جذبات بیچنے کا کاروبار
دنیا کے ہر کامیاب کاروبار کی بنیاد "گاہک” پر کھڑی ہے۔ جو شخص گاہک کی نفسیات کو نہیں سمجھتا، اسے کاروبار شروع کرنے کا تکلف نہیں کرنا چایئے۔ کاروبار اپنی پروڈکٹ بیچنے سے زیادہ گاہک کا اعتماد جیتنے کا کھیل ہے۔
ایک مشہور انگریزی محاورہ ہے: "Customer is always right” یعنی گاہک ہمیشہ ٹھیک ہوتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ گاہک سے دوستی کر لی جائے۔ ہمارے ہاں کہتے ہیں "گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا”۔ مطلب یہ کہ آپ کو گاہک کا ہمدرد بھی بننا ہے اور کاروباری بھی۔ آپ کے لیے یہ جاننا سب سے ضروری ہے کہ گاہک چاہتا کیا ہے، اور اسے مستقل طور پر اپنے ساتھ کیسے جوڑا جا سکتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے امریکہ کی ایک بڑی سپر مارکیٹ نے عجیب تجربہ کیا۔ ایک دن انہوں نے شیلف پر پنیر کے صرف 6 نمونے رکھے۔ دوسرے دن وہیں 24 نمونے رکھ دیئے۔ نتیجہ حیران کن تھا۔ جس دن 6 اقسام تھیں وہاں خریداری 10 گنا زیادہ ہوئی۔ اور جس دن 24 اقسام تھیں، گاہک انتخاب کی الجھن میں پھنس کر بغیر خریدے نکل گیا۔
گاہک کے سامنے زیادہ آپشن رکھنا بہتر فروخت نہیں لاتا۔ گاہک کا دماغ محدود انتخاب کو آسانی سے پروسیس کرتا ہے۔ جو کاروباری شخص گاہک کی یہ چھوٹی چھوٹی نفسیات نہیں سمجھتا وہ اندھیرے میں تیر چلاتا ہے۔
گاہک کی نفسیات کے چند بنیادی اصول ہر کاروباری کو ازبر ہونے چاہیے:1: گاہک قیمت نہیں، موازنہ دیکھتا ہے۔
ایک ہزار کی چیز تب مہنگی لگتی ہے جب ساتھ 500 والی رکھی ہو۔ اور وہی ہزار والی سستی لگتی ہے جب ساتھ 2000 والی ہو۔ قیمت کا کوئی مطلق پیمانہ نہیں ہوتا۔ ہر فیصلہ نسبتی ہوتی ہے۔
2. نقصان کا ڈر، فائدے کی خوشی سے بڑا ہوتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں 100 روپے کھونے کا دکھ، 100 روپے پانے کی خوشی سے دوگنا ہوتا ہے۔ اسی لیے "آفر ختم ہونے والی ہے” والا جملہ "نئی آفر آئی ہے” سے زیادہ بکتا ہے۔
3. فیصلہ جذبے سے ہوتا ہے، جواز عقل سے بنتا ہے۔ گاہک پہلے دل سے فیصلہ کرتا ہے پھر دماغ سے اسے ٹھیک ثابت کرتا ہے۔ اس لیے صرف فیچرز مت گنوائیں۔ پہلے احساس جگائیں۔ لوگ چیز نہیں خریدتے، وہ اس چیز سے جڑی کہانی خریدتے ہیں۔
4. کمیابی قدر بڑھاتی ہے۔ جو چیز بہت آسانی سے مل جائے اس کی قدر کم ہو جاتی ہے۔ "اسٹاک محدود ہے” یا "صرف آج کے لیے” جیسے جملے طلب بڑھا دیتے ہیں۔ 5. بھیڑ کی نفسیات سب سے طاقتور ہے۔ جہاں رش ہو، گاہک خودبخود کھنچا چلا آتا ہے۔ اسے لگتا ہے یہاں ضرور کچھ اچھا مل رہا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دکانوں پر پہلے دن "رش لگوانا” ایک آرٹ ہے۔ 6. آخری تاثر سب سے اہم ہے۔ انسان تکلیف اور خوشی دونوں کو یاد رکھتا ہے۔ لیکن کسی بھی تجربے کا آخری لمحہ پورے تجربے پر بھاری پڑتا ہے۔ خریداری کے بعد "مہربانی، پھر آئیے گا” کہنے سے اگلی خریداری عموما پکی ہو جاتی ہے۔
7. ذاتی توجہ، عمومی اشتہار پر بھاری ہے۔
گاہک کا نام لے کر بات کریں، اس کی پچھلی پسند یاد رکھیں۔ جب گاہک کو لگے کہ یہ دکان صرف مجھے جانتی ہے، تو وہ قیمت نہیں پوچھتا، وفادار بن جاتا ہے۔
ان سب اصولوں کا نچوڑ ایک ہی ہے کہ گاہک کا اعتماد جیتیں اور اسے جذبات بیچیں۔ قلیل مدتی منافع کے لیے گاہک کو دھوکہ دینے والا کاروبار وقتی تو چل جائے گا، لیکن طویل مدت میں وہی کاروبار پائیدار رہتا ہے جو اپنا بھروسہ اور گاہک کے جذبات گاہک ہی کو بیچتا ہے۔
ہمارے ہاں اکثر نوجوان کاروبار شروع کرتے وقت پروڈکٹ، لوکیشن اور سرمایہ کا حساب تو لگا لیتے ہیں، لیکن گاہک کی نفسیات کا حساب نہیں لگاتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دکان تو کھل جاتی ہے لیکن گاہک نہیں آتا۔
یاد رکھیں، آپ گاہک کو ناراض کر کے منافع نہیں کما سکتے۔ آپ کو یہ فن سیکھنا ہو گا کہ اپنی پروڈکٹ کو گاہک کی نفسیات کے مطابق کیسے پیش کرنا ہے۔ اسے الجھانا نہیں، آسانی دینی ہے۔ اسے مجبور نہیں کرنا، قائل کرنا ہے۔
کاروبار میں کامیابی کا شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر صرف ایک اصول پلے باندھ لیں کہ "گاہک کو سمجھنا ہے” تو آپ کا گاہک آپ کا گاہک رہنے پر مجبور ہو جائے گا۔ اور جس کاروبار کے پاس وفادار گاہک ہو، اسے مارکیٹ کی مندی بھی نہیں گرا سکتی۔ ایک کاروبار ہی نہیں دوسرے معاملات میں بھی جذبات بیچنا بڑے کام کی چیز ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں