اگست 19, 2026

چوری کی سزا

گیدڑ جنگل میں رہتا تھا
چوری اس کی اک عادت تھی
لومڑ کے وہ گھر میں جا کر
چپکے چپکے سب کھاتا تھ

چوری کی سزا


گیدڑ جنگل میں رہتا تھا
چوری اس کی اک عادت تھی
لومڑ کے وہ گھر میں جا کر
چپکے چپکے سب کھاتا تھا
کچھوے کا تھا اونچا منصب
جنگل میں وہ اک قاضی تھا
چوری کرنے والے چوروں
کے ہاتھوں کو کٹواتا تھا


گیدڑ بھی چوری کے فن میں
ماہر جنگل میں سب سے تھا
جس کے باعث ہر چوری پر
وہ اکثر ہی بچ جاتا تھا
اک دن اس نے دل میں سوچا
شیر کے گھر میں ڈاکا ڈالوں
شیر جو نکلے گا گھر سے
کھانا اس کا سب کھالوں گا
گیدڑ گھر سے سوچ کے نکلا
ہرنی کا دل پہلے کھاوں
بعد میں اس کا سینہ چیروں
ٹانگ کلیجہ بھی نہ چھوڑوں
آخر شیر کے گھر جا پہنچا
گھر سے باہر شیر اس دن تھا
گیدڑ نے جب غار میں دیکھا
تن ہرنی کا خون میں لت پت
لالچ میں دل اس کا آیا
دل ہرنی کا کھانا چاہا
لومڑ اس کا پیچھا کرتے
شیر کے گھر تک بھاگتا آیا
گیدڑ کو جب کھاتے دیکھا
بھاگ کے شیر کے پاس وہ آیا
گیدڑ کی چوری کے بارے

چوری کی سزا


شیر کو اس نے سب بتلایا
شیر بھی گھر میں دوڑے آیا
شیر نے گھر میں گیدڑ پایا
ہرنی کا دل اس کے منہ میں
دیکھ کے غصے سے غرایا
شیر نے گیدڑ زور سے باندھا
پھر کچھوے کو جا پکڑایا
سارے جنگل میں کچھوے نے
اک اونچا اعلان کرایا
گیدڑ سن کر پھر گھبرایا
سب اکھٹے وحشی ہو گئے
کچھوا بیٹھا تھا کرسی پر
ملزم اس کے سامنے آیا
لومڑ گیدڑ کا دشمن تھا
گواہی دینے سامنے آیا
آخر ملزم مجرم بن کر
رویا اور بے حد پچھتایا
میرے ہاتھوں کو نہ کاٹو
کہتے کہتے وہ شرمایا
لیکن کچھوا باز نہ آیا
شیر نے روتا گیدڑ دیکھا
اس کو بے حد رحم بھی آیا
کچھوے کو وہ کہنے لگا
میں نے اس کو معافی دے دی
چھوڑ دیں اس کو قاضی جی
منصب اونچا آپ کا ہے جی
رب کو معافی سے ہے پیار
کچھوا سن کر کہنے لگا
چوری سے اب توبہ کر لو
گیدڑ نے پھر حامی بھر کر
جلدی جلدی توبہ کر لی
آخر معافی مل جانے پر
شیر کے پنجوں کو بھی چھو کر
اس نے چوری سے توبہ کی
منصف نے بھی اس کو چھوڑا
ہاتھوں کے نہ وہ کٹنے پر
خوشی خوشی گھر میں آیا
پیارے بچو، نیارے بچو
تن اپنا تم اجلا رکھنا
چوری سے نہ میلا کرنا
چوروں کا دن رات نہیں ہے
چوری اچھی بات نہیں ہے
اس سے تم کو بچنا ہو گا
معافی تم سے جو بھی مانگے
اپنے دل سے اس کو لگانا


معافی اس بندے کو دینا
راضی اپنے رب کو کرنا
راضی کرنے میں نہ بٹنا
معافی دینے سے نہ ہٹنا
اپنے رب کو راضی کرکے
اپنے رب سے راضی رہنا

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں

کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

iattockmag@gmail.com