نئے صوبوں کا ڈول اور موثر بلدیاتی حکومتیں
ہمارا موجودہ انتظامی ڈھانچہ آج بھی برطانوی راج کی باقیات ہے۔ انگریز چلا گیا مگر اس کی افسر شاہی، بیوروکریسی اور کمشنری نظام آج بھی قائم ہے۔ یہ خرابی سب کو نظر آتی ہے، مگر حیرت ہے کہ علاج کے نام پر جو نسخہ تجویز کیا جا رہا ہے وہ کوئی موثر انتظامی حل نہیں ہے۔ نئے صوبوں کا مطلب ہے کہ ہر ڈویژن کو ایک صوبہ بنا دیا جائے۔
سوال یہ نہیں ہے کہ نئے صوبے بنیں یا نہ بنیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا 25 کروڑ آبادی والے ایٹمی ملک کو 50 سال پرانے انتظامی ڈھانچے سے کیوں چلایا جا رہا ہے؟ اور اگر صوبے بڑھانا ہی حل ہے تو کیا اس سے "گڈ گورننس” آ جائے گی؟ میرا خیال ہے نئے صوبے بنانے سے یہ مسئلہ ہرگز حل نہیں ہو گا۔
سننے میں آیا ہے کہ ملک میں 37 نئے صوبے بنائے جائیں گے، یعنی ہر ڈویژن ایک صوبہ ہو گا۔ ذرا حساب لگائیے۔ 37 وزرائے اعلیٰ، 37 گورنر، 37 سپیکر، 37 کابینہ، سینکڑوں صوبائی وزیر، مشیر، سیکرٹری اور ان کا لشکر۔ ان کی تنخواہیں، مراعات، گاڑیاں، بنگلے، ہیلی کاپٹر اور اسمبلیوں کی نئی عمارتیں، یہ سب اخراجات کون برداشت کرے گا؟
آج اس ملک میں 342 ایم این اے، 749 ایم پی اے، 104 سینیٹر اور 5 گورنر ہیں۔ یہ کل 1200 افراد ہیں جو پہلے ہی سفید ہاتھی کی طرح ملکی معیشت کو کھا رہے ہیں۔ اگر 37 صوبے بن گئے تو یہ تعداد 5 ہزار سے اوپر چلی جائے گی۔ قرضوں میں ڈوبی ہوئی معیشت یہ بوجھ کیسے اٹھائے گی؟ عوام بھوک سے مرے گی اور بجٹ یہ نئے صوبے کھا جائیں گے۔ فائدہ صرف اشرافیہ اور مقتدرہ کا ہو گا، عوام کو ایک روپے کا ریلیف نہیں ملے گا۔
قائداعظم محمد علی جناح نے اس ملک کی بنیاد قانون کی حکمرانی، شفافیت اور مضبوط وفاق پر رکھی تھی۔ انہوں نے کبھی نہیں کہا تھا کہ انتظامی ڈھانچہ ہمیشہ ایک جیسا رہے گا۔ مگر انہوں نے یہ بھی نہیں کہا تھا کہ جمہوری پارلیمانی نظام کو چوں چوں کا مربہ بنا دیا جائے۔ یہ نظام ناکام نہیں ہوا بلکہ نظام کو چلانے والے ناکام ہوئے ہیں۔
اگر انتظامی یونٹ بڑھانا ہی مقصود ہے تو وہ تو پہلے ہی سے موجود ہیں۔ کمشنر، ڈی سی، اے سی، تحصیلدار، یہ سب انتظامی یونٹ ہی تو ہیں۔ ساتھ میں بلدیاتی نظام بھی موجود ہے۔ مسئلہ نئے نقشے بنانے کا نہیں، موجودہ نظام کو ٹھیک کرنے کا ہے۔ فنڈز تو آج بھی آبادی کے تناسب سے ایم این اے اور ایم پی اے کے ذریعے دیئے جا رہے ہیں۔ اصل کام ان فنڈز کی خرد برد کو روکنے کا ہے، نئے صوبوں کے نام پر نئی لوٹ مار کا بازار گرم کرنا قابل قبول نہیں ہے۔
یہ بیڈ گورننس سے توجہ ہٹانے کا حربہ ہے۔ ایک طرف نئے صوبوں کے نعرے ہیں اور دوسری طرف "سٹیٹس کو” کو قائم رکھنے کی ضد ہے۔
حقیقی اور پائیدار حل اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے میں ہے، یعنی بااختیار آئینی بلدیاتی حکومتوں کو قائم کیا جانا چایئے۔
ترکیہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ استنبول، انقرہ، ازمیر جیسے بڑے شہروں کی میٹروپولیٹن بلدیات اتنی بااختیار ہیں کہ وہ شہر کے تمام ترقیاتی کام، ٹرانسپورٹ، پانی، صفائی خود کرتی ہیں۔ مرکزی حکومت صرف دفاع، خارجہ پالیسی اور معیشت دیکھتی ہے۔
پاکستان کو بھی یہی کرنا چاہیے۔ نئے صوبے بنا کر بیوروکریسی کو مزید طاقتور بنانے کی بجائے، بیوروکریسی اور بلدیات میں توازن پیدا کیا جائے۔ بلدیاتی اداروں کو مالی اور آئینی خودمختاری دی جائے۔ میئر کو بااختیار بنایا جائے۔ جب گلی کا ناظم جوابدہ ہو گا تو عوام کو لاہور یا اسلام آباد نہیں جانا پڑے گا۔
یاد رکھیں، صوبے بڑھانے سے وفاق کمزور ہو گا، ملک مزید معاشی دلدل میں دھنسے گا۔ بلدیاتی نظام مضبوط کرنے سے وفاق مضبوط ہو گا اور عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف ملے گا۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ، ہمیں 37 "جمہوری بادشاہ” چاہئیں یا 37 ہزار بااختیار کونسلر چایئے؟

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں