گاؤں ، گاؤں نہیں رہا اب کے
تجزیہ کار راحت امیر نیازی
عاصم بخاری معاشرے پر گہری اور ہر زاویے سے نظر رکھنے والے انتہائی حساس شاعر و ادیب ہیں۔ دیہاتی زندگی کے محاسن اور خصوصیات پر ابھی انھوں نے اتنا لکھا ہے کہ دیہات اور دیہاتی زندگی کے طرف دار سمجھے جانے لگے ہیں۔مگر ان کے ہاں دیہات کے کئی پہلو ایسے بھی سامنے آئے ہیں جن سے انہیں دیہات دیہات نہیں لگتا بل کہ شہری معاملات کے قریب قرب دکھائی دیتا ہے تبھی تو دبے لفظوں میں زیر ِ لب ان کی ہاں ہمیں کچھ خوگر ِ حمد سے تھوڑا گلہ بھی سننے کو ملتا ہے۔
شعر ملاحظہ ہو
شہری چادر ہے اوڑھ لی اس نے
گاؤں گاؤں نہیں رہا اب کے
گاؤں کے خصائص میں یہ بات بہت اچھی اور نمایاں تھی گاؤں میں اپنائیت کا دور دورہ تھا مگر بخاری بڑے دکھ کے ساتھ لکھتے ہیں کہ اب وہ بات نظر نہیں آتی
شعر
بات پہلی نہیں رہی عاصم
گاؤں میں بھی ہے اجنبیت اب
سادگی بڑا حسن تھا دیہات اور گاؤں کا۔ لیکن نجانے کس کی نظر لگ گئی کہ اس کی جگہ بھی تکلفات اور تصنع نے لے لی۔جس پر بخاری کُڑھتے اور ہاتھ ملتے دکھائی دیتے ہیں۔
شعر دیکھیں
سادگی کب کی ہو گئی رخصت
گاؤں میں اب کہیں ملے شاید
خلوص دیہات کی بڑی نشانی تھی۔اخلاص کے وصف کو دنیا مانتی تھی مگر اب شہر کی طرح دیہات سے بھی اخلاص اٹھ گیا
شعر ملاحظہ ہو
کوچ اخلاص کر گیا کب کا
گاؤں میں اب کہیں ملے شاید
اسی بات کو ایک رنگ میں یوں ذرا سے لفظی پھیر کے ساتھ کچھ ایسے نبھاتے ہیں۔
کوچ اخلاص کر گیا کب کا
ڈھونڈ اس کو نہ گاؤں میں اب تو
ایک شعر
کیا زمانہ تھا ، گاؤں والے جب
شام کو جلد ، لوگ سوتے تھے
بخاری صاحب کا و سماجی و معاشرتی اور نفسیاتی مشاہدہ بہت عمیق ہے۔حقیقی تصویر کشی کمال کرتے ہیں
ایک شعر
گاؤں والوں کے نام
شام ہوتے ہی اب ، نہیں سوتے
وہ رہے اب نہ، گاؤں والے بھی
ہر وہ چیز جو دیہات اور گاوں کے قدرتی و فطرتی حسن کاحصہ تھی اب رفتہ رفتہ عالمی تغیرات کے اثرات سے شاید اپنادامن بچانے سے قاصر رہی۔ رات کوجلد سونا اورصبح جلد جاگنا دیہات کی پہچان تھا مگر انقلابات ِ زمانہ دیکھیے
ایک شعر
تبدیلی
اب سر ِ شام ، تھوڑی سوتے ہیں
وہ رہے اب نہ ، گاؤں والے بھی
اوائل میں دیہاتی اور پینڈو زندگی کی خوب صورتی احساس میں تھی اسی کے سبب اجنبیت نہیں اپنائیت ہوتی تھی مگر صد حیف بے حسی گاؤں میں در آئی ہے۔ احساس کے پیمانے وہ نہیں رہے جو بخاری تلاشتا ہے۔تبھی پریشان ہو کر ہمیں یہ منظر اپنی اک ثلاثی معرّیٰ نظم میں کچھ یوں دکھاتا ہے۔
بات پہلی کہاں رہی اب کے
ساتھ نادار کے جنازے کے
گاؤں میں چار لوگ ہوتے ہیں
تصورات میں دیہاتوں میں ہونے والے جنازوں میں بلا امتیاز اجتماعیت کے تخیل و تصورات بخاری کو خون کے آنسو رلاتے ہیں۔لوگوں کاایک جم ِ غفیر ہوا کرتا تھا جنازہ چاہے امیر کا یا غریب کا اپنے کا یا پرائے کا۔۔۔ نجانےاس احساس کو کس کی نظر لگ گئی۔
شعر
پہلے گاؤں کے بھی جنازوں میں
دیدنی اک ہجوم ہوتا تھا
لوگوں کے پاس اک دوسرے کی خیر خبر کے لی دیہاتیوں کے پاس وافر وقت ہوتا تھا مگر افسوس کہ آج یہ نفسا نفسی کا مرض دیہاتوں کو بھی بری طرح لاحق ہو گیا ہے جس کی لپیٹ میں سب چھوٹے بڑے گاؤں آ گئے ہیں۔افسوس۔۔۔!
اب جنازے کے ساتھ گاؤں میں
چار ہی لوگ صرف ہوتے ہیں
یا پھر یوں کہتے ہیں
اب تو نادار کے جنازے میں
چار ہی لوگ صرف ہوتے ہیں
ایک اور شعر
پہلے ہوتی تھی صرف شہروں میں
آ گئی نفسا نفسی گاؤں میں
گاؤں کاچین ، آرام اور سکون مثالی ہو کرتا تھا۔توت کی چھاؤں جانے وہ بے فکری کہاں گئی ۔اسی لیے تو اب وہ یہ رونا رو رہے ہیں چین کے لیے تو ہم نے شہروںسے دیہات کارخ کیا تھا مگر افسوس ہمیں کیس خبر تھی کہ دیہاتوں نے بھی شہری چادر اوڑھ لی ہو گی۔
شعر
چین کی ہم تلاش میں عاصم
چھوڑ کے شہر گاؤں آئے تھے
***

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |