زیب النسا زیبی صاحبہ سے گفتگو

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ، کراچی

زیب النسا زیبی صاحبہ ، کراچی

انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر ، پنجاب پاکستان

زیب النساء زیبی صاحبہ ادب کے حوالے سے ایک عالمی شہرت یافتہ ہیں اور عہد حاضر کی شاعرہ و ادبیہ و تعلیم یافتہ خاتون ہیں ۔ ان کی ادبی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں ۔ ہر صنفِ ادب میں ایک سو سے زائد کتب کی خالق ہیں ۔ 25 کتب نصابی ہیں جو تصنیف و تالیف کی ہیں ۔ 5 کلیات 2 ۔ 2 ہزار صفحات پر مشتمل ہیں ۔ محکمہ اطلاعات حکومت سندھ میں آفیسر اطلاعات کے عہدے پر فرائض سر انجام دیئے اب کافی عرصہ سے ریٹائرمنٹ لے لی ہے ۔ آپ کی پیدائش 3 جولائی 1958ء کو کراچی میں ہوئیں ۔ آپ کے والدین دہلی (بھارت) کے رہنے والے تھے ۔ پاکستان میں اب تک آپ کے پائے کی شاعرہ و ادبیہ نہیں دیکھی ۔ آپ نے نظم کی 70 اصناف پہ شاعری کی ہے اور ان کی تیکنک بھی لکھی ہیں دیناے ادب میں یہ کام پہلی مرتبہ ہوا ہے۔۔۔۔آپ “تروینی”‘ صنف کی عالمی سطح ہہ پہلی صاحب کتاب شاعرہ ہیں یہ صنف انڈیا کے گلزار صاحب کی ایجاد ہے ۔۔۔۔۔آپ نے تخلص کے بے نام نشان کو “مخلص ” کا نام بھی دیا جبکہ “سوالنے “کے نام سے ایک سہ مصری نظم بھی آپ نے ایجاد کی ہے ۔ جو ہر ایک بحر میں کہی جاسکتی ہے ۔ رباعی صنفِ ادب میں ایک مشکل ترین صنف ہے ۔ مگر آپ نے اس پر بھرپور انداز میں طبع آزمائی کی ہے ان کی ر باعیات پہ دہلی یونیورسٹی انڈیا میں خشبو پروین پی ایچ ًی کا تحقیقی مقالہ لکھ رہی ہیں ۔ زیب النساء زیبی کے نام سے کراچی میں ایک روڈ بھی ہے ۔ مختلف یونیورسٹیوں سے آپ کے ادبی کام پر طلبہ و طالبات نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی ہیں اور کافی سارے کر بھی رہے سات ایم فل چار بی اہس اور ایم کے مقالے ہو چکے ہیں ۔اکادمی ادبیات سندھ کراچی کے تعاون سے ان کی فن و شخصیت پہ 800 صفحات کی کتاب بھی شائع کی گئی ہے جو محسن اعظم ملیح آبادی نے تحریر کی ۔۔۔۔آپ بہت سی عالمی مشاعرے اور و ادبی کانفرنس میں مقالے اور کلام پیش کرتی رہیں ہیں آپ کی پانچ کلیات کے نام یہ ہیں نظم کی ستر اصناف پہ کلیات “سخن تمام ” غزلیات کی کلیات “کار دوام ” افسانوں ناول کی کلیات “عکس ِ زندگی “. تحقیق و تنقید مقالے تبصرے کی کلیات ” متاع ِ زیست “شاعری کی کلیات “حرف ِ نا تمام ” ۔۔

زیب النسا زیبی صاحبہ سے گفتگو

چند روز پہلے علمی و ادبی حوالے سے انٹرویو لیا گیا جو سوال و جواب ہوئے ہیں ۔ وہ نذر قارئین ہے ۔
سوال : آپ نے کب سے لکھنا شروع کیا ۔؟
جواب : طبعی رجحان اور میلان شروع سے ہی تھا ساز گار ماحول ملا تو لکھنا شروع کر دیا۔

سوال : آپ کو لکھنے کی ترغیب کیسے ملی ۔؟

جواب : گھر کا ماحول اور بیرونی دونوں نے مجھے لکھنے لکھانے کی طرف راغب کیا۔

سوال : آپ کے گھر کا ماحول ادبی تھا ۔ ؟
جواب :جی ہاں
ادبی ماحول نہ ہو تو صلاحیتوں کو نکھار نہیں ملتا۔ٹھیک سے پروان نہیں چڑھ پاتیں۔
سوال : جس زمانے میں آپ نے لکھنے کا آغاز کیا ۔ اس دور میں تو عورت کو اظہار کی اتنی اجازت نہ تھی ۔ آپ کو بھی اس سلسلہ میں مشکلات کا سامنا رہا ۔ ؟
جواب : جی ہاں
وہ دور آج سے خاصا مختلف تھا ۔مگر عورت کی نمائندگی کرتے ہوۓ اتنا ضرور کہوں گی کہ مردوں کے مقابلے میں عورت کو اپنا آپ منوانے کے لیے بہت مشکلات سے گزرنا ہوتا ہے ۔ پھونک پھونک کے قدم رکھنا ہوتا ہے ۔ عورت پن کا احساس ہر موڑ پر بڑی شدت سے ہوتا ہے۔
سوال : بچوں کی پرورش اور خانہ داری میں یہ ادبی مصروفیات حائل نہیں ہوئیں۔ ؟
جواب : ذکی صاحب ! جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکی ہوں کہ عورت کو جن مشکلات کا سامنا ہوتا ہے مرد اندازہ بھی نہیں کر سکتا ۔ بچے خانہ داری رشتہ داری برادری ملازمت شوہر یہ ساری چیزیں ایک عورت کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہیں ۔ مگر میں نے اعتدال کا دامن نہ چھوڑا ۔ ہر چیز کو مناسب وقت دیا جس کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہ بنا ۔ میں نے اولاد گھر ملازمت کو ادبی سرگرمیوں پر ترجیح دی ۔ ادبی سرگرمیاں ثانوی انداز میں۔۔۔
سوال : آپ کی ملازمت کے معاملات زیادہ وقت طلب تھے ۔ان پر آپ کی ادبی مصروفیات کس حد تک اثر انداز ہوئیں ۔ ؟
جواب : جی
ملازمت بذات خود full time جاب ہےبچوں کی دیکھ بھال شوہر کا خیال یہ سارے کام میں نے اپنے اپنے وقت پہ کیے میری ملازمت میری ادبی سرگرمیوں سے متاثر نہیں ہوئی ۔میں ملازمت کے اوقات کے مشاعروں میں شرکت نہ ہونے کے برابر کی ۔
سوال : آپ نے کس صنف ِ ادب سے آغاز کیا ۔ ؟
جواب :شاعری میں غزل سے
سوال : آپ نے کس کس صنف ِ ادب میں کتب تخلیق کیں اور طباعت و اشاعت کی منازل تک پہنچیں ۔ ؟
جواب : کتب مختلف اصناف پر لکھیں مگر شاعری اور غزل غالب رہی
سوال : آج کل کیا ادبی مصروفیات ہیں ۔ ؟
جواب : آج کل ادبی مصروفیات مگر گھر پر رہ کر ہی لکھنا لکھانا زیادہ ہے تقریبات میں وہ پہلی سی شرکت مصروفیات اور صحت کی وجہ سے وہ نہیں رہی
سوال : آپ نے ادب کو کیسا پایا ۔ ؟
جواب :ادب
ادب تو زندگی ہے
ادب حیات آموز ہے
ادب تو ادب سکھاتا ہے
ادب تو ادب ہے
زندگی کا لطف ادب میں ہے
سوال : پاکستان میں تخلیق ہونے وال ادب معاشرے کو کیا دے رہا ہے ۔ ؟
جواب : ادب بہت کچھ دیتا ہے مگر کبھی کبھار یہ قلم بے لگام بھی ہو جاتا ہے ۔تب معاشرے کو جتنا نقصان دیتا اتنا ہے جس کا آ اندازہ نہیں کر سکتے مجموعی طور پر بہت کچھ دیتا ہے منزل کا راستہ دکھاتا ہے
سوال : سوشل میڈیا نے ادب کو مثبت و منفی ہر دو پہلو سے کتنا متاثر کیا ہے مقابلتا”.
جواب : ہاں
ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ۔اس نے بھی فوائد کے ساتھ ساتھ نقصان بھی بہت دیۓ ہیں مگر میرے خیال میں فروغ ِ ادب میں اس کا کردار مثبت زیادہ ہے۔
سوال : آپ کی ادبی زندگی کا نچوڑ اور حاصل پیغام قارئین اور شائقین ِ ادب کے نام۔۔۔۔۔ ؟
جواب : بس یہ ہے کہ ادب کا دامن نہ چھوڑیں ۔کتاب اور قلم سے اپنا رشتہ مضبوط کریں۔شعر کہنے کے لیے وسیع مطالعہ بہت ضروری ہے۔ادب بہت کچھ دیتا ہے

مقبول


 زیب النسا زیبی صاحبہ سے گفتگو

مقبول ذکی مقبول

بھکر،پنجاب،پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

نشاستے کا حلوہ اور کھیڑی مورت کی چیڑ

جمعرات اکتوبر 13 , 2022
ہمارے گاؤں میں چیبڑ کی کمیابی کی وجہ سے اس کا رواج نہیں تھا ۔پتہ چلا کہ یہ سوغات لاری اڈا فتح جنگ سے ملتی ہے۔
نشاستے کا حلوہ اور کھیڑی مورت کی چیڑ