بشیر بدر بھی چلے گئے
اردو غزل کا ایک عہد اختتام پذیر ہوا
شہرِ خواب ۔ صفدر علی حیدری
بشیر بدر بھی آخرکار رخصت ہو گئے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اردو غزل کا ایک نرم، مہذب اور خوشبو بھرا عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہو۔ وہ عہد جس میں محبت دھیرے لہجے میں بولتی تھی، جدائی چیخ نہیں بنتی تھی بلکہ خاموشی میں آنکھیں نم کر دیتی تھی، اور انسان اپنے ٹوٹنے کا اعلان نہیں کرتا تھا بلکہ ایک شعر کہہ کر گزر جاتا تھا۔
بشیر بدر صرف ایک شاعر نہیں تھے، وہ ایک احساس تھے۔ ایک ایسا احساس جو برسوں تک اردو زبان کے قاری کے دل میں سانس لیتا رہا۔ ان کی شاعری میں محبت بھی تھی، تنہائی بھی، ہجرت کا دکھ بھی، بدلتے شہروں کی بے حسی بھی اور انسان کے اندر چھپی ہوئی وہ خاموش اداسی بھی جسے ہر شخص محسوس تو کرتا ہے مگر بیان نہیں کر پاتا۔
بشیر بدر کا اصل کمال یہی تھا کہ وہ مشکل ترین احساس کو نہایت سادہ لفظوں میں بیان کر دیتے تھے۔ ان کے یہاں تصنع نہیں تھا، بناوٹ نہیں تھی، فلسفے کا بوجھ نہیں تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی شائستہ انسان دھیرے سے دل کی بات کر رہا ہو۔ یہی سادگی ان کی عظمت بن گئی۔
زندگی اور ادبی سفر
بشیر بدر 15 فروری 1935ء کو پیدا ہوئے۔ وہ اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جس نے تقسیمِ ہند کے بعد ٹوٹتے ہوئے رشتے، بدلتی ہوئی تہذیب اور بکھرتی ہوئی انسانی قدروں کو بہت قریب سے دیکھا۔ انہی تجربات نے ان کی شاعری کو ایک منفرد گہرائی عطا کی۔
انہوں نے تعلیم حاصل کی، تدریس سے وابستہ رہے اور پھر مکمل طور پر ادب کی دنیا میں اپنی شناخت قائم کی۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی غزل کی خوشبو بھی موجود ہے اور جدید عہد کی بے چینی بھی۔ یہی امتزاج انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے۔
انہوں نے غزل کو صرف ادبی حلقوں تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ عام آدمی کے دل تک پہنچایا۔ ان کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہوئے اور روزمرہ گفتگو کا حصہ بن گئے۔
بشیر بدر کی شاعری کے نمایاں موضوعات
محبت
بشیر بدر محبت کے شاعر تھے، مگر ان کی محبت محض رومان نہیں تھی۔ اس میں انتظار بھی تھا، محرومی بھی، بے یقینی بھی اور وقت کی تلخی بھی۔ ان کے یہاں محبت انسانی وجود کا بنیادی تجربہ بن کر سامنے آتی ہے۔
تنہائی
ان کی شاعری میں جدید انسان کی تنہائی بار ابھرتی ہے۔ شہر آباد ہیں مگر انسان اندر سے ویران ہے۔ بشیر بدر نے اس داخلی ویرانی کو نہایت شدت کے ساتھ محسوس کیا۔
بدلتا ہوا شہر
انہوں نے شہروں کی بے حسی اور تعلقات کی سرد مہری کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ ان کے کئی اشعار آج کے انسان کی سماجی تنہائی کی مکمل تصویر محسوس ہوتے ہیں۔
یاد اور ماضی
بشیر بدر کے یہاں یاد محض ماضی نہیں بلکہ زندہ تجربہ ہے۔ ان کے اشعار میں بچھڑنے کا دکھ ایک دھیمی آگ کی طرح جلتا رہتا ہے۔
بشیر بدر کے چند لازوال اشعار
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا
جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے
ذرا فاصلے سے ملا کرو
اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا
میں موم ہوں اُس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا
اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا
ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے
جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا
کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں کہ مری نظر کو خبر نہ ہو
مجھے ایک رات نواز دے مگر اس کے بعد سحر نہ ہو
یونہی بے سبب نہ پھرا کرو
کوئی شام گھر بھی رہا کرو
بشیر بدر کی مقبولیت کی اصل وجہ
بشیر بدر کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ ان کی زبان تھی۔ انہوں نے مشکل الفاظ، بھاری تراکیب اور پیچیدہ علامتوں کے بجائے عام فہم زبان استعمال کی۔ ان کے اشعار پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی شخص آپ کے اپنے دل کی بات آپ ہی کو سنا رہا ہو۔
ان کی شاعری میں تہذیب بھی تھی، درد بھی، شائستگی بھی اور جدید عہد کی اداسی بھی۔ وہ چیخ کر بات نہیں کرتے تھے بلکہ دھیرے سے دل میں اتر جاتے تھے۔
جدید اردو غزل پر اثرات
بشیر بدر نے جدید اردو غزل کو ایک نیا لہجہ عطا کیا۔ ان کے بعد آنے والے بے شمار شعرا نے ان کے انداز سے اثر قبول کیا۔ مختصر بحر، سادہ الفاظ، روزمرہ کی زبان اور گہرے احساسات ان کے اسلوب کی پہچان بنے۔
انہوں نے ثابت کیا کہ بڑی شاعری کے لیے مشکل زبان ضروری نہیں۔ سادہ لفظ بھی اگر سچے احساس کے ساتھ ادا کیے جائیں تو صدیوں تک زندہ رہتے ہیں۔
ایک مہذب اداسی کا شاعر
بشیر بدر کی شاعری پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وہ انسان کے اندر چھپے ہوئے دکھ کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ ان کے یہاں شکست بھی وقار کے ساتھ آتی ہے۔ ان کی شاعری میں شور نہیں، ایک مہذب اداسی ہے۔ یہی اداسی ان کے اشعار کو دیرپا بناتی ہے۔
اردو ادب کا ناقابلِ تلافی نقصان
بشیر بدر کے انتقال سے اردو ادب کا ایک روشن چراغ بجھ گیا۔ مگر ایسے لوگ حقیقت میں کبھی نہیں مرتے۔ وہ اپنے لفظوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ان کے اشعار آنے والی نسلوں کے دلوں میں اسی طرح گونجتے رہیں گے جیسے آج گونجتے ہیں۔
وہ شاعر جس نے محبت کو شائستگی دی، جدائی کو وقار دیا اور تنہائی کو زبان دی، اب ہمارے درمیان نہیں رہا، مگر اس کے لفظ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
بشیر بدر واقعی صرف ایک شاعر نہیں تھے، ایک پورا عہد تھے۔
اور ایسے عہد بار پیدا نہیں ہوتے۔
ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے
جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |