بادشاہ، ملاح، دولت اور غربت
کالج لائف میں ایک انگریزی سٹوری پڑھی تھی جس میں ایک بادشاہ گہرے دریا کے پانیوں میں کشتی کی سیر کو نکلتا ہے۔ جونہی کشتی تھوڑی دور جاتی ہے ملاح حسب معمول چپو چلاتے ہوئے ایک مخصوص گیت گانے لگتا ہے۔ بادشاہ یہ دیکھ کر اس سے پوچھتا ہے: "تم مجھ سے زیادہ خوش نظر آ رہے ہو اس کی کیا وجہ ہے؟” اس پر ملاح جواب دیتا ہے کہ، "میں پرندوں کی مانند ہوں جو خوراک جمع نہیں کرتے مگر روز اپنے دن کا آغاز گیت گا کر کرتے ہیں”۔ اس ملاح نے عادت بنا رکھی ہوتی ہے کہ دن بھر میں اسے ایک بھی دریا پار کرنے والا مسافر مل جائے تو اس کا چولہا جل جاتا ہے اور وہ اسی خوشی میں گیت گاتا ہے۔
بادشاہ کے پاس خزانے تھے، تخت تھا، سلطنت تھی، لشکر تھے مگر اسے نیند نہیں تھی، اور وہ اکثر غمگین رہتا تھا۔ ملاح کے پاس چپو تھا، پھٹا پرانا کرتہ تھا، اور ایک گیت تھا۔ مگر اسکے پاس سکون تھا۔ خوشی کے لیئے لوگ آج بھی مارے مارے پھر رہے ہیں۔ بس کشتیاں بڑی ہو گئی ہیں، دریا سمندر بن گئے ہیں، اور ملاح کی جگہ کارپوریٹ ملازموں نے لے لی ہے۔ لوگوں کے دل خشک سمندر ہو گئے ہیں، جن سے لہریں اٹھنا بند ہو گئی ہیں۔
ہمارے آج کے انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ جتنے زیادہ ذرائع، دولت اور اثاثے جمع کرتا ہے اسکا لالچ اور حرص اتنا ہی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ میرا تعلق اور واسطہ بہت سارے ارب پتی لوگوں سے رہا ہے اور آج بھی ہے۔ ان میں بعضوں سے دوستی بھی ہے۔ میں ان سب کی عادات، خوشیوں اور حتی کہ انکے مسائل کو بھی بہت قریب سے جانتا ہوں۔ سب امیروں کا ایک مشترکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ روپے پیسے کے نشے میں مبتلا ہوتے ہیں۔ کسی انسان کے پاس زیادہ پیسہ واقعی اسی وقت آتا ہے جب وہ اس کے نشے کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایک عادی نشئی کو دیکھ لیں جب اسے نشہ نہ ملے تو وہ کیا حرکتیں کرتا ہے؟ اسی طرح دولت کے نشے کا عادی بھی ہر چاروناچار طریقے سے دولت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے وہ اطمینان قلب سے محروم ہو جاتا ہے۔
جیسے بعض پرانے عادی نشیئیوں کے لیئے نشہ انکی زندگی اور موت کا سوال بن جاتا ہے، اسی طرح دولت کے نشئی بھی ہر جائز اور ناجائز طریقے سے دولت اکٹھی کرتے ہیں، کیونکہ وہ اسے اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ جب آپ کسی چیز کو اپنے دماغ پر سو فیصد حاوی کر لیتے ہیں، چاہے وہ اچھی ہو یا بری ہو، وہ آپکو بالآخر مل ہی جاتی ہے۔ نفسیات دان اسے "فوکس کا قانون” کہتے ہیں۔
قرآن پاک کی ایک آیت مبارکہ ہے: "وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى”، جس کا ترجمہ ہے کہ: "انسان کیلئے وہی ہو گا جس کی اس نے کوشش کی، یعنی انسان کو وہی ملتا ہے جسکی وہ کوشش کرتا ہے۔ جب دولت کے پجاری دولت ہی کو اپنا مذہب و مسلک بنا لیتے ہیں، چاہے وہ احساس اور عاقبت وغیرہ سے عاری ہی کیوں نہ ہو جائیں، تو پھر "باقی کچھ” ان کے پاس ہو نہ ہو، وافر مقدار میں دولت ضرور ہوتی ہے۔ ان کے بینک اکاؤنٹ بولتے ہیں، مگر ان کے دل خاموش ہو جاتے ہیں۔
کچھ دولتمندوں کے پاس اتنی دولت ہوتی ہے کہ وہ 150 سے 1000 سال تک بھی زندہ رہیں، اور حسب دولت روزانہ لاکھوں کروڑوں ڈالر بھی خرچ کریں تو ان کی دولت ختم نہیں ہوتی، لیکن وہ پھر بھی زیادہ سے زیادہ دولت اکٹھی کرنے کے چکر میں ہوتے ہیں! یہ ایسا سوال ہے جس کے بارے زیادہ امیر یعنی "الٹرا رچ پرسن” (Ultra Rich Person) کبھی بھی نہیں سوچتا۔ ایک امیر آدمی یہ نہیں سوچتا کہ وہ کل مر جائے تو اس کی دولت اسکے "کس کام” آئے گی۔ قبر میں لاکر ہوتے ہیں، اور نہ ہی کفن میں جیب۔
کچھ لوگوں کے پاس تو اتنی دولت ہوتی ہے کہ اسکی کئی نسلیں عمر بھر گھر بیٹھ کر کھا سکتی ہیں۔ ان میں کچھ امیر ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا کوئی "ولی وارث” نہیں ہوتا، وہ پھر بھی دولت کے ایسے نشے میں ہوتے ہیں کہ وہ اپنی دولت کسی چیرٹی کے نام بھی نہیں لکھتے، اور جب وہ مرتے ہیں تو انکی ساری دولت وہ "بینک” اور "بینکرز” کھا جاتے ہیں جو پہلے ہی امراء کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔ یعنی زندگی بھر دولت جمع کرو، اور مرنے کے بعد بینکرز کی جیبوں میں ڈال کر چلے جاؤ۔ واہ! امیروں نے کیا قسمت پائی ہے۔ وہ دنیا میں دوبارہ آ کر یہ بھی نہیں دیکھ سکتے کہ ان کی اولاد پر کیا بیتی یا ان کی اربوں کی دولت کس کے کام آ رہی ہے۔ اے امیر بھائیو خود پر کیوں بوجھ لاد رہے ہو؟ کچھ ایسی جگہوں پر روپیہ پیسہ خرچ کر کے جاو’، جس کا "اجر” تمھارے ساتھ جا سکے۔ یہ اپنے حق میں دولت کے استعمال کا واحد بہتر طریقہ ہے۔
کاش کہ دنیا کا ہر امیر آدمی بوڑھے کشتی بان کی طرح "حقیقی خوشی” کا مطلب سمجھ سکے، تو تبھی جا کر وہ دولت کا بہتر مصرف کر سکتا ہے! بہت سارے غریب لوگ "قناعت” کو امارت پر ترجیح دیتے ہیں۔ اگر آپ امراء کے مسائل کو قریب سے دیکھ لیں تو شائد آپ اپنی غربت پر "سجدہ شکر” بجا لائیں۔ ان کے پاس نیند کی گولیاں ہیں، مگر نیند نہیں۔ ڈاکٹر ہیں، مگر صحت نہیں۔ محافظ ہیں، مگر سکون نہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ امیر آدمی "خوشی” خریدنے کے لیے، مزید دولت جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آج کے دور میں ہر دوسرے انسان کا سب سے بڑا جان لیوا مسئلہ مالی مشکلات ہیں۔ لوگ دولت کے پیچھے سرپٹ دوڑ لگا رہے ہیں، اور جب انکے مالی مسائل حل ہو جاتے ہیں تو ان کا اگلا جان لیوا مسئلہ انکی خوشحالی اور پرتعیش زندگی بن جاتا ہے۔ اب ہر دوسرے آدمی کا مسئلہ امیر سے امیرتر بننا ہے۔ دولت ایسی تہ در تہ انسانی مشکل ہے کہ جس کا نہ ہونا ایک مشکل ہے، اور اس کا ہونا اس سے بھی بڑی مشکل ہے۔ انسان کو سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ دولت اور ذرائع کے تلاش میں وہ کتنی بڑی مصیبت سے دوچار ہے۔
چاہے کوئی امراء میں شامل ہے یا غربت کی چکی میں پس رہا ہے، اسکا بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ وہ امارت اور غربت کی چکی کے دو پاٹوں میں ہے۔ ایک پاٹ "کمی” کا ہے، دوسرا "زیادتی” کا ہے! ایک غریب بھی پس رہا ہے اور امیر بھی۔ کچھ صابر اور شاکر غریب، بہت سارے امراء سے زیادہ "خوش” ہیں۔ وہ اس ملاح کی طرح ہیں جو ایک وقت کی روٹی ملنے پر بھی گیت گاتا ہے، اور ایک بادشاہ سلطنت کا مالک ہونے کے باوجود بھی "غمزدہ” ہے، اور جو اپنے دکھوں کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیئے دریا کی سیر کو نکلتا ہے۔
اصل مسئلہ دولت نہیں، "لالچ” ہے۔ اصل مسئلہ غربت نہیں، "بے سکونی” ہے۔ اس کا حقیقی حل وہی ہے جو ملاح نے بتایا تھا: تھوڑے پر راضی ہو جاؤ، اور ہر دن کا آغاز خوشی کا گیت گا کر کرو۔ ورنہ خزانے جمع کرتے عمر گزر جائے گی، اور گیت کبھی نہیں گا پاؤ گے۔ پرندے اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ کل کیا ہوا تھا، وہ روزانہ اپنے دن کا آغاز گیت گانے سے کرتے ہیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |