"بصری ادب اور نعت کی اصطلاحی حقیقت اور تمثیلِ مقدسان کے شرعی حدود”
(ایک تنقیدی و اصولی محاکمہ)
شمائلہ منیب
عصرِ حاضر میں "بصری ابلاغ” (Visual Media) انسان کی فکری اور جذباتی تشکیل کا سب سے اثر انگیز میڈیم بن کر سامنے آیا ہے۔
جدید دور میں سیرتِ طیبہ، اسلامی تاریخ اور دعوتِ دین کے لیے اس میڈیم کے تعمیری استعمال کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے ادبی و تحقیقی حلقوں میں بصری میڈیم کی تکنیکی کامیابیوں سے متاثر ہو کربعض حلقوں کی جانب سے ایسی اصطلاحات اور مفاہیم داخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اسلامی تعلیمات، صنفِ نعت کی مقدس روایت اور فقہی مسلمات سے براہ راست تصادم میں ہیں۔
زیرِ نظر مضمون میں اسی نوعیت کے ایک بنیادی اصطلاحی مغالطے اور ایمانی و شرعی حدود کی پامالی کا علمی و غیر جانبدارانہ جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
جدید دور کے سب سے زیادہ اثر انگیز میڈیم ” بصری ابلاغ ” (Visual Media) کے ذریعے مغرب میں پیش کی جانے والی سیرت طیبہ، اسلامی تاریخ اور سوانحی فلموں و دستاویز کا احاطہ کیا ہے ۔آجکل بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مغرب میں پیدا ہونے والے اسلامو فوبیا کے مقابلے میں بصری میڈیم کے تعمیری اور دفاعی کردار کو اجاگر کیا جا رہا ہے ہے تاہم اس نقطہ نظر کا اگر علمی و شرعی ،اصطلاحی و فکری نقطہ نظر سے غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو اس میں کئی بنیادی علمی سقم اورمنہاجی خامیاں سامنے آتی ہیں ۔
ہمارا موضوع یہاں "نعتیہ بصری ادب کی اصطلاحی حقیقت ہے ”
(The Terminological Reality of Na’tiya Literature)
ہے آئیے اس پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہیں:
ادبی اور ذرائع ابلاغ کی اصطلاح میں، بصری ادب (Visual Literature) سے مراد وہ مواد ہے جو صرف پڑھنے یا سننے تک محدود نہ ہو بلکہ جس میں تصویر، متحرک مناظر (Video)، صوتی اثرات، خطاطی اور گرافکس کو متن (Text) کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جائے۔
جب اس اصطلاح کو نعت یا سیرت سے جوڑا جاتا ہے تو اس سے درج ذیل چیزیں مراد لی جاتی ہیں۔
۱: خطاطی اور کیلنڈرز/پوسٹرز (Visual Calligraphy):
حضور ﷺ کے اسمائے گرامی، نعتیہ اشعار، یا القاب کو اسلامی خطاطی اور بصری آرٹ کے ساتھ پیش کرنا۔
۲: نعتیہ ویڈیوز اور ویڈیو ایڈیٹنگ:
نعتیہ اشعار کی ایسی صوتی و بصری پیشکش جس میں پسِ منظر میں گنبدِ خضراء، حرمین شریفین، یا قدرتی مناظر کے بصری ٹکڑے (Visual Clips) استعمال کیے گئے ہوں۔
۳: ڈاکیومنٹریز
۴: بصری میڈیم کا مزاج
فلم، ڈاکیومنٹری، یا ویڈیو کا اسکرپٹ بنیادی طور پر ڈرامائی، تاریخی، یا ابلاغی متن ہوتا ہے، اسے "شاعری” یا "نعت” نہیں کہا جا سکتا۔
۵: سیرت بمقابلہ نعت:
کسی بصری مواد میں اگر تاریخ یا واقعاتِ زندگی دکھائے جا رہے ہیں تو وہ "بصری سیرت نگاری” (Visual Seerah) تو ہو سکتی ہے، لیکن "نعت” نہیں۔
۶: بصری پیشکش کے بنیادی اجزاء (Components of Visual Literature in Seerah/Na’at)
اگر ہم اس بصری مواد کی ساخت کو دیکھیں جو آج میڈیا پر موجود ہے، تو اسے تین درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
┌───────────────────────────────┐
│ نعتیہ و سیرتی بصری مواد │
└──────────────┬────────────────┘
│
┌───────────────────────────┼───────────────────────────┐
▼ ▼ ▼
┌─────────────────┐ ┌─────────────────┐ ┌─────────────────┐
│ بصری خطاطی │ │ صوتی و بصری │ │ بصری سیرت │
│ (Calligraphy) │
│ نعت (Videos) │ │ (Documentary/ │
└─────────────────┘ └───────Movies (Na’at Recitation)──────────┘
۱: بصری خطاطی:
الفاظ کا ایسا بصری آرٹ جو دیکھنے والے کے دل میں عقیدت پیدا کرے۔
۲: شعر کا بصری امتزاج:
نعتیہ شاعری کے ساتھ موزوں بصری مناظر کا پیراScript لگانا (جسے اجکل "Na’at Video Production” کہا جاتا ہے) ۔اس میں صرف مقدس مقامات کے مناظر کو دیکھا یا جاتا ہے اور نعت خواں پردے پر نعت پڑھتا ہے ۔
۳: تاریخی ڈاکیومنٹریز
جومناظر پر مشتمل ہو جس میں مقدس مقامات کے مناظر کی عکس بندی کی جاتی ہے تاکہ ناظرین ان مقامات کی اہمیت کو سمجھیں اور زیارت مقدسہ کرسکیں۔
۴: فلمیں
ایسی فلمیں جن میں حمد و نعت پڑھی جائے جیسا برصغیرکی بعض فلموں میں عقیدت کے جذبے سے پڑھی گئی اور یہ نامناسب محسوس نہیں ہوتی کیونکہ وہاں عقیدت و مودت کا خیال رکھا جاتا ہے ۔
مذکورہ بالا طریقے ازل سے رسول ﷺ سے محبت، عقیدت و مودت اور شرعی نکتہ نظر سے اہل علم و دانش کے یہاں رائج ہیں ۔
دور جدید میں نعت اور سیرت کے نام پر مغربی ہتھکنڈے
دور جدید میں مغربی ذرائع ابلاغ (Media)، بصری و تحریری ذرائع کے ذریعے نعت اور سیرتِ طیبہ ﷺ کے روایتی، علمی اور ایمانی مفہوم کو تبدیل کرنے یا اس میں ابہام پیدا کرنے کے لیے مختلف طریقے اور ہتکھنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔
مغرب میں جدید تقاضوں کے تحت پیغیمر اسلام ﷺ کی حیات طیبہ پر بننے والی جن فلموں کو سیرتی فلمیں کہہ کر سراہا جا رہا ہے وہ تمثیل نگاری کی بدولت اہل ایمان کی آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلہٖ وَسَلَّم سے محبت ،مودت میں کمی کا باعث. بن رہی ہے ۔
اسطرح بعض مغربی پروردہ مصنفین کی لاعلمی ہے کہ وہ نعت کی علمی و روایتی تعریف کو یکسر نظر انداز کر کے اپنا راگ الاپنے کی کوشش میں رطب اللسان ہیں جبکہ اسلامی علمی و ادبی تاریخ میں "نعت” ایک مخصوص اور متقین صنفِ سخن رہی ہے، جس کا تعلق نبی کریم ﷺ کی منظوم مدح، ثنا، اور عقیدت سے ہے۔ بصری اسکرپٹ کی حقیقت میں فلم، ڈاکیومنٹری، اینیمیشن یا ویڈیو کا اسکرپٹ بنیادی طور پر ڈرامائی، تاریخی، سوانحی یا ابلاغی متن (Visual Narrative) ہوتا ہے۔ اسے کسی طور پر ان فلمز اور دستاویز کو "نثری نعت” اور ” نعتیہ شاعری” یا "نعت ادب ” کا نام نہیں دیا جا سکتا۔
آجکل بعض مصنف بصری ذرائعِ ابلاغ کے مواد کے لیے نعت کو بطور بصری ادب ایک نئی اصطلاح کے متعارف کروانا چاہتے ہیں جو تصنع پر مبنی عنوان ہے اور علمی تسامح اور اصطلاحی مغالطے (Conceptual Confusion) کی واضح مثال ہے جس سے نعت جیسی مقدس صنفِ سخن کا روایتی اور شرعی حق متاثر ہوتا ہے ۔ فکری، شرعی اور صنفی اعتبار سے اس سے معاشرے میں انتشار پھیلنے کا اندیشہ بھی بڑھ سکتا ہے ۔
جدید مغربی میڈیا کی تکنیکی چمک دمک سے متاثر ہو کر جو محقق بصری ڈراموں اور فلموں کو "نعتیہ ادب” کا درجہ دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں وہ قصدا تجسیم سے پیدا ہونے والے ایمانی خطرات سے چشم پوشی اختیار کر رہے ہیں جس سے اجتناب برتنا ضروری ہے تاکہ نسل نو کے کچے ذہنوں کو ان خرفات سے بچایا جا سکے۔
بعض مغرب پسند طبقوں کے یہاں جن فلموں اور اس موضوع پر بننے والی اینیمیٹڈ اور دستاویزی فلموں کو سراہا جا رہا ہے ہے، وہ تجسیم اور کردار نگاری کے حوالے سے شدید علمی و فقہی سوالات کھڑے کرتی ہیں۔ جس کو ہم ان نکات کی روشنی میں سمجھتے ہیں ۔
۱: عدمِ ثانی کا عقیدہ :
اسلامی عقیدے کی رو سے کائنات میں کوئی عام انسان، اداکار یا فرد انبیاءؑ، صحابہ کرامؓ، اور اہل بیتؑ کے مقام و مرتبے کا ثانی تو دوروہ ان کے سائے کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔
مثلا ‘ ایک طرف تو قرآن میں اللہ فرماتا ہے
( سورہ احزاب :40)
حضرت حسان ؓ اس ضمن میں فرماتے ہیں
"وَأَحسَنُ مِنكَ لَم تَرَ قَطُّ عَيني
وَأَجمَلُ مِنكَ لَم تَلِدِ النِساءُ
خُلِقتَ مُبَرَّءً مِن كُلِّ عَيبٍ
كَأَنَّكَ قَد خُلِقتَ كَما تَشاءُ”
اردو نعت گو شعرا اس ضمن میں لکھتے ہیں
* اُن کا سایہ نہیں ان کا ثانی نہیں
* نہ کوئی آپ جیسا تھا نہ کوئی آپ جیسا ہے
* کوئی مثل مصطفیؐ سا کوئی تھا نہ ہے نہ ہوگا۔
دوسری جانب مغرب پسندانہ سوچ رکھنے والے محقق و ناقدین اس طرح کی توہین آمیز فلموں کو نہ صرف سراہ رہے بلکہ نعتیہ ادب میں آجکل اس اصطلاح کو رائج کرنا چاہتے ہیں جس کی مذمت ضروری ہے ۔
۲: شبہات / تجسیم :
جب کوئی عام اداکار (جو اپنی نجی زندگی میں اخلاقی نقائص کا حامل ہو سکتا ہے) انبیاء یا مقدسان کی شباہت اختیار کرتا ہے يا ان کا کردار ادا کرتا ہے، تو یہ تعظیم کے بجائے مقدس ہستوں کی قدر میں کمی (Devaluation) کا سبب بنتا ہے۔
۳: ہمارا فکری تضاد:
یہ ایک بڑا فکری تضاد ہے کہ ایک طرف تو ہم مغرب میں رسول اکرم ﷺ کے خاکے بننے پر ناموسِ رسالت کا نام لے کر شدید احتجاج کرتے ہیں، اور دوسری طرف جب اسلامی تاریخ یا سیرت پر بننے والی فلموں میں انبیاء ، امہات المومنینؓ ( چاہیے بذریعہ پیغام کسی ادکاریا ادکارہ کے ہو)، صحابہؓ و صحابیاتؓ ،اہل بیتؑ یا دیگرمقدسان کے سوانح کو جب اداکاروں کے ذریعے ڈرامائی انداز میں پیش کیا جاتا ہے تو بعض کم فہم اسے "عقیدت کا اظہار” اور ” ،سیرتی فلم” اور بصری نعت” کہہ کر سراہتے ہیں۔ یہ رویہ حرمت اور تعظیم کے اسلامی تصورات کے منافی ہے۔ اسی طرح رسول ﷺ کے پیغام کو فلم” The Massege ” میں حضرت حمزہ ؓ کا کردار نبھانے والے اداکار کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا جاتا رہا ۔کم فہم لوگوں کو کون سمجھائے کہ یہ سب توہین ہی کے زمرے میں آتا ہے ۔ایک عام انسان کی آواز انبیاء و صحابہ کو نہیں دے سکتے ۔ایسی فلموں کی دین اسلام میں گنجائش نہیں کجا کہ ان کو ” نعتیہ ادب ” کہنا ۔
اب فلموں میں کرداروں کا جائزہ لیتے ہیں
اہم مذہبی اور تاریخِ انبیاء پر مبنی فلموں کے مرکزی کرداروں اور ان کو ادا کرنے والے اداکاروں کی تفصیل درج ذیل ہے:
۱. دس احکام (The Ten Commandments – 1923)
* حضرت موسیٰ علیہ السلام: تھیوڈور رابرٹس (Theodore Roberts)
* فرعون (رعمسیس): چارلس ڈی روچے (Charles de Rochefort)
۲. دس احکام (The Ten Commandments – 1956)
* حضرت موسیٰ علیہ السلام: چارلٹن ہسٹن (Charlton Heston)
* فرعون (رعمسیس دوم): یول برینر (Yul Brynner)
* صفورہ (زوجہ حضرت موسیٰؑ): یوان ڈی کارلو (Yvonne De Carlo)
۳. دس احکام (The Ten Commandments – 2006)
* حضرت موسیٰ علیہ السلام: ڈوگرے سکاٹ (Dougray Scott)
* فرعون (رعمسیس): پال رائس (Paul Rhys)
۴. نوح ؑ(Noah – 2014)
* حضرت نوح علیہ السلام: رسل کرو (Russell Crowe)
* زوجہ حضرت نوح ؑ(ناعمی): جینیفر کونلی (Jennifer Connelly)
* حضرت متوشلح (دادا حضرت نوح): اینتھنی ہاپکنز (Anthony Hopkins)
۵. بن حر (Ben-Hur – 1959)
* یہوداہ بن حر (مرکزی کردار): چارلٹن ہسٹن (Charlton Heston)
* مسالا (رومی کمانڈر): سٹیفن بوئڈ (Stephen Boyd)
* ایسٹر: ہیو گریفتھ (Hugh Griffith)
۶. بن حر (Ben-Hur – 2016)
* یہوداہ بن حر: جیک ہسٹن (Jack Huston)
* حضرت عیسیٰ علیہ السلام: روڈریگو سانتورو (Rodrigo Santoro)
* شیخ افتریم: مورگن فری مین (Morgan Freeman)
۷. مسیح کی آخری آزمائش (The Last Temptation of Christ – 1988)
* حضرت عیسیٰ علیہ السلام: ولیم ڈیفو (Willem Dafoe)
* یہوداہ اسخریوطی: ہاروی کیٹل (Harvey Keitel)
* مریم مجدلیہ: باربرا ہرشی (Barbara Hershey)
۸. عیسیٰؑ (Jesus – 1979)
* حضرت عیسیٰ علیہ السلام: برائن ڈیکن (Brian Deacon)
* مریم (والدہ حضرت عیسیٰؑ): روائینا کوپر (Rivka Neuman)
* پطرس (حواری): نکو نتاۓ (Niko Nitai)
۹. ابراہیم ؑ(Abraham – 1994)
* حضرت ابراہیم علیہ السلام: رچرڈ ہیرس (Richard Harris)
* بی بی سارہ (زوجہ حضرت ابراہیمؑ): باربرا ہرشی (Barbara Hershey)
* حضرت لوط علیہ السلام: گوٹز جارج (Götz George)
۱۰. یوسفؑ (Joseph – 1995)
* حضرت یوسف علیہ السلام: پال مرکیوریو (Paul Mercurio)
* زلیخا: لیسلی این وارن (Lesley Ann Warren)
* حضرت یعقوب علیہ السلام: مارٹن لینڈاؤ (Martin Landau)
* پوتیفار (عزیزِ مصر): بین کنگسلے (Ben Kingsley)
فلم ”الرسالہ“ (The Message – 1976) اور بی بی سی کی ڈاکیومنٹری میں جن شخصیات کو دکھایا گیا ہے، ان کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے:
۱. فلم ”الرسالہ“ (The Message – 1976)
اس فلم کے ڈائریکٹر مصطفیٰ العقاد نے دو نسخے (English & Arabic Versions) بیک وقت شوٹ کیے تھے: ایک انگریزی زبان میں (ہالی ووڈ اداکاروں کے ساتھ) اور دوسرا عربی زبان میں (عرب دنیا کے نامور اداکاروں کے ساتھ)۔
الف) انگریزی النسخہ (English Version)
* انتھونی کوئن (Anthony Quinn):
* کردار: حضرت حمزہ بن عبد المطلبؓ (نبی کریم ﷺ کے چچا)
* فلم میں ان کے کردار کو مرکزی حیثیت دی گئی اور اسلام کی ابتدائی شجاعت کو ان کے ذریعے دکھایا گیا۔
* مائیکل انصارہ (Michael Ansara):
* کردار: ابو سفیان بن حرب (ابتدائی دور میں اسلام کے شدید مخالف اور فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کرنے والی شخصیت)
* آئرین پاپاس (Irene Papas):
* کردار: ہند بنت عتبہ (ابو سفیان کی بیوی، جو ابتدا میں مسلمانوں کے خلاف فعال تھیں)
* جونی سیکا (Johnny Sekka):
* کردار: حضرت بلال حبشیؓ (موذنِ رسول ﷺ)
* مائیکل فارسٹ (Michael Forest):
* کردار: حضرت خالد بن ولیدؓ (فتح مکہ سے قبل اور بعد کے اہم سپہ سالار)
* گولک بائی (Garrick Hagon):
* کردار: حضرت عمار بن یاسرؓ
* ڈیمین تھامس (Damien Thomas):
* کردار: حضرت زید بن حارثہؓ (نبی کریم ﷺ کے منہ بولے بیٹے اور جلیل القدر صحابیؓ)
* اینڈریو کیر (Andrew Keir):
* کردار: عبداللہ بن ابی (مدینہ کا منافق اعظم)
* ولفریڈ برامبل (Wilfrid Brambell):
* کردار: ابو لہب (نبی کریم ﷺ کا چچا اور شدید مخالف)
* مارٹن بینسن (Martin Benson):
* کردار: ابو جہل (قریش کا سردار اور اسلام کا شدید ترین دشمن)
* روزیٹ زغبی (Rosalie Crutchley):
* کردار: حضرت سمیہؓ (اسلام کی پہلی شہید خاتون، حضرت عمارؓ کی والدہ)
ب) عربی النسخہ (Arabic Version)
عرب دنیا کے لیے بنائی گئی فلم میں اداکاروں کے نام اور ان کے کردار یہ تھے:
عربی ورژن (الرسالة) کے اداکار:
(اس ورژن میں مصطفیٰ عقاد نے عرب فنکاروں کو کاسٹ کیا تھا)
*حضرت حمزہؓ: عبد اللہ غیث (Abdullah Gaith)
*حضرت بلالؓ: علی احمد سالم (Ali Ahmed Salem)
*حضرت جعفر بن ابی طالبؓ: منیر معاصری (Mounir Maasri)
*حضرت عمار بن یاسرؓ: عبد الرحیم الزرقانی (Abderrahmane Zouida)
*حضرت سمیہؓ: ثناء جمیل (Sanaa Gamil)
* حمدی غیث (Hamdy Gheith): ابو سفیان بن حرب
* مونا واصف (Muna Wassef): ہند بنت عتبہ
* محمود سعید (Mahmoud Said): حضرت خالد بن ولیدؓ
* احمد مرعی (Ahmed Marei): حضرت زید بن حارثہؓ
* حسن الجندی (Hassan Al-Jundi): ابو جہل
۲. اینیمیٹڈ فلم ”محمد: دی لاسٹ پرامس“ (2002)
(Muhammad: The Last Prophet)
یہ چونکہ ایک کارٹون/اینیمیٹڈ (Animated) فلم تھی، اس لیے اس میں اداکاروں کی صورتیں نہیں تھیں بلکہ انہوں نے صرف آوازیں (Voice Acting) دی تھیں:
اس اینیمیٹڈ فلم (Muhammad: The Last Prophet) میں حضرت بلالؓ کا مرکزی اینیمیٹڈ کردار نہیں دکھایا گیا تھا، بلکہ وہ صرف منظر کے پسِ پردہ (Background/Crowd Sequence) کا حصہ تھے۔
صحابہ کرامؓ، صحابیاتؓ اور خاندانِ نبوت کے صداکار (Voice Cast)
حضرت حمزہ بن عبد المطلبؓ:
صداکار: سی ایس برکلے (C.S. Berkeley)
حضرت جعفر بن ابی طالبؓ:
صداکار: مارک ہنٹ (Mark Hunt)
حضرت عمار بن یاسرؓ:
صداکار: جیکب لونگسٹن (Jacob Livingston)
حضرت سمیہ بنت خیاطؓ (پہلی شہید صحابیہ):
صداکار: میری لوئس جیمیل (Mary Louise Gemmill)
حضرت یاسر بن عامرؓ:
صداکار: سی ایس برکلے (C.S. Berkeley)
فلم کے دیگر اہم کرداروں کے صداکار
مالک (مرکزی خیالی کردار / راوی): برائن نِسن (Brian Nissen)
ابو طالب (چچا نبی کریم ﷺ): ایلی ایلم (Eli Allem)
ابو سفیان: نکولس کاڈی (Nicholas Kadi)
ابو جہل: رچرڈ ایِپکار (Richard Epcar)
عمرو بن العاص: نیل کیپلان (Neil Kaplan)
اصحمہ نجاشی (شاہِ حبشہ): لیون مورینزی (Leon Morenzie)
* رچرڈ ایپکار (Richard Epcar): ابو طالب (نبی کریم ﷺ کے چچا) اور ابو سفیان کی آواز
* الی سون روزن فیلڈ / بی بی سی وائسز: مختلف صحابہ اور قریش کے سرداروں کے لیے صداکاری کی گئی۔
۴. بی بی سی ڈاکیومنٹری ”دی لائف آف محمد“ (2011)
(The Life of Muhammad – BBC)
یہ ایک مستند ڈاکیومنٹری (Documentary) تھی، جس میں ڈرامائی کردار نگاری (Re-enactment) کی جگہ حقائق اور تجزیے شامل تھے:
* راجح عمر (Rageh Omaar):
* کردار: میزبان / پریزینٹر (Presenter)
* یہ صومالی نژاد برطانوی صحافی ہیں جنہوں نے مکہ، مدینہ، یروشلم اور برطانیہ کے سفر کے دوران اس ڈاکیومنٹری کی میزبانی کی۔
* مختلف علماء اور تاریخ دان:
* اس میں کسی اداکار نے صحابہ یا انبیاء کا کردار ادا نہیں کیا، بلکہ ڈاکٹر طارق رمضان، پروفیسر لیلیٰ احمد، اور زیاد الدین سردار جیسے مسلم و غیر مسلم مفکرین نے گفتگو اور تجزیہ پیش کیا ہے ااور یقینا اس کے لیے بھی کسی عام آدمی نے بطور صدا کار یہ خدمات انجام دی ہونی۔
( نوٹ)فلم ”الرسالہ“ واحد ایسی بڑی ہالی ووڈ/عرب فلم تھی جس میں عام اداکاروں نے حضرت حمزہؓ، حضرت بلالؓ، حضرت زیدؓ، اور حضرت عمارؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کے کردار ادا کیے، جبکہ نبی کریم ﷺ، اہل بیتؑ اور خلفائے راشدینؓ کو تمثیل نگاری (Representation) سے مکمل طور پر مستثنیٰ رکھا گیا۔
اب دیگر اس موضوع ہر بننے والی فلموں کا جائزہ لیتے ہیں
اسی طرح اہل بیتؑ پر بنے والی فلمیں بھی گردش کر رہی ہیں جن میں انبیاء کرام اور اہل بیتؑ اطہار (علیہم السلام) کی ذواتِ مقدسہ پر بننے والی بین الاقوامی اور مشرقِ وسطیٰ کی معروف فلموں اور سیریز میں تمثیل نگاری (بازیگری) کی تفصیل درج ذیل ہے۔
ان میں سے کچھ فلموں اور ڈراموں میں فقہی و شرعی اختلاف کے باوجود انبیاء یا اہل بیتؑ کے چہرے اور کردار براہِ راست دکھائے گئے، جبکہ کچھ میں چہرے کو نور سے چھپایا گیا یا پسِ پردہ رکھا گیا جو نامناسب ہے جس کی بھر پور مزمت ہونی چاہیے ۔
۱: انبیاء کرام علیھم السلام کی حیات مبارکہ پر مبنی فلموں کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے ۔
انبیاء کرام (علیہم السلام) پر بننے والی فلمیں
الف) حضرت یوسف علیہ السلام
* فلم/سیریز: ”یوسف پیامبر“ (Youssef Al-Seddeeq – 2008، ایرانی سیریز)
* مصطفیٰ زمانی (Mustafa Zamani): حضرت یوسف علیہ السلام کا مرکزی کردار ادا کیا۔
* حسین جعفری (Hossein Jafari): حضرت یوسف علیہ السلام کے بچپن کا کردار۔
* محمود پاک نیت (Mahmoud Pak Niat): حضرت یعقوب علیہ السلام۔
* کتایون ریاحی (Katayoun Riahi): زلیخا کا کردار۔
ب) حضرت عیسیٰ علیہ السلام
* فلم: ”دی پیشن آف دی کرائسٹ“ (The Passion of the Christ – 2004)
* جیمز کیویزل (Jim Caviezel): حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کردار۔
* مائیا مورگنسٹرن (Maia Morgenstern): حضرت مریم علیہا السلام۔
* مونیکا بیلوچی (Monica Bellucci): مریم مگدالین۔
* فلم: ”بشارتِ عیسیٰ“ (The Messiah – 2007، ایرانی فلم/سیریز)
* احمد سلیمان نیا (Ahmad Soleimani Nia): اسلامی و قرآنی نقطہ نظر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کردار ادا کیا۔
ج) حضرت موسیٰ علیہ السلام
* فلم: ”دی ٹین کمانڈمنٹس“ (The Ten Commandments – 1956)
* چارلٹن ہسٹن (Charlton Heston): حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کردار۔
* یول برینر (Yul Brynner): فرعون (رامسس دوم)۔
د) حضرت سلیمان علیہ السلام
* فلم: ”ملکِ سلیمان“ (The Kingdom of Solomon – 2010، ایرانی فلم)
* امین زندگانی (Amin Zendegani): حضرت سلیمان علیہ السلام کا مرکزی کردار۔
* محمود پاک نیت (Mahmoud Pak Niat): یازار (کاہن)۔
اہل بیتؑ پربھی فلمیں بنائی گئی جن میں کہانی نویس اور ڈائریکٹر نے ادکاروں کے زریعے تمثیل نگاری اور واقعہ نگاری کے ذریعے ان مقدس ہستوں کی توہین کی ہے ۔ان پر فلمائی گئی فلموں کی تفصیل کچھ یوں ہے
۲. اہل بیتؑ اطہار (علیہم السلام) پر بننے والی فلمیں اور سیریز
الف) حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا
* فلم: ”دی لیڈی آف ہیون“ (The Lady of Heaven – 2021، برطانوی فلم)
* تمثیل نگاری کی نوعیت: اس فلم میں حضرت فاطمہؑ اور دیگر اہل بیتؑ کا چہرہ کسی اداکار نے ادا نہیں کیا، بلکہ سی جی آئی (CGI / Computer-Generated Imagery) اور کمپیوٹر اینیمیشن کے ذریعے ایک نورانی شبیہ بنائی گئی تھی۔
* ریاض معلوف (Ray Fearon): ابو بکر کا کردار۔
* سام ڈاربی شائر (Sam Derbyshire): عمر کا کردار۔
ب) امام حسن اور امام حسین علیہما السلام
* سیریز: ”الحسن والحسین“ (2011، عربی سیریز – کویت/سیریا)
* خالد الغویری (Khaled Al-Ghuwairi): امام حسن علیہ السلام کا کردار ادا کیا۔
* محمد المجالی (Muhammed Al-Majali): امام حسین علیہ السلام کا کردار ادا کیا۔
* رشید عساف (Rashid Assaf): حضرت معاویہ بن ابی سفیان۔
* (نوٹ: اس سیریز میں بعض عرب علماء کے فتاویٰ کے بعد دونوں آئمہ کے چہرے واضح دکھائے گئے تھے، جس پر عالمِ اسلام میں کافی بحث ہوئی)۔
* فلم: ”رستاخیز“ (Hussein Who Said No / Resurrection – 2014، ایرانی فلم)
* آرش آصفی (Arash Asefi): بکیر بن حر (حر بن یزید ریاحی کے بیٹے) کا مرکزی کردار۔
* حسن پورشیرازی (Hassan Pourshirazi): عمر بن سعد۔
* فرهاد قائميان (Farhad Ghaemian): ابنِ زیاد۔
* (نوٹ: اس فلم میں امام حسین علیہ السلام کا کردار براہِ راست نور سے چھپایا گیا تھا، جبکہ حضرت عباس علمدارؑ کے کردار کو دکھانے پر ایران میں شدید احتجاج کے بعد فلم کی نمائش روک دی گئی تھی)۔
ج) حضرت امام علی رضا علیہ السلام
* سیریز: ”ولایتِ عشق“ (2000، ایرانی سیریز)
* فرخ نعمتی (Farrokh Nemati): امام علی رضا علیہ السلام کا کردار۔
* تمثیل نگاری کی نوعیت: اداکار نے جسمانی حرکات و سکنات ادا کیں لیکن امام کا چہرہ مبارک مکمل طور پر نورانی ہالہ (Light effect) سے چھپایا گیا تھا اور ان کی آواز کو الیکٹرانکلی ایڈٹ کر کے پیش کیا گیا تھا گو ایسا کرنا بھی ممنوع ہے مگر ایسا کیا گیا ۔
* دانیال حکیمی (Daniel Hakimi): مامون الرشید عباسی۔
د) حضرت مختار ثقفی (ایک اہم اسلامی رہنما اور قیام کنندہ)
* سیریز: ”مختار نامہ“ (Mokhtarnameh – 2010)
* فریبرز عرب نیا (Fariborz Arabnia): مختار ثقفی کا مرکزی کردار۔
* رضا رویگری (Reza Rooygari): کیان ایرانی (مختار کے سالار)۔
* فرهاد اصلانی (Farhad Aslani): عبید اللہ بن زیاد (ابنِ زیاد)۔
* مهدی فخیمزاده (Mehdi Fakhimzadeh): عمر بن سعد۔
* (نوٹ: اس سیریز میں حضرت عباس علیہ السلام کی جنگ کا منظر ہٹا دیا گیا تھا تاکہ ان کا چہرہ پردے پر نہ آئے)۔
اب اس معلومات کے بعد علمی و فکری نوعیت کے چند سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا ہم ان تمام حقائق کو سمجھتے ہوئے ایسی فلموں کو "بصری اعتبار سے نعتیہ ادب ” کہہ سکتے ہیں جس میں عام لوگوں کو نفوس ِمقدسہ بنا کر ہیش کیا ہو ؟ کیا یہ توہین اور گستاخی نہیں؟ تو کیوں ہم مغرب میں چھپنے والے ان خاکوں کی مذمت کرتے ہیں جو ہمارے انبیاء خصوصاً رسول ﷺ کی توہین پر مبنی ہوتے ہیں ؟ اگر وہ توہین کے زمرے میں آتا ہے تو یہ فلمیں کیوں نہیں؟ کیا آپ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ مغرب کے تجارتی مقاصد کا ایجنڈا نہیں ہیں ؟ کیا آپ اس ایجنڈے کی بلا کسی مقصد تشہیر نہیں کر رہے ؟
۳: مغربی مقاصد اور دفاعی مرعوبیت (Apologetic Approach) :
مغربی ہدایت کاروں، ہسٹری چینل، اور بی بی سی کی ڈاکیومنٹریز (مثلاً Muhammad: Biography یا Islam: Empire of Faith) کی تحسین میں انتہائی نرم اور مرعوبانہ رویہ اختیار کیا ہے جو ان کے ظاہر و باطن کو نمایاں کرنے کے لیے کافی ہے ۔ یہ بھی مغربی ایجینڈا ہے ۔مغرب اپنے تجارتی مقاصد کے مسلمانوں کے استعمال ہونے والی مذہبی اشیاء درامد و برآمد کرتا آیا ہے ۔اس کے علاوہ جنگ و جدل کے ساتھ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتا رہا ہے ۔ اس لیے یہ نکتہ قابل غور ہے کہ ساز باز مغرب نے اکثر اسلامی تاریخ اور سیرت کے بیانیے کو اپنے مخصوص فکری سانچے (Western Liberal Framework) میں ڈھالنے کے لیے کچھ اسلامی ممالک کے ڈائریکٹرز اور کہانی سازوں کے ساتھ مل کر کام کیا جنہوں نے پیسے کےحصول کے لیے مقدس ہستوں کی تجسیم کرکے اہل ایمان کے دلوں کو ٹھیس پہنچانے کے ساتھ نفوسِ مقدسہ کی توہین کی ہے۔
۴: عصری لبرلائزیشن:
ایسی فلموں کے ذریعے سیرتِ طیبہ کے زمینی اور عملی حکمتِ عملی والے پہلوؤں کے نام پر اکثر و بیشتر معجزاتی اور الہامی ہیبت کو کم کر کے پیش کیا گیا، جسے کتاب میں بلا تنقید تسلیم کر لیا گیا۔
۵: شرعی حدود کی پامالی:
بعض مغربی تہذیب کے دلدادہ آزاد خیال مصنف بلا تحقیق بصری ادب کی تکنیکی کامیابیوں پر تو بحث کرتے نظر آتے ہیں لیکن عالمِ اسلام کے مستند فقہی اداروں (مثلاً الازہر، رابطہ عالمِ اسلامی) کے ان فتاویٰ کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں جن میں انبیاء، صحابہ اور اہل بیتؑ کی تجسیم اور اداکاری کو قطعی طور پر ممنوع اور گناہ قرار دیا گیا ہے۔
۶. بصری ابلاغ کی شرعی حدِ جواز (Permissible Boundary):
تحقیق کا تقاضا ہے کہ بصری میڈیم کی افادیت کو ماننے کے ساتھ ساتھ اس کی شرعی حدِ جواز بھی متعین کی جائے۔
۷: جائز و ناجائز حدود :
اہل علم جانتے ہیں کہ بصری ابلاغ صرف اس حد تک مفید اور جائز ہو سکتا ہے جہاں تاریخی مقامات (مکہ، مدینہ، غارِ حرا)، جغرافیائی نقشے، اور صرف آواز (Voiceover/Narrative) کے ذریعے حیاتِ طیبہ اور واقعات بیان کیے جائیں، اور پسِ منظر میں کوئی پاکیزہ بصری مواد ہو جیسے مقامات مقدسہ کے مناظر فلمبند کیے گئے ہوں۔ جہاں کسی انسان کی صورت میں کسی نبی، صحابی یا مقدس ہستیوں کی شباہت، ڈرامائی تشکیل، آواز بذریعه صدا کاری یا بطور شخصیت اداکاری شامل کر دی جائے وہاں تعظیم کا پہلو ختم ہو کر توہین ، گناہ اور سلبِ ایمان کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
۸: دفاعی مرعوبیت (Defensive Apologetics):
بعض ناقد تو اس قدر مرعوب ہیں کہ وہ مغربی فلموں اور دستاویزی فلموں کی تحسین کرر ہے ہیں اور اسے ۱۱/۹ کے بعد مسلم دنیا کی دفاعی حکمت عملی کے تحت بننے والی فلمیں کہہ کر ان کا دفاع کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے ایسےکم فہم لوگ مغرب کے ایجنڈے کی تشہیر کرنا چاہتے ہیں اور ان کے بصری میڈیا کے اثرات سے بے حد متاثر ہیں کہ وہ شرعی و ایمانی خطرات کو بھی نظر انداز کر گئے ہیں۔ بعض کم فہم اس کے حامی ہیں اور وہ کھل کر بصری ابلاغ کی تکنیک ،ڈائریکشن اور فن ادکاری پر تو بات کر تے ہیں اور سراہتے ہیں لیکن اسلامی فقہی کونسلوں جیسے جامعہ الازہر اور دیگر اسلامی کونسلوں کے فتاوٰی کو زیر بحث نہیں لائے جو تجسیم انبیاء ،و صحابہؓ اور دیگر نفوسِ مقدسہ کو ممنوع قرار دیتے ہیں ۔ اہل ایمان کا عقیدہ ہے کہ کسی عام انسان کو انبیاء اکرام کی صورت تجسیم کر کے دکھایا جانا مسحیی روایت کا حصہ ہے لیکن بطور مسلم ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ نفوس مقدسہ کی تجسیم حرام و گناہ ہے ۔ مسلم تاریخ پرمبنی بعض فلموں میں رسول ﷺ کے پیغامات کو پہنچایا گیا جیسے ” The Message” میں حضرت حمزہ کی زبانی کلمات ادا ہوئے ۔اسی طرح اُمہات المومنین کے پیغمامات کسی ادکارہ یا اداکار کے زریعے پہنچائے گئے صحابہؓ وصحابیاتؓ و اہل بیتؑ اطہارؓ کا کردار یا بذریعہ صدا کار آواز دے کر پیش کیا گیا ۔ اہل ایماں کے نزدیک ایسا کرنا صریحا گناہ اور سلب ایمان کا باعث ہے اور در پردہ عقیدہ ختم نبوت پر بھی کاری ضرب ہے کوئِی کیسے رسول ﷺ کی آواز کی نقل کر سکتا ہے ۔
یہی اسلامی فقہا کا ایک عالمگیر اورمتفقہ ضابطہ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ کائنات میں کوئی شخص انبیاء علیہ السلام، صحابہ رضوان اللہ علیھم اور اہل بیت علیہ السلام کا ثانی یا ان کا سایہ بھی نہیں ہوسکتا ہے یقینا ایسا سوچنا ہی گناہ ہے اور حماقت ہے ۔ ان باتوں سے مصنف کی شرعی حساسیت سے چشم پوشی واضع ہوتی ہے ۔
۹: اصطلاح کا بے جا تصنع:
بصری ادب کو ” نعتیہ بصری ادب ” نام دیا جانا مناسب نہیں ہے یہ علمی اعتبار سے زبردستی کی اصطلاح سازی کی ناکام کوشش ہے ۔جسے سنجیدہ علمی حلقوں میں تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔
۱۰: مغربی ذرائع ابلاغ کے تجارتی اور فکری ایجنڈے
مغرب تجارت کی غرض سے مسلمانوں کی مذہبی اشیاء بناتا ہے اس لیے مسلمانوں کو ان ہتھکنڈوں کو سمجھے بغیر ان کی تکنیکی تزیئن سے مرعوب ہو کر مقدس دینی اصطلاحات کو پامال کرنا لمحہ فکریہ ہے
بصری اصطلاح میں ان فلموں کو نعتیہ ادب یا سیرتی نعت کے نام پر تجسیمِ مقدسان کی پردہ پوشی ایک ایسا اصطلاحی تصنع ہے جسے سنجیدہ علمی اور شرعی حلقوں میں تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ بصری نعت کو ہم اس صورت قبول کر سکتے جب وہ نعت خواں کی آواز ،صدا کار کی نثر و نظم میں تحت اللفظ ،دستاویزی فلموں میں مقامات مقدسہ کے مناظر اور خطاطی پر مبنی ہو بصورت دیگر ایسی سیرت کے نام پر بننے والی فلمیں قابل قبول نہیں ہیں نہ ہی ہم ان کو ” بصری ادب ” یا ” بصری نعت ” کہہ سکتے ہیں.
ایک ذمہ دار ناشر اور محقق کی یہ دینی و علمی ذمہ داری ہے کہ اشاعت سے قبل مضمون اور کتب کے مواد کا تنقیدی و شرعی نقطہ نظر سے محاکمہ کریں۔ ایسا مواد جو نسلِ نو میں فکری مغالطے پیدا کرے یا فقہی مسلمات کی پامالی کا باعث بنے اس لیے اس کی ترویج سے گریز کرنا چاہیے۔ حق اور تقدیسِ سیرت کی حفاظت ہی ہر علمی و ادبی کاوش کا اصل سرمایہ ہے۔ دعا گو ہوں اللہ اس فتنے کے شر سے نسل نو کو محفوظ رکھے ،آمین ثم آمین ۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |