مہنگائی ہائے مہنگائی

از قلم
بینش احمد اٹک
ہر آنے والی حکومت اور کوئی اور وعدہ کرے نا کرے یہ وعدہ ضرور کرتی ہے کہ وہ مہنگائی کم یا ختم کردے گی۔
یہ ایسا وعدہ ہے جس نے کبھی پورا نہیں ہونا ہے۔
مہنگائی ایک ایسی چیز ہے جو ہر وقت خبروں میں رہتی ہے۔ آئے روز ہم یہ سُن رہے ہوتے ہیں کہ فلاں چیز مہنگی ہو گئی ہے۔
لوگ ہر وقت مہنگائی کا رونا روتے ہیں اور مہنگائی ہے کہ اُن پر ہنس کے بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔
آج کل کے زمانے میں ایسا کوئی نہیں جو مہنگائی سے پریشان نا ہو- غریب اور مزدور طبقہ تو چولہا جلانے کے بھی قابل نہیں رہے ہیں۔ مہنگائی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ دنیا کے تمام ممالک میں ضرویات زندگی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
کرایہ جات٬سکولوں کی فیسیں٬ روز مرہ کی کھانے کی اشیاء یہ سب غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلائیں یا سکول کاخرچہ اٹھائیں۔ بچے کسی بھی ملک و قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ جب بچے تعلیم ہی حاصل نہ کریں گے تو ہمارے ملک کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔کہا جاتا ہے کہ جو چیز بہت ذیادہ بکنے والی ہو اُس کی قیمت دُگنی ہو جاتی ہے۔
مشہور واقعہ ہے کہ ایک بار حضرت عمرؓ کے دور میں گوشت کی قیمت میں اضافہ ہو گیا تو تمام لوگ آپؓ کے پاس شکایت لے کر آئے- آپؓ نے کہا کہ گوشت کا استعمال کم کر دو۔ جب استعمال کم ہو جائے گا تو قیمت خْود بخود کم ہو جائے گی۔
پہلے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ غریب لوگ صرف دالیں اور سبزیاں کھا سکتے ہیں لیکن موجودہ دور میں تو غریبوں کو ایک وقت کا کھانا بھی میسر نہیں آ رہا ہے۔ سبزی اور دالوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
کاجو،بادام، پستہ یہ چیزیں تو صرف دْکانوں میں سجنے کیلئے ہی رہ گئی ہیں۔ ہر کوئی قرضے لے کر اپنی ضروریات پوری کر رہا ہے۔ بجلی، تیل، گیس اور پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ پٹرول آئے روز مہنگا ہو رہا ہے۔بیچاری عوام موٹر سائیکل کی بجائے سائیکل کو ترجیح دے رہی ہے۔آخر اس ملک میں غریب عوام کے لئے کیا رہ گیا ہے۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں مہنگائی کی وجہ سے خُود کشی کر رہے ہیں۔
گزشتہ روز ایک واقعہ پیش آیا کہ ایک باپ نے مہنگائی سے تنگ آ کر اپنے چار بچوں کی جان لے لی اور خُود کو بھی مار ڈالا۔
سچ بات تو یہ کہ اب مرنا کون سا آسان ہے کفن دفن کے اخراجات بھی ایک غریب کی پہنچ سے باہر ہیں-
آخر کون قصوروار ہے اِس سب کا؟
مہنگائی نے عوام کی راتوں کی نیند اْڑا کے رکھ دی ہے۔دال٬ چاول٬ آٹا سبزی٬ پھل الغرض روز مرہ کی چیزیں بھی ہماری دسترس سے دور ہو گئیں ہیں۔ اب تو جتنے پیسے گھر میں آتے ہیں اُسی حساب سے سوچنا پڑتا ہے کہ کہاں اور کیسے خرچ کرنے ہیں۔ جس طرح سے مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے،لگتا ہے دال چاول کھانا بھی مشکل ہو جائے گا۔
حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی روکنے کیلئے مناسب اقدامات کرے تاکہ ایک غریب انسان دو وقت کی روٹی تو آسانی سے کھا سکے، ایک اچھی حکومت وہی ہوتی ہے جو عام آدمی کا جینا آسان کرتی ہے۔

beenish

مہنگائی ہائے مہنگائی

بینش احمد

Next Post

منتہائے فکر

پیر اکتوبر 3 , 2022
دبستانِ تھل کے افق پر ابھرتا اور چمکتا ہوا معروف و مقبول ادبی ستارہ مقبول ذکی مقبول ہر نئے دن کے ساتھ ترقی کی نئی منازل طے کرتا ہوا آگے ہی بڑھتا جا رہا ہے ۔
منتہائے فکر