مقبول ذکی مقبول کی کتاب اعترافِ فن

مقبول ذکی مقبول کی کتاب اعترافِ فن ، عاصم بخاری
مبصر: ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم
[email protected]
مقبول ذکی مقبول پاکستانی اَدب میں مقبولِ عام ہو چکے ہیں۔ اُن کی شخصیت عجز و انکساری کا مرقع ہے ۔ یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ ہمارے لفظ کتابوں میں مقید ہو جاتے ہیںلیکن ہمارا کردار ہمیں مرنے کے بعد زندہ رکھتاہے ۔ مقبول ذکی ایسی شخصیت کے حامل ہیں ۔ زبان و بیان ، تحریر و تکلم اور لب و لہجے کی چاشنی سے وہ دوسروں کے دل تسخیر کر لیتے ہیں۔ اُن سے جب بھی ملاقات ہوئی اُنھیں محبتوں کا امین پایا ۔ اُن کی اُردو ، پنجابی اور سرائیکی کتب میں پذیرائی کی منازل طے کر رہی ہیں۔ اُن کی زیرِ نظر کتاب، معروف شاعرو اَدیب عاصم بخاری(عاصم رضا شاہ) کے فکر و فن پر ہے ۔ دوسروں میں خوبیاں تلاش کرنا بذاتِ خود ایک بہت بڑی خوبی ہے ۔ بھکر ، میانوالی، میں اُن کی دھوم کا آغاز ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اَدبی افق پر ایک ستارے کی مانند چمکنے لگے ہیں۔ عاصم بخاری بہترین استاد ، خوب صورت لب و لہجے کے شاعر، نثر نگار ، محقق اور نقاد ہیں۔ وہ روشن دماغ ہیں اور یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ وہ اُردو ادب کے استاد ہونے کی وجہ سے اپنے شاگردوں میں مقبول ہیں۔ مقبول ذکی نے 23عنوانات پر مشتمل کتاب میں عاصم بخاری کی مختلف جہات کا احاطہ کیا ہے ۔ عاصم بخاری کی کئی کتابوں پر پہلے بھی میری تجزیاتی کتب میں تبصرہ شامل ہے۔ مَیں ایک عرصہ سے اُن کا معترف ہوں۔ عمر میں وہ مجھ سے 15سال چھوٹے ہیں۔ میری مراد وہ 16جولائی 1970ءکو پیدا ہوئے ۔ اُنھوںنے میانوالی کے تحریری و تقریری مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ یہ جان کر مزید خوشی ہوئی کہ اُنھوںنے کچھ عرصہ سول ڈیفنس میں بھی گزارا۔ یہ ہماری قدرِ مشترک ہے ۔ ماہنامہ ”شعور“ کالا باغ سے بچوں کے اذہان کے لیے مہکار مہیا کی۔ اُن کی متعدد کتب منظر عام پر آچکی ہیں ۔ وہ بہت نغز گو ہیں کوئی بھی موضوع ہو ا س پر لکھنا ان کے لیے چنداں مشکل نہیں ہوتا ۔ لفظوں کا ایک بے بہا خزینہ ان کے پاس موجود ہے وہ جب لکھنے بیٹھتے ہیں تو ہر لفظ کی خواہش ہوتی ہے کہ عاصم بخاری مجھے اپنے مصرعوں میں سمو لے ۔ عا صم بخاری بڑی سہولت او رآسانی سے لفظوں کی شیرازہ بندی کرتے ہیں ۔ وہ لفظوں کی نشست و برخاست کا بہت گہرا ادراک رکھتے ہیں ۔ شعر گوئی میں ایک چیز کا خاص خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا عام آدمی یا پھر اردو ادب پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں یا اس سے کیافائدہ ہو سکتا ہے ۔ عاصم بخاری جب شعر کہتے ہیں تو وہ اس چیز کو ضرور اپنے ذہن میں رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ شعر کہتے ہوئے مقصدیت کو ہمیشہ اولیت دیتے ہیں ۔ ان کی شعروں میں مقصدیت کے علاوہ حالات حاضرہ اور اپنے ماحول کی عکاسی کا نمونے بھی جابجا دکھائی دیتے ہیں ۔
عاصم بخاری بڑے باہمت اور حوصلہ مند شاعر ہیں جو مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں انھوں نے اس سے قبل نعتیہ شعری مجموعہ ” مدحِ ختم الرسلﷺ “ (2017ئ) بھی شائع ہو چکا ہے ۔ عورت پر ہونے والے ظلم کی داستان کو بھی شعروں کی صورت میں پیش کیا ہے ۔ جسے انھوںنے ” ظلم عورت پہ “ (2007ئ)کے عنوان شائع کیا ۔ سرائیکی شعری مجموعہ ” سانجھے ویہڑے “ (2002ئ) اور ”پتے بکھر گئے “ (2006ء) میں شائع ہو کر خوب داد وصول کر چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ تحقیق و تنقید پر بھی ان کا کام ایک سند کا درجہ رکھتا ہے ۔

مقبول ذکی مقبول کی کتاب اعترافِ فن


مقبول ذکی مقبول نے بڑے رواں اور سلیس انداز میں عاصم بخاری کی علمی و اَدبی خدمات کو مختلف حوالوں سے پیش کیا ہے ۔ اُن کی حسِ مزاح حتی کہ اُن کا سراپا بھی لفظوں کے خوبصورت تعویز میں سمیٹ دیا ہے ۔ عاصم بخاری کے ایوارڈز ، میڈلز اور دیگر انعامات کی تفصیل بہت زیاد ہ ہے ۔ بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ اُنھوںنے پاکستان کے تمام اَدبی حلقوں سے انعامات حاصل کر کے خود کو منوا لیا ہے ۔ نثر اور شاعری کی تقریباً تمام اصناف پر پروفیسر عاصم بخاری کو دسترس حاصل ہے ۔ حمد ، نعت ، منقبت ، سلام، غزل، نظم، المختصر تحریر کی زد میں جو کچھ آسکتاہے اُسے عصری شعور کے سانچے میں ڈھالنا عاصم بخاری کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ مقبول ذکی مقبول نے مختلف ناقدین ، محققین، مفسرین ، مرتبین اور مو¿خرین کے حوالوں سے نہ صرف عاصم بخاری کو ہدیہ¿ تحسین پیش کیاہے بل کہ اُن کی خدمات کے تناظر میں میانوالی اور بھکر کی اَدبی تاریخ بھی مرتب کر دی ہے ۔ مقبول ذکی مقبول اور عاصم بخاری میں بہت سی قدریں مشترک ہیں۔ اَدبی تقریبات کا اہتمام کرنا ، عوام الناس میں اَدبی شعور اُجاگر کرنا ، تحقیقی و تنقیدی جائزوں پر نظر رکھنا ، حساسیت اور فطرت کے مناظر پر کچھ نہ کچھ لکھتے رہنا۔ شاعری میں حسن کا تذکرہ نہ ہو تو غزل شرمندگی محسوس کرتی ہے ۔ عاصم بخاری اور مقبول ذکی مقبول کے ہاں حسن و جمال روایتی تغیرات کا ملاپ محسوس ہوتا ہے ۔ حسنِ فطرت یا حسنِ محبوب اور وہ بھی مشرقی سانچے میں پیش کرنا بڑا کمال ہے ۔ پروفیسر عاصم بخاری کے فن اور اُن کی شخصیت پر بہت سے احباب نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے میرے یہ چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ مقبول ذکی مقبول اور عاصم بخاری سے دلی عقیدت کا اظہار ہیں۔ اس کتاب کے بہت سے مضامین میں ایک ہی بات دہرائی گئی ہے اور مَیں سمجھتا ہوں اس عمل میں اضافہ نہ کیا جائے۔ مقبول ذکی مقبول اور عاصم بخاری کے لیے کامیابی اور کامرانی کی ڈھیروں دعائیں اللہ کرے قلم کا یہ رشتہ اِسی طرح قائم دائم رہے ۔ اچھے روےے ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتے ہیں اور یہ کتاب اچھے رویوں کی آئینہ دار ہے ۔

مبصر: ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم
[email protected]


تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

چھانگلا ولی اور پتھر کا بیڑہ

پیر دسمبر 4 , 2023
اللہ پاک نے اولیا کرام کرامات سے مزین کر دیے ہیں فنا فی اللہ کا مقام انہیں کُن کی طاقت دے دیتا ہے وہ جیسا چاہیں اللہ کے حکم سے کر دیتے ہیں۔
چھانگلا ولی اور پتھر کا بیڑہ

مزید دلچسپ تحریریں