"تصدیقی یادادشت کی واپسی” (Confirmative Memory Return)
انسانی زندگی کا یادادشت کے بغیر کوئی تصور نہیں۔ چیزوں کو یاد رکھنا اور یادادشت (Memory) کو بڑھانا، مضبوط کرنا، اور بھولی بسری چیزوں کو اپنے احساس تصدیق سے دوبارہ شعور پر لانا صرف زندگی کی بنیاد اور رنگا رنگی ہی نہیں، کائنات کو سمجھنا اور اس سے استفادہ کرنے کا تعلق بھی دماغی میموری ہی سے ہے۔
ہمارے دماغ میں میموری کا کوئی ایک خاص حصہ نہیں ہوتا۔ میموری دماغ میں کئی حصوں میں تقسیم ہو کر محفوظ ہوتی ہے۔ لیکن میموری کے یہ 3 حصے سب سے اہم ہیں۔ پہلے حصے کو "ہپوکیمپس (Hippocampus) کہتے ہیں، جسے "سیو بٹن” (Save Button) بھی کہا جاتا یے۔ یہ دماغ کے بالکل درمیان میں، دونوں ٹیمپل کے اندر ہوتا ہے جس کی شکل "سمندری گھوڑے” جیسی ہوتی ہے۔ یہ حصہ نئی میموری بنانے کا منیجر ہے، مثلا جو کچھ آپ ابھی پڑھ رہے ہیں، جس سے ابھی ملے ہیں، وہ سب پہلے ہپوکیمپس میں جاتا ہے، جو اسے "شارٹ ٹرم” (Short Term) سے "لانگ ٹرم” (Long Term) میں بدلتا ہے۔ اگر ہپوکیمپس ڈیمج ہو جائے تو آپ 5 منٹ پہلے کیا کھایا تھا، وہ بھی بھول جائیں گے۔ اس بیماری کو "ایمنیشیا” (Amnesia) کہتے ہیں۔
دماغ کی سب سے اوپر جھریوں والی پرت کو "سیریبرل کارٹیکس” (Cerebral Cortex) کہا جاتا ہے، جسے دماغ کی "ہارڈ ڈسک” (Hard Disk) سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ ایک بار ہپوکیمپس میموری کو پکا کر دے دے، تو وہ پورے کارٹیکس میں پھیل جاتی ہے۔
بصری میموری اوکسی پیٹل لوب Occipital Lobe کے پیچھے کی جانب، آواز، نام اور الفاظ کی میموری ٹیمپورل لوب Temporal Lobe کے سائیڈ میں اور حرکت و سکلز کی میموری فرنٹل اینڈ پیریئیٹل لوب Frontal and Parietal میں ہوتی ہے۔ آپ کے بچپن کی سائیکل چلانے، پرائمری سکول کے داخلے، نانا کا چہرہ اور "قومی ترانہ” وغیرہ، یہ سب چیزیں دماغ کی الگ الگ جگہوں میں محفوظ ہوتی ہیں۔
دماغ کا امیگڈالا Amygdala حصہ جسے "ہائی لائٹر” (High Lighter) بھی کہا جاتا ہے، ہپوکیمپس کے بالکل ساتھ واقع ہوتا ہے، اور اس کی شکل بادام جیسی ہوتی ہے۔ یہ "فیلنگز” Feelings یعنی جذبات کو محفوظ کرتا ہے، جو کسی واقعہ خوف، محبت، یا شرمندگی وغیرہ سے جڑے ہوتے ہیں۔ امیگڈالا، اس پر پیلا مارکر چلا دیتا ہے۔ اسی لیے ہمیں بچپن کا ڈراؤنا خواب یا پہلی محبت وغیرہ 50 سال سے زیادہ عرصے تک بھی یاد رہتی ہے۔
ایک اہم ترین بات جو دماغ کی میموری کے حوالے سے میرے لیئے ایک عرصے سے "مخمصہ” (Paradox) بنی ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ ہمارے "دماغ” (Brain) یا "ذہن” (Mind) کی وہ کونسی "جگہ اور صلاحیت” ہے، جو بھولی ہوئی چیزوں کے یاد آنے پر ہمیں 100 فیصد "یقین” کے ساتھ احساس دلاتی ہے کہ، "ہاں، یہ وہی چیز، نام یا واقعہ ہے”, جیسے میں کسی کا نام بھول جاتا ہوں اور کافی دیر تک سوچتا ہوں تو وہ اسی وقت یا کچھ دیر اور کچھ عرصے کے بعد یاد آتا ہے، تو مجھے کامل یقین ہو جاتا ہے: "ہاں یہ وہی نام ہے کہ جسے میں دوبارہ دماغ میں لانے کی کوشش کر رہا تھا”۔
دماغ کی میموری میں کوئی بھی بھولی بسری چیز "فائل” کی طرح پڑی نہیں ہوتی۔ یہ اربوں کھربوں نیورانز کے درمیان "کنیکشنز” (Connections) کی شکل میں ہوتی ہے۔ جب ہم کسی ماضی کی چیز کو یاد کرتے ہیں تو ہم دراصل وہ سرکٹ دوبارہ چلاتے ہیں۔ انسانی دماغی نیورانز تو کائنات کے کل ایٹموں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں۔ اگر ان سائناپسز (Synapses) کو اور نیورانز کے کائنات سے تعاملات کی تعداد کو بھی شامل کر لیا جائے تو یاد میں آنے والی ایسی چیز کی "واپسی” ایک "مارورائی حقیقت” (Supernatural Reality) بن جاتی ہے۔
ہمارے دماغ میں آئی یا یاد کی گئی کوئی بھی چیز کبھی فنا نہیں ہوتی۔ ایسی کوئی چیز جو ہمیں یاد نہ بھی آئے وہ ہمارے دماغ یا کائنات میں کسی جگہ موجود ضرور ہوتی ہے۔ اگر دماغی نیورانز اسے واپس ڈھونڈ لائیں تو ہمیں ایک انجانا سا اطمینان قلب محسوس ہوتا ہے۔ انسانی دماغ کی یادادشت کے اس حیران کن نظام کو ہم "تصدیقی یادادشت کی واپسی” (Confirmative Memory Return) کا نام دے سکتے ہیں۔ ہمارے دماغ کے اربوں کھربوں نیورانز کے علاوہ دل کے اندر سوچنے، فیصلہ کرنے اور یادادشت رکھنے والے نیورانز کی تعداد 40000 ہزار تک بتائی جاتی ہے۔ جب ایسی یاد واپس آتی ہے تو دل اور دماغ دونوں اسکی صداقت کی تصدیق کرتے ہیں۔
اکثر لوگ بھلکھڑ ہوتے ہیں۔ ہمیں چیزوں کو یاد رکھنے کیلیئے بار بار دہرانا پڑتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں: "چیزوں کو استعمال کرتے رہو یا تمھیں ان کو بھول جانا پڑے گا” (Use it or loose it) کیونکہ دماغی نیورانز کے جو کنکشنز استعمال نہیں کیئے جاتے، دماغ انہیں کاٹ دیتا ہے۔ دماغ کی "کنفرمیٹو میموری ریٹرن” ایسا واحد نظام ہے کہ، اگر دماغ کے کسی حصے میں کوئی خرابی نہ ہو تو یہ تاحیات درست کام کرتا رہتا ہے۔ حتی کہ یادادشت کا یہ تصدیقی نظام بعد از موت بھی کام کرتا ہے۔ انسان سے زمینی زندگی کی بازپرس بھی اسی تصدیقی یاداشت کی واپسی سے ہو گی۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |