عقیدت و محبت کی شاعری” منتہاۓ فکر”

تحریر : ڈاکٹر محمد ایوب صاحب ، فیصل آباد

حضرت امام حسین علیہ السلام کی ذاتِ بابرکت سے محبت مومن کے ایمان کی علامت ہے ۔ اس محبت کا اظہار مسلم معاشرے میں جن مختلف اور متنوع اسالیب میں ہوتا ہے اور تاقیامت ہوتا رہے گا ۔ ان میں سے ایک صاحب قلم کی جانب سے آپ علیہ السلام کے حضور میں جذبات محبت کا ادبی و شعری اظہار ہے ۔ دنیا کی شاید ہی کوئی قابل ذکر زبان اور بولی ہوگی جسے مسلمان آبادی میں پزیرائی حاصل ہے اور اس میں آپ علیہ السلام کی منقبت و ثناء کا سرمایہ نہ ہو ۔ وطن عزیز کی تمام زبانوں میں بلکہ اس خطے کے رہنے والے جن دوسری زبانوں سے واقف ہیں ۔ ان کے ذریعے بھی صفت حضرت امام حسین علیہ السلام کو بتدریج فروغ حاصل ہوا ہے ۔ یہ اس کلام کی برکت ہے کہ اس کی بدولت کلام لکھنے والے امر ہو جاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ذکر حسین علیہ السلام کی تخلیقات ، ان کے انتخاب اور ان کے احوال و آثار پر متعدد کتب شائع ہوئی ہیں ۔ منقبت نگاری کے میدان میں علاقائی سطح پر منقبت نگاری شعراء کرام کے احوال اور ان کی تخلیقی کاوشوں کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے ، اور اسی سلسلے کی ایک کڑی محترم مقبول ذکی مقبول کی” منتہاۓ فکر”
بھی ہے ۔
منقبت کیلئے نظم و نثر کی کوئی پابندی نہیں ، لیکن ہمارے ہاں عام طور پر آقائے حسین علیہ السلام کی منظوم تعریف ہی کو منقبت خیال کیا جاتا ہے لہٰذا اس کتاب میں ہمیں صرف منظومات ہی پڑھنے کو ملتی ہیں ۔ اگر چہ ذکی صاحب نے واقعہ کربلا کے تمام واقعات اور آپ سے تعلق رکھنے والی تمام ہستیوں کا ذکر کیا ہے مگر اس مضمون میں صرف آپ علیہ السلام کے جسمانی اور روحانی خصائص پر ہی بحث ہوگی ۔ کہتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کا چہرہ انور نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم جیسا اور آپ علیہ السلام کے سر مبارک دستار بہت خوبصورت سجتی تھی ۔

رخ مبارک رسولﷺ جیسا/ہے سر پہ دستار خوبصورت
(ص 69)
جب آپ علیہ السلام وعظ کر رہے ہوتے تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نبی پاک ﷺ وعظ فرماریے ہیں ۔
نبی (ص)کی صورت خطیب قرآں/جہاں کے اندر حسین (ع)بے شک (ص135)
صداقت ، لیاقت ، شجاعت اور شرافت جیسی خوبیوں سے مالا مال آپ علیہ السلام تقویٰ اور عمل صالح کی منہ بولتی تصویر ہیں ۔ آپ علیہ السلام ہر منقت میں اپنی مثال آپ ہیں ۔

امام حق کا تقویٰ ہے عمل صالح ہی اعلیٰ ہے
شرافت میں لیاقت میں شجاعت میں یہ دم نکلے
(ص191)

حقیقت میں آپ ولایت کا سر چشمہ ہیں۔

صداقت ،لیاقت ،شجاعت ،شرافت
حقیقت میں مولا ولایت کا چشمہ
(ص174)
اگر یہ کہا جائے کہ آپ علیہ السلام دین کا چہرہ ہیں تو کچھ غلط نہ ہوگا ۔

حقیقتوں میں حسین مولا (ص)/ہے دین حق کا عظیم چہرہ
(ص171)
آپ علیہ السلام سا کوئی رہبر اس جہان میں ڈھونے سے بھی نہیں ملے گا ۔ آپ علیہ السلام کی محبت ہمیں انسان میں نظر آتی ہے ۔

آپ سا رہبر کہاں کس نے ہے دیکھا دہر میں
آپ کی الفت ہے دیکھی نیک ہر انسان میں
(ص157)
آپ علیہ السلام مہر و رضا کا پیکر ہیں اور عشق خدا میں چور ۔ آپ نے میدان کربلا میں جو بار گاہ ایزدی میں سجدہ کیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔
صبر و رضا کا پیکر عشقِ خدا میں چور
سجدہء حق کی کون لاسکتا ہے ہے وہاں پہ تاب
(ص52)
آپ علیہ السلام حامد و شاکر ہیں ۔ آپ علیہ السلام جیسا کوئی قابل اور عارف اس دنیا میں نہیں ، آپ علیہ السلام کو یہ دین سب سے زیادہ عزیز ہے ۔

حسین (ع)حامد حسین (ع) شاکر/حسین (ع)قابل حسین (ع) عارف
عزیز سب سے یہ دین حق ہے/حسین (ص)عاقل حسین (ع) عارف
(ص132)
آپ علیہ السلام عظیم و حسین رہبر ہیں ،
عظیم رہبر حسین (ع) رہبر/ملیں گے حق کے امام کربل
(ص145)
اگر آپ علیہ السلام قربانی نہ دیتے تو آج چار سو اندھیرا ہونا تھا ،

دن بھی نہ ہوتا کبھی ہوتا اندھیرا چار سو
آپ (ع)کا صدقہ اجالا ہے جہاں بے جان میں
(ص156)
آپ علیہ السلام سورج سے بڑھ کر روشن ہیں کردار میں بھی اور تعلیمات میں بھی ۔

حسین (ع)سورج سے بڑھ کر روشن
ہوا ہے آخر مدام کربل
(ص146)
اسی لیئے رسالت ، امامت ، شرافت ، شہادت کا سہرا آپ علیہ السلام کے سر پر ہے ۔

رسالت ، امامت ، شرافت ، شہادت
ذکی سب کا شبیر (ع) کے سر پہ سہرا
(ص40)
پوری دنیا میں آپ علیہ السلام کی ذات اور کربلا میں قیام بے مثال ہے ۔

حسین (ع) جیسا کہاں ہے کوئی ؟
جہاں نے دیکھا قیام کربل
(ص145)
“منتہاۓ فکر”جناب مقبول ذکی مقبول کی بہترین کاوش محبت و عقیدت ہے ۔ جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ، یہ عظیم الشان کارنامہ سر انجام دینے پر میں جناب مقبول ذکی مقبول کو “عاشق حسین ” کا خطاب دیتا ہوں ۔ میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں ۔ اللّٰہ کریم ان کو تادیر سلامت رکھے تاکہ وہ علم و ادب کے آکاش کو اپنی تخلیقات سے سجائے رہیں ۔ آمین

ayyub

ڈاکٹر محمد ایوب

 فیصل آباد

سونیا بخاری

Next Post

11اپریل ...تاریخ کے آئینے میں

پیر اپریل 11 , 2022
11اپریل ...تاریخ کے آئینے میں
11اپریل …تاریخ کے آئینے میں