صدقہ جاریہ
دنیا میں انسان دو طرح کی وراثت چھوڑ کر جاتا ہے۔ ایک وہ جو بینک بیلنس، زمین، جائیداد اور گاڑیوں کی صورت میں ہوتی ہے۔ دوسری وہ جو دعاؤں، نیکیوں اور "صدقہ جاریہ” کی صورت میں ہوتی ہے۔
پہلی وراثت پر عدالتوں میں مقدمے ہوتے ہیں۔ دوسری وراثت پر فرشتے دعائیں لکھتے ہیں۔ ہم پہلی وراثت کے لیے ساری عمر دوڑتے ہیں، اور دوسری وراثت کو بھول جاتے ہیں۔ حالانکہ اصل کامیابی دوسری میں ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔”
صدقہ جاریہ کا مطلب "مسلسل چلنے والا صدقہ” ہے۔ ایک ایسا کام جو آپ کے مرنے کے بعد بھی چلتا رہے اور آپ کو اجر ملتا رہے۔
کنواں کھدوا دینا صدقہ جاریہ ہے۔ اسکول بنا دینا صدقہ جاریہ ہے۔ ہسپتال قائم کر دینا صدقہ جاریہ ہے۔ درخت لگا دینا صدقہ جاریہ ہے۔ کسی کو ہنر سکھا دینا صدقہ جاریہ ہے۔ قرآن کا نسخہ دے دینا صدقہ جاریہ ہے۔
عمران خان نے 1992 میں ورلڈ کپ جیتا۔ وہ ٹرافی آج میوزیم میں رکھی ہے۔ لیکن انہوں نے جو "شوکت خانم کینسر ہسپتال” بنایا وہ آج بھی روزانہ سینکڑوں جانیں بچا رہا ہے۔ 29 دسمبر 1994 لاہور، 29 دسمبر 2015 پشاور، اور اب کراچی میں تیسرا تکمیل کے مراحل میں ہے۔
کرسٹیانو رونالڈو نے فٹبال میں وہ سب کچھ حاصل کیا جو ممکن تھا۔ لیکن انہوں نے پرتگال کے شہر فونچال میں کینسر ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھ کر اپنی اصل وراثت قائم کر دی۔ دونوں نے ثابت کیا کہ میدان کی فتح وقتی ہوتی ہے، انسانیت کی خدمت دائمی ہوتی ہے۔ ٹرافی پر گرد جم جاتی ہے، لیکن صدقہ جاریہ پر دعاؤں کی بارش سدا ہوتی رہتی ہے۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں صدقہ جاریہ صرف امیر لوگ کر سکتے ہیں۔ یہ غلط ہے۔ آپ 100 روپے کا پودا لگا دیں، وہ صدقہ جاریہ ہے۔ آپ اپنے دفتر میں پانی کا کولر لگوا دیں، وہ صدقہ جاریہ ہے۔
آپ کسی غریب بچے کی فیس دے دیں، وہ صدقہ جاریہ ہے۔ آپ یوٹیوب پر کوئی اچھی بات سکھا دیں، وہ صدقہ جاریہ ہے۔
آپ کسی کو نماز کا طریقہ سکھا دیں، وہ سب سے بڑا صدقہ جاریہ ہے۔
صدقہ جاریہ کے لیے کروڑوں نہیں، نیت چاہیے۔ سوچیں، آپ نے ایک مسجد میں پنکھا لگوا دیا۔ گرمی میں 100 لوگ وہاں نماز پڑھیں گے۔ ہر سجدے پر آپ کو اجر ملے گا۔ 50 یا 100 سال بعد آپ دنیا میں نہیں ہوں گے، لیکن پنکھا چلتا رہے گا اور اجر آتا رہے گا۔
آپ نے ایک بچے کو قرآن پڑھنا سکھایا۔ وہ بچہ بڑا ہو کر اپنے بچوں کو پڑھائے گا۔ وہ اپنے شاگردوں کو پڑھائے گا۔ قیامت تک آپ کے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جاتی رہیں گی۔
دنیا کے بینک بیلنس سے بہتر "آخرت کا بینک بیلنس” ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں ہر کوئی "اپنا” سوچ رہا ہے۔ اپنا گھر، اپنی گاڑی، اپنا کاروبار۔ لیکن کوئی قوم کا نہیں سوچ رہا۔ ہم مرنے کے بعد قبر پر پھول چڑھوانا چاہتے ہیں، لیکن زندگی میں کسی پیاسے کو پانی نہیں پلاتے۔ ہم چالیسویں پر دیگیں چڑھاتے ہیں، لیکن زندہ یتیم کا خیال نہیں رکھتے۔
اصل صدقہ جاریہ یہ ہے کہ ہم اپنی کامیابی کو دوسروں کی کامیابی بنا دیں۔ صدقہ جاریہ چھوٹا کام کر کے بھی شروع کیا جا سکتا ہے: گھر کے باہر ایک درخت لگا دیں۔ علم بانٹیں۔ جو آپ کو آتا ہے وہ کسی کو سکھا دیں۔
لوگوں کو سہولت دیں۔ محلے میں سڑک پر لائٹ کا مسئلہ ہے تو ٹھیک کروا دیں۔ خود کو وقف کری۔ اپنی تنخواہ کا 2 فیصد کسی فلاحی کام کے لیے مقرر کر دیں۔
یاد رکھیں، قیامت کے دن اللہ ہم سے نہیں پوچھے گا کہ تمہارے پاس کتنی گاڑیاں تھیں۔ وہ پوچھے گا کہ تمہارے ہاتھ سے کتنے لوگوں کا بھلا ہوا۔
مرنے کے بعد قبر میں نہ آپ کا بزنس کارڈ، دولت یا عہدہ و شہرت نہیں جائے گی، وہاں صرف تین چیزیں جائیں گی جو آپ کا صدقہ جاریہ، آپ کا علم، اور آپ کی نیک اولاد کی دعائیں ہیں۔
تو آج ہی فیصلہ کر لیں۔ کوئی ایک کام ایسا ضرور کریں جو آپ کے بعد بھی زندہ رہے۔ کیونکہ دنیا میں نام کمانا آسان ہے۔ لیکن مرنے کے بعد بھی نام زندہ رکھنا، اصل کامیابی ہے۔ اور وہ صرف "صدقہ جاریہ” سے ملتی ہے۔ اللہ ہم سب کو صدقہ جاریہ کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں