محترمہ تسنیم صنم سے مکالمہ

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ، کوئٹہ

محترمہ تسنیم صنم صاحبہ، کوئٹہ بلوچستان

انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

تسنیم صنم کا خاندانی نام “تسنیم شاہ جہاں” ہے ۔ ادبی دنیا میں “تسنیم صنم “کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہیں ۔ ان کا تعلق لورالائی کے دمڑ قبیلے سے ہے ۔ 20 جنوری 1964 ء کو لورالائی کے شہر میں شاہ جہاں شاد کے گھر پیدائش ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم لورالائی سے حاصل کی ۔ میٹرک گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول ریلوے کالونی کوئٹہ سے کیا ۔ ان کو شروع سے ہی شاعری سے دلچسپی تھی ۔ دو بار ایم اے اردو لٹریچر کیا اور ایم فل بھی کیا ۔ ان کے میاں عرفان الحق صائم کا بلوچستان کے استادالعشراء میں شمار ہوتا ہے ۔ وہ دو شعری مجموعوں کے خالق تھے ۔ “دریائے نور”نعتیہ مجموعہ کلام اور “سیل جنوں” شعری مجموعہ کلام ، ان کا بیٹا احمد وقاص کاشی بھی شاعر ہے ۔

محترمہ تسنیم صنم صاحبہ
محترمہ تسنیم صنم صاحبہ

ان کا شعری مجموعہ”ش کا رقص” کے نام سے شائع ہو چکا ہے ۔ محترمہ تسنیم صنم صاحبہ کے لئے ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ اردو شعر گوئی میں ایک صنف ہے تاریخ گوئی ۔ ان کے میاں عرفان الحق صائم مرحوم تاریخ گوئی میں ماہر گردانے جاتے تھے ۔ تسنیم صنم نے ان سے یہ فن سیکھا ۔ محترمہ تسنیم صنم بلوچستان میں واحد خاتون شاعرہ ہیں ۔ جو تاریخ گوئی کے فن سے آشنا ہیں ۔ ان کے دو شعری مجموعے مارکیٹ میں آچکے ہیں ۔ ایک “کچھ خواب سرمژگاں” (شعری مجموعہ)ساگر پبلی کیشنز لاہور ، 2010ء دوسرا ” سر شام غزل” (شعری مجموعہ) قلات پبلیشرز کوئٹہ 2015ء اور زیر طبع”قلقاریاں” بچوں کی نظمیں ، ” جنگل میں منگل” بچوں کی کہانیاں اور”بند دریچے کی ہوا” افسانوی مجموعہ
ان کے سسر قاضی مظفر الحق بھی بہت اچھے شاعر تھے ۔ ان کی وفات کے بعد شاعری کا دیوان پبلیشرز کے پاس تھا ۔ مگر گم ہو گیا تھا ۔ تسنیم صنم صاحبہ نے ادبی حوالے سے بہت شہرت کمائی ہے ۔ بلوچستان کی تمام ادبی و سرکاری تنظیموں سے ایوارڈز اور اسناد وصول کرچکی ہیں ۔ان کے دونوں شعری مجموعوں کو حکومت بلوچستان کی جانب سے صوبائی ادبی ایوارڈ مل چکا ہے ۔جبکہ پاکستان کے بڑے شہروں سے بھی ایوارڈز اور اسناد حاصل کر چکی ہیں ۔ جن میں کراچی ، لاہور ، اسلام آباد ، حیدر آباد اور دیگر شہروں سے اپنے فن کا لوہا منوا چکی ہیں۔ ان کی ایک مشہور غزل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ۔

راہ پر اس کو لگا رکھا ہے تدبیر کے ساتھ
دوڑ سکتا ہے کہاں تک کوئی تقدیر کے ساتھ

میری گردن میں تو اک طوق غلامی تھا مگر
تونے کیوں سر کو جھکایا بڑی توقیر کے ساتھ

میرے اڑنے کا ہنر بھی نہ میرے کام آیا
مجھ کو باندھا گیا کیوں وقت کی زنجیر کے ساتھ ؟

خون کا رنگ تو یکساں ہے صنم سب کا مگر
فرق آجاتا ہے ہر ایک میں تاثیر کے ساتھ
ہم نے ان سے چند سوالات کے جن کے جوابات پیش خدمت ہیں ۔
سوال : آپ نے باقاعدہ طوراشعار کہنے کا آغاز کب کیا ۔؟
جواب : جب میں نویں جماعت میں تھی میں نے شعرکہنا شرو ع کئے ۔ باقاعدہ مشا عروں میں شرکت 8 مارچ 1989ء سے کیا
سوال : آپ شعر و شاعری کے ذریعے دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتی ہیں ۔؟
جواب : میرا پیغا م محبت ہے جہاں تک پہنچے ۔
میں نے اپنے ماحول ،معاشرے اور خواتین کے مسائل کے حوالے سے شاعری کی ہے ۔
سوال : غزل کی روح کیا ہے ۔ ؟ اس پر کچھ روشنی ڈالیں ۔ ؟
جواب : غزل بذات خود ایک مکمل مجسم صورت میں ہوتی ہے ۔ ہاں ہر شعر کا خیال اس کی روح ہوتا ہے
اور تخیل کی بلند پرواز ہی اس روح کی بالیدگی اور الفاظ کی چا شنی مل کر ایک غزل کو مجسم صورت عطاء کرتے ہیں
سوال : کوئٹہ کی خواتین ( جہاں آرا تبسم ، صدف غوری اور دیگر) ادب میں کیا کردار ادا کر رہی ہیں ۔؟
جواب : بلوچستان کے ادبی منظر نامے میں خواتین کی تعداد کم ہے ۔ میں ان میں سینئر ہوں جہاں آرا تبسم باقاعدہ مشاعروں میں شرکت کرتی ہیں ۔
اور صدف غوری کا بھی کافی کام ہے ۔ادب میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہی ہیں ۔
سوال : آپ کے میاں اور بیٹا دونوں شاعر ہیں ۔ اپنے گھر کے ادبی ماحول پر کچھ کہنا پسند کریں گی ۔ ؟
جواب : میرے گھر کا ماحول ادبی ہے
اندر مشاعرہ کبھی باہر مشاعرہ
شعر کا آغاز اصلاح سے ہی ہوتا ہے اور تو اور گھر کے بچے بھی داد دینے کے معاملے میں کافی باذوق واقع ہوئے ہیں ۔
سوال : آپ کے کوئٹہ میں نوآموز شعراء کی کوئی سرپرستی کر رہا ہے ۔؟
جواب : جی عرفان الحق صائم استاد شاعر تھے ۔ جن کے شاگردوں کی کافی تعداد ہے ۔ ان کے کئی شاگرد فارغ الاصلاح ہیں ۔ جو نوجوان شاعروں کی اصلاح کر رہے ہیں ۔ ان میں ایک میں بھی ہوں ۔ میری انجمن ادب بلوچستان جس کی میں تا حیات صدر ہوں ۔ ہر ماہ ادبی نشستوں کے علاوہ ہر سال دو کل پاکستان مشاعرے کروا تی ہوں ۔ جن میں نئے شعراء کو بھی متعارف کروایا جاتا ہے ۔ باہر سے آنے والے شعراء و ادباء کے اعزاز میں بھی تقریبات کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے ۔اس وقت کوئٹہ میں انجمن ادب بلوچستان ایک فعال تنظیم ہے ۔
سوال : زندگی کی نصف صدی سے زائد عمر گزار لینے کے بعد آپ کا مشاہدہ ، مطالعہ اور شعری تجربہ کس مقام پر پہنچا ہے ۔ ؟
جواب : یہ تو آپ بتائیں گے کہ مجھ سے مل کر بات چیت کر کے آپ کو کیا لگتا ہے ۔ جہاں تک میری اپنی بات ہے تو یقیناً زندگی کی نصف صدی سے زائد گزار لینے کے بعد مشاہدہ کو عمیق تجربہ کو گہرا مطالعہ کو وسیع ہونا ہی چاہئے اور میں خوش قسمت ہوں ۔ کیونکہ میرے ساتھ ایسا ہے ۔
ابھی مقام کا تعین مشکل ہے ۔ میرے قارئین فیصلہ کریں گے ۔ ہاں یہ یقین ہے کسی بھی موضوع پر گفتگو کرنے کی بھرپور صلاحیت ہے ۔
سوال : کیا آپ اپنی شعر گوئی سے مطمئن ہیں ۔ ؟
جواب : نہیں ابھی نہیں ابھی ایسا کوئی شعر نہیں ہوا جس سے مطمئن ہو سکوں ۔ جہاں تک شعر گوئی کے فیصلے کی بات ہے تو ہاں میں شعر ہی کہہ سکتی تھی سو کہہ رہی ہوں
سوال : اگر آپ شاعرہ نہ ہوتی تو کیا ہوتی ۔ ؟
جواب : شاعرہ نہ ہوتی تو شاید سوشل ورکر ہوتی سوال : آپ نے ادب میں خود کو کیسا پایا ۔؟
جواب : بہتر ہوں بہترین ہونا چاہتی ہوں ۔
سوال : آپ کی علم و ادب دوستی کے آپ کی فیملی پر کیا تاثرات مرتب ہوئے ۔ ؟
جواب : میرے تمام بچوں میں تہذیب و تمیز وافر ہے ۔ انسانیت موجود ہے ۔ ادب دوستی کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔ رشتوں کا احترام ہے ۔ رشتے نبھانے کا طریقہ ہے ۔ میرے تین بیٹے ہیں ۔ تین بہویں ہیں ۔ بچوں میں بہت محبت ہے ۔ سب سے بڑی بات کہ بہو وں کے ساتھ سب کی دوستی ہے

maqbool

مقبول ذکی مقبول

بھکر، پنجاب، پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

بلدیہ ہال میں اصلاح معاشرہ کانفرنس

پیر نومبر 14 , 2022
بلدیہ ہال اٹک شہر میں پروقار “اصلاح معاشرہ کانفرنس” استاذ العلماء مفتی ابو طیب رفاقت علی حقانی کی زیر صدارت منعقد ہوئ
بلدیہ ہال میں اصلاح معاشرہ کانفرنس