ننھیال سے ڈھوک جنوال تک

شاہد اعوان، بلاتامل

اسے ماں کی ممتا بھری محبت کا کرشمہ کہیے یاکچھ اور کہ ننھیالی خاندان اور اس سے جڑے رشتوں کی چاہت اور عقیدت ہمارے ہاں سوا نظر آتی ہے ماں، نانی، ماموں اور خالہ کے رشتوں میں کس قدر مٹھاس، اپنائیت اور جھکاؤ پایا جاتا ہے۔ آقادوجہاں جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ماں کی وفات کے بعد خالہ کو وہی احترام اور محبت دو جو اپنی سگی ماں کو دیتے ہو، سبحان اللہ! میرا پختہ عقیدہ اور یقینِ کامل ہے کہ بلاشبہ ننھیالی خاندان کے ساتھ یہ عشق وبندگی میرے محبوب آقاو مولا ﷺ کی نسبت کے باعث اپنی امت پر ایک خاص انعام اور تحفہ ہے کہ آپؐ کی آل اور اہل بیتؑ اطہار کا سلسلہ نسب آپؐ کی لاڈلی صاحبزادی خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرہؑ، دامادِ رسولؐ مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ اورنواسوں حسنین کریمینؑ سے جاری ہوا جو رہتی دنیا تک مومنین کو فیضیاب کرتا رہے گا۔
بیشتر علاقوں میں آج بھی یہ رواج چلا آ رہا ہے کہ پہلے بچے کی پیدائش ننھیال میں ہو، اس کے پیچھے کیا منطق ہے ؟ اس کی کوئی ظاہری وجہ تو معلوم نہیں ۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرو نانک کی پیدائش بھی اپنے ننھیال میں ہوئی تھی جس کی وجہ سے ان کے نام ’’نانک‘‘ پڑ گیا اور ان کی بہن کو ’نانکی‘ نام دیا گیا کیونکہ اس کی پیدائش بھی اپنے ننھیالی گھر میں ہوئی تھی۔ فقیر کو اپنے ننھیال سے محبت گھٹی میں ملی ہے کئی بار سوچا اپنے ننھیال اور خاص طور پر اپنی نانی اماں کے بارے میں یادداشتیں رقم کروں مگر دنیاوی جھمیلوں میں الجھ کر یہ موضوع ترجیحات سے اوجھل ہوتارہا ۔ ننھیالی گاؤں جانا میرے بچپن کی شدیدترین خواہشات میں سے ایک تھا ابتدا میں والد صاحب جنت مکانی کے کندھوں پر سوار ہو کر تو کبھی اونٹ اور کبھی گھوڑے پر بیٹھ کر جانا بھی بچپن کی ناقابل فراموش اور حسین یادوں کا حصہ ہے ۔ تھوڑا بڑا ہوا تو پیدل بھی لگ بھگ دس کلومیٹر کا لمبا سفر پگڈنڈیوں کو پھلانگتے پھلانگتے ہنسی خوشی طے ہوتا رہا ، ننھیالی گاؤں کے راستے میں ایک بہت بڑا نالہ جسے عرفِ عام میں ’’لیٹی‘‘ کہا جاتا ہے ، ہمارا استقبال کیا کرتا اور شدید بارشوں کے موسم میں اس برساتی نالے میں طغیانی کے باعث کئی کئی گھنٹے انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑتا مگر جب کوئی تدبیر بر نہ آتی تو بادل نخواستہ اپنی معصوم خواہشات کی قربانی دے کر واپس اپنے گاؤں ’کھوئیاں‘ لوٹنا پڑتا کہ ’’لیٹی‘‘ کی بے ربط و خوفناک موجوں کے آگے پُل باندھنے کے بجائے ہتھیار ڈالنا ہی حالات کا تقاضا سمجھا جاتا۔ اس زمانے میں یہاں آمدورفت کے لئے گدھوں، گھوڑوں اور اونٹوں کے علاوہ ذرائع نقل و حمل کا کوئی خاطر خواہ ذریعہ دستیاب نہ تھا لوگ پیدل سفر کو زیادہ سہل سمجھتے تھے۔ ہم بھی اپنی والدہ مرحومہ ومغفورہ کے ہمراہ نانی اماں کو ملنے پاپیادہ چل پڑتے، نانی نور بیگم کی بڑی سی جیب میٹھے اور خوشبودار گُڑ سے لبریز ہوتی اور یہ’’تحفہ‘‘ لینے کے لئے اتنا لمبا فاصلہ طے کرنا ہمیں کبھی مشکل نہ لگتا تھا اور کئی کئی روز وہاں ٹھہرنے کے باوجود دل نہیں بھرتا تھا اور پھر گھر واپسی ہر بار روتے دھوتے ہی ہوا کرتی۔ نانی اماں بھی کچھ اسی قسم کی کیفیت کا شکار ہوتیں چنانچہ وصال و فراق کے بیچ کے ان لمحوں کو’’قید‘‘ کرنے کے لئے وہ ہمیں چھوڑنے ہمارے ساتھ ہی چل پڑتیں یوں ان کا ساتھ تقریباٌ دو کلومیٹر تک ایک ’’بَن‘‘ تک ہمیں اور مل جاتا اور پھر جب تک ہم آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جاتے وہ وہیں کھڑی بھیگی آنکھوں سے ہمیں تکتی رہتیں۔۔۔۔ نانی اماں کا ہیولا تو ہم سے الگ ہو جاتا مگر ان سے ملنے والے تحائف میں چھپی ننھیالی گھر کی خوشبو باقی ماندہ سفر میں ہماری ڈھارس بندھاتی جو ہاتھ کی چکی سے تیار شدہ گندم اور باجرے کا آٹا، گُڑ، دیسی گھی، دودھ، مکھن،لسی، موسم کے حساب سے بنی گھریلو مٹھائیاں، مکھڈی حلوہ پر مشتمل ہوتا ۔۔۔۔ جسے کبھی اماں جی، کبھی میں یا چھوٹا بھائی منظور اٹھاتے اور دشوار گزار برساتی نالہ’ لیٹی‘ بمشکل عبور کر کے اپنے گاؤں ’کھوئیاں‘ پہنچ جاتے۔ بعدازاں چھٹی کلاس میں جڑواں گاؤں ملتان خورد کے مڈل سکول میں داخلہ ہوا تو ہر ویک اینڈ پر چھٹی کے بعد واپس اپنے گاؤں جانے کے بجائے سیدھا کوٹ شیرا میں نانکی ڈھوک ’جنوال‘ اکیلے ہی پیدل پہنچ جاتا۔ یہ سلسلہ پیاری نانی جان کی وفات تک جاری و ساری رہا۔
میرا ننھیالی گاؤں ڈھوک جنوال (کوٹ شیرا) ، یونین کونسل ملتان خورد کا داخلی گاؤں ہے جس کی آبادی تقریباٌ100خاندانوں پر مشتمل ہے جو ابتدا میں بہت کم تھی ۔ میں نے اپنے نانا جی گل جہاں مرحوم و مغفور کو نہیں دیکھا اس زمانے میں تصویریں تو تھیں نہیں لیکن نانی جی نور بیگم کی محبتیں اس قدر سمیٹیں کہ ان کا عکس اور شکل و صورت میرے دل و دماغ میں آج بھی یوں نقش ہے کہ جب بھی آنکھیں بند کروں وہ اپنے مکمل سراپے کے ساتھ میرے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ میرے ماموں ملک سلطان امیر مرحوم چاروں بہنوں میں سب سے چھوٹے تھے تمام بھائی بہنوں میں بڑی میری والدہ مرحومہ صاحب خاتون ، دوسرے نمبر پر خالہ خاتون بیگم مرحومہ، تیسرے نمبر پر خالہ ست بھرائی مرحومہ اور بہنوں میں چوتھی خالہ ملکانی جو ماشآاللہ حیات ہیں اور اب وہی پورے ننھیال میں میری والدہ اور نانی اماں کی واحد نشانی ہیں، اب میری صاحبزادی اسی خالہ کی بیٹی کی بہو بھی ہے ۔ مجھے اپنی تمام خالاؤں اور اکلوتے ماموں سے جتنا پیار ملا شاید ہی کسی کے حصے میں آیا ہو اور اب میرے ماموں زاد بھائی ملک محمد رفیق، ملک محمد شریف اور ملک عبدالطیف بھی مجھے وہی احترام دیتے ہیں جس طرح بڑے بھائیوں کو دیا جاتا ہے۔ ڈھوک جنوال کا قیام پاکستان سے قبل کا ہے جہاں گنتی کے چند افراد اپنی زمینوں میں آ کر آباد ہوئے تھے یہ گاؤں اس لحاظ سے بھی پاکستان بھر میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص مثالی واقع ہوا ہے کہ اپنے قیام سے لے کر آج تک یہاں قتل کی کوئی واردات نہیں ہوئی، سب ایک دوسرے کے ساتھ باہمی رشتوں میں یوںبندھے ہوئے ہیں کہ ان کے درمیان سے پانی بھی نہیں گزر سکتا ۔ یہاں بجلی کی سہولت کچھ عرصہ قبل تک نہ تھی، گاؤں والوں کے اتحاد و یکجہتی کا اندازہ الیکشن کے دنوں میں بخوبی لگایا جا سکتا ہے جہاں بڑی عمر کے بزرگ فیصلہ کر دیں ان کی حکم عدولی کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ اسی طرح خوشی غمی کے مواقعوں پر پورا گاؤں یکجان ہوجاتا ہے نوجوان اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں جبکہ گاؤں کی خواتین اور بچیاں ضروریات زندگی اور کھانے پینے کی اشیاء اٹھا اٹھا کر متعلقہ گھر پہنچنا شروع ہو جاتی ہیں کسی کو افرادی طور پر باقاعدہ مدعو کرنے کا رواج نہیں سب خاندان ایک گھر کے فرد کی طرح بخوشی اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں اور اس گھر والوں کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ انہیں کوئی مسئلہ درپیش ہے۔ اب گھر گھر ہینڈ پمپ لگ گئے ہیں شروع شروع میں یہاں دو ’’بَن‘‘ تھے جن میں بارش کاپانی اکٹھا ہوتا تھا وہی گاؤں والے بھی پیتے اور مال مویشی بھی، اس کے علاوہ برساتی نالے پر سال بھر ایک چشمے سے جاری پانی جسے مقامی زبان میں ’’پاتری‘‘ کہتے تھے خواتین سروں پر گھڑے بھر کر لاتیں اور کپڑے بھی وہیں دھوتیں تھیں ۔ گاؤں میں ایک ہی مسجد ہے اور سب گاؤں والے بغیر کسی فروعی اختلاف کے اس مسجد میں باجماعت نماز ادا کرتے ہیں پہلے یہاں نماز جمعہ نہیں ہوتی تھی تاہم اب جمعہ کی نماز بھی باقاعدگی سے پڑھائی جاتی ہے۔
اس بے مثال میرے ننھیالی گاؤں کے وہ بزرگ جو اب اس دنیا میں نہیں رہے ان کے اسمائے گرامی علی خان، غلام محمد(ماموں نکو)، شاہ ولی خان،نور الٰہی، سیف الرحمٰن(ٹیچر)، امام غزالی، دلاسہ خان، مہدی خان، میاں محمد، سلطان امیر(ماموں)، اولیا خان، محمد امین، فضل دین، لالہ سمندر خان، لالہ سکندر خان ہیں۔ جبکہ موجود اشخاص میں امیرباز، ماموں شیر محمد، ظفر اقبال، عبدالخالق، محمد اسحاق ، سیٹھ محمد اقبال کے والد گرامی (جن کانام یادداشت سے نکل گیا ہے) جن کی واحد دکان تھی، شامل ہیں اور ان کا گھر پختہ پتھروں سے بنا ہوا تھا۔ یہ گاؤں تحصیل تلہ گنگ کا واحد انتہائی پرامن اور باوقار گاؤں ہے، اللہ اس کے مکینوں کو نظر بد سے بچائے اور وہ اسی طرح اعلیٰ روایات کے امین بنے رہیں۔

awan

شاہد اعوان

شاہد اعوان

Next Post

26فروری ...تاریخ کے آئینے میں

ہفتہ فروری 26 , 2022
26فروری ...تاریخ کے آئینے میں
26فروری …تاریخ کے آئینے میں