شاعر و ادیب محمد یعقوب فردوسی سے گفتگو
انٹرویو کنندہ: سید حبدار قائم
جناب محمد یعقوب فردوسی سے میری پہلی ملاقات شہزاد افق کے ایوارڈ شو میں ہوئی اس کے بعد فیس بک اور وٹس اپ پر اکثر رابطہ رہتا ہے ان کی شخصیت کا خوبصورت پہلو یہ ہے کہ آپ محبتوں کا پیکر ہیں اور سادات سے بے پناہ محبت کرنے والے ہیں
یعقوب فردوسی اردو ادب کی ان منفرد شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی ذات میں سخن وری کی نظافت، فکر و نظر کی وسعت اور اہلِ فکر و دانش کے لیے محبت و احترام کے جذبات یکجا دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی شخصیت محض شاعری تک محدود نہیں، بلکہ ادبی روایات کی پاس داری، تخلیقی صلاحیتوں کی قدر شناسی اور اہلِ سخن کی حوصلہ افزائی جیسے اوصاف بھی ان کے ادبی تشخص کو نمایاں کرتے ہیں۔
ماہیہ نگاری کے میدان میں ان کی کاوشیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ اس صنف سے ان کی وابستگی ان کے ذوقِ سخن، مسلسل ریاضت اور ادبی ذوق کی وسعت کا پتا دیتی ہے۔ اور یہ ان کے شعری سفر کا ایک مقدس اور قابلِ احترام حوالہ ہے، جہاں عقیدت کے چراغ محبت کی روشنی سے فروزاں ہوتے ہیں اور فکری عفت لفظوں کا پیرایہ اختیار کرتی ہے۔
یعقوب فردوسی کی شخصیت کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ وہ سال بھر شعراء و ادباء کی پذیرائی کے لیے ایوارڈز کی تقریبات کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ یہ عمل اس احساس کا مظہر ہے کہ ادب کی دنیا میں تخلیق کار کی حوصلہ افزائی بھی تخلیق ہی کی ایک توسیع ہے۔ وہ اہلِ قلم کی خدمات کو منظرِ عام پر لانے اور ان کی ادبی کاوشوں کو اعتراف و تحسین سے ہم کنار کرنے کی روایت کو فروغ دیتے ہیں۔
ان کا سرخ لباس بھی ان کی شخصیت کی ایک نمایاں انفرادیت ہے، جو انہیں ادبی محافل میں ایک الگ پہچان عطا کرتا ہے۔ ان کے مزاج میں فقیرانہ رنگ، ادبی ذوق اور محفل آرائی کی دل کشی کا ذکر ان کی شخصیت کو مزید دلچسپ بناتا ہے۔
بلاشبہ، یعقوب فردوسی کا ادبی سفر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ادب صرف لفظوں کی آرائش کا نام نہیں، بلکہ محبتوں کو پروان چڑھانے، صلاحیتوں کو جِلا بخشنے اور علم و فن کی شمع کو فروزاں رکھنے کا نام بھی ہے۔ ان کی ادبی سرگرمیاں اسی خوب صورت روایت کی ترجمان ہیں کہ اہلِ قلم کی قدر کرنا دراصل ادب کی قدر کرنا ہے۔
آج میں نے ان کا انٹرویو کیا ہے جو کہ قارئین کی نذر کرتے ہیں:۔
س۔ محترم محمد یعقوب فردوسی صاحب! سب سے پہلے اپنے خاندانی پس منظر، جائے پیدائش اور ابتدائی تعلیم کے بارے میں قارئین کو آگاہ فرمائیں۔
جواب۔ بہت شکریہ مرشدِ کامل آپ نے درویش لوگوں کا انٹرویو کرنے کی زحمت فرمائی
حضرت صاحب ۔۔ درویش لوگوں کا تعلق نسل در نسل زمیندار گھرانے سے ہے۔ ہمارے والد گرامی کھیتی باڑی کرتے تھے
ہم 01 فروری 1968 کو چک نمبر 2 شمالی بھلوال ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم مختلف مراحل سے گزرتی ہے پرائمری تک چک نمبر 2 شمالی میٹرک تک گورنمنٹ ہائی سکول بھلوال اور پھر ایف ایس سی تک گورنمنٹ ڈگری کالج بھمبر آزاد کشمیر میں حاصل کی اور پھر پاکستان آرمی میں بھرتی ہو گئے جہاں پیشہ ورانہ کورسز بھی ہماری تعلیم کا حصہ ہیں
س۔ آپ کو ادب اور شاعری سے شغف کب اور کیسے پیدا ہوا؟ کیا اس کے پیچھے کسی استاد، شخصیت یا واقعے کا ہاتھ ہے؟
جواب۔۔ حضرت صاحب ہم شاعر ابن شاعر ہیں میرے والد گرامی کی کتاب میلے سانواں دے پنجابی کلام پر مشتمل ہے تاہم روحانی شخصیات اور ان کی شاعری کا بھی گہرا عمل دخل ہے جس کی بدولت مالک کائنات نے اتنی عزتوں سے نواز رکھا ہے
س۔ آپ کا قلمی نام فردوسی ہے۔ اس نام کے انتخاب کے پیچھے کیا کہانی ہے، اور کیا آپ نے اس نام سے کوئی خاص نسبت محسوس کی؟
جواب۔ جی حضور والا لوگ کہتے ہیں کہ شاہ ابو القاسم الفردوسی جنھوں نے شاہ نامہ فردوسی جیسی شہرہ آفاق کتاب ادب کو دان کی وہ ایک لالچی شاعر تھا جس نے ایک اشرفی کے بدلے ایک شعر لکھا اور اس وقت کے حاکم نے یہ کہہ کر انھیں کچھ بھی انعام نہ دیا کہ آپ کے اشعار اس قابل نہیں اور وہ اسی صدمے سے چل بسے صدیوں بعد ہم نے فردوسی کے نام پر لگا وہ داغ دھو ڈالا اور ہم نے آج تک کسی کتاب کی قیمت وصول نہیں کی اور فردوسی ثانی کا لقب پایا
س۔ آپ پورا سال شاعروں اور ادیبوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور انہیں ایوارڈز سے نوازتے ہیں۔ اس منفرد ادبی خدمت کا خیال آپ کے ذہن میں کیسے آیا؟
جواب۔۔ یہ سب محبتیں ان لوگوں کے لئے ہیں جو سرکاری اور غیر سرکاری ادبی تنظیموں سے نالاں ہیں ہم نے انھیں ان کے کام اور کتاب کو وہ مقام دیا جس کے وہ حقدار ہیں
س۔ کہا جاتا ہے کہ ماہیہ نگاری کے موضوع پر آپ کی کتاب اس صنف کی سب سے بڑی کتاب ہے۔ اس کتاب کی تیاری میں کتنے برس صرف ہوئے اور آپ کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب۔ حضرت صاحب اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں بلکہ استاد مکرم حضرت امین خیال رحمتہ اللہ علیہ کا ہے جنھوں نے مجھے اردو ماہیا نگاری پر بھرپور کام کرنے کی تلقین فرمائی اور یہ انھی کی مجموعی محبتوں کا ثمر ہے کہ دنیائے ادب کی نعتیہ و منقبتیہ ماہیا نگاری پر سب سے پہلی کتاب مدینہ مدینہ پیارا مدینہ اور پھر دنیا کی سب سے بڑی کتاب کن فیکون پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا
وقت کا تو اندازہ نہیں ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ ماہیا کے سوا ہم نے لکھا ہی کیا ہے
س۔ ماہیہ کی فنی ساخت، بحر، وزن اور اس کے تین مصرعوں کی ترتیب کے حوالے سے آپ نئے لکھنے والوں کو کیا رہنمائی دینا چاہیں گے؟
جواب۔ ماہیا نگاری پر رہنمائی کے لئے ڈاکٹر عارف فرہاد صاحب کی کتاب اردو ماہیا کے خدو خال کافی ہے اور نئے لکھنے والوں کو اس کتاب سے استفادہ کرنا چاہیے اور جہاں تک تین مصرعوں کا تعلق ہے تو میری ساری ماہیا نگاری کی کتابیں سورت کوثر کے گرد گھومتی ہیں میرے نزدیک اس سورت سے بڑھ کر کوئی اور دلیل بے معنی ہے
س۔ آپ نعت گوئی بھی کرتے ہیں۔ نعت لکھتے وقت آپ کے سامنے کون سے ادبی، فنی اور روحانی تقاضے ہوتے ہیں؟
جواب۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
عشق محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اور پھر عشق کا کوئی قاعدہ، کوئی قانون یا کوئی سکول نہیں تاہم اس سلسلے میں ہم مرشدِ کامل حضرت شاہ شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ کے مرتب کردہ عشق کے چالیس اصول پہ عمل کرتے ہیں
س۔ نعت گوئی اور دیگر اصنافِ سخن میں آپ کیا بنیادی فرق محسوس کرتے ہیں؟ کیا نعت کے لیے محض شاعرانہ صلاحیت کافی ہے یا عشقِ رسول ﷺ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے؟
جواب۔ نعت تو حضرت عشق ہے اور حضرت عشق کی عطا ہے باقی تمام اصناف ادب کا نعت سے کوئی دور تک کا تعلق نہیں اور روحانیت کے حوالے سے بھی نعت گو کے ہر وقت باوضو رہنا ضروری ہے کیونکہ جب بھی آقا مدنی ماہی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نظر کرم فرمائیں تو نعت لکھی جائے گی اور دیگر اصناف ادب تو آپ چلتے پھرتے بھی لکھ سکتے ہیں
س۔ آپ کی ادبی زندگی میں کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جس نے آپ کی سوچ، شخصیت یا شاعری پر گہرے اثرات مرتب کیے ہوں؟
جواب۔ حضرت صاحب لمحہ بہ لمحہ بے شمار واقعات نظروں سے گزرتے ہیں جو مختلف روپ دھار کر ادب کا حصہ بن جاتے ہیں
س۔ آپ نے شاعروں اور ادیبوں کو ایوارڈز دینے کے لیے جو سلسلہ قائم کیا ہے، اس میں مستحق اہلِ قلم کے انتخاب کا معیار کیا ہوتا ہے؟
جواب۔۔ دنیائے ادب کے اس میدان میں ہم تنہا نہیں دو درجن سے زائد مستند اہل قلم ہمارے ساتھ اس کام میں مصروف عمل رہتے ہیں جن کی مشاورت سے یہ طے کیا جاتا ہے کہ کونسی شخصیت کس ایوارڈ کی مستحق ہے اس کے علاوہ چند ضروری پہلو لکھ کر پیش کر دیئے جاتے ہیں کہ اس ایوارڈ کے لئے کون لوگ نام بھیج سکتے ہیں
س۔ بعض ادبی حلقوں میں ایوارڈز کی تقسیم پر سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ آپ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے کن اصولوں کو مدنظر رکھتے ہیں؟
جواب۔۔ حضرت صاحب جب ایوارڈ سر عام نیلام ہونے لگیں اور ان کی ایوان صدر سے لے کر ایک غیر سرکاری تنظیم تک بولی لگنے لگے تو وہاں آپ کا یہ سوال بے معنی ہو جاتا ہے اسی سسٹم کے بارے میں ادبی غنڈے منظر عام پر آ چکی ہے اور جدید ادبی غنڈے انتظار میں کھڑی ہے
س۔ آپ نے اپنی ادبی زندگی میں بے شمار شاعروں اور ادیبوں سے ملاقاتیں کی ہوں گی۔ کسی ایسی ملاقات کا ذکر کیجیے جس نے آپ کی زندگی پر گہرا اثر چھوڑا ہو۔
جواب۔۔ ادبی زندگی میں بے شمار قابلِ ذکر اور ناقابل فراموش شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں جس کے لئے الگ سے انٹرویو کریں اور پھر ایک بڑی کتاب لکھنے کی ضرورت پڑی گی تاہم حضرت نصیر احمد چلاسی المعروف چلاسی بابا اور حضرت محمد حنیف حنفی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقاتیں میری ادبی زندگی کا بہت بڑا اثاثہ ہیں
س۔ آپ کے نزدیک ایک اچھے شاعر اور ایک اچھے انسان میں کیا فرق ہے؟ کیا ضروری ہے کہ اچھا شاعر اچھا انسان بھی ہو؟
جواب۔۔ سید بادشاہ اچھا انسان ہی ایک اچھا شاعر بن سکتا ہے یہ الگ بات ہے کہ ہم نہ تو اچھے انسانوں کو پروموٹ کر رہے ہیں اور نہ ہی اچھے شعراء کرام کو
س۔ آج کل ادبی تقریبات اور مشاعروں کی کثرت ہے۔ آپ کے خیال میں ان تقریبات سے ادب کو کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے؟
جواب۔۔ آج کے ادبی ادارے مشاعرے نہیں کروا ریے ادب اور ادیب کی خدمت نہیں کر رہے بلکہ ادبی غنڈوں کو پروموٹ کر رہے ہیں جو ناقابل برداشت ہے۔ ہمارے خیال میں تو مشاعرے ہونے ہی نہیں چاہئے کیونکہ لفافہ ازم ادب کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے
س۔ نئی نسل میں شاعری اور ادب کا شوق پیدا کرنے کے لیے اہلِ قلم اور ادبی اداروں کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟
جواب۔ نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے اور یہ سب کچھ ہمارے قومی اور غیر سرکاری ادبی ادارے کر رہے ہیں جو زہر قاتل کا مرکزی کردار بنے بیٹھے ہیں
س۔ اگر آپ کو اپنی ادبی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اور سب سے بڑی محرومی کا ذکر کرنا ہو تو آپ کن واقعات کو یاد کریں گے؟
جواب۔ الحمدللہ ادبی دنیا میں درویش لوگوں کی سب سے بڑی کامیابی آٹھ کے قریب ورلڈ ریکارڈ ہیں اور محرومی ہمارے ادبی اداروں میں خیانت کی ہے جو ہر مقام پر ہو رہی ہے۔ جدید ادبی غنڈے آنے والی کتاب انہی محرومیوں کو صفحہ قرطاس پر لا رہی ہے
س۔ آپ کو کتاب ” ادبی غنڈے“ لکھنے کی کیا ضرورت محسوس ہوئی؟
جواب۔ ادبی غنڈے تو تنقیدی مضامین ہیں جو تمام تر آج کے دور کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں کہ ادبی دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور اب ہم جدید ادبی غنڈے لانے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں ایوان صدر سے لے کر عام آدمی تک ان کے کارناموں سے سجائی جائے گی
س۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ کسی ایسے شخص کی کتاب شائع کرا دیں جس کے پاس مواد ہو لیکن حالات اجازت نہ دیتے ہوں؟
جواب۔ مرشدِ کامل یہ کام تو ہم مدتوں پہلے کر چکے ہیں اور ان دنوں اس قسم کا کوئی ارادہ نہیں البتہ اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا کی تو ضرور یہ کام پھر بھی کریں گے
س۔ فقرا کے کس سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں؟ اور آپ سرخ کپڑے کیوں پہنتے ہیں؟
جواب ۔۔ بہت خوبصورت سوال کیا ہے آپ نے، آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ ہم دنیائے روحانیت کے تمام سلاسل سے صاحب لباس ہیں اور اس وقت آپ کے درویش کے سر پر ایک سو سے زائد دستاروں کے تاج سجے ہوئے ہیں اور آپ نےسرخ لباس کی بابت پوچھا ہے میرا تعلق قلندری سلسلے سے ہے اور یہ لباس اور دستار بھی قلندری سلسلے سے عطا کردہ ہے جبکہ ٹل مالن شاہی سلسلے سے، گھنگھرو چشتی سلسلے سے عطا ہیں اس کے علاوہ راز نیاز کی ہزاروں باتیں ہیں جو ہم بتانے سے قاصر ہیں
س۔ آخر میں قارئین، نوجوان شاعروں اور ادیبوں کے لیے آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ اور مستقبل میں آپ کے کون سے ادبی منصوبے زیرِ تکمیل ہیں؟
جواب ۔۔۔ مستقبل میں کوئی خاص منصوبہ تو نہیں البتہ اخبارات و جرائد میں شائع ہونے والے جملہ تحریروں کو کتابی صورت میں ڈھالنے کی کوشش کریں گے جو سینکڑوں کتابیں بن سکتی ہیں
ہم نوجوان نسل کے نمائندہ لوگوں سے بس اتنا ہی کہنا چاہیں گے کہ وہ مر کر بھی اپنے بزرگوں سے بے پناہ محبت کا اظہار کرتے رہیں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دنیا میں نام پیدا کریں
جناب محمد یعقوب فردوسی کے خوبصورت پیغام کے ساتھ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالٰی ان کی توفیقات اور رزقِ سخن میں اضافہ فرماۓ اور حسنین کریمین علیہ السلام کی عظیم ماں حضرت فاطمہؑ سلام اللہ علیہا ان سے راضی ہو۔ آمین
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔