گٹھ جوڑ
میں دو دن بعد شہر سے واپس لوٹا تو سیدھا اپنے زیرِ تعمیر مکان کی طرف چلا گیا۔ راستے میں بارش ہو چکی تھی۔ گلی کیچڑ سے اٹی ہوئی تھی، مگر میرے دل کے قدم اس سے کہیں زیادہ بے تاب تھے۔ وہ مکان میرے لیے محض اینٹوں اور سیمنٹ کا ڈھانچہ نہیں تھا، بلکہ میری برسوں کی جمع پونجی، قرضوں کا بوجھ اور خوابوں کا آشیانہ تھا۔
وہاں پہنچ کر جو منظر دیکھا، اس نے مجھے حیرت اور اضطراب کے درمیان لا کھڑا کیا۔
میری غیر موجودگی میں کام غیر معمولی رفتار سے جاری تھا۔ دو کمرے مکمل ہو چکے تھے۔ تیسرے میں ماربل بچھ رہا تھا، اور گیراج میں اتنا ماربل موجود تھا کہ باقی حصہ بھی آسانی سے مکمل ہو سکتا تھا۔ میں نے اپنے حساب پر نظر دوڑائی۔ میرے تخمینے کے مطابق پانچ سو مربع فٹ ماربل بمشکل ڈھائی کمروں کے لیے کافی تھا، مگر یہاں تو نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ ایک لمحے کو خیال آیا – شاید واقعی کوئی برکت پڑ گئی ہے۔ یا شاید کوئی اور بات تھی۔
میں نے ٹھیکے دار سے پوچھا:
"یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ میرا تو خیال تھا کام رک گیا ہوگا۔ جاتے ہوئے میں تمہیں پیسے بھی نہیں دے پایا تھا۔”
وہ ہلکا سا مسکرایا۔ ایسی مسکراہٹ جو عادت بن چکی تھی، اعتبار نہیں تھی۔
"صاحب! برکت نہیں پڑی… ہم نے مزید پانچ سو فٹ ماربل منگوا لیا تھا۔ دکان دار سے پرانے تعلقات ہیں۔ اس نے فون تک نہیں کیا، بس میرے کہنے پر مال بھیج دیا۔ اب آپ پیسے مجھے دے دیں، آگے میں جانوں اور میرا کام۔”
میں اس کی ساکھ سے متاثر ہوا۔ بغیر پیشگی ادائیگی کے اتنا مہنگا مال مل جانا معمولی بات نہیں تھی۔ میں نے فوراً موبائل بینکنگ سے رقم منتقل کر دی اور واپس چل پڑا۔
مگر راستے بھر دل میں ایک انجانا سا بوجھ رہا۔
شک بعض اوقات اندھیرے میں جلنے والا پہلا چراغ ہوتا ہے۔
میں نے اس رکشہ ڈرائیور کو فون کیا جس نے ماربل پہنچایا تھا۔ پہلے کبھی اس کا نام نہیں پوچھا تھا – اب پوچھا تو اس نے بتایا: "انور۔”
"جی صاحب، میں نے پرسوں مال پہنچا دیا تھا… اور دکان دار نے مجھے مزدوری بھی دے دی تھی۔ کہہ رہا تھا آپ پہلے ہی ادائیگی کر چکے ہیں۔”
"کتنا مال تھا؟”
وہ چند لمحے خاموش رہا۔ پھر بولا: "پانچ سو فٹ… مگر صاحب، اگر ممکن ہو تو آپ مجھ سے مل لیں۔”
دس منٹ بعد ہم ایک جوس کارنر پر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ انور کا چہرہ دھوپ اور محنت سے جھلسا ہوا تھا، مگر آنکھوں میں عجیب سی صفائی تھی۔ اس نے گاجر کا جوس منگوایا، مگر دیر تک گلاس کو ہاتھ میں تھامے رکھا۔ پھر دھیرے سے بولا:
"بھائی جان! میں سارا دن مزدوری صرف اس لیے کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کو حلال کھلا سکوں۔”
میں خاموش رہا۔
"آپ نے فون پر پانچ سو فٹ کہا تو میرا ضمیر جاگ گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ماربل صرف تین سو فٹ تھا۔”
میرے ہاتھ بے اختیار میز پر رک گئے۔ وہ نظریں جھکائے بولا:
"ٹھیکے دار اور دکان دار کا آپس میں گٹھ جوڑ تھا۔ آپ سے پانچ سو فٹ کے پیسے لینے تھے، پھر آپس میں بانٹنے تھے۔ مجھے بھی خاموش رہنے کا حصہ مل جاتا۔ میں بھی اس خیانت کا حصہ بن جاتا… مگر پھر آپ کی ایک بات یاد آ گئی۔”
"کون سی بات؟”
اس نے سر جھکا کر کہا:
"آپ نے کہا تھا، ‘جو چیز حلال نہ ہو، وہ گھر کی بنیاد نہیں بن سکتی۔'”
ایک لمحے کو اس نے آنکھیں بند کیں – گویا اپنے بچوں کے چہرے دیکھ رہا ہو۔
میری آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے۔ میں نے جیب سے ہزار کا نوٹ نکالا اور اس کی جیب میں رکھ دیا۔ وہ انکار کرتا رہا، مگر میں نے اس کا ہاتھ دبا دیا۔
"یہ تمہاری دیانت کی قیمت نہیں… صرف ایک چھوٹی سی نشانی ہے۔”
وہ خاموشی سے اٹھا، رکشے میں بیٹھا اور آہستہ آہستہ اندھیرے میں گم ہو گیا۔ میں دیر تک وہیں کھڑا رہا۔
اس رات میں نے دیر تک سوچا۔ یہ دنیا عجیب جگہ ہے۔ یہاں اکثر رشتے، کاروبار اور تعلقات کسی نہ کسی گٹھ جوڑ پر قائم ہوتے ہیں – مفاد، خوف، ضرورت یا لالچ کے گٹھ جوڑ پر۔ دھوکے سے جال بُننے والے لوگ بظاہر کامیاب دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی بنیادیں اندر سے کھوکھلی ہوتی ہیں۔
اور دوسری طرف انور جیسے لوگ ہوتے ہیں – خاموش، تھکے ہوئے، بظاہر معمولی مگر اندر سے روشن۔ انہی کے باعث دنیا ابھی مکمل اندھیری نہیں ہوئی۔
زندگی ہر روز انسان کو چوراہے پر لا کھڑا کرتی ہے۔ ایک طرف فائدہ ہوتا ہے، دوسری طرف ضمیر۔
سچ بولنا اکثر نقصان دیتا ہے، مگر ضمیر بچا لیتا ہے۔
انسان اپنی کمائی سے نہیں، اپنی دیانت سے زندہ رہتا ہے۔
اور گھر کی حقیقی بنیاد ماربل سے نہیں، حلال سے بنتی ہے۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |