سائنسی معجزے کا سال اور آئنسٹائن کی پیٹنٹ کلرکی
ہمارے معاشرے میں "کلرکی” کو بدنام نوکری سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کلرک حضرات فائل آگے نہیں بڑھاتے، کام رک جاتا ہے، اور "بابووں” کو قابو کیئے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے کلرک برادری پر اکثر رشوت کا الزام بھی لگ جاتا ہے۔ حالانکہ رشوت کوئی اور لیتا ہے، اور بدنام بیچارہ کلرک ہو جاتا ہے۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہی "تھرڈ کلاس” سمجھی جانے والی نوکری ایک دن دنیا کی تقدیر بدل سکتی ہے، اس کی سب سے بڑی مثال البرٹ آئنسٹائن ہیں۔
یونیورسٹی کے بعد آئنسٹائن کو کہیں پڑھانے کی نوکری نہیں ملی۔ روزی روٹی کے لیے انہیں مجبوراً 1902ء میں برن سوئٹزرلینڈ کے پیٹنٹ آفس میں "پیٹنٹ کلرک” کی جاب کرنی پڑی۔ آئنسٹائن دن کے 8 گھنٹے تک سائنسی ایجادات اور نئی مشینوں کے پیٹنٹ چیک کرتے تھے۔ وہ یہ دیکھتے تھے کہ ایجاد واقعی نئی ہے یا نہیں، اور پھر وہ اپنے "باس” Boss کو رپورٹ کرتے تھے۔
لوگ اسے معمولی سرکاری نوکری سمجھتے تھے۔ لیکن آئنسٹائن نے اسے بوجھ نہیں، موقع بنایا۔ وہ کہتے تھے: "میں اپنی نوکری سے پیار کرتا ہوں”۔ دفتر میں فارغ وقت میں وہ سوچتے، حساب لگاتے اور کاغذ کے ٹکڑوں پر مساواتیں لکھتے رہتے تھے۔
اسی "کلرکی” کے دوران 1905ء میں وہ معجزہ ہوا جسے سائنس کی تاریخ "Annus Mirabilis” یعنی Miracle Year کہتی ہے۔ اسی ایک سال میں آئنسٹائن نے 4 ایسے پیپر شائع کیے جنہوں نے فزکس کی بنیادیں ہلا رکھ دیں۔ اس دوران فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ، براونین موشن، خصوصی نظریہ اضافیت اور دنیا کی سب سے مشہور مساوات E=mc² سامنے آئی۔ یعنی جس کرسی کو ہم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، اسی کرسی پر بیٹھ کر ایک شخص نے کائنات کے راز کھول دیئے!
آئنسٹائن نے ثابت کیا کہ عہدہ چھوٹا ہو سکتا ہے، سوچ نہیں۔ جب انسان کے اندر تجسس اور پرمغز نظریہ ہو تو پیٹنٹ فائلیں چیک کرتے ہوئے بھی "نظریہ اضافیت” جنم لے سکتا ہے۔ انہوں نے 7 سال یہ نوکری کی۔ 1909ء میں وہ جامعہ زیورخ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بنے، پھر پراگ، پھر ای ٹی ایچ ETH زیورخ اور آخر 1933ء میں پرنسٹن پہنچے۔ لیکن ان کی اصل پرواز اسی پیٹنٹ آفس سے شروع ہوئی تھی۔
دنیا کا کوئی بھی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔ اگر نیت صاف اور دماغ متحرک ہو تو کلرکی بھی لیبارٹری بن جاتی ہے۔ حالات کو کبھی بھی بہانہ نہیں بنانا چایئے۔ آئنسٹائن کے پاس لیب نہیں تھی، گرانٹ نہیں تھی، یونیورسٹی کی پوزیشن نہیں تھی۔ صرف ایک کرسی، ایک میز اور ایک قلم تھا۔ پھر بھی انہوں نے دنیا بدل دی۔
البرٹ آئنسٹائن صبر اور تسلسل کے ساتھ 7 سال تک روز 8 گھنٹے تک دن کو پیٹنٹ فائلیں دیکھتے رپے، جس کے بعد وہ رات کو اپنے تخیل سے کائنات کی فائلیں کھول لیتے تھے۔ کامیابی ایک دن میں نہیں آتی۔
آج ہم اپنے نوجوانوں کو کہتے ہیں "نوکری نہیں مل رہی”۔ لیکن ہم یہ نہیں پوچھتے کہ جو نوکری ملی ہے اس میں کیا سیکھا ہے؟ آئنسٹائن نے پیٹنٹ چیک کرتے ہوئے سیکھا کہ "نئی” چیز کیا ہوتی ہے۔ اور پھر خود ہی سب سے بڑی نئی چیز دریافت کر لی! اگلی بار جب کوئی کلرک کو حقیر جانے تو اسے آئنسٹائن کی کہانی پڑھنی چایئے، کیونکہ ہمت اور جذبہ ہو تو ایک "عام کلرک” بھی تاریخ کا رخ موڑ سکتا ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔