یا رب! ہمیں وہ عطا کر جو ہمارے لیے بہتر ہو
انسان صدیوں سے تقدیر، اختیار اور اپنے وجود کے مقصد کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کی زندگی میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس میں اس کا اپنا کتنا اختیار ہے اور کتنا حصہ پہلے سے طے شدہ ہے۔ الہامی مذاہب کے پیروکار اس حقیقت پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا اور کائنات کی ہر چیز اس کے علم میں پہلے سے موجود ہے۔ دوسری طرف جدید نفسیات انسانی رویوں کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بتاتی ہے کہ ہمارے بہت سے روزمرہ فیصلے اور اعمال لاشعوری محرکات کے زیرِ اثر ہوتے ہیں۔
ذرا غور کریں تو یہ بات ہماری عملی زندگی میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے جسم کے بیشتر نظام خودکار ہیں۔ ہم دل کی دھڑکن کو اپنی مرضی سے روک نہیں سکتے، نہ اسے حکم دے کر چلا سکتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے بہت سے رویے، پسند، ناپسند، خوف، خواہشات اور فیصلے ہمارے ماضی کے تجربات اور لاشعوری ذہنی ساخت سے متاثر ہوتے ہیں۔ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسان کے بہت سے اعمال اس کے لاشعور کے زیرِ اثر ہیں تو مذاہب میں سزا اور جزا کا فلسفہ کیا ہے؟ کیا انسان واقعی آزاد ہے یا اپنی ہی نفسیاتی ساخت کا غلام؟
یہ وہ سوالات ہیں جو سوچنے والے انسان کو مدتوں الجھائے رکھتے ہیں۔ تقدیر کو سامنے رکھیں تو انسان مجبورِ محض دکھائی دیتا ہے، اور اگر مکمل آزاد ارادے کو مانیں تو پھر بہت سے ایسے عوامل سامنے آتے ہیں جن پر انسان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ شاید حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ انسان کو اختیار ضرور دیا گیا ہے، مگر یہ اختیار لامحدود نہیں۔ وہ اپنی نیت، کوشش اور شعوری فیصلوں کے ذریعے اپنے بہت سے رویوں کو بدل سکتا ہے، لیکن نتائج پر اس کا مکمل اختیار نہیں۔
یہی مقام ہے جہاں سزا اور جزا کا فلسفہ بھی سمجھ میں آتا ہے۔ معاشرے میں خیر کو فروغ دینے اور شر کو روکنے کے لیے سزا اور جزا ضروری ہیں۔ جو شخص جرم کرتا ہے، اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، اور جو نیکی کرتا ہے، اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ اگرچہ انسان کے بہت سے اعمال اس کی نفسیاتی ساخت اور حالات سے متاثر ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اسے شعور، عقل اور انتخاب کی ایک صلاحیت دی گئی ہے، جسے بروئے کار لا کر وہ اپنی سمت تبدیل کر سکتا ہے۔
ہماری زندگی کے تجربات بھی اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔ کئی مرتبہ ہم پوری منصوبہ بندی اور کوشش کے باوجود ناکام ہو جاتے ہیں، جبکہ بعض اوقات بظاہر بگڑا ہوا کام اچانک بن جاتا ہے۔ کبھی وہ چیز جسے ہم کامیابی سمجھ رہے ہوتے ہیں، آگے چل کر ہمارے لیے پریشانی، نقصان یا آزمائش بن جاتی ہے، اور کبھی جسے ہم ناکامی سمجھتے ہیں، وہی مستقبل کی کسی بڑی بھلائی کا دروازہ ثابت ہوتی ہے۔
اسی لیے شاید اللہ تعالیٰ سے صرف کامیابی نہیں بلکہ رحمت مانگنی چاہیے۔ کامیابی ہمیشہ ہمارے حق میں نہیں ہوتی اور ناکامی ہمیشہ ہمارے خلاف نہیں ہوتی۔ انسان محدود علم کے ساتھ اپنے لیے بہتر اور بدتر کا فیصلہ کرتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ ہمارے ماضی، حال اور مستقبل سب کو جانتا ہے۔ میں اپنی ذاتی زندگی کے واقعات پر نظر ڈالتا ہوں تو کئی کامیابیاں ایسی محسوس ہوتی ہیں جن میں میری کوشش سے زیادہ اللہ کا فضل شامل تھا۔ کچھ بنے بنائے کام بگڑ گئے اور کچھ بگڑے ہوئے کام غیر متوقع طور پر بن گئے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ انسان جتنا بھی خود کو طاقتور اور بااختیار سمجھ لے، تقدیر کے سامنے اس کی حیثیت بہت محدود ہے۔
لہٰذا زندگی کا بہترین رویہ شاید یہی ہے کہ انسان اپنی پوری نیت، عقل اور کوشش کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے، مگر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دے۔ کامیابی کی ضد میں کبھی ایسی چیز نہ مانگے جو اس کے لیے نقصان دہ ہو۔ بس یہ دعا مانگنی چایئے کہ یا رب! ہمیں وہ عطا کر جو ہمارے لیے بہتر ہو، اور جو ہمارے لیے بہتر نہ ہو، اس سے ہمیں محفوظ فرما۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں