ڈیجیٹل کرنسی کاغذی نوٹوں کا جنازہ یا معیشت کا نیا جنم؟
کیا آپ نے کبھی سوچا تھا کہ 2030ء سے پہلے آپ کی جیب میں نوٹ نہیں، بلکہ صرف ایک "کوڈ” ہو گا؟ جب کوئی بھی چیز آپ دکاندار سے خریدو گے تو آپ صرف اپنا موبائل ٹچ کرو گے، اور پیسے فروخت کنندہ کے اکاؤنٹ میں چلے جائیں گے۔ اب ایسا ہو رہا ہے۔ یہ کوئی فلمی سین یا خواب نہیں، بلکہ یہ "ڈیجیٹل کرنسی” کی حقیقت ہے۔ یہ ایسا انقلاب ہے جو کاغذ، سونا، اور بینک تینوں کو یکسر بدل دے گا۔
ڈیجیٹل کرنسی، سادہ الفاظ میں روپے پیسے کی وہ شکل ہے جسے چھوا نہیں جا سکتا، مگر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی کی 2 قسمیں ہیں یعنی کرپٹو کرنسی یا بٹ کوائن اور ایتھیریم، یہ حکومت کے کنٹرول سے آزاد کرنسیاں ہیں جو صرف ٹیکنالوجی پر چلتی ہیں۔
"سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی” (CBDC) کے تحت یہ وہی روپیہ ہے جو آج آپکی جیب میں ہے، بس یہ کاغذ کی جگہ موبائل میں ہے۔ چین کا "ڈیجیٹل یوآن”، بھارت کا "ڈیجیٹل روپیہ”، اور پاکستان کا "ڈیجیٹل پاک روپیہ” ٹرائل فیز میں ہیں۔ آج تک دنیا کی 130 سے زیادہ حکومتیں اپنی ڈیجیٹل کرنسی بنا چکی ہیں۔ چین میں 7 کروڑ لوگ روزانہ ڈیجیٹل یوآن استعمال کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف (IMF) کہہ چکا ہے کہ "کیش” 10 سال میں تاریخ بن جائے گا۔ بٹ کوائن 2024 میں 70 ہزار ڈالر کراس کر کے پہلے ہی دنیا کو حیران کر چکا ہے۔
ڈیجیٹل کرنسی کا فائدہ یہ ہو گا کہ اس سے "کرپشن” اور "چوری” ختم ہو جائے گی، کیونکہ ہر لین دین کا ریکارڈ "بلاک چین” پر محفوظ ہو گا۔ کوئی رشوت لے گا تو اس کا ثبوت خود بخود سامنے آ جائے گا۔
اس سے غریب کی بھی جیت ہو گی۔ بینک اکاؤنٹ نہیں بھی ہو گآ تو موبائل ہی سے پیسے بھیجے جا سکیں گے اور اب بھیجے بھی جا رہے ہیں۔ اس سے دیہاڑی دار مزدور بھی "ڈیجیٹل مالک” بن جائے گا۔ متحدہ عرب امارات یا کسی دوسرے کسی بھی ملک سے پیسے پاکستان یا دل یا میں کسی بھی ملک پیسے بھیجنے میں صرف 5 سیکنڈ لگیں گے، نہ بینک یا ایکسچینج جانا پڑے گا اور نہ ہی 3 دن کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اس سے ٹیکس چوری بند ہو جائے گی۔ حکومت کو پتہ چل جائے گا کہ معیشت کا اصل سائز کیا ہے۔ اس سے تمام ادارے بشمول اسکول اور ہسپتال بہتر ہو جائیں گے۔
لیکن ڈیجیٹل کرنسی کے خطرات بھی ہیں۔ اس سے "پرائیویسی” تقریبا ختم ہو جائے گی اور حکومت یہ تک جان لے گی کہ آپ نے چائے کا کب پیا اور اس میں چینی کتنی لی۔ فنانشل نگرانی کا نیا دور شروع ہو گا۔
اگر انٹرنیٹ بند ہو گیا یا لائٹ چلی گئی تو آپکی جیب میں پیسے بھی نہیں ہوں گے۔ ہیکنگ فراڈ بھی ہوں گے اور کوئی ہیکر ایک کلک سے آپکی ساری جمع پونجی اڑا سکے گا۔
عنقریب آنے والے ڈیجیٹل دور میں ہمارے لیئے عام سیکھنے کے 3 سنہری اصول یہ ہیں کہ کیش رکھیں، مگر ڈیجیٹل بینکنگ، کاروبار اور لین دین کا طریقہ بھی سیکھیں۔ نوٹ بالکل ختم نہیں ہوں گے، مگر 70 فیصد لین دین ڈیجیٹل ہو جائے گا۔ آپ آج جاز کیش، ایزی پیسہ اور بینک ایپ چلانا نہیں سیکھیں گے تو کل مجبورا سیکھنا پڑے گا ورنہ آپ کوئی لین دین نہیں کر سکیں گے، اور تب تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔
یاد رکھیں، "کرپٹو” کوئی جوا نہیں، بلکہ یہ ایک تیز اور منافع بخش ترین علم ہے۔ جو لوگ ڈیجیٹل اور آن لائن کاروبار جانتے ہیں وہ خالی جیب کاروبار شروع کرتے ہیں اور گھر بیڑھے روزانہ لاکھوں کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔ بٹ کوائن میں اندھا دھند پیسہ نہ لگائیں۔ پہلے سوچیں اور اس کاروبار کو سمجھیں۔ یوٹیوب پر "بلاک چین اردو” 30 منٹ تک روز دیکھیں۔ جو علم کے بغیر سرمایہ کاری کرے گا، وہ کل کو روئے گا۔ ڈیجیٹل سیفٹی کا خیال رکھیں۔ اپنا پاس ورڈ، پن (Pin) یا او ٹی پی (OTP) کسی کو نہ دیں۔ فون پر آنے والے ایسے میسجز کہ "آپ کا اکاؤنٹ بند ہو رہا ہے” فراڈ ہیں۔ آپ اپنا نام، تاریخ پیدائش یا کارڈ نمبر بتائیں گے تو آپ لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں کی رقم سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں سب سے بڑی کرنسی "احتیاط” ہے۔
اگرچہ ڈیجیٹل کرنسی دولت اور روپے کے نوٹوں کا فراڈ نہیں گی، مگر جو لوگ مستقبل میں کاغذی کرنسی کے ساتھ جڑے رہیں گے وہ مارے جائیں گے۔ معیشت کا مستقبل "ٹرسٹ” (Trust) سے "ٹریس” (Trace) پر شفٹ ہو رہا ہے۔ یعنی اب برکت "چھپانے” میں نہیں، "شفافیت” میں ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ سونا زمین سے نکلتا ہے، نوٹ حکومت چھاپتی ہے، مگر ڈیجیٹل کرنسی "اعتماد” اور "معلومات” سے وجود میں آتی ہے۔ جس قوم اور آدمی کا ڈیجیٹل علم مضبوط ہو گا، وہی کل کی معاشی سپر پاور بنے گا۔ کاغذ جل سکتا ہے، سرور کریش ہو سکتا ہے، مگر علم اور ڈیجیٹل پر یقین ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتے ہیں۔
حساس خریداری کے لیے "کیف” یا "پرائیویٹ والٹ” استعمال کریں تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ آپ نے دوا خریدی یا شراب خریدی، ہر چیز ایک ہی اکاؤنٹ سے مت خریدیں۔ ڈیجیٹل میں بھی "حیا” رکھیں۔ لیکن یہ بھی دھیان رکھیں کہ لائٹ کا بلیک آؤٹ ہو گیا تو موبائل ڈیڈ، سگنل گیا، لائٹ گئی، تو جیب خالی ہو جائے گی۔ اگر کرنسی نوٹ نہ ہوں تو روٹی نہیں ملے گی۔ گھر میں ہمیشہ کچھ "کیش” رکھیں۔ ایمرجنسی کے لیے ڈیجیٹل پر 100 فیصد انحصار خودکشی ہے۔ کیش اور ڈیجیٹل کا توازن قائم رکھیں۔ ہیکر ایک وائرس سے آپکا ڈیجیٹل والٹ صاف کر سکتا ہے۔ کرپٹو میں غلطی ہو جائے تو پیسہ واپس نہیں آتا۔ موبائل میں "اینٹی وائرس” رکھیں۔ بڑی رقم "ہارڈ ویئر والٹ” یا "بینک” میں رکھیں۔ موبائل پر کبھی بھی ساری دولت نہ رکھیں۔ انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھنے چایئے۔ڈیجیٹل کرنسی ایسی تلوار ہے کہ کاریگر کے ہاتھ میں ہنر اور جاہل کے ہاتھ میں زخم ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔