چار ارب خلیات میں صرف ایک آپکی فتح ہوئی، تو اے انسان، پھر یہ غرور کیسا؟
ہر نومولود بچے کی پیدائش قدرت کے ایک حیرت انگیز نظام کے تحت ہوتی ہے۔ ہم سوچتے ضرور ہیں مگر پھر بھی بہت کم سوچتے ہیں۔ محض مادہ منویہ کے ایک ناپاک قطرے سے بنی نوع انسان جیسی "اشرف المخلوقات” کا پیدا ہونا تو کائنات کا انوکھا "معجزہ” ہے ہی، مگر قابل غور بات یہ ہے کہ انسان کو پانی کے اس ناپاک قطرے سے پیدا کیا جاتا ہے، جس کے خارج ہونے سے انسان پر "غسل” واجب ہو جاتا ہے۔
ایک انزال میں کروڑوں نطفے ہوتے ہیں، بعض اوقات 20 کروڑ سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ عمومی طور پر 4 ارب سپرم Sperm کا عدد بتایا جاتا ہے جبکہ یہ بھی سائنسی دعوی کیا جاتا ہے کہ مرد کا جو مادہ منویہ عورت کے رحم تک جاتا ہے اس میں تقریباً 200 سے 500 ملین سپرمز ہوتے ہیں۔ جبکہ ان کروڑوں یا اربوں میں سے صرف ایک نطفہ عموماً بیضے تک پہنچ کر بارآوری کرتا ہے۔
یہ ایک مصدقہ سائنسی حقیقت ہے کہ ان سپرمز کو عورت کی شرمگاہ سے بچہ دانی اور پھر اس کی نالیوں یعنی "فالوپئین ٹیوبز” Fallopian Tubes تک تقریباً 15 سے 18 سینٹی میٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ یہ سفر ان کے سائز کے حساب سے بہت کٹھن اور لمبا ہوتا ہے۔ اس راستے میں تیزابیت، چپچپا مواد اور عورت کا مدافعتی نظام لاکھوں کروڑوں سپرمز کو تباہ کر دیتا ہے۔ آخر میں عورت کے بیضہ انڈے تک صرف 200 سے 300 سپرم ہی پہنچ پاتے ہیں۔ عورت کے جسم میں اس مہینے صرف ایک "انڈا” Ovum ہوتا ہے۔ جیسے ہی ایک سپرم اس انڈے میں داخل ہوتا ہے، انڈا فوراً اپنا دروازہ بند کر لیتا ہے تاکہ کوئی دوسرا سپرم اندر نہ آ سکے۔
وہ ایک سپرم اور ایک انڈا مل کر ایک نیا خلیہ بناتے ہیں جسے "زائیگوٹ” Zygote کہتے ہیں۔ اسی ایک خلیے سے 9 مہینے میں پورا انسان بنتا ہے۔ تو پیدا ہونے والا ہر بچہ وہ خوش نصیب انسان ہوتا ہے جو معجزانہ طور پر تمام نامساعد امکانات کو شکست دے کر دنیا میں آتا ہے!
یوں ہر انسان اپنے آپ میں ایک حیرت انگیز داستان لے کر پیدا ہوتا ہے مگر ہم عموما اپنی کامیابیوں پر فخر کرتے ہیں، اپنی محنت کو اپنی ترقی کا سبب سمجھنے لگتے ہیں اور کبھی کبھی اپنی صلاحیتوں کو دیکھ کر خود کو بہت "بڑا آدمی” بھی قرار دے بیٹھتے ہیں، لیکن اگر ہم صرف اپنی پیدائش کے پہلے مرحلے پر ہی غور کر لیں تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ جہاں ہمارا اس دنیا میں آنا اپنے آپ میں ایک "عظیم معجزہ” ہے وہاں یہ ہماری "نمائشی عظمت” اور "غرور” کو توڑنے کا سبب بھی ہے۔
ذرا تصور کیجیے! انسان پیدائشی طور پر "محتاج” ہے۔ ہماری پیدائش میں ہمارا "ارادہ” اور "اختیار” شامل نہیں ہوتا۔ ہم مکمل طور پر "والدین کے رحم و کرم” اور پیدائشی کے اس "بیالوجیکل پراسیس” Biological Process کے زیرِاثر پیدا ہوتے ہیں۔
جہاں زندگی کا آغاز مشکل اور انتہائی نامساعد حالات میں ہوتا ہے وہاں پیدا ہونے کے بعد انسانی بچے کی پرورش اور تربیت بھی حد درجہ مشکل ترین مرحلہ ہے۔ جس انسان نے دنیا میں آنے سے پہلے ہی ایک سخت ترین مقابلہ جیت لیا، وہ دنیا میں آ کر چند ناکامیوں سے کیسے ہار سکتا ہے؟ ہم اکثر کہتے ہیں کہ میرے حالات خراب ہیں، میرے پاس وسائل نہیں، لوگ میرا ساتھ نہیں دیتے، اور قسمت میرے خلاف ہے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ذرا اپنے وجود کی ابتدا کو یاد کریں۔ آپ کی زندگی کسی معمولی واقعے کا نتیجہ نہیں۔ آپ ایک ایسے سفر کا نتیجہ ہیں جس میں بے شمار امکانات کے درمیان آپ کا وجود تشکیل پایا۔ ماں کے پیٹ میں بچے کے ایک خلیہ کی تقسیم کا عمل ہی دیکھ لیں۔ پہلے ایک خلیہ تقسیم ہوتا ہے، پھر دوسرا، پھر تیسرا، اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک مکمل جسم کی بنیاد پڑنے لگتی ہے، دل، دماغ، آنکھیں، ہاتھ، پاؤں، اعصاب اور بے شمار اعضا ایک حیرت انگیز ترتیب کے ساتھ تشکیل پاتے چلے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہمیں ایک عظیم حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہم غرور کرنے کے لیئے پیدا نہیں کیئے گئے ہیں۔
انسان کو اپنی پیدائش اور وجود کی قدر کرنی چاہیے۔ آپ آج جس مشکل میں ہیں، وہ آپ کی پوری زندگی نہیں۔ یہ صرف زندگی کا ایک مرحلہ ہے۔ جیسے رحمِ مادر میں ایک ننھا سا وجود بتدریج مکمل انسان بنتا ہے، ویسے ہی انسان اپنی محنت، صبر، علم اور مسلسل جدوجہد سے ہی اپنی شخصیت اور مستقبل کو تشکیل دے سکتا ہے۔ کامیاب لوگ اس لیے کامیاب نہیں ہوتے کہ انہیں مشکلات نہیں ملتیں بلکہ وہ اس لیے کامیاب ہوتے ہیں کہ وہ مشکلات کے باوجود آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ یاد رکھیے، شکست کا مطلب اختتام نہیں۔ کبھی کبھی شکست صرف یہ بتاتی ہے کہ آپ کو اپنی سمت، حکمتِ عملی یا رفتار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
جس رب نے آپ کو عدم سے ایک معمولی ناپاک قطرے سے وجود بخشا، جس نے ایک معمولی سے خلیے کو ایک مکمل انسان بنا دیا، وہ آپ کی زندگی کے بند دروازوں کے پیچھے بھی راستے پیدا کرنے پر قادر ہے، اور آپکے غرور اور طاقت کو خاک میں ملانے کی بھی قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا اپنے آپ کو کمزور نہ سمجھیں۔ حالات سے گھبرائیں نہیں۔ لوگوں کی تنقید سے ٹوٹیں نہیں۔ ناکامی کو اپنی شناخت نہ بنائیں۔ آپ کی زندگی کی پہلی کہانی ہی جدوجہد، مقابلے اور کامیابی کی کہانی ہے۔ آپ دنیا میں آنے سے پہلے ہی ایک ناممکن نظر آنے والا سفر طے کر چکے ہیں۔ اب دنیا میں آنے کے بعد چند مشکلات سے گھبرا کر رک جانا آپ کے شایانِ شان نہیں۔ اپنے رب پر توکل کریں، اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں، محنت جاری رکھیں اور ہر صبح خود سے کہیں: "میں ہارنے کے لیے نہیں، اور نہ غرور کرنے اور زمین پر اکڑ اکڑ کر چلنے کے لیئے آیا ہوں بلکہ سیکھنے، سنبھلنے اور عاجزی و انکساری کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے پیدا ہوا ہوں۔
زندگی آپ کو بار بار آزمائے گی، لیکن یاد رکھیں کہ آزمائش اس بات کا ثبوت نہیں کہ آپ کمزور ہیں۔ بعض اوقات آزمائش اس بات کی دعوت ہوتی ہے کہ آپ اپنے اندر چھپی ہوئی اپنی اصل حقیقت کو پہچانیں۔
انسان اپنی زندگی میں کامیابی کے لیے نہ جانے کتنی دوڑیں لگاتا ہے۔ کوئی دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے، کوئی شہرت کے لیے، کوئی عہدے کے لیے اور کوئی اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری زندگی کی سب سے پہلی دوڑ کون سی تھی؟ وہ دوڑ جس میں نہ ہمیں اپنی منزل کا علم تھا، نہ راستے کا، نہ مقابلے کی خبر، مگر ہم کامیاب ہوئے!
یہ ہماری پیدائش سے پہلے کی کہانی ہے، جب زندگی کا آغاز ہماری ماں کے پیٹ میں نہیں بلکہ اس سے بھی پہلے "قدرت” کے ایک حیرت انگیز حیاتیاتی عمل سے ہوا۔
چار ارب خلیات میں سے صرف ایک آپ ہی کی جیت کیسے ممکن ہوئی اور کوئی دوسرا خلیہ کیوں نہیں جیتا؟ یہ صرف رب کائنات ہے کہ جس نے آپ کو یہ فتح عطا کی۔ یوں آپ کی زندگی قدرت کی "بخشیش” ہے، تو اے انسان، پھر یہ غرور کیسا؟

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔