راجہ نور محمد نظامی کا 28 ہزار سے زائد کتابوں کا خزانہ حکومتی سرپرستی کا منتظر
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
کتاب سے محبت محض شوق نہیں، ایک تہذیبی ذمہ داری بھی ہے۔ کتاب انسان کو اپنے ماضی سے جوڑتی، حال کو سمجھنے کا شعور دیتی اور مستقبل کی سمت متعین کرنے میں مدد دیتی ہے۔ جن معاشروں نے کتب خانوں، اہلِ علم اور علمی سرمائے کی قدر کی، انہوں نے اپنی فکری اور تہذیبی میراث کو محفوظ رکھا۔ ہمارے معاشرے میں بھی ایسے اہلِ ذوق موجود ہیں جنہوں نے کتاب کو صرف مطالعے کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے اپنی زندگی کا مقصد بنا کر محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ راجہ نور محمد نظامی اسی جذبۂ کتاب دوستی، تحقیق اور تصنیف کی ایک نمایاں مثال ہیں۔
حسن ابدال، ضلع اٹک کے گاؤں بھوئی گاڑ میں قائم راجہ نور محمد نظامی کا نجی کتب خانہ جی ٹی روڈ اور ٹیکسلا کے قریب علم و ادب کا ایک منفرد مرکز ہے۔ اس کے ذخیرۂ کتب میں 28 ہزار سے زائد کتابیں جبکہ 6,500 سے زائد اخبارات و رسائل شامل ہیں۔ یہ ذخیرہ صرف تعداد کے اعتبار سے اہم نہیں بلکہ اس کی اصل قدر اس کے تنوع اور علمی مواد میں پوشیدہ ہے۔ یہاں ضلع اٹک اور ملک کے مختلف علاقوں کے مصنفین کی تصانیف کے علاوہ بیرونِ ملک سے شائع ہونے والی کتب بھی موجود ہیں۔ قدیم قلمی نسخے، تاریخ اور آثارِ قدیمہ سے متعلق اہم کتب اور دیگر تحقیقی مواد ہزاروں کی تعداد میں اس علمی خزانے کا حصہ ہیں، جو محققین کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
راجہ نور محمد نظامی خود بھی محقق اور مصنف ہیں اور آٹھ کتابیں تصنیف کر چکے ہیں۔ ان کی شخصیت میں مطالعہ، تحقیق اور کتابوں کے حصول کا شوق ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ نایاب کتابوں کی تلاش میں وہ دشت دشت کی خاک چھانتے رہے ہیں۔ پرانی کتابوں کی دکانوں، ذاتی ذخیروں اور مختلف علاقوں میں موجود علمی سرمایہ تلاش کرنا ان کے معمولات کا حصہ رہا ہے۔ کسی نادر کتاب یا قلمی نسخے کی خبر ملے تو فاصلے اور دشواریاں ان کے شوق کے سامنے حائل نہیں ہوتیں۔ برسوں کی اسی جستجو نے آج ایک ایسے ذخیرے کی صورت اختیار کر لی ہے جس میں کتابیں محض الماریوں میں نہیں بلکہ ایک پورے علمی سفر کی داستان سناتی ہیں۔
اس کتب خانے کی انفرادیت صرف مطبوعہ مواد تک محدود نہیں۔ گھر میں موجود قدیم اور نادر اشیا بھی ماضی کے رہن سہن، ثقافت اور تہذیب کی جھلک پیش کرتی ہیں۔ یوں بھوئی گاڑ میں قائم یہ جگہ کتاب، تاریخ اور تہذیبی یادداشت کا ایک ایسا امتزاج بن گئی ہے جہاں ماضی کے کئی ادوار اپنے آثار کے ساتھ موجود محسوس ہوتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ راجہ نور محمد نظامی نے اس علمی سرمائے کو اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا۔ ہزاروں سکالرز، محققین، طلبہ اور اہلِ علم اس کتب خانے سے استفادہ کر چکے ہیں۔ نایاب اور قدیم مواد تک رسائی تحقیق کے کام میں غیر معمولی سہولت فراہم کرتی ہے، جبکہ راجہ نور محمد نظامی اور ان کے صاحبزادگان یہاں آنے والے محققین اور علم کے متلاشیوں کا خندہ پیشانی سے استقبال کرتے ہیں۔ بعض مصنفین اور ادیب اپنی تصانیف بھی محبت کے طور پر انہیں ارسال کرتے ہیں، جس سے یہ ذخیرہ مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔
اس پورے علمی سفر کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ کتابوں کی خریداری، حفاظت اور دیکھ بھال کے اخراجات راجہ نور محمد نظامی اپنی ذاتی استطاعت سے برداشت کرتے ہیں۔ 28 ہزار سے زائد کتب، ہزاروں اخبارات و رسائل، قدیم قلمی نسخوں اور تاریخی مواد کی حفاظت ایک مسلسل اور مشکل عمل ہے۔ کتابوں کو مناسب ماحول، ترتیب، فہرست سازی، مرمت اور محفوظ ذخیرہ گاہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک فرد کی محبت اور ذاتی وسائل اس سفر کو آگے بڑھا سکتے ہیں، مگر اتنے بڑے علمی سرمائے کی طویل المدتی حفاظت کے لیے ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے۔
راجہ نور محمد نظامی اور ان کے کتب خانے کی انفرادیت نے قومی و بین الاقوامی میڈیا کی توجہ بھی حاصل کی ہے اور مختلف ٹی وی چینلز نے ان کی شخصیت اور کتب خانے پر پروگرام اور ڈاکومنٹریز پیش کی ہیں۔ یہ توجہ اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ بھوئی گاڑ میں موجود یہ علمی سرمایہ وسیع تر سطح پر تحفظ اور سرپرستی کا متقاضی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت راجہ نور محمد نظامی کی علمی و تحقیقی خدمات اور اس غیر معمولی کتب خانے کو باقاعدہ سرکاری توجہ کا مستحق قرار دیتے ہوئے ایک جامع منصوبہ تشکیل دے، جس کے تحت ماہرینِ کتب خانہ، تاریخ، آثارِ قدیمہ، مخطوطات اور تحفظِ ثقافتی ورثہ پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے اس پورے ذخیرے کا باقاعدہ سروے، دستاویزی ریکارڈ اور علمی قدر و قیمت کا جائزہ لیا جائے، 28 ہزار سے زائد کتابوں، 6,500 سے زائد اخبارات و رسائل اور نادر قلمی نسخوں کی مکمل کیٹلاگنگ و ڈیجیٹلائزیشن کی جائے، قدیم و نایاب مواد کی سائنسی بنیادوں پر مرمت اور حفاظت کے لیے مناسب سہولیات فراہم کی جائیں، محفوظ اسٹوریج اور تحقیقی مرکز قائم کیا جائے، محققین اور طلبہ کے لیے اسے مزید قابلِ رسائی بنایا جائے، راجہ نور محمد نظامی کو ان کی علمی، تحقیقی اور تصنیفی خدمات کے اعتراف میں سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی اور اعزاز دیا جائے، اور اس کتب خانے کی مستقل دیکھ بھال کے لیے خصوصی فنڈنگ اور سالانہ مالی معاونت مقرر کی جائے؛ مزید برآں ماہرین کے جائزے اور قانونی تقاضوں کے مطابق اسے قومی یا صوبائی علمی و ثقافتی ورثے کے طور پر محفوظ کرنے کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، تاکہ یہ عظیم علمی سرمایہ کسی ایک فرد کی مالی استطاعت تک محدود نہ رہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ، منظم اور قابلِ استفادہ قومی اثاثہ بن سکے۔
ہم قومی ورثے کو عموماً قلعوں، عمارتوں اور آثارِ قدیمہ تک محدود سمجھتے ہیں، حالانکہ کسی قوم کی فکری تاریخ بھی اس کے ورثے کا اہم حصہ ہوتی ہے۔ ایک قدیم قلمی نسخہ کسی عہد کی علمی روایت کا امین ہوتا ہے، ایک پرانی کتاب اپنے زمانے کی فکری دنیا کی عکاسی کرتی ہے اور ایک پرانا اخبار اپنے عہد کی اجتماعی زندگی کا آئینہ بن سکتا ہے۔ اس اعتبار سے بھوئی گاڑ کا یہ کتب خانہ صرف کتابوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ ہماری علمی اور تہذیبی یادداشت کا ایک اہم حصہ ہے۔
راجہ نور محمد نظامی نے اپنی زندگی میں کتابوں کی تلاش، تحقیق اور تصنیف کے ذریعے جو کام کیا ہے، اسے محض ایک فرد کی ذاتی کاوش سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کتابوں کے اس خزانے کو اپنی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے اہلِ علم، محققین اور طلبہ کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست بھی اس علمی جذبے کو ادارہ جاتی تحفظ فراہم کرے۔
بھوئی گاڑ میں قائم یہ کتب خانہ ایک فرد کے عشقِ کتاب سے وجود میں آیا، مگر اس کا علمی فائدہ معاشرے کے وسیع حلقے کو پہنچ رہا ہے۔ اگر ریاست بروقت سرپرستی کرے تو یہ نجی کتب خانہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ تحقیقی مرکز اور ہمارے علمی و ثقافتی ورثے کی زندہ علامت بن سکتا ہے۔ راجہ نور محمد نظامی نے اپنی طرف سے کتابوں کو تلاش کرکے، جمع کرکے، تحقیق و تصنیف کے ذریعے علمی روایت کو آگے بڑھا کر اپنا کردار ادا کر دیا ہے؛ اب وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اس علمی خدمت کو تسلیم کرتے ہوئے مناسب فنڈنگ، سرپرستی اور مستقل ادارہ جاتی تعاون فراہم کرے۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں