پھول طلب میں رہے درد مجھے آ ملا
رات کٹی جاگتے، بول تجھے کیا ملا
دور گیا سر پھرا سوچ اسے کیوں نہ تھی
روح مری جل گئی کیف عجب تھا ملا
یار کلی ادھ کھلی داغ لیے پھر رہی
پھول گیا پھر کدھر رنج عجب سا ملا
بوجھ اٹھائے ملا ایک عجب شخص تھا
کون اسے دے گیا وقت کٹھن عاملہ
دور ہؤا بے سبب حیف اسے بولنا
رنگ گیا روپ کا، قلب تڑپتا ملا
کون کسے پھر ملے یاد رہے ناں رہے
نقش مٹیں یا رہیں سوچ کو کھٹکا ملا
برف پگھلتی رہی دھوپ بڑی تیز تھی
لوگ کہیں حسرتِ یار خنک شام لا
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۰۷، نومبر، ۲۰۲۶

رشید حسرتؔ، کوئٹہ
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔