ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم سے گفتگو

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، سرگودھا
ڈاکٹر ہارون الرشید تبسّم صاحب
انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول، بھکر
12 /دسمبر 2021ء
سوال1 : آپ کا مختصر تعارف؟
ج: 2/اکتوبر1955ء کو ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی ۔ میرے والد مرزا محمد ایوب واجبی تعلیم کے حامل تھے۔ 1969ء میں چھوٹی جماعتوں کو ٹیوشن پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا ۔ اُس وقت مَیں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ خود پڑھتا رہا اور بچوں کو پڑھاتا رہا۔ زمانۂ طالب علمی میں تحریر و تقریر کا سلسلہ شروع کیا اور انعامات سمیٹے۔ گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۱ سرگودھا اور گورنمنٹ کالج سرگودھا میں قیام کے دوران نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ بفضلِ تعالیٰ چار مضامین میں ایم اے اور اقبالیات میں ایم فل کرنے کے بعد اُردو میں پی ایچ ڈی کی۔ 16مارچ 1981ء سے کالج میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا ۔ یکم اکتوبر 2015ء کو بیسویں گریڈ میں ریٹائر ہوا۔ دورانِ تدریس بچوں میں کتاب بینی کا شوق اُجاگر کیا۔ بچوں کے انعامات میں کتابیں دینے کا رواج پیدا کیا۔
سوال 2: اعلیٰ تعلیم کہاں کہاں سے حاصل کی؟
ج: ایم فل اقبالیات بعنوان ’’ اقبال بحیثیت ادبی نقاد‘‘ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی سے مکمل کیا۔ پنجاب یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی ’’ ابراہیم جلیس شخصیت و ادبی خدمات‘‘ کی ڈگری حاصل کی۔
سوال 3: آپ اَدبی میدان میں کس طرح وارد ہوئے؟
ج: زمانۂ طالب علمی سے ہی بچوں کے اخبارات میں لکھنے کا شوق تھا ۔ یہ شوق قومی اخبارات تک پہنچ گیا۔ الحمد للہ ! اب تمام جرائد و رسائل میں رشحاتِ تبسم کی رسائی ہے ۔
سوال :4 آپ کی شعری خدمات کیا ہیں؟
ج: 1971ء سے طبع آزمائی کا سلسلہ شروع ہوا چار شعری مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ اب تو ’’ویران آنکھوں کے خواب‘‘ غزلوں کا مجموعہ جب کہ’’ ارمغانِ وطن ‘‘نظموں کا مجموعہ منصہ شہود پر ہے ۔
سوال 5: آپ کی نثری خدمات کیا ہیں؟
ج: اخبارات میں کالم نویسی کے علاوہ سو(۱۰۰)کتب نثری صورت میں سامنے ہیں۔ اقبالیات ، پاکستانیات ، تنقید، تحقیق، سوانح عمری اور ادبی تاریخ کے حوالے سے موجود ہیں۔
سوال 6: حضرت علامہ محمد اقبالؒ پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں ہیں۔آپ کچھ کہنا پسند کریں گے؟
ج: علامہ محمد اقبالؒ پر 37کتابیں اقبالیاتی ادب میں بہار دکھا رہی ہیں۔
(1)۔اقبال جو اقبال ہے۔(2)۔حیاتِ اقبال کا سفر:(3)۔بیت بازی اقبالیات: ۔(4)۔علامہ اقبال بحیثیت اَدبی نقاد:(5)۔خزینہ ٔ اقبال: ۔ (6)۔اقبال کے گوہر شہوار : (7)۔ اقبال اور سرگودھا :(8)۔ قندیل اقبال : (9)۔ ڈاکٹر وزیر آغا بطور اقبال شناس :(10)۔خورشید اقبال:۔11)۔ ڈاکٹر ایوب صابر بطور اقبال شناس :(12)۔ تقاریر اقبال: (13)۔ڈاکٹر زاہد منیر عامر…مفکر و اقبال شناس:(14)۔ذخیرۂ اقبالؒ:(15)۔کائنات اقبالؒ : (16)۔بیت بازی کلام اقبالؒ : (17)۔موضوعاتی کلام اقبالؒ :(18)۔ بہارِ اقبالؒ :(19)۔ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی بحیثیت اقبال شناس : (20) ۔نویرۂ اقبال:(21)۔ڈاکٹر سلیم اختر بحیثیت اقبال شناس:(22)۔چند ہم عصر اقبال شناس:(23)۔فکرِ اقبالؒ میں انسانی مسائل کا حل : (24) ۔عہدِ رفتہ کے ممتاز اقبال شناس:(25)۔اقبالیات بچوں کے لیے :(26)۔فلسفۂ اقبال اور نیا پاکستان:(27)۔کلامِ اقبال میں ممتاز شخصیات : (28) ۔ شانِ اقبال :(29) ۔تحریم ِ اقبال : (30) ۔معراجِ اقبال : (31) ۔اقبال شناس خواتین:(32) ۔محافظِ اقبال : (33)۔ کلامِ اقبال میں مقامات : (34)۔حکمتِ بالغہ میں اقبال شناسی: (35)۔شوکتِ اقبال :(36)۔بالا ں لئی اقبال : (37)۔اقبالیاتی کتب مینار :
سوال 7: اصنافِ اُردو پر آپ نے کتاب لکھی ہے۔ یہ خیال کیسے پیدا ہوا ؟
ج: مجھے ایم اے اُردو کے طالب علموں کو پڑھنے کا اعزاز حاصل ہے ۔ میں نے محسوس کیا کہ ابتدائی رموز خصوصاً ادبی اصطلاحات اور اصنافِ اَدب کا پڑھانا طالب علموں کے لیے بہت ضروری ہے ۔ اس لیے اُن کی آسانی کے لیے دونوں کتابیں تحریر کردی ہیں۔
سوال 8: تبصرہ نگاری کے میدان میں آپ نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ آپ کتابوں کی ورق گردانی سے تھکتے نہیں ؟
ج: دوست احباب کی ارسال کردہ کتب کے فکری و فنی خوبیوں کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے تبصرہ نگاری کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ سلسلہ وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ اب ماشاء اللہ کتابوں کے تبصروں پر مشتمل کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ کتابوں کی ورق گردانی ایک اُستاد اور طالب علم کے لیے بہت ضروری ہے ۔ کتابیں انقلاب کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔ کتابوں سے عشق ادب سے وابستگی کا آئینہ دار ہے ۔ تھکتے تو وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی دی گئی صلاحیتوں سے فیض یاب نہیں ہوتے۔ الحمد للہ! مَیں نے تصنیف و تالیف کے لیے چھ گھنٹے وقف کررکھے ہیں۔
سوال 9: پاکستان میں نعت نگاری کے حوالے سے کچھ اظہارِ خیال فرمائیں گے۔ سرگودھا اس میدان میں کس مقام پر ہے ؟
ج: پاکستان پر سایۂ رحمن ہے ۔ یہ محبوب خدا ، مرکزِ انوارِ رحمانی ، نبی پاک ﷺ کے نام پر بنا ہے ۔ یہاں عاشقانِ رسول ﷺ کی پوری جماعت موجود ہے ۔ ہر پاکستانی عشقِ رسول ﷺ کی حرارت سے مزین ہے ۔ وہ ختمِ نبوت ﷺ پر ایمان رکھتا ہے ۔ اُن کے جذبۂ صداقت کی وجہ سے نعت گوئی کا سفر سبک رفتاری سے جاری و ساری ہے ۔
سوال10: رثائی اَدب کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
ج:
سوال 11: آپ کی کتب 150سے زائد ہیں۔ کیا اپنے اس ادبی کام پر مطمئن ہیں؟
ج: اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میری 130ادبی اور 27نصابی نوعیت کی کتب منظرعام پر آچکی ہیں۔ ایک تخلیق کار کے لیے اُس کی کتب اُس کے لیے بچوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مجھے اپنے کام پر اطمینان ہے اور یہ بھی اُمید ہے کہ اس انٹرویو کی اشاعت تک چھ ادبی کتب ان شاء اللہ منظر عام پر ہوں گی۔

dr.-haroon

میری 130کتب کی فہرست کچھ یوں ہے ۔
1۔ گہرے سمندر: 2۔دسمبر 1984ء صفحات 168 قیمت 35روپے، پبلیشرز۔ رشید بک ڈپو اردو بازار سرگودھا
2۔ جہاں نما : 1988ء صفحات 208‘ قیمت 21روپے،از :مختار برادرز ‘ اردو بازار لاہور
3۔ قرار داد پاکستان کوئز: فروری 1990ء صفحات 240‘ قیمت 35روپے،از:دیدہ ور اکادمی کوٹ فرید سرگودھا
4۔ نذرِ پاکستان: 10فروری 1990ء ‘ صفحات 136‘ قیمت 45روپے، از۔ دیدہ ور اکادمی کوٹ فرید سرگودھا
5۔ قرار داد پاکستان سے قیام پاکستان تک: 15فروری 1990ء‘ صفحات 304‘ قیمت 45روپے، از۔ دیدہ ور اکادمی کوٹ فرید سرگودھا
6۔ کرچیاں (شعری مجموعہ): 20فروری 1990ء صفحات 144‘ قیمت 50روپے، از۔ دیدہ ور اکادمی کوٹ فرید سرگودھا
7۔ لالۂ اردو: 1991ء ‘ صفحات 96 قیمت 30روپے، از۔ دیدہ ور اکادمی کوٹ فرید سرگودھا
اشاعت دوم : 15 مئی 2016 ء مولانا اخگر سرحدی کی برسی کے موقع منصہ شہود پر آیا ۔
8۔ اے وطن کے سجیلے جوانو: 7/ اپریل 1991ء صفحات 120 ‘ قیمت 50روپے، از: دیدہ ور اکادمی سرگودھا،
9۔ چھ ستمبر قوت ایمانی کا آئینہ دار: 12/ اپریل 1991ء ‘ صفحات 112‘ قیمت 50روپے، از۔ دیدہ ور اکادمی سرگودھا
10۔ پرکھ: مئی 1991ء ‘ صفحات 176 ‘ قیمت 51روپے، القمر انٹرپرائزز اردو بازار لاہور
11۔ اقبال جو اقبال ہے: 1992ء صفحات 128‘ قیمت 100روپے، مکتبۂ تعمیر انسانیت اردو بازار لاہور
12۔ حیاتِ اقبال کا سفر: 1992ء صفحات 208 ‘ قیمت 60روپے، مکتبۂ تعمیر انسانیت اردو بازار لاہور
13۔ فقیرِسرگودھا: 6مئی 1993ء صفحات 264 قیمت 200روپے، انصار آرٹ پریس سرگودھا
14۔ بیت بازی اقبالیات: جنوری 1994ء صفحات 232قیمت 60روپے، القمر انٹرپرائزاردو بازار لاہور
15۔ نصف صدی کے خواب اُدھورے: یکم اگست 1997‘ صفحات 152قیمت 125روپے، بزم علم و فن انٹرنیشنل سرگودھا
16۔ پاکستان گولڈن کوئز: یکم اگست 1997ء صفحات 280 قیمت 90روپے، مکتبہ تعمیر انسانیت اردو بازار لاہور
17۔ کرچیاں(دوسرا ایڈیشن): 15نومبر 1997ء صفحات 152 قیمت143روپے، بزم علم و فن سرگودھا
18۔ علامہ اقبال بحیثیت اَدبی نقاد: 10۔ جنوری 1998ء صفحات 224قیمت 180روپے، بزم عمل و فن اسلام آباد
19۔ پتھروں کے پیرہن (شاعری): جنوری 1998ء صفحات 126‘ قیمت 160روپے، عکس پبلی کیشنز سرگودھا
20۔ تصویر پاکستان: 4۔فروری 1998ء صفحات 192 ‘ قیمت 150روپے، بزم علم و فن سرگودھا
21۔ نوائے انور: 11ستمبر 1999‘ صفحات 192‘ قیمت 100روپے، بزم علم و فن سرگودھا
22۔ آنکھوں کے اُس پار(شاعری): اکتوبر1999ء صفحات 152‘ قیمت 125، زاہد بشیر پرنٹرز لاہور
23۔ اُجالوں کا سفیر: جنوری 2001ء صفحات 192‘ قیمت 150روپے، القمر انٹرپرائزر لاہور
24۔ جمال گلِ حرا (نعتیہ شاعری): اپریل 2003ء صفحات 152قیمت 150روپے، مکتبہ تعمیر انسانیت اردو بازار لاہور
25۔ جنھیں ہم بھول بیٹھے ہیں: اپریل 2003ء صفحات 320قیمت 250روپے، بزم علم و فن کوٹ فرید سرگودھا
26۔ اب اُنھیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر: 9جولائی 2003 صفحات 240قیمت 250روپے، بزم علم و فن کوٹ فرید سرگودھا
27۔ نوائے شوق: یکم جنوری 2004ء قیمت 150، صفحات 176، شوق پبلی کیشنز ، راولپنڈی
28۔ شمع آگہی: یکم جنوری 2004ء، صفحات :192،قیمت : 150 روپے، پبلیشر: بزم علم و فن سرگودھا
29۔ میر ے عہد کے عہد ساز: 7مارچ 2004ء،قیمت 250 روپے، صفحات :304 ۔ القمر انٹر پر ائز یز ، لاہور
30۔ گل دیدہ ور: 6ستمبر2005ء ، صفحات : 272 قیمت 250روپے،بزم علم و فن کوٹ فرید سرگودہا
31۔ روشنی زندہ ہے: 25ستمبر2008ء صفحات 256 ۔ نقش گر پبلی کیشنز راولپنڈی /سرگودہا
32۔ منور چہرے : 14/ اگست 2011ء صفحات224 ۔قیمت 300روپے، مکتبہ ٔ القمر انٹر پرائزرز، لاہور
33۔ آفتاب ادب … ڈاکٹر وزیر آغا : 14ستمبر2011ء صفحات 288 ۔قیمت 400روپے، نقش گر پبلی کیشنز راولپنڈی
34۔ خزینہ ٔ اقبال: یکم جنوری 2013ء ، صفحات 288 ،قیمت 400 روپے ، مکتبہ تعمیر انسانیت ، لاہور
35۔ طفیل پاکستان : 22مارچ 2013ء صفحات 288، قیمت 490روپے ، جمہوری پبلی کیشنز لاہور
36۔ اقبال کے گوہر شہوار : 23مارچ 2013ء ، صفحات 448 ، قیمت 600 روپے ، مکتبہ تعمیر انسانیت ، لاہور
37۔ ابراھیم جلیس ایک مطالعہ : 2014ء، صفحات 510، قیمت 1300روپے ، جمہوری پبلی کیشنز لاہور
38۔ اقبال اور سرگودھا : 21/اپریل 2014ء صفحات 496، قیمت 1000روپے ، پبلشر: رانا پرنٹنگ پریس لاہور
39۔ قندیل اقبال : 21/اپریل 2014ء ، صفحات 480 ،قیمت 700روپے ، مکتبہ تعمیر انسانیت ، لاہور
40۔ پاکستان سب کے لیے : 14 اگست 2014ء صفحات :288 ،قیمت ۔480،ناشر : بک کارنر شوروم ، جہلم
41۔ ڈاکٹر وزیر آغا بطور اقبال شناس : 7 ستمبر 2014ء صفحات :285،قیمت ۔480، ناشر :بک کارنر شوروم جہلم
42۔ خورشید اقبال: 25 ستمبر 2014، صفحات: 1152، قیمت: 2400روپے پبلیشر: بک کارنر شوروم جہلم
43۔ سرگودھا میں وزیر آغا شناسی : 2/اکتوبر 2014ء، صفحات: 450، قیمت: 500روپے پبلیشر: بک کارنر شوروم جہلم
44۔ ڈاکٹر ایوب صابر بطور اقبال شناس : 23 مارچ 2015ء ، صفحات: 496،قیمت: 900روپے ،پبلیشر: بک کارنر شوروم جہلم
45۔ گل ہائے سلام: 23مئی2015ء،صفحات240،قیمت500روپے ، پبلیشر: بک کارنر شوروم جہلم
46۔ جہان نثر: 26جون 2015ء، صفحات:272،قیمت: 500روپے ، پبلیشر: بک کارنر شوروم جہلم
47۔ متاعِ شاعری: جولائی2015ء،صفحات:464،قیمت :1000روپے ، پبلیشر: بک کارنر شوروم جہلم
48۔ مادر خوشاب: 14/ اگست 2015ء ، صفحات: 208، قیمت: 450 روپے، پبلیشر: ظہور فائن آرٹ سرگودھا
49۔ تقاریر اقبال: 6ستمبر2015ء، صفحات:256، قیمت : 480روپے پبلیشر: بک کارنر شوروم جہلم
50۔ سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی میں دفاعِ پاکستان: 24دسمبر2015ء ،صفحات:872،قیمت : 2500روپے ، پبلیشر: بک کارنر شوروم جہلم
51۔ ڈاکٹر انور سدید کی وزیر آغا شناسی : 10جنوری2016ء ، صفحات:320 قیمت: 800روپے ، پبلیشر: ظہور فائن آرٹس ، سرگودھا
52۔ علامہ رشک ترابی شخصیت و فن: 17جنوری2016ء، صفحات:352 ،قیمت: 1000روپے ، پبلیشر: نقش گر راولپنڈی
53۔ گُل دستۂ تقاریر: 2فروری 2016ء ،صفحات:400،قیمت: 600روپے ، پبلیشر:مکتبہ تعمیر انسانیت ، لاہور
54۔ ویران آنکھوں کے خواب: 5فروری 2016ء ، صفحات:288،قیمت: 600روپے ، پبلیشر: بک کارنر شوروم جہلم
55۔ ارمغان وطن:(نظمیں) 5فروری 2016ء ،صفحات:128، قیمت: 380روپے ، پبلیشر: بک کارنر شوروم جہلم
56۔ کردار سازی تقریریں: 15فروری 2016ء صفحات:288، قیمت: 500روپے ، پبلیشر: مقبول اکیڈی، لاہور
57۔ خوشی محمد ناظر فن اور شخصیت: 10/اگست2016ء ، صفحات: 288،قیمت : 600روپے ، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ، لاہور
58۔ آئو بچو! سیر کریں ہم اپنے پاکستان کی : 14/ اگست2016ء ، صفحات:384 ، قیمت : 800روپے ، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ، لاہور
(58-B)سیرِ پاکستان 2016ء ، صفحات :384،قیمت :4500روپے ، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ، لاہور
59۔ ہمارے ایدھی صاحب: 14 /اگست2016ء ،صفحات 466 رنگین ص: 16 ، : 600 روپے ، پبلیشر: بک کارنر شوروم جہلم
60۔ انوارادب۔ بیادِ ڈاکٹر انور سدید: 26/اگست2016ء ، صفحات: 512، قیمت : 1200روپے ، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ،لاہور
61۔ ۱۰۰ عظیم شاعر اور نثر نگار: 2016ء ،صفحات : 501 ، قیمت : 2500روپے ، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ، لاہور
62۔ دانش صدرنگ: 6 ستمبر 2016ء ، صفحات: 588 ، قیمت : 3500روپے ، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ، لاہور
63۔ تصانیف ابراہیم جلیس کا جائزہ : 25 ستمبر 2016ء ، صفحات : 240، قیمت : 600روپے ، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ، لاہور
64۔ ڈاکٹر زاہد منیر عامر…مفکر و اقبال شناس: 2/اکتوبر 2016ء ، صفحات : 800،قیمت :4500روپے ، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ، لاہور
65۔ 125اہل قلم: یکم جنوری 2017ء ، صفحات : 672، قیمت :1000روپے ، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ،لاہور
66۔ کندن چہرے: 10 جنوری2017 ء ، صفحات: 320، قیمت :1250روپے ، پبلیشر: مقبول اکیڈمی،لاہور
67۔ ذخیرۂ اقبالؒ: 23مارچ2017ء، صفحات :375 ، قیمت :800روپے، پبلیشر: بک کارنر شوروم جہلم
68۔ کائنات اقبالؒ : 23 مارچ 2017ء، صفحات:240 ، قیمت :480روپے ، پبلیشر: بک کارنر شوروم جہلم
69۔ بیت بازی کلام اقبالؒ : 23 مارچ2017ء، صفحات : 232، قیمت :380روپے ، پبلیشر: بک کارنرشو روم جہلم
70۔ موضوعاتی کلام اقبالؒ : 23 مارچ2017ء، صفحات: 416، قیمت :600روپے ، پبلیشر: بک کارنرشو روم جہلم
71۔ دُرِ عقیدت: 23 مارچ2017ء، صفحات: 168، ہدیہ :500روپے ، پبلیشر: نظریۂ پاکستان اکادمی سرگودھا
72۔ ہلالِ استقلال : 8مئی 2017ء، صفحات :224، قیمت :700روپے ، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ، لاہور
73۔ بہارِ اقبالؒ : 26جون2017ء، صفحات:336،قیمت :1000روپے ، پبلیشرز:بک کارنر جہلم
74۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی بحیثیت اقبال شناس : 26 جون 2017ء، صفحات :248،قیمت :1000روپے ، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ، لاہور
75۔ نویرۂ اقبال: 10/ اگست 2017ء، صفحات : 400 ، قیمت :1000روپے ، پبلیشرز:بک کارنر جہلم
76۔ مضامین ِ تبسم: 10/ اگست2017ء، صفحات:544،قیمت1200 روپے، پبلیشر: مقبول اکیڈمی، لاہور
77۔ زاہد ِ پاکستان : 13/ اگست2017ء، صفحات416:،قیمت1500 روپے، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ، لاہور
78۔ جاوداں چہرے: 14/ اگست2017ء، صفحات:380، قیمت:1200 روپے، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ، لاہور
79۔ اسلام اور پاکستان: 14/ اگست2017ء،صفحات:272،قیمت :1200 روپے، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ، لاہور
80۔ نوائے اُردو: 25 ستمبر 2017ء، صفحات:336، قیمت: 1050 روپے، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ، لاہور
81۔ انوارِ پاکستان: نومبر 2017ء، صفحات:208 ، قیمت:170روپے، پبلیشراین بی ایف ، اسلام آباد
82۔ ڈاکٹر سلیم اختر بحیثیت اقبال شناس: 15 فروری 2018ء،صفحات:208 ،قیمت :900 روپے، پبلیشر: مقبول اکیڈمی ، لاہور
83۔ اصناف اُردو : 23 مارچ2018ء، صفحات:200 ،قیمت :380 روپے، پبلیشر: بک کارنرشور روم، جہلم
84۔ ادبی اصطلاحات: 23 مارچ 2018ء،صفحات:160 ،قیمت:300 روپے، پبلیشر: بک کارنرشور روم، جہلم
85۔ ردائے اُردو: 23 مارچ 2018ء، صفحات:256 ،قیمت :480 روپے، پبلیشر: بک کارنرشور روم، جہلم
86۔ تفاخر پاکستان: 23 مارچ 2018ء، صفحات:288 ،قیمت :600 روپے، پبلیشر: نظریہ پاکستان اکادمی سرگودھا
87۔ چند ہم عصر اقبال شناس: 14/ اپریل2018ء،صفحات:984 ،قیمت: 1500 روپے، پبلیشر: بک کارنرشور روم، جہلم
88۔ فکرِ اقبالؒ میں انسانی مسائل کا حل: 26 جون2018ء،صفحات:240، قیمت :600 روپے، پبلیشر: بک کارنرشور روم، جہلم
89۔ ملّی و اخلاقی مضامین: جولائی2018ء، صفحات:216، قیمت :190روپے، نیشنل بُک فائونڈیشن ، اسلام آباد
90۔ عہدِ رفتہ کے ممتاز اقبال شناس: 10/اگست2018ء، صفحات: 336، قیمت :1000روپے،مثال پبلشرز، فیصل آباد
91۔ گولڈ میڈلسٹ کارکنانِ تحریک پاکستان (سرگودھا) : 14/اگست2018ء، صفحات: 160، قیمت :300روپے،ملک مقبول احمد اکیڈمی ،
92۔ اقبالیات بچوں کے لیے : 24/اگست2018ء، صفحات: 208، قیمت :400 روپے،مثال پبلشرز، فیصل آباد
93۔ مدبرِ پاکستان محمد علی جناح : 11/ستمبر2018ء، صفحات:200، قیمت :400 روپے،مثال پبلشرز، فیصل آباد
94۔ تفاخرِ ادب(تفاخر محمود گوندل ): 2/اکتوبر2018ء، صفحات:460، قیمت :800 روپے،ماورا پبلشرز، لاہور
95۔ فلسفۂ اقبال اور نیا پاکستان: 18/اکتوبر2018ء، صفحات:276، قیمت :700 روپے،مثال پبلشرز، فیصل آباد
96۔ فکرِ عمیق : 3نومبر2018ء، صفحات: 288، قیمت: 6000روپے ،مقبول اکیڈمی لاہور
97۔ کمالِ انسانیت ، محمد مصطفی ﷺ : 21نومبر2018ء، صفحات: 256، قیمت: 700روپے ، مثال پبلی کیشنز ، فیصل آباد
98۔ سلیم ِ ادب: (ڈاکٹر سلیم آغا قزلباش): 22نومبر2018ء، صفحات: 240، قیمت: 700روپے، مثال پبلی کیشنز ، فیصل آباد
99۔ کلامِ اقبال میں ممتاز شخصیات : 25دسمبر2018ء، صفحات: 544، قیمت: 1500روپے ،ناشر: مثال پبلی کیشنز ، فیصل آباد
100۔ شانِ اقبال : 16دسمبر2018ء، صفحات: 208، قیمت: 500روپے ،ناشر: مثال پبلی کیشنز ، فیصل آباد
101۔ رائو عبدالمنان ایک تحریک ،شخصیت و خدمات : 2جون 2005ء، صفحات: 204، قیمت: 150روپے ،ناشر: بزم علم و فن، اسلام آباد
102۔ قطب مینار سے مینارِ پاکستان تک : 23مارچ2019ء، صفحات: 160، قیمت: 500روپے ،ناشر: مثال پبلی کیشنز ، فیصل آباد
103۔ بجھی آنکھوں کا چراغ : 23مارچ2019ء، صفحات:224، قیمت: 700روپے ،ناشر: مقبول اکیڈمی ،لاہور
104۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید(انٹرویوز کے آئینے میں) : 23مارچ 2019ء ، صفحات: 272،قیمت: 600روپے ،پبلشرز: الفیصل لاہور
105 ۔ گل ہائے شرر: 15/اپریل2019ء، صفحات: 256، قیمت: 1000روپے ،ناشر مکتبۂ اسالیب، لاہور
106 ۔ ریاستِ مدینہ اور پاکستان : 7مئی 2019ء، صفحات: 296، قیمت: 600روپے ،ناشر: مثال پبلی کیشنز ، فیصل آباد
107 ۔ تحریم ِ اقبال : ۱۰ /اگست۲۰۱۹ء ، صفحات :۲۶۴، قیمت: ۷۰۰روپے، ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد
108 ۔ معراجِ اقبال : ۱۴/اگست۲۰۱۹ء ، صفحات :۱۹۲، قیمت: ۶۰۰روپے ، ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد
109 ۔ اقبال شناس خواتین: ۲۵ستمبر۲۰۱۹ء ، صفحات : ۳۵۲، قیمت: ۱۰۰۰روپے ، ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد
110 ۔ محافظِ اقبال : ۲/اکتوبر ۲۰۱۹ء ، صفحات: ۲۲۴، قیمت: ۷۰۰ روپے ، ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد
111۔ مشعلِ محبت۔ آبروئے خوشاب: ۱۶ فروری ۲۰۱۹ء ، صفحات :۱۴۴، قیمت: ۵۰۰روپے ،ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد
112۔ پروفیسر آزاد بن حیدر(ایڈووکیٹ)شخصیت و خدمات :۲۵ دسمبر ۲۰۱۹ء ، صفحات :۲۰۰، قیمت: ۵۰۰روپے ۔ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد
113۔ کلامِ اقبال میں مقامات : ۱۰ جنوری ۲۰۲۰ء ، صفحات : ۳۵۲، قیمت: ۲۵۰۰روپے ،ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد
114۔ انمول ہستیاں : ۱۷جنوری ۲۰۲۰ء ، صفحات : ۲۰۰، قیمت: ۶۰۰روپے ،ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد
115۔ ادبی ستارے : ۲۲/اپریل ۲۰۲۰ء ، صفحات :۴۰ ۲، قیمت: ۶۰۰روپے ،ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد
116۔ حکمتِ بالغہ میں اقبال شناسی: ۲۱/اپریل ۲۰۲۰ء ، صفحات :۳۰۴، قیمت: ۱۰۰۰روپے ،ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد
117۔ دُرِ نایاب : یکم مئی ۲۰۲۰ء ، صفحات :۸۸ ۲، قیمت: ۱۰۰۰روپے ،ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد
118۔ عزیزِ پاکستان، طارق عزیز : ۱۵جولائی ۲۰۲۰ء ، صفحات : ۴۰۰، قیمت: ۱۰۰۰روپے ،ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد
119۔ صبحِ دوام ، صاحبزادہ عبدالرسول: ۲۹جولائی ۲۰۲۰ء ، صفحات : ۲۸۸، قیمت: ۱۰۰۰روپے ،ناشر: مثال پبلشرز، فیصل آباد
120۔ آہنگِ کتب(2000ء سے2009ء تک موصولہ کتب): ۱۱ ستمبر ۲۰۲۰ء ، صفحات:۱۸۲ ، قیمت: ۵۰۰روپے ، ناشر مثال پبلشرز، فیصل آباد
121۔ تحفۂ قرطاس وقلم : (2010ء سے2015ء تک موصولہ کتب) ۲۵ستمبر ۲۰۲۰ء ، صفحات:۲۱۶ ، قیمت: ۸۰۰روپے ، ناشر مثال پبلشرز، فیصل آباد
122۔ مخزنِ کتب: (2016ء سے2017ء تک موصولہ کتب)۲/اکتوبر ۲۰۲۰ء ، صفحات:۲۷۲، قیمت: ۱۰۰۰روپے ، ناشر مثال پبلشرز، فیصل آباد
123۔ عرفانِ کتب:(2018ء میں موصولہ کتب): ۹نومبر ۲۰۲۰ء ، صفحات:۲۴۸، قیمت: ۶۰۰روپے ، ناشر مثال پبلشرز، فیصل آباد
124۔ طائرِ افکار : (2019ء میں موصولہ کتب): ۲۵نومبر ۲۰۲۰ء ، صفحات:۳۶۰ ، قیمت: ۱۰۰۰روپے ، ناشر مثال پبلشرز، فیصل آباد
125۔ لیاقتِ کتب: (2020ء میں موصولہ کتب): ۲۵دسمبر ۲۰۲۰ء ، صفحات:۲۳۲، قیمت: ۱۰۰۰روپے ، ناشر مثال پبلشرز، فیصل آباد
126۔ شوکتِ اقبال : ۲۱ /اپریل ۲۰۲۱ء ، صفحات:۳۶۸، قیمت: ۱۰۰۰روپے ، ناشر مثال پبلشرز، فیصل آباد
127۔ بالا ں لئی اقبال : ۲۶ /جون ۲۰۲۱ء ، صفحات:۲۰۰، قیمت: ۶۰۰روپے ، ناشر مثال پبلشرز، فیصل آباد
128۔ اقبالیاتی کتب مینار : ۱۵ /جولائی ۲۰۲۱ء ، صفحات:۲۴۰، قیمت: ۸۰۰روپے ، ناشر مثال پبلشرز، فیصل آباد
129۔ قائداعظم شناسی : ۱۴ /اگست ۲۰۲۱ء ، صفحات:۴۰۰، قیمت: ۱۰۰۰روپے ، ناشر مثال پبلشرز، فیصل آباد
130۔ وقارِ پاکستان: ۱۴ /اگست ۲۰۲۱ء ، صفحات:۲۴۰، قیمت: ۱۰۰۰روپے ، ناشر مثال پبلشرز، فیصل آباد(پاکستان کی ۷۵ واں یوم آزادی )
نوٹ: علاوہ ازیں 27کتب نصابی حوالہ سے منظر عام پر آئیں۔
سوال 12: باقی ملکوں کی نسبت ہمارے ملک میں کتابیں کم شائع ہوتی ہیں اور سیل و مطالعہ بھی کم ہوتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
ج: یہ ایک مفروضہ ہے ۔ ہمیں اپنے ملک پر فخر کرنا چاہیے کہ یہاں کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے ۔ نیشنل بُک فائونڈیشن کے اعداد و شمار اور آمدنی سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ کتابوں کی نوعیت بھی اثر انداز ہوتی ہے ۔ حکومت کو مضافاتی علاقہ کے تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ مجموعی طور پر مرکزی شہروں میں تخلیق کار میڈیا کے ذریعے شہرت پا رہے ہیں۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارتی ادیب حکومت کے تعاون سے آگے بڑھتے جارہے ہیں۔
سوال 13: اَدب میں گروہ بندی کے جراثیم کیسے ہوتے ہیں۔ اس المیہ کا سدّباب کیسے ممکن ہو سکتا ہے ؟
ج: گروہ بندیاں تو انسان کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہیں۔ کچھ گروہ بندیاں تعصب کی وجہ سے منظر عام پر آتی ہیں۔ کچھ مفادات کے بل بوتے پر سر اُٹھاتی ہیں۔ کچھ کا تعلق نظریات سے ہے اور کچھ گروہ لسانیات کے لبادہ میں ہیں۔
سوال 14: آپ کو کون کون سے اعزازات سے نوازا گیا ہے….؟
٭ 1969ء میں گورنر پنجاب جنرل عتیق الرحمن سے ڈاک کے ٹکٹوں او رسکوں کی نمائش میں اول انعام حاصل کیا ۔
٭ 1969ء میں ہی گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۱ سرگودھا کے سالانہ جلسہء تقسیم انعامات میں نو انعامات حاصل کیے ۔
٭ گورنمنٹ کالج سرگودھا میں سیکرٹری و صدر ینگ سپیکر ز یونین ‘ نائب صدر بزم ادب ‘ ناظم اطلاعات پنجابی ادبی سنگت ڈپٹی سیکرٹری سٹوڈنٹس یونین 1972کی حیثیت سے تقریروں کے کل پاکستان بین الکلیاتی مقابلہ جات میں سلور ‘ گولڈ میڈل ‘ ٹرافیوں کے علاوہ انفرادی انعامات حاصل کیے ۔
٭ قومی زبان کی خدمت کے اعتراف میں قائد اردو ڈاکٹر سید عبداللہ نے نشان سپاس عطا کیا ۔
٭ بزم علم وفن انٹر نیشنل نے کتاب ’’ اقبال جو اقبال ہے ‘‘ پر خصو صی ایوارڈ دیا قائم مقام صدر وسیم سجاد نے ایوارڈ دیا ۔
٭ جانباز فورس کی پاسنگ آؤٹ پر یڈوں میں کم از کم 100ٹرافیاں حاصل کیں ۔
٭ ضلع کونسل او رمیونسپل کارپو ریشن کی تقریبات میں بطور کمپیئر اعزازات حاصل کیے ۔
٭ ٹیلی ویژن کے پر وگرام ’’ جہاں نما ‘ ‘میں 5مرتبہ مسلسل اول پو زیشن حاصل کر کے ریکارڈ قائم کیا ۔
٭ گولڈ میڈل معہ 5000 کیش ایوارڈ ، ندیم اکادمی برموقع یوم شہداء کارگل 15 مئی 2001ء ندیم اکادمی سرگودھا
٭ صدارتی گولڈ میڈل2001ء ،بسلسلہ اسکاوٹنگ ، آل پاکستان اسکاؤنٹنگ ایسو سی ایشن
٭ حکومت پنجاب نے پنجاب ٹیچر ز فاؤنڈیشن کی طرف سے 17جون 2003ء کو ’’ بہتر ین استاد ‘‘ ایوارڈ کے لیے منتخب کر کے مبلغ 10000 ہزار روپے کیش انعام سے سرفراز کیا ۔
٭ مسلم گلوبل ریلف یو کے نے علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں 15اگست 2004ء کو ’’ بہترین شخصیت کا ایوارڈ ‘‘ نقد کیش مبلغ 10000روپے عطا کیے
٭ 29مئی 2007ء ریڈیو پاکستان سرگودہا نے بہترین میزبان پروگرام ’’دانش کدہ‘‘(کالج میگزین) کا ایوارڈ دیا۔
٭ تنظیم شہری دفاع فیصل آباد نے 3فروری 2009ء کو ایوارڈ سے سرفراز کیا۔
٭ انجم آرٹ سوسائٹی ، ترجمان آرٹ سوسائٹی ، آرٹ کونسل ، اتحاد آرٹ سوسائٹی کی طرف سے ادب ایوارڈ
٭ ضلع کونسل سرگودھا کی طرف سے جشن سرگودھا کی کمپیئرنگ اور ادبی خدمات پر ‘‘ لائف ا چیومنٹ ایورڈ دیا گیا ۔
٭ 2013ء میں علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی بیسٹ ٹیوٹر ایوارڈ سے نوازا ۔5000ہزار روپے کیش ایوارڈ بھی شامل تھا ۔
٭ گولڈ میڈل ، نظریہ پاکستان کونسل اسلام آباد 2014 ء بسلسلہ ’’ خورشید اقبال ‘‘ ( کتاب جس میں 365 اقبالیاتی کتب کا تجزیاتی مطالعہ کیا گیا )
٭ بہترین استاد ’’ جنگ ، جیو ٹی وی ‘‘ 5 اکتوبر 2015ء خصوصی اعزاز
٭ 28 اکتوبر 2016 ء بروز جمعتہ المبارک ’’ ہمارا شہر ‘‘ پر وگرام ’’ سچ ‘‘ ٹی وی میں بطور دانش و ر انٹرویو
٭ اقبال گولڈ میڈل 2017ء (نظریۂ پاکستان کونسل اسلام آباد )
٭ سرسید ایکسی لینس ایوارڈ 2021ء (حسن ابدال ) بدست سید احمد مسعود (سرسید احمد خان کے پوتے)
٭ اقبالیاتی کتاب ’’بالاں لئی اقبال‘‘ پر اوّل انعام میڈل اور تعریفی سرٹیفکیٹ 27نومبر 2021ء ، دبستانِ اقبال لاہور (اقبال سٹمپ سوسائٹی)
سوال 15: قدیم اور جدید اَدب کے بارے میں آپ کی رائے؟
ج: قدیم اَدب میں ٹھہرائو اور انسانی اقدار کا فروغ پایا جاتاہے جب کہ جدید ادب وقت کے ساتھ سبک رفتاری سے رواں دواں ہے۔
سوال 16: سرگودھا کی ادبی تاریخ پر تھوڑی سی روشنی ڈالیں؟
ج: سرگودھا ادبی اعتبار سے قیام پاکستان سے پہلے بھی اپنی اہمیت رکھتا تھا۔ 1940ء میں پہلا یومِ اقبال منایا گیا۔ متعدد شاعروں ، ادیبوں نے کتابیں شائع کر کے ملکی سطح پر شہرت حاصل کی۔ سرگودھا کے اَدبی افق سے تعلق رکھنے والی چند نامور شخصیات ایسی بھی ہیں جو ملک کے مختلف حصوں میں اپنی علمی و ادبی ضوفشانیوں سے لوگوں کے قلب و اذہان کو منور کئے ہوئے ہیں جن میں ڈاکٹر انور سدید(مرحوم) ، ڈاکٹر خورشید رضوی ، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ، ڈاکٹر زاہد منیر عامر ، ڈاکٹر معین نظامی ، بیدار سرمدی ، خالد اقبال یاسر ، سید وصی شاہ ، ڈاکٹر شعیب احمد ، ڈاکٹر جاوید انور ، اصغر علی کوثر وڑائچ ، راغب شکیب ، ڈاکٹر عابد سیال ، ذاکر حسین آرزو ، کامران رشید اور ممتاز بلوچ شامل ہیں ۔ ماضی کے مختلف ادوار میں جو نامور علمی و ادبی شخصیات ادب کے دامن کو مالا مال کر کے اس جہان فانی سے رخصت ہوئیں ان میں سید الطاف مشہدی ، شکیب جلالی ، شیخ محمد انور گوئندی ، سید تاجدار دہلوی ، میر عبدالرشید اشک ، سید وزیر حسین شیرازی ، سیف زبیری ، نصر ت چودھری ، پروفیسر سجاد نقوی ، پر وفیسر مظفر مرزا ، صفدر بخاری ، شیخ غلام حسین قیصر ، مولانا محمد حسین شوق ، جوہر نظامی ، مرزا مامول انور ، صوفی فقیر محمد ، حافظ یوسف آزاد ، شبلی پانی پتی ، مولانا اخگر سرحدی ، صادق ساہنی ، پروانہ شاہ پوری ، علامہ رشک ترابی ، ظہیر الدین ظہیر ، میاں کریم بخش مضطر دھریموی ، سلیم حسن مرزا ، میاں رب بخش کلیار، حکیم علی محمد ، مرزا ہاشم الدین ، آغا سید محمد ، خلیل چکوالی ، بشیر راجن ادیب ، کلیم انبالوی ، ناز گنگوہی ، مجید افضل پراچہ ، عصمت علیگ ، ایم ڈی شاد ایڈووکیٹ ، اقبال منظر ، میاں اکرم بھٹی ، الحاج محمد انور ، عزیز علوی ،مقصود راہی، انور حیدری، پروفیسر بنیاد حسین نقوی اور سید واحد حسین نشان قابلِ ذکر ہیں ۔ان شخصیات نے میدانِ ادب میں ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام دئیے جن کی گونج ہمیشہ سنائی دیتی رہے گی ۔ ماضی قریب اور حال میں خدمت انجام دینے والے شعراء ادباء کا تذکرہ بھی ضروری ہے ۔ پرویز بزمی(مرحوم) ، پر وفیسر شیخ محمد اقبال ، ڈاکٹر سلیم آغا قزلباش (مرحوم)، راقم الحروف(پر وفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم) ، شاکر نظامی(مرحوم) ، پر وفیسر ریاض احمد شاد(مرحوم) ، پروفیسر یوسف خالد ، ارشد ملک ، نسیم اقبال بھٹی(مرحوم)، آصف راز(مرحوم) ، اخلاق عاطف(مرحوم) ، محمود اسیر (مرحوم)، ذوالفقاراحسن ، ڈاکٹر مشرف حسین انجم، نعیم حسن مرزا ، صفدر خورشید (مرحوم)، ڈاکٹر عابد خورشید ، صفدر رضا صفی ، شاہد اسلام دانش ، عاشر وکیل راؤ ، انجم ترازی ، ارشد محمود ارشد ، شیراز کھچی، تفضیل شیرازی ،محمد عامر رانا ، فیصل سلہری ، سید مرتضیٰ حسن ، پروفیسر طارق حبیب ، اصغر شامی ، مولوی اسلم(مرحوم) ، قاسم شاہ ، شفیق آصف ، خالد یوسفی، منزہ شاہ ، نائیلہ رفیع ، نجمہ منصور ، منزہ انور گوئندی ، ثمینہ گل، طاہرہ رائے،سعدیہ ہما ایڈووکیٹ، سیدہ ہما شیرازی، صائمہ یاسمین مشرف اور خورشید شاہ پوری(مرحوم) آسمان ادب کے وہ چمکتے دمکتے ستارے ہیں جو اپنی لو سے دنیائے ادب میں روشنی بکھیر رہے ہیں یا بکھیرتے رہے۔
سوال17 : آپ کے خیال میں سوشل میڈیا کو فروغ ِ ادب کے حوالے سے کیسے موثر اور کار آمد بنایاجاسکتا ہے؟
ج: سوشل میڈیا پر مستند اَدب کم کم نظر آتا ہے ۔ خود ساختہ اشعار معروف شعراء کرام کے نام سے درج کیا جاتاہے۔ احمد فراز اور ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کو بہت سے اشعار میں اُلجھایا گیا ہے ۔
سوال 18: اَدب کے علاوہ عسکری میدان میں بھی آپ نے حصہ لیا ہے ؟
ج: وطن کا دفاع ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ اَدب تخلیق کرنے کے لیے ایک آزاد اور خود مختار ملک بہت ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے وطنِ عزیز کے دفاع میں حصہ لینے کا موقع دیا۔ نومبر 1970ء میں سول ڈیفنس کی ٹریننگ حاصل کر کے اس کا حصہ بنا۔ بعد ازاں 16مارچ 1974ء تا یکم اکتوبر2005ء تک جانباز فورس کی تمام جنگی سکیموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ دوسری دفاعی لائن میں بٹالین کمانڈر رہا بطور میجر جانباز عوام الناس میں جذبۂ حب الوطنی اُجاگر کرنے کا فریضہ انجام دیا۔ تمام نوجوانوں کو ان تنظیموں میں شامل ہونا چاہیے۔
سوال19: تقریبات کی کمپیئرنگ کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
ج: 1971ء سے تاحال میونسپل کارپوریشن/میٹروپولیٹن سرگودھا کے زیر اہتمام مرکزی جشن آزادی کی تقریبات اور ہلال استقلال لہرانے کی تمام تقریبات کی کمپیئرنگ کا اعزاز حاصل ہے۔ سرگودھا میں صدور‘ وزراء اعظم ‘ وزراء اعلیٰ اور کئی دیگر بڑی قومی تقریبات کی کمپیئرنگ کا اعزاز حاصل ہے۔ ’’جشن سرگودھا‘‘ کی کمپیئرنگ کرکے خصوصی ایوارڈز حاصل کیے۔ حبیب بینک کے کل پاکستان مقابلہ حمد و نعت کی تمام کمپیئرنگ کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ سرگودھا میں منعقدہ آل پاکستان مشاعروں کی نظامت کا بھی موقع ملا۔بیرون سرگودھا دیگر شہروں میں کمپیئرنگ کا فریضہ بھی انجام دیا ہے ۔
سوال 20: آپ نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
ج: اَدب زندگی سے کشید ہوتا ہے ۔ نئے لکھنے والوں کو حالات کے تناظر میں قلم اُٹھانا چاہیے۔ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہمیں ہمہ وقت اپنا فرض ادا کرتے رہنا چاہیے۔ عربی زبان میں اَد ب کا مطلب’’دسترخوان‘ ‘ ہے ۔ ہمیں دسترخوان کی طرح اَدب کا احترام کرنا چاہیے۔
-٭-

maqbool zaki

 مقبول ذکی مقبول

بھکر

مقبول ذکی مقبول

Next Post

روشنی ، علم اور آگہی کا سفر ...’’شعوروادراک‘‘

اتوار جنوری 16 , 2022
’’شعوروادراک‘‘یہ بھی تو نہیں کہ انسان چہار اَطراف بلکہ شش جہات کا گہرا مطالعہ ، مشاہدہ کر کے کچھ بہتر سے بہتر تلاش کرے
shaoor o idraak