’’درکار‘‘ کا اقرار

’’درکار‘‘ کا اقرار
تحریر: قمرعباس گِل شیرگڑھ (بھکر)
ڈاکٹر غلام شبیر اسد(جھنگ) کے توسط سے اقرار مصطفی کی شعری مجموعہ ’’درکار‘‘عنایت ہوا۔جسے سخن پبلی کیشن ,لاہور نے2020ء میں دیدہ زیب اوراق کی زینت بنایا ہے۔موصوف کا تعلق پنجاب کے علاقے کمالیہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے اور ایک نجی کالج میں تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ ایک نوجوان ابھرتے شاعر کے دورِجدید کے خیالات و جذبات سے آگاہی اور اس پر مضمون تحریر کرنا میرے لئے باعث صدفخر ہے۔اس مجموعے میں حمد ونعت کے علاوہ اکہتر غزلوں کا گلدستہ موجود ہے۔نیا طرز احساس اور طرزاظہار دیکھ کر جو مسر ت حاصل ہوئی وہ ناقابل بیان ہے۔مجھ سے پہلے بہت سے نامور نقاد اور سخن فہم ہستیاں اقرار مصطفی پر اپنی رائے دے چکے لہذا اب میرا کچھ کہناغیر اہم توہے مگر چونکہ ہر پھول کی اپنی خوشبواوررنگ ہوتا ہے اور اظہار رائے بھی ہر فرد کابنیادی حق ہے- اقرار مصطفی عصر حاضر کے بلند پایہ مقام کے حامل صد برگ شاعر ہیں۔ایک محب وطن اور توانا شاعر کی مانند وہ دل کی وادی میں اتر کر قارئین کو رنگارنگ مناظر کی سیر کراتے ہیں۔وہ اس بات پر خدا کے حضور صد شکر بجالاتے ہیں کہ یہ ایک سرائے ہے۔

’’درکار‘‘ کا اقرار


صد شکر میرا دل کہ سرائے زمانہ تھا
آیا کرے ہے کوئی تو جایا کرے کوئی
اقرار لفظوں کی تجارت کرنے کی بجائے ادب, تعظیم اورمحبت بھرے جذبات سے انھیں معنویت عطا کرتے ہیں۔ان کے الفاظ سادہ سہی مگر فکر ونظر کی سحر کاری کے انوکھے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں۔اقرار روش زمانہ پر چل کر صرف قافیہ پیمائی نہیں کرتے بلکہ وہ نئے نئے افکاروخیالات سے اشعار کو تازگی بخشتے ہیں۔
تازگی شعر سے گئی اقرار
فائدہ قافیہ بدلنے سے
عصر حاضر کے ایک متحرک شاعر کی طرح اپنے کلام میں جہاںاقرار حیات و کائنات کے متنوع مباحث چھیڑتے نظر آتے ہیں وہاں ان کے کلام کے ذریعے کہیں کہیں ان کے اندر چھپا ہوا ایک اچھا نقاد بھی ہمارے سامنے آجاتا ہے۔جیسے وہ ایک جگہ یوں گویا ہوتے ہیں۔
شعر پہ شعر داغتے ہیں لوگ
لفظ و معنی کا احترام نہیں
اقرار کا قلم اور تخیل جہاں شعری توقیر سے آگاہ ہے وہاں زبان و بیان کے سبھی سلیقوں سے بھی وہ آشنا نظر آتے ہیں۔نادر تشبیہات و استعارات کا خوبصورت اور بر محل استعمال اور چھوٹی بحریں ان کے کلام کو جمال کے کمال تک لے جاتی ہیں۔انھوں نے بڑی کمال مہارت سے اپنے خارج کے مشاہدات وتجربات کی بازیافت کر کے انھیں لفظی پیکر میں ڈھالا ہے۔
تجھ کو دیکھا ہے آنکھ میں رکھ کر
پھر بھی تو جا بجا نظر آیا
تجھ سے مل کر, تجھی سے مل کر ہی
بولنے کا مجھے ہنر آیا
اقرار مصطفی عصر حاضر کے نباض ہیں وہ زمانے کی چال اور واقعات ومناظر کی بڑی عمدہ اور خوبصورت تصویر کشی کرتے ہوئے قاری کے سامنے سارا منظرنامہ پیش کر دیتے ہیں۔ زندگی اور کائنات سے محبت کا جذبہ ان کے ہاں بھرپور ہے۔انھوں نے انسانوں ,پھلوں, پھولوں,ستاروں اور دیگر مناظر قدرت کو اپنے کلام میں بھرپور سمویا ہے۔
آنکھوں میں جھلملاتے رہے زیر آب خواب
نظروں کو جگمگاتے رہے سطح آب پھول
ان کو عزیز آج بھی ہے حسن,مئے,شباب
ہم کو پسند آج بھی جگنو,کتاب,پھول
‘درکار‘ اقرارمصطفی کا دوسرا شعری مجموعہ ہے۔اس سے پہلے 2017 ء میں ان کا پہلا مجموعہ ’اقرار‘ چھپ چکا ہے ,جسے رائیٹر گِلڈ ایوارڈ سمیت کئی ایوارڈ ز مل چکے ہیں۔لہذا بندہ ناچیز آخر میں صرف اتنا ہی کہے گا کہ’’ درکار ‘‘کے مطالعہ کے بعد مجھے اتناضرور محسوس ہوا کہ واقعی میں نے کسی ایوارڈ یافتہ لکھاری کے کلام کا مطالعہ کیا ہے۔

qmr

 قمرعباس گِل

شیرگڑھ، بھکر

سونیا بخاری

Next Post

بندے کا اپنے رب پر توکل

جمعرات دسمبر 15 , 2022
توکل عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کوشش و عمل کے ساتھ اللّٰہ پر بھروسا کرنا ، اپنی تدابیر اور مساعی کے نتیجے کو خدا کی کارسازی کے حوالے کرنا۔
بندے کا اپنے رب پر توکل

مزید دلچسپ تحریریں