تقریر : افسانچہ 106
صفدر علی حیدری
۔۔۔۔
بیگم صاحبہ نے گلاس میری طرف بڑھایا تو میں نے تھکے تھکے انداز میں اسے تھام لیا۔
“میں چائے لاتی ہوں آپ کے لیے…”
تھوڑی دیر بعد وہ چائے لے آئی تو میں نے اسے خوش دلی سے ہاتھوں ہاتھ لیا۔
“بہت شکریہ، بڑی طلب ہو رہی تھی۔”
میں نے کھنکھار کر گلا صاف کیا تو اس نے چونک کر میری طرف دیکھا۔
“یہ آپ کے گلے کو کیا ہوا؟ صبح تو بالکل ٹھیک تھے۔”
میں نے گردن صوفے کی پشت سے ٹکا دی۔
“سکول میں تقریب تھی… میزبانی میرے ذمے تھی۔ مسلسل بولنا پڑا۔”
“اچھا؟ موضوع کیا تھا؟”
میں نے بند ہوتی آواز میں کہا، “خاموشی… ایک نعمت۔”
وہ ایک لمحے کو مجھے دیکھتی رہی، پھر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور پل بھر میں وہ ہنسی میں بدل گئی۔ ہنستے ہنستے وہ کچن کی طرف بڑھی اور جاتے جاتے کہنے لگی:
“خاموشی کی نعمت پر اتنی دھواں دھار تقریر کی کہ خود اپنی ہی نعمت گنوا بیٹھے؟ سچ ہے، دوسروں کو نصیحت، خود میاں فضیحت!”
میں نے ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر لانے کی کوشش کی، مگر گلے کی جکڑن نے ساتھ نہ دیا۔
تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئی۔ اس کے ہاتھ میں چائے کی پیالی اور نمک ملے نیم گرم پانی کا گلاس تھا۔
“لیں، پہلے اس سے غرارے کریں…”
اس نے پیالی میز پر رکھتے ہوئے ہلکے سے کہا،
“…پھر اس ‘نعمت’ کا عملی تجربہ بھی شروع کر دیں۔ یعنی مکمل خاموشی!”
میں نے گلاس ہاتھ میں لیا۔ بھاپ اٹھتی چائے کے پیچھے اس کا چہرہ دھندلا سا لگ رہا تھا۔
گھر کی فضا میں ایک عجب سا سکوت پھیل رہا تھا—جیسے لفظ تھک کر اپنی جگہ بیٹھ گئے ہوں۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |