لمبی دوڑ
صفدر علی حیدری
سردیوں کی ایک دھند آلود صبح تھی۔
سورج ابھی پوری طرح جاگا نہیں تھا۔ شہر کی گلیاں سفید دھند کی چادر اوڑھے خاموش کھڑی تھیں۔ دور مسجد سے فجر کی اذان کی آخری صدائیں فضا میں تحلیل ہو رہی تھیں اور درختوں کی ننگی شاخوں پر شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح لرز رہے تھے۔
حارث چھت کی منڈیر پر کہنیاں ٹکائے شہر کو دیکھ رہا تھا۔
اس کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا، مگر چائے کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
وہ شہر کو نہیں، اپنے گزرے ہوئے برسوں کو دیکھ رہا تھا۔
اسے محسوس ہوتا تھا جیسے ہر چھت، ہر گلی اور ہر دیوار اس کی زندگی کا کوئی نہ کوئی باب جانتی ہو۔
کچھ فاصلے قدموں سے طے ہوتے ہیں، کچھ برسوں سے، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان اپنے دل کے اندر طے کرتا ہے۔
حارث کا اصل سفر انہی اندرونی راستوں پر جاری تھا۔
نیچے گلی میں چند نوجوان دوڑ لگاتے ہوئے گزرے۔ ان کی ہنسی، ان کے قہقہے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی ضد نے اچانک اس کے ذہن کا ایک بند دروازہ کھول دیا۔
وہ برسوں پیچھے چلا گیا۔
"حارث… جلدی کرو… دوڑ شروع ہونے والی ہے!”
وہ شاید دس برس کا تھا۔
اسکول کے میدان میں سالانہ کھیلوں کا دن تھا۔
سفید یونیفارم، کینوس کے جوتے اور چہرے پر ایک عجیب سا اعتماد۔
اسے یقین تھا کہ وہ دوڑ جیت جائے گا۔
تماشائیوں میں اس کے والد بھی کھڑے تھے۔
سادہ شلوار قمیص، پرانا سا کوٹ اور چہرے پر وہی مانوس مسکراہٹ۔
ریس شروع ہوئی۔
سیٹی بجی۔
تمام بچے تیر کی طرح نکلے۔
حارث بھی پوری طاقت سے بھاگا۔
چند لمحوں کے لیے وہ سب سے آگے تھا۔
پھر اچانک اس کا پاؤں ایک ابھرے ہوئے پتھر سے ٹکرایا۔
وہ منہ کے بل زمین پر گر پڑا۔
گھٹنے چھل گئے۔
ہتھیلیوں سے خون رسنے لگا۔
دوسرے بچے اسے پیچھے چھوڑتے ہوئے منزل کی لکیر پار کر گئے۔
کسی نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
حارث میدان کے بیچ بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
اسے دوڑ ہارنے کا غم کم تھا، سب کے سامنے گر جانے کی شرمندگی زیادہ تھی۔
اسی لمحے ایک سایہ اس کے سامنے آ کر رکا۔
وہ اس کے والد تھے۔
انہوں نے جھک کر پہلے اس کے کپڑوں سے مٹی جھاڑی، پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا پھر پیار سے پوچھا
"چوٹ تو نہیں آئی، بیٹا؟”
حارث نے روتے ہوئے کہا
"میں ہار گیا ہوں، ابو…”
والد مسکرائے۔
"نہیں…”
انھوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"تم ہارے نہیں ہو۔ تم صرف گرے ہو۔”
حارث نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔
والد نے میدان کی طرف اشارہ کیا۔
"ہار وہ مانتا ہے جو گرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے سے انکار کر دے۔”
پھر انھوں نے ایک ایسا جملہ کہا جو آنے والے برسوں میں حارث کی پوری زندگی کی بنیاد بننے والا تھا۔
"بیٹا… زندگی سو میٹر کی دوڑ نہیں ہوتی۔ یہ لمبی دوڑ ہوتی ہے ، میراتھن ریس ۔ اس میں وہ نہیں جیتتا جو شروع میں سب سے آگے ہو، بلکہ وہ جیتتا ہے جو آخر تک چلتا رہے۔”

میرا نام صفدر علی حیدری ہے ۔ پیدائش علی پور ضلع مظفر گڑھ کی ہے لیکن پلا بڑھا اوچ شریف میں ہوں اور رہائش بھی اسی شہر میں ہے ۔ایم فل اردو ہوں ایک استاد ہوں اور پچھلے تیس سال سے پڑھا رہا ہوں ۔ لکھنے کا آغاز بچپن سے کیا ۔ کالم نگاری بھی کی نامہ نگاری بھی ،پھر افسانہ نگاری اور افسانچہ نگاری کی طرف متوجہ ہوا ۔اب تک میری بارہ کتب شائع ہو چکی ہیں پچیس کتب زیر طبع ہیں شائع شدہ کتب کی تفصیل حسب ذیل ہے میری ایک کتاب کالمز پر ہے ” شہر خواب ” ایک ناول ہے ” عمران بٹہ عمران ” چار کتابیں ادب اطفال پر ہیں ” گھڑی کی ٹک ٹک ” ” ایک پہیے کی سائیکل” ” کمزور چوزا ” ” منٹو میاں ” چار افسانوں پر ہیں "مٹھی میں کائنات” ” ناقابل اشاعت ” ” من و سلویٰ ” ” الف سے یے تک ” ایک افسانچوں پر ہے ” ایک صفحے کے افسانچے ” میری تمام کتابوں پر ایم فل ، ایم اے اور بی ایس کی سطح پر کام ہو چکا ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |