فیصل آباد کے بیٹے کی حیران کن صنعتی کامیابی
فیصل آباد کو "منی مانچسٹر” یونہی نہیں کہا جاتا۔ یہ شہر محنت، ہنر اور کاروباری ذہن کا استعارہ ہے۔ یہاں کی گلیوں میں پیدا ہونے والا بچہ بھی صنعت و تجارت کی خوشبو سونگھ کر بڑا ہوتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فیصل آباد کی فیکٹریوں میں کام کرنے والا ایک عام مزدور بھی ایک دن کارخانوں کا مالک بن جاتا ہے۔ پاکستانی صنعت و حرفت کی ترقی میں فیصل آباد آج بھی کراچی اور لاہور کے بعد تیسرے نمبر پر ہے، اور اس کی وجہ یہاں کے لوگوں کا "کوشش کرنے والا” مزاج ہے۔
انہی خودساختہ (Self Made Man) صنعت کاروں میں ایک روشن نام ندیم شاہد صاحب کا ہے، جو پیٹروفاسٹ مڈل ایسٹ ایف زیڈ سی (Petrofast Middle East FZC) کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ ان کی کہانی کسی فلم کے اسکرپٹ سے کم نہیں۔ 1997 میں انہوں نے متحدہ عرب امارات کے عجمان الحمریہ فری زون میں صرف فاسٹنرز اور نٹ بولٹس کی ایک چھوٹی سی فیکٹری لگائی۔ نہ بڑا سرمایہ تھا، نہ کوئی سفارش۔ صرف ہنر، ایمانداری اور اللہ پر بھروسہ تھا۔ آج وہی چھوٹی سی فیکٹری ایک "ملٹی نیشنل گروپ” بن چکی ہے۔ اس کے مینوفیکچرنگ یونٹس سعودی عرب کے دمام، پاکستان کے لاہور اور امریکہ کے ٹیکساس میں کامیابی سے چل رہے ہیں۔ ہزاروں خاندانوں کا چولہا ان فیکٹریوں سے جلتا ہے۔
ندیم شاہد کی تعلیم کامرس میں ہے، لیکن قسمت انہیں اتفاقی طور پر صنعت کے میدان میں لے آئی۔ اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ان کی "کمپنی پیٹروفاست مڈل ایسٹ” (Petrofast Middle East) آج مشرق وسطیٰ کی سب سے تیز رفتار فاسٹننگ سلوشن پرووائیڈر کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ وہ ایڈناک (ADNOC) کے منظور شدہ وینڈر ہیں اور اینکر بولٹس (Anchor Bolts) سمیت تمام سٹینڈرڈ فاسٹنرز سپلائی کرتے ہیں۔ ان کے پاس ISO 9001:2015 سرٹیفیکیشن ہے اور ان کا گودام ہزاروں مربع فٹ پر پھیلا ہوا جدید ویئر ہاؤس ہے۔ الائے اسٹیل، کاربن اسٹیل، سٹین لیس اسٹیل، ڈوپلیکس، مونیل اور ہیسٹیلائے جیسے تمام گریڈز ان کے پاس دستیاب ہیں۔
چند روز قبل ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ میں نے سوچا تھا ایک بڑے صنعت کار سے ملوں گا تو غرور، شان و شوکت ملے گی۔ لیکن حیرت ہوئی جب انتہائی منکسرالمزاج شخص سامنے بیٹھا تھا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے جو بات کہی وہ سیدھی دل پر لگی گئی۔ بولے: "بھائی، انسان صرف کوشش کر سکتا ہے۔ نتیجہ اس کے ہاتھ میں نہیں۔ میری ہر کامیابی میں میرا کوئی کمال نہیں۔ یہ سب اللہ کا کرم ہے۔ اگر وہ نہ چاہے تو میں کچھ بھی نہیں۔”
یہ جملہ ایک کامیاب بزنس مین کی زبان سے سننا نایاب ہے۔ آج کل ہر کوئی اپنی کامیابی کا کریڈٹ خود لیتا ہے۔ لیکن ندیم شاہد کی عاجزی بتا رہی تھی کہ اصل کامیاب انسان وہی ہے جو اپنے اصل مالک کو نہ بھولے۔ ان کا ماننا ہے کہ فیصل آباد کے لوگ اسی لیے آگے بڑھتے ہیں کیونکہ وہ محنت کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔
ان کی کہانی ہر اس نوجوان کے لیے مشعلِ راہ ہے جو کہتا ہے "موقع نہیں مل رہا”۔ یاد رکھیں موقع ملتا نہیں، بنایا جاتا ہے۔ ایک نٹ بولٹ سے شروع کر کے ملٹی نیشنل کمپنی بنانا کوئی جادو نہیں، صرف لگن اور عاجزی کا نتیجہ ہے۔
فیصل آباد کے ایسے بیٹے ہمارا سرمایہ ہیں۔ حکومت کو چایئے کہ ایسے محنتی، متحرک اور قابل تقلید صنعت کاروں کو سامنے لائے تاکہ نئی نسل کو پتہ چلے کہ کرکٹ اور ٹک ٹاک کے علاوہ بھی کامیابی کے راستے ہیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |