد درس نظامی کا آغاز کیا ۔ اس دوران انہوں نے اپنی دنیاوی تعلیم بھی جاری رکھی۔ انہوں نے اپنی اس کامیابی کو والدین کی دعاؤں، اساتذہ کی محنت و شفقت کا نتیجہ قرار دیا۔

    علامہ حافظ محمد ذیشان جلالی کا اعزاز

    علامہ حافظ ذیشان جلالی نے کہا کہ ضرب یضرب سے کلمتانِ حبیبتانِ تک کا درس نظامی کا سفر بے شمار قیمتی یادوں اور تجربات پر مشتمل ہے اس عظیم نعمت کو ہر شخص کو اپنے اور اپنے بچوں کے اندر سمونا چاہیے تاکہ دنیا و آخرت میں سرخرو ہوں۔ جامعہ اسلام آباد العالمیہ کے 8 فروری بروز ہفتہ وائٹ روز مارکی بحریہ ٹاؤن اسلام آباد میں منعقد ہونے والے  سالانہ ختم بخاری شریف و جلسہ دستار فضلیت میں انکی بھی دستار بندی و جبہ پوشی کی جائے گی جس میں انہوں نے اہلیان اسلام کو شرکت کی دعوت پیش کی ہے ۔

  • عربی سے ترجمہ شدہ کتاب "الکسلان اور تاج سلطان”

    عربی سے ترجمہ شدہ کتاب "الکسلان اور تاج سلطان”

    عربی سے ترجمہ شدہ کتاب "الکسلان اور تاج سلطان”

    تبصرہ : قانتہ رابعہ

    نام کتاب : الکسلان اور تاج سلطان

    مصنف ۔۔یعقوب الشارونی

    ترجمہ ۔۔۔ڈاکٹر میمونہ حمزہ

    ناشر ۔۔پریس فار پیس پبلیکیشنز

    بچوں کے لئے لکھنا ہرگز آسان کام نہیں ہے خاص طور پر کسی دوسری زبان سے ترجمہ کر کے کہانی کو بچوں کے لئے آسان انداز میں عام فہم بنانا

    اچھے سے اچھے مترجم ، ترجمہ کرتے ہوئے اپنی زبان میں کچھ لفظوں کو اس طرح سمونے سے قاصر رہتے ہیں کہ وہ کہانی پڑھنے والے کو اپنے اردگرد کی کہانی محسوس ہو

    اور یہ بھی کہ ہر زبان میں کچھ خاص اصطلاحات اور الفاظ ہوتے ہیں جو دوسری زبان میں ترجمہ ہونے کے باوجود کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں ۔کمال مترجم وہی ہے جو ان اصطلاحات اور الفاظ کو اپنی زبان میں اس کی روح کے ساتھ لے کر آئے۔

    عربی سے ترجمہ شدہ کتاب "الکسلان اور تاج سلطان”

    ڈاکٹر میمونہ حمزہ بہت اچھی قلمکار ہیں ان کے افسانے ، شخصی خاکے قارئین کے ایک حلقے میں داد پاچکے ہیں۔

    ڈاکٹر میمونہ حمزہ کی اصل وجہ شہرت ترجمہ نگار کی ہے ۔انھوں نے عربی لٹریچر میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور چونکہ وہ خود بہت اچھی ادیبہ ہیں اس لئے” ہبہ الدباغ ” کی کتاب کا ترجمہ ” صرف پانچ منٹ ” ہو یا تاریخی ناول کا ترجمہ نوراللہ، انہوں نے عربی زبان و ادب کے شہہ پاروں کو اس خوبی سے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے کہ کہیں بھی پڑھتے ہوئے اوپرا پن یا بوریت محسوس نہیں ہوتی۔

    زیر نظر کتاب عربی کی مشہور کتاب کا ترجمہ ہےلیکن واللہ ،یہ پڑھتے ہوئے کہیں بھی قاری کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ ترجمہ پڑھ رہاہے۔

    فقروں کی بنت ،آغاز ،اختتام اس قدر عمدگی سے ہے کہ لگتا ہے عربی کا شاہ پارہ اردو ادب کا شاہ پارہ بن گیا ہے۔

    السلام اور تاج سلطان ایک کہانی ہے عبدالسلام کی ۔اردو زبان بولنے والے جانتے ہیں کہ کسلمندی کا مطلب کیا ہے؟

    کسلان ، سست کو کہتے ہیں یہ ایک ایسے بچے کی کہانی ہے جسے سستی کا مرض لاحق تھا اور وہ سستی کی وجہ سے بستر پر ہلنے سے بھی قاصر تھا۔

    خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں عبدالسلام جو کہ اپنی سستی کی وجہ سے الکسلان کے نام سے پہچانا جاتا تھا ،پہنچا تو وہ سستی چھوڑ چکا تھا اور دنیا کا امیر ترین آدمی بن چکا تھا۔

    یہ کیسے ہوا؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ سارے جواب اس دلچسپ کہانی میں موجود ہیں جو بہت دلچسپ اور حیرت انگیز ہے جس میں ہر صفحے پر تجسس بھی ہے اور تحیر بھی۔

    اچھی بات یہ ہے کہ یہ طویل کہانی مختلف عنوانات کے تحت لکھی گئی ہے اور ہر کہانی کے اختتام پر پڑھنے والا ضرور سوچتا ہے

    ؟” اب کیا ہوگا”

    کتاب کی طباعت بہت خوبصورت ہے ۔اس کتاب کو کہانی اور طباعت کے حساب سے بین الاقوامی معیار کی کتاب کے طور پر فخریہ پیش کیا جا سکتا ہے۔

    رنگین صفحات ، کہانی کی سچویشن کے مطابق تصویریں ،خوبصورت عنوانات الغرض یہ کتاب اردو ادب اطفال میں بہت عمدہ اضافہ ہے۔

    پہلے صفحے سے آخر تک طبع زاد کہانی کا گمان ہوتا ہے اور ایسا بہترین ترجمہ کہ قاری ہر سطر پراپنےآپ کو لکھاری کے ساتھ ساتھ محسوس کرتا ہے۔

    میرے خیال میں بچوں کو عالمگیر ادب سے روشناس کروایا جائے تاکہ ان کی سوچوں کا دائرہ وسیع ہوسکے۔

    میں ڈاکٹر میمونہ حمزہ پی ایف پی کی پوری ٹیم اور جناب ظفر اقبال صاحب کو اس کتاب کی اشاعت پر تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتی ہوں۔