ڈاکٹر شجاع اختر اعوان: ادیب، قلم کار اور صحافی
انٹرویو کنندہ: سید حبدار قائم
ڈاکٹر شجاع اختر اعوان اٹک کے معروف ادیب، کالم نگار اور صحافی ہیں۔ ان کی تحریروں میں معاشرتی مسائل، انسانی رویّوں، ادب اور روزمرہ زندگی کے مختلف پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ وہ عرصۂ دراز سے ملکی و غیر ملکی اخبارات و رسائل میں کالم اور مضامین لکھ رہے ہیں۔ ان کے قلم میں مشاہدے کی گہرائی، موضوع پر گرفت اور سادہ و شائستہ اندازِ بیان ان کی تحریری شناخت ہے۔
شجاع اختر اعوان کی اب تک تین کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جن میں ’’خراجِ تحسین‘‘، ’’آؤ میلاد منائیں‘‘ اور ’’سبھی عنوان میرے‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے صحافت کے ساتھ ادبی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کیا اور مختلف اخبارات و رسائل کی ادارت و اشاعت سے وابستہ رہے۔ کتاب اور مطالعے سے ان کی خصوصی وابستگی ان کی فکری تشکیل میں نمایاں کردار رکھتی ہے۔
وہ اکادمی ادبیات کیمبل پور سے بھی وابستہ ہیں اور ادبی و صحافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی شخصیت میں علمی دلچسپی، ادبی ذوق اور صحافتی تجربے کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔
ان کے ادبی و صحافتی سفر، تصنیفات، مطالعے، اٹک کے ادبی منظرنامے، صحافت کے موجودہ حالات اور مستقبل کے عزائم کے حوالے سے سید حبدار قائم نے ان سے خصوصی گفتگو کی۔ نذرِ قارئین ہے۔
—
سوال: سر، بچپن کے احوال سنائیں؟ یعنی کہاں پیدا ہوئے، کہاں، کب اور کتنی تعلیم حاصل کی اور پیشہ کیا ہے؟
جواب: میری پیدائش اٹک کے نواحی قصبہ بولیانوال میں ہوئی۔ والدِ محترم کا نام ملک بہارم خان ہے اور قبیلہ اعوان ہے۔ گورنمنٹ ہائی اسکول بولیانوال سے میٹرک، جبکہ ایف اے راولپنڈی تعلیمی بورڈ سے بطور پرائیویٹ امیدوار پاس کیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے پی ٹی سی ڈپلومہ، پنجاب میڈیکل فیکلٹی لاہور سے میڈیکل ٹیکنیشن، پنجاب فارمیسی کونسل سے اسسٹنٹ فارماسسٹ، نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھک اسلام آباد سے ڈی ایچ ایم ایس، نیشنل طب کالج سے بیچلر اسلامک سسٹم آف شفا کے ڈپلومہ جات مکمل کیے۔ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں ملازمت ہے، جبکہ میڈیکل پروفیشنل بھی ہوں۔
سوال: صحافت میں کس طرح آئے؟
جواب: میرے نانا محترم ملک منصب دار مرحوم اخبار بینی کے شوقین تھے۔ گاؤں کے نمبردار ہونے کے علاوہ ماہرِ تعلیم بھی تھے اور ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر تھے۔ نوائے وقت اور انگریزی اخبار دی مسلم، بعد میں پاکستان ٹائمز اور الاخبار باقاعدگی سے، جبکہ کئی دیگر اردو اخبارات بھی باقاعدگی سے منگواتے تھے۔ میں چوتھی جماعت سے اخبار کا قاری بن گیا۔ صحافت میں آنے کا شوق مجھے ملک کے معروف صحافی اسماعیل خان شہید کو دیکھ کر پیدا ہوا، جن کے خاندان سے ہمارے مراسم تھے۔ انہیں بچپن سے دیکھتا اور سنتا تھا، یہی وجہ تھی کہ صحافت میں آنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔
سوال: کون کون سی کتابیں لکھی ہیں؟ ان کا مختصر تعارف بھی کرائیں۔
جواب: جی، اب تک تین کتابیں چھپ چکی ہیں، جبکہ کچھ کتابیں غیر مطبوعہ ہیں۔ ان میں: خراجِ تحسین: یہ میرے استادِ محترم، اٹک کے نامور صحافی اور مدیر ’’اٹک نامہ‘‘ میگزین، سید تحسین حسین مرحوم کے احوال و آثار اور ان کی صحافتی خدمات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب اسکالر احمد ناشاد کی طرف سے ہزارہ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے تھیسس میں بھی شامل کی گئی ہے۔
آؤ میلاد منائیں: حضور اکرم ﷺ کی سیرت و میلادِ مبارک سے متعلق مذہبی و عقیدتی تحریروں پر مشتمل کتاب ہے۔
سبھی عنوان میرے: ملکی و غیر ملکی اخبارات میں چھپنے والے منتخب کالموں اور مضامین کا مجموعہ ہے، جس میں ادبی، سماجی، شخصی اور دیگر موضوعات پر تحریریں شامل ہیں۔
سوال: آپ کو کب علم ہوا کہ آپ کے اندر ایک تخلیق کار بیدار ہو چکا ہے اور اسے منظرِ عام پر لانا چاہیے؟
جواب: مجھے یہ احساس اچانک نہیں ہوا بلکہ یہ شعور رفتہ رفتہ میرے اندر پروان چڑھا۔ بچپن ہی سے اخبارات، کتابوں کے مطالعے، مشاہدے اور اپنے اردگرد کے حالات و واقعات نے مجھے متاثر کیا۔ جب اپنے خیالات اور احساسات کو الفاظ میں ڈھالنے کی بے قراری بڑھنے لگی اور تحریر دوسروں تک پہنچنے لگی تو مجھے محسوس ہوا کہ میرے اندر ایک تخلیق کار موجود ہے۔ قارئین کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی نے اس احساس کو مزید مضبوط کیا۔ یوں مجھے لگا کہ اب میری تخلیقی آواز کو صرف میرے کاغذ تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے منظرِ عام پر آنا چاہیے۔
سوال: صحافتی دنیا میں کس کو اپنا استاد مانتے ہیں اور کس سے اصلاح لیتے رہے ہیں؟
جواب: صحافتی دنیا میں سید تحسین حسین مرحوم میرے حقیقی استاد تھے۔ ان سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ ملک خطیب دوردادوی مرحوم نے بھی میری سرپرستی کی اور ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی۔
سوال: آپ کے خیال میں ایک صحافی اور کالم نگار کی بنیادی ذمہ داریاں کیا ہیں؟
جواب: میرے خیال میں صحافی اور کالم نگار کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ معاشرے کے اہم، حساس اور نظرانداز شدہ مسائل کو اجاگر کرے، عوامی شعور بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا کرے، اصلاحی تجاویز پیش کرے اور غلط یا ناقص پالیسیوں پر تنقید برائے اصلاح کرے۔ اس کا مقصد محض تنقید نہیں بلکہ معاشرے کی بہتری اور مثبت تبدیلی کی راہ ہموار کرنا ہونا چاہیے۔
سوال: بطور صحافی مطالعے، مشاہدے اور تحقیق کو کس قدر اہم سمجھتے ہیں؟
جواب: بطور صحافی میں مطالعے، مشاہدے اور تحقیق کو بنیادی اہمیت دیتا ہوں۔ مطالعہ علم میں وسعت، مشاہدہ حقیقت کو سمجھنے اور تحقیق خبر کی صحت و اعتبار کو یقینی بناتی ہے۔ میرے نزدیک ایک اچھے صحافی کی بنیاد یہی تین چیزیں ہیں۔
سوال: کیا خیالات کو مؤثر تحریر میں ڈھالنے کے لیے بحر، اوزان، ردیف اور قافیہ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے؟
جواب: خیالات کا مؤثر اور خوب صورت اظہار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اظہار کی صورت شاعری، نثر یا آزاد نظم، کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم شاعری میں بحر، وزن، ردیف اور قافیہ کی اپنی فنی اہمیت ہے۔ ان عناصر کی رعایت کلام میں موسیقیت، حسن اور فنی پختگی پیدا کرتی ہے، البتہ اصل مقصد خیال کی مؤثر ترسیل اور احساس کی خوب صورت ترجمانی ہے۔
سوال: آپ نے صحافت کو بطور پیشہ کیوں نہیں اپنایا، حالانکہ آپ میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں؟
جواب: شروع دن سے ہی صحافت کو میں پیشہ نہیں بلکہ مشن سمجھتا ہوں۔ یہ صحافت کا وہ پلیٹ فارم ہے جس سے آپ مظلوم و بے کس طبقے کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں۔ شروع کے ادوار میں میں نے مزاحمتی صحافت کی۔ مجھ پر کئی مقدمات بھی بنے، عدالتوں میں کیس بھی دائر ہوئے، مگر اللہ تعالیٰ کی ذات نے مجھے سرخرو کیا۔
سوال: آپ نے اپنا اخبار کیوں نہیں نکالا؟
جواب: میں نے کئی ہفت روزہ اخبارات و میگزین شائع کیے، جن میں ہفت روزہ ’’ڈراپ سین‘‘، ’’چھچھ ویلی‘‘ اور بطور ایڈیٹر ہفت روزہ ’’اجداد‘‘ شامل ہیں۔ کچھ مسائل کی وجہ سے چند شماروں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ البتہ ڈاکٹروں کی جانب سے نکالا گیا اخبار The PMA Times، جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تھا، مسلسل دو سال تک شائع ہوتا رہا۔ ڈاکٹرز کمیونٹی میں آج بھی اس اخبار کو یاد کیا جاتا ہے۔ اس اخبار کی اشاعت میں اس وقت پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر سید فیاض حسین بخاری کا بھرپور تعاون اور کلیدی کردار رہا ہے۔
سوال: اخبار یا رسالہ نکالنے کے لیے کون سے لوازمات پورے ہونے چاہئیں؟
جواب: آج کل ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز پنجاب و پی آئی ڈی اسلام آباد نے قوانین تبدیل کر دیے ہیں۔ اخبار کی ڈیکلریشن کے لیے گریجویٹ ہونا، بینک بیلنس ہونا، پولیس ریکارڈ کے مطابق جرائم پیشہ نہ ہونا، حکومت کے کسی ادارے کا نادہندہ نہ ہونا اور آڈٹ بیورو آف سرکولیشن سے منظور شدہ اخبار یا میگزین کے ساتھ دس سال کے صحافتی تجربے کی بھی شرائط شامل ہیں۔
سوال: اے آئی کے اس دور میں صحافت کا مستقبل کیا ہوگا؟
جواب: اے آئی کے اس دور میں صحافت کا مستقبل روشن بھی ہے اور چیلنجز سے بھرپور بھی۔ اے آئی نے صحافت کے انداز کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ خبر جمع کرنے، ڈیٹا کا تجزیہ، ترجمہ اور مواد کی تیاری میں مصنوعی ذہانت صحافیوں کی معاون بن رہی ہے۔ تاہم غلط معلومات اور جعلی خبروں کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اس لیے مستقبل میں صحافی کی اصل اہمیت تحقیق، حقائق کی تصدیق، اخلاقیات اور انسانی بصیرت میں ہوگی۔ یوں اے آئی صحافت کا خاتمہ نہیں کرے گی بلکہ اسے زیادہ تیز، جدید اور مؤثر بنائے گی۔
سوال: موجودہ دور کی ادبی محافل سے کتنا سیکھا ہے؟
جواب: موجودہ دور کی ادبی محافل سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان محافل نے مجھے مختلف اہلِ قلم کے خیالات، تجربات اور ادبی اسالیب کو قریب سے سمجھنے کا موقع دیا۔ خاص طور پر یہ احساس پیدا ہوا کہ ادب صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ معاشرے، انسان اور زندگی کو سمجھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ ادبی نشستوں میں شرکت سے میرے مطالعے، تنقیدی سوچ اور اظہارِ خیال میں نکھار آیا اور مجھے اپنی ادبی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی ترغیب ملی۔
سوال: موجودہ اٹک کے ادب کے متعلق کچھ معلومات فراہم کیجیے؟
جواب: اٹک وہ خطہ ہے جہاں اس دور میں بھی ادبی کام ہو رہا ہے۔ آئے روز مختلف ادیبوں کی تخلیقات کتابی شکل میں منظرِ عام پر آ رہی ہیں۔ کئی ادیبوں کے ادبی کام پر کالجز اور یونیورسٹیوں میں بی ایس اور ایم فل کے مقالہ جات لکھے جا چکے ہیں۔ ادبی رسائل شائع ہو رہے ہیں، تاہم تمام ادیبوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور باہمی رابطوں کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ مجموعی طور پر اٹک کا ادبی منظرنامہ روشن ہے۔
سوال: آپ موجودہ صحافت میں مزاحمتی عناصر کو کیسا سمجھتے ہیں؟
جواب: اٹک میں موجودہ دور میں مزاحمتی صحافت ختم ہو چکی ہے۔ کسی زمانے میں بشیر اعوان، شیخ مقبول الٰہی صدیقی، باغی قلندر، ندیم رضا خان و دیگر چند صحافی مزاحمتی صحافت کے علمبردار تھے۔ موجودہ دور میں اٹک کی صحافت مختلف گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ آپس کی گروپنگ اور نااتفاقی کا فائدہ بیوروکریسی و انتظامیہ اٹھا رہی ہے۔ صحافت میں بھیڑ چال کی وجہ سے معیاری صحافت کم ہو گئی ہے۔ سیکھنے اور سمجھنے کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مزاحمتی صحافت زوال پذیر ہے۔ تاہم میں پُرامید ہوں کہ اٹک کے روشن خیال صحافی جب ایک پلیٹ فارم پر آ گئے تو مزاحمتی صحافت پھر سے جنم لے گی۔
سوال: کیا قومی ورثہ، اکادمی ادبیات کیمبل پور کے کام سے مطمئن ہیں؟
جواب: اکادمی ادبیات کیمبل پور کا قیام ایک اچھی کاوش ہے۔ میں خود بھی اس اکادمی کا حصہ ہوں اور بطور سیکریٹری اطلاعات فرائض انجام دے رہا ہوں۔ اکادمی ادبیات تمام ادیبوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ جن دوستوں کو تحفظات ہیں، وہ اکادمی ادبیات کے اجلاسوں میں شرکت کریں، اپنے خیالات کا اظہار کریں اور اپنا جمہوری حق استعمال کریں۔ تمام ادیبوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا چاہیے۔ میں اکادمی ادبیات کے کام سے سو فیصد مطمئن نہیں۔ جو کام ہمیں کرنے چاہییں، ہم ابھی تک نہیں کر پا رہے، تاہم آنے والے وقت میں بہتری کے لیے میں پُرامید ہوں۔
سوال: کیا آپ اپنی زندگی پر کتاب لکھیں گے، جس میں بچپن سے لے کر اب تک کے احوال ہوں؟
جواب: زندگی نے اگر وفا کی تو ضرور لکھوں گا، تاکہ میری آنے والی نسلوں تک میرے احوال و آثار پہنچ سکیں۔
سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہر شہر میں صحافیوں اور ادیبوں کے لیے حوصلہ افزائی کا بھی کوئی پلیٹ فارم ہونا چاہیے؟
جواب: جی بالکل۔ اگر ملک کے دوسرے شہروں میں صحافیوں اور ادیبوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے، ان کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں اور ان کے لیے پلیٹ فارم موجود ہیں تو اٹک کے لکھاریوں کا بھی حق بنتا ہے کہ انہیں پلیٹ فارم مہیا کر کے ان کی سرپرستی کی جائے۔
سوال: آپ کے ہاں علاقائی سطح پر ادیبوں کو جو پذیرائی دی جا رہی ہے، کیا اُس سے مطمئن ہیں؟
جواب: ہمارے ہاں مقامی سطح پر ادیبوں کو وہ پذیرائی نہیں ملتی جس کے وہ مستحق ہیں۔ میں اس پر بالکل بھی مطمئن نہیں ہوں۔
سوال: کتاب میلے کی اہمیت آپ کی نظر میں کیا ہے؟ کیا کتاب میلہ فوٹو سیشن تک ہی کارآمد ہوتا ہے یا اس کے نتائج مختلف ہوتے ہیں؟
جواب: کتاب میلہ علم، ادب اور مطالعے کے فروغ کا اہم ذریعہ ہے۔ یہ قارئین کو نئی کتابوں، اہلِ قلم اور فکری مباحث سے روشناس کراتا ہے۔ تاہم آج کل فوٹو سیشن بھی کتاب میلوں کا نمایاں حصہ بن گیا ہے۔ تصاویر یادگار تو بنتی ہیں، مگر اصل مقصد کتاب اور علم سے وابستگی ہونا چاہیے۔ کامیاب کتاب میلہ وہی ہے جہاں تصویر سے زیادہ کتاب اور نمائش سے زیادہ مطالعے کو اہمیت دی جائے۔
سوال: آپ کے خیال میں تخلیقات پر تحقیقی کام ہونا کیا ادیبوں کو تاریخ میں امر کرتا ہے؟
جواب: تخلیقات پر ہونے والا تحقیقی کام کسی ادیب کے فن اور فکر کو محفوظ کرتا ہے۔ یہی تحقیق اس کی ادبی خدمات کو آنے والی نسلوں تک پہنچاتی ہے اور اسے تاریخِ ادب میں دیرپا مقام عطا کرتی ہے۔
سوال: کیا کسی بھی شاعر یا ادیب پر ہونے والے تحقیقی کام کو کتابی صورت میں لانے کا اہتمام کالج کو یا حکومت کو کرنا چاہیے؟
جواب: اکادمی ادبیات کے توسط سے حکومتی سرپرستی میں یہ کام ہونا چاہیے۔ بعض بڑے شہروں میں کالج اور یونیورسٹیاں بھی شاعروں اور ادیبوں پر تحقیقی کام کی اشاعت کا اہتمام کر رہی ہیں۔
سوال: اس دور کا صحافی اشرافیہ کے پیچھے بھاگتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ میرے خیال میں درست نہیں ہے۔ اب یہ ٹرینڈ کیسے ختم کیا جائے اور معاشرے میں صحافیوں کا مقام کس طرح بلند کیا جائے؟
جواب: جب تک صحافی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہوتے، انفرادی سوچ ہی رہے گی۔ ہاں، اگر تمام صحافی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو گئے تو آپس میں مؤثر رابطے سے اجتماعی سوچ پروان چڑھے گی۔ تب ہی ایسا ممکن ہوگا کہ یہ ٹرینڈ ختم ہو۔ مگر اشرافیہ اور انتظامیہ نہیں چاہتی کہ صحافتی حلقوں کا ایک پلیٹ فارم ہو اور ان کا آپس میں اتحاد ہو، کیونکہ وہ طاقتور بن کر قلم کے ذریعے اشرافیہ کا احتساب کریں گے۔
سوال: مستقبل کے ارادے کیا ہیں؟
جواب: زندگی کا سفر بہت مختصر ہے اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ میری کوشش ہے کہ اپنی زندگی کے باقی وقت کو بامقصد بناؤں، اپنے ادھورے کام مکمل کروں اور اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دوں۔
سوال: قارئین کے لیے اپنا پیغام کیا دیں گے؟
جواب: بقولِ شاعر:
’’میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے‘‘
یہی کہوں گا کہ خیر بانٹیں، زندگی میں ایسا کام کریں کہ آپ کے جانے کے بعد لوگ آپ کو اچھے الفاظ میں یاد کریں۔ وقت کو ضائع نہ ہونے دیں، کیونکہ گزر جانے والا وقت واپس نہیں آتا۔
وقت کم سہی، حوصلے بلند رکھیں۔ ارادے سچے ہوں تو راستے خود بنتے ہیں۔
—
اختتامی کلمات
ڈاکٹر شجاع اختر اعوان دھیما مزاج، شفیق اور محبت کا پیکر ہیں۔ کسی بھی کام کا مشورہ مقصود ہو تو میں ان کو مددگار پاتا ہوں۔ ان کا علمی سفر جاری ہے اور کامیابیاں ان کی منتظر ہیں۔ اگرچہ چند حاسد ان کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں، لیکن روشنی کو کون روک سکتا ہے؟ بارش کے میٹھے قطروں کو کون روک سکتا ہے؟ سمندر کی گہرائی کون ختم کر سکتا ہے؟ یقیناً کوئی نہیں۔
شجاع صاحب! ہم آپ کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ پاک آپ کا علمی و ادبی سفر جاری رکھے، آپ کو حیاتِ خضر، صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے اور آپ کے قلم کو مزید قوت، تاثیر اور وسعت عطا کرے۔ آمین۔
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔