سجاد ساجن انصاری سے بات چیت

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ، شیخوپورہ

سجاد ساجن انصاری

انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

سجاد ساجن انصاری کا خاندانی نام سجاد علی ہےاور ادبی نام ساجن انصاری ہے ۔ لیکن اپنے قلمی نام پر مطمئن نہیں ہوئے ۔ پھر انہوں نے نام تبدیل کیا ساجن جی انصاری اور پھر سجاد انصاری اس پر بھی مطمئن نہیں ہوئے آج کل ان کا نام سجاد ساجن انصاری ہے امید ہے کہ اب تبدیل نہیں کریں گے ۔ یہ مسئلہ صرف ان کے ساتھ پیش نہیں آیا بلکہ بہت سارے قلم کاروں کے ساتھ مسئلہ بنا رہا ہے ۔ ان کے والد کا نام محمد ادریس انصاری ہے ۔ ان کی پیدائش یکم جنوری 1988ء کو گاٶں فیروز وٹواں ضلع شیخو پورہ میں ہوئی ہے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے ہی گاؤں سے حاصل کی ۔ ان کی زندگی کا عشقِ مجازی سے عشق حقیقی تک کا سفر جاری و ساری ہے ۔ ان کے ٫٫ شعری مجموعہ آنسو ہم سفر میرے ،، بہت مقبولیت حاصل کر چکا ہے ۔ مارکیٹ میں اب بھی بڑی ڈیمانڈ ہے ۔ محنت اور لگن سے ادب کی خدمت کر رہا ہے ۔ تحریریں معیاری اور پختہ ہوتی ہیں ۔ مختلف اخبارات میں کالم لکھتے رہتے ہیں ۔ سجاد ساجن انصاری ایک باہمت اور باکردار انسان ہے ۔ ایسے لوگ بہت کم ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ جو اپنے لئے کم دوسروں کے لئے زیادہ جیتے ہیں ۔ ان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں ۔ ملنسار مہمان نواز اور سادگی تو ان کے اندر کمال کی پائی جاتی ہے ۔
ساندل بار پنجاب کے صوفی شاعر مولوی عبدالستار کے خاندان سے ہی ہیں ۔ بچپن میں مولا نا کا کلام اپنے بزرگوں سے سنا کرتا تھا مولانا عبدالستار کا کلام سن کر شاعری کا جنون پیدا ہوا اور اشعار کہنے شروع کر دیئے ۔ ایسے روحانی بزرگ کے کلام کا ان پر خاص اثر ہے ۔ چند روز قبل ان سے ملاقات ہوئی ہے ۔ جو گفتگو ہوئی ہے وہ نذر قارئین ہے۔

maqbool and sajid

سجاد ساجن انصاری سے بات چیت

سوال : آپ نے اشعار کہنے کا آغاز کب کیا ۔؟
جواب : جی میں نےپہلا شعر مظلوم کشمیری بھائیوں کی بے بسی پر کہا تھا ۔
سوال : آپ کی تخلیقات کے نام اور تاریخ ۔ ؟
جواب : میرا پہلا اردو شاعری مجموعہ” اے زندگی” 2010 میں شاٸع ہوا دوسرا اردو شاعری مجموع”ہ آنسو ہم سفر میرے” 2013 میں شاٸع ہوا تیسرا اردو شاعری مجموعہ” عشق ہمیں رسوا نہ کر ” 2015 میں شاٸع ہوا ہے ۔اس کے بعد ایک ناول “محب وطن “شاٸع ہوا ہے اور میری پانچویں کتاب “مولوی عبدالستار کی حالات زندگی “جو 2021 میں شاٸع ہوٸی ہے ۔
سوال : آپ اشعار سے نثر کی طرف کیسے راغب ہوئے ۔؟
جواب : وطن عزیز کے ماضی سےحال تک حالات وواقعات نسل نو تک پہنچانے کے لۓ جو سرگزشت کھل کرنثر میں بیان کی جا سکتی ہے وہ شاعری میں نہیں ہو سکتی
سوال : آپ ادبی تنظیموں سے منسلک ہیں ۔ ان کے نام اور منشہور کیا کیا ہیں ۔ ؟
جواب : جی میں دو تنظیموں سے منسلک ہوں جن کا میں بانی وسرپرست ہوں ایک پنجابی تنظیم دھرتی عبدالستار فیروز وٹواں ہے ۔ جس کا منشور “پنجابی صوفیوں کی زبان کو فروغ دینا” ہے ۔جس کے زیراہتمام ماہانہ محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ دوسری تنظیم کا نام
“عہدِ وطن پاکستان جس کے سائے میں ضرورت مند مریضوں کو بلڈ مہیا کیا جاتا ہے اور غریبوں میں فری راشن تقسیم کیا جاتا ہے ایک عرصہ سے فری میڈیکل کیمپ لگائے جارہے ہیں اور سالانہ اادبی ایوارڈ پروگرام کروائے جارہے ہیں ۔دونوں تنظیموں کے اغراض ومقاصد خدمت انسانیت اور ادب اور ادیب کو زندہ رکھنا

سوال : آپ پاکستان کی ادبی تنظیموں پر ایک کتاب لکھنا چاہتے تھے ۔ اس کا کیا بنا ۔ ؟
جواب : تیاری کے مرحلہ میں ہے بشرط زندگی 2023 میں شاٸع کرنے کا عزم رکھتا ہوں ۔
سوا ل : آپ کچھ عرصہ کے لئے ادب سے کنارہ کش ہو گئے تھے ۔ اس کی کیا وجہ تھی ۔؟
جواب : چند ادبی دوستوں کی بے رخی دیکھ کر اور اچھے لوگوں کا پیار محبت دیکھ کر واپس لوٹنا پڑا ۔
سوال : ادب کیا ہے ۔؟
جواب : دوسروں کی بھلائی کرنا مظلوموں کے کام آنا قلم کا جہاد کرنا معاشرے کی اساسی کرنا ۔
سوال : آپ کی ادبی تخلیقات کو کہاں تک پذیرائی ملی ۔ ؟
جواب : الحمد للہ
قدرت کے بے شمار انعام واکرام ہیں۔ادب میں یہ تو اسناد ایوارڈز اور اعزازی شیلڈز سے بھری میری الماری بتا سکتی ہے ۔
سوال : کیا آپ مقامی ادیبوں کے کام سے مطمئن ہیں ۔
جواب : مقبول صاحب !آپ نے یہ بہت تلخ سوال کر دیا فقط اتنا کہ سکتا ہوں کہ بس۔۔۔۔۔ مطمئن ہوں ۔
سوال : ساجن قارئین کو ایک غزل عنایت کریں ۔ ؟
جواب : جی ہاں!
غزل
وہ تیرا شوخ و چنچل مسکرانا یاد آتا ہے
محبت کا ہر اک لمحہ سہانا یاد آتا ہے

ہوا میں رقص کرتی وہ شانوں پہ لہراتی زلف
تیرا جا دو بھری آواز میں وہ گنگنانا یاد آتا ہے

کھڑے تھے روبرو میرے لئے آنکھوں میں تم برسات
شبِ فرقت میں تیرا آنسو بہانا یاد آتا ہے

بھگو لیتا ہوں اپنے ہاتھوں کو اپنے ہی خون سے میں
تیرا ہاتھوں میں جب مہندی لگانا یاد آتا ہے

تیرے گالو پہ منظر بے بسی کا وہ اداسی کا
تیرا دست دعا پل پل اٹھا یاد آتا ہے

بچھڑ کر اپنے ساجن سے جانے کہاں چھپا ہے تو
کہ تیرے ساتھ سانسوں کا بتانا یاد آتا ہے

سوال : آپ تو واقع ساجن ہیں ۔؟
جواب : یہ آپ کی محبت اور حسن ِ ظن ہے اس کے علاوہ اورمیں کچھ نہیں کہ سکتا
سوال : آخر میں آپ کیا پیغام دیں گے ۔ ؟
جواب : ادب کے لۓ دن رات محنت کرنے والے بھائیوں کی حوصلہ افزائی کریں وطن عزیز کے وقار اور معیار کے لے دعا گو رہنا چاہۓ اور ہم سب مسلمان بھاٸیوں کو حضور پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی سنت پر عمل کرنا چاہٸے

مقبول ذکی مقبول

بھکر, پنجاب ,پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

سلطان العاشقین حضرت خواجہ غلام فریدؒ

منگل نومبر 1 , 2022
مختصر تعارف و احوال سلطان العاشقین حضرت خواجہ غلام فریدؒ
سلطان العاشقین حضرت خواجہ غلام فریدؒ