Tag: حسینہ واجد

  • حسینہ واجد کا آئینہ خانہ

    حسینہ واجد کا آئینہ خانہ

    حسینہ واجد کا آئینہ خانہ

    حسینہ واجد کا آئینہ خانہ

    یہ دنیا مکافات عمل کی جگہ ہے۔ یہاں انسان جیسا بیج بوتا ہے اسے ویسی ہی فصل کاٹنا پڑتی ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے لوگ روزانہ اپنی انا اور بد اعمالیوں کی وجہ سے نشان عبرت بنتے ہیں۔ لیکن ہم انسان دوسروں کو مقافات سے گزرتے دیکھ کر اس وقت تک سبق نہیں سیکھتے ہیں کہ جب تک خود ہمارے سر پر نہیں آن پڑتی ہے۔ اس پر مستزاد بعض بدبخت تو ایسے بھی ہیں کہ وہ خود پر یہ سب مظالم ڈھا کر بھی زندگی سے کوئی سبق نہیں سیکھتے ہیں۔

    ہمارے ہمسائے میں شیخ حسینہ واجد کا انجام ہمارے لیئے ایک بہت بڑا سبق لیئے ہوئے ہے۔ بنگلہ دیش میں وزارت عظمی سے استعفی دے کر ملک و ملک بھاگنے والی حسینہ واجد کے بارے اطلاعات ہیں کہ انہوں نے سیاسی قیدیوں کے لیئے ایک پراسرار "آئینہ گھر” تعمیر کر رکھا تھا جس میں وہ اپنے سیاسی مخالفین کو طرح طرح کی اذیتیں دیتی تھیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ عقوبت خانہ اس کے سیاسی قیدیوں کے لیئے کسی جہنم سے کم نہیں تھا۔ پنجابی میں کہتے ہیں کہ "ات خدا دا ویر اے” محترمہ حسینہ واجد کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا کہ عین اس وقت جب وہ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر ہندوستان بھاگ رہی تھیں طلباء اور عوام اس سے نفرت کی آگ میں جل رہے تھے، اس کے والد کے مجسمہ پر ہتھوڑے برسا رہے تھے، وزیراعظم ہاوس میں توڑ پھوڑ کر رہے تھے، سامان لوٹ رہے تھے اور جو لباس حسینہ واجد پہنتی تھی اسے نفرت و حقارت اور بدتمیزی کے ساتھ ہوا میں لہرا رہے تھے۔

    یہ "آئینہ گھر” دراصل اس کے سیاسی مخالفین کے لیئے خوف کا گڑھ تھا۔ یہاں سیاسی قیدیوں کو سخت اذیت ناک سزائیں دی جاتی تھیں جس سے ان کے اندر خوف پیدا ہو جاتا تھا۔ وہاں حراست میں رکھے گئے اور رہا کیئے جانے والے لوگ مشکل سے ہی سے اس بارے میں بات کرتے تھے کہ وہاں ان پر کیا گزرتی رہی تھی۔ جس کی اب تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

    بنگلہ دیش میں 21 اگست سنہ 2016ء کو بیرسٹر احمد بن قاسم ارمان اپنا نارمل دن گزار رہے تھے کہ انہیں ڈھاکہ کے میرپور میں ان کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا۔ دو دن بعد، سابق بریگیڈیئر جنرل عبداللہ الامان اعظمی کو بھی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے 1971ء کی جنگ آزادی میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں اٹھا لیا۔ ان دونوں افراد کا مقام شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے تحت چلنے والی ایک خفیہ جیل تھی جو قیدیوں میں "آئینہ گھر” کے طور پر مشہور تھی۔

    بنگلہ دیش کے ایک اخبار "ڈیلی آبزرور” کی ایک رپورٹ کے مطابق، ارمان اور اعظمی دونوں کو 8 سال تک بدترین حالات میں بغیر کسی مقدمے کے قید میں اسی جیل خانہ میں رکھا گیا تھا، جنہیں حسینہ واجد کی حکومت کا دھڑن تختہ ہونے کے بعد 6اگست 2024 کو رہا کیا گیا۔

    بنگلہ دیش میں اس پراسرار حراستی مرکز کے بارے میں معلومات منظر عام پر اس وقت آئیں جب حسینہ واجد کی حکومت گر چکی تھی اور وہ ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں تھیں۔حسینہ واجد کی حکومت لوگوں کو اچانک لاپتہ کرنے اور سیاسی مخالفین کے ساتھ سخت سلوک روا رکھنے کے لیے مشہور تھی مگر عام لوگ اس سے بے خبر تھے کہ اس کے سیاسی مخالفین پر قید کے دوران کیا سلوک کیا جاتا یے۔

    اخباری اطلاعات کے مطابق، اس آئینہ گھر کے علاوہ 23 دیگر خفیہ حراستی مراکز بھی تھے، جن میں سے کچھ ڈھاکہ میں بھی تھے۔ ان پراسرار جگہوں میں سے ایک ڈھاکہ چھاؤنی میں بھی تھا جسے آئینہ گھر کہا جاتا تھا۔ اس آئینہ گھر کو مبینہ طور پر بنگلہ دیش کی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی ”ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلی جنس” (DGFI) چلاتا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں صرف سیاسی قیدیوں ہی کو نہیں رکھا جاتا تھا، بلکہ اس آئینہ گھر کا استعمال شدت پسندوں کو بھی حراست میں رکھنے کے لئے کیا جاتا تھا۔

    2024 میں ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیشی فورسز نے سنہ 2009ء سے لے کر اب تک 600 سے زائد لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، شیخ حسینہ چوتھی بار سال رواں 2024ء میں برسراقتدار آئی تھیں اور ان کی حکومت نے ان جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے لئے اقوام متحدہ کی مدد لینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں تشدد کے الزامات کی تحقیقات شاذ و نادر ہی ہوتی ہے جہاں 100 سے زائد افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں۔

    سنہ 2022ء میں، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے کہا کہ پارٹی کی قائم مقام چیئرمین اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمٰن بھی آئینہ گھر کا شکار ہوئے۔ طارق رحمٰن، جو بعد میں لندن منتقل ہو گئے تھے والدہ کی رہائی کے بعد بنگلہ دیش واپس جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    بنگلہ دیش کے اخبار "پرتھم آلو” نے ان کے حوالے سے کہا، "جن لوگوں کو قتل کیا جانا ہوتا ہے، انہیں اس آئینہ گھر کے ٹارچر سیل میں لے جایا جاتا ہے، اور جن لوگوں کو زندہ رکھا جانا ہوتا یے اُنہیں یہاں برسوں تک تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور قید رکھا جاتا ہے”۔

    بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر گیوین لیوس نے جب ڈی جی ایف آئی ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا اور آئینہ گھر کے بارے میں سوال کیا تو دی بزنس اسٹینڈرڈ آف بنگلہ دیش کی رپورٹ کے مطابق، لیوس کو بتایا گیا کہ آئینہ گھر کا کوئی وجود نہیں تھا۔ حالانکہ شیخ محمد سلیم گاڑیوں کی مرمت کی دکان پر تھے جب انہیں ایک فون کال کے بعد اغوا کر لیا گیا۔ وہ بھی آئینہ گھر لے جائے گئے۔ حسین الرحمٰن ایک ایوارڈ یافتہ فوجی افسر تھے، جنہیں کئی سال خدمات انجام دینے کے بعد یہاں حراست میں رکھا گیا تھا۔ شیخ محمد سلیم اور حسین الرحمٰن دونوں نے نیٹرا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ راز فاش کیئے۔ شیخ سلیم نے کہا کہ ان کے سیلوں میں کھڑکیاں نہیں تھیں، ایک اونچی چھت تھی جس میں صرف ایک روشنی کی کرن آتی تھی، جبکہ بلند آواز اور بڑے ایگزاسٹ فین تھے۔ ان پنکھوں کی آوازوں نے کمرے کی ہر دوسری آواز کو غرق کر دیا تھا۔ وہ عمارت کے اندر تھرتھراہٹ محسوس کر سکتے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ قریب میں کوئی ائیرپورٹ یا ائیربیس تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ پچھلے قیدیوں نے سیل کی دیواروں پر ڈی جی ایف آئی لکھا تھا۔ شیخ سلیم نے نیٹرا نیوز کو یہ بھی بتایا کہ "میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھ سے پہلے اس جیل میں کتنے لوگ بند تھے۔” انہوں نے بتایا کہ عقوبت خانہ میں ایک جگہ لکھا تھا: "ڈی جی ایف آئی مجھے یہاں لایا۔” ان کے مطابق کچھ نقش و نگار دوسروں کے مقابلے میں زیادہ جذباتی کرنے والے تھے۔ ایک قیدی نے لکھا تھا، "براہ کرم میرے گھر والوں سے کہیں کہ وہ مجھے تلاش کرنا بند نہ کریں اور انہیں بتائیں کہ حکومت مجھے یہاں لے کر آئی ہے۔”

    عقوبت خانے میں شیخ سلیم کو وہ عزت نہیں دی گئی جو دوسرے معزز قیدیوں کو ملتی تھی۔ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مارا پیٹا گیا۔ غریب دوست ڈاکٹر یونس شیخ حسینہ کو کبھی ایک آنکھ نہیں بھائے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دن، انہوں نے مجھے بہت مارا پیٹا اور پھر مجھے ایک مختلف سیل میں لے گئے۔ دراصل سلیم وہ شخص نہیں تھا جسے وہ گرفتار کرنا چاہتے تھے۔ سلیم غلط شناخت کا شکار ہوئے تھے اور انہیں جلد ہی رہا کر دیا گیا جس کے بعد وہ ملائیشیا چلے گئے۔

    اسی طرح حسین الرحمٰن بنگلہ دیشی فوج میں سابق لیفٹیننٹ کرنل تھے۔ وہ "بیر پراتیک” نام کا ایک بڑا ملٹری بہادری ایوارڈ حاصل کرنے والی شخصیت تھے۔ وہ ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) کے کمانڈر تھے جو کہ ایک بدنام زمانہ نیم فوجی گروپ ہے، جس پر امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ حسین الرحمٰن گروپ عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں کا حصہ رہے تھے، سنہ 2012ء میں انہیں عسکریت پسندوں کے ساتھ ملوث ہونے کے الزام میں برطرف کر دیا گیا تھا۔ انہیں سب سے پہلے سنہ 2011ء میں اغوا کیا گیا تھا۔ پھر سنہ 2018ء میں وہ آئینہ گھر پہنچائے گئے۔ جب انہوں نے بیت الخلا کے ایگزاسٹ فین سے جھانکا تو وہ آئینہ گھر کا مقام پہچاننے میں کامیاب رہے۔

    2018 میں انہیں میرپور ڈیفنس آفیسرز ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع ان کے گھر سے پکڑا گیا تھا اور آخر کار، انہیں فروری 2020 میں رہا کر دیا گیا۔ شروع میں، وہ کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں تھے۔ انہوں نے بھی بتایا کہ آئینہ گھر کے 30 سیل تھے۔ ساؤنڈ پروف تفتیشی سیل، جہاں قیدیوں پر تشدد کیا جاتا تھا۔ آئینہ گھر کی حفاظت سویلینز اور فوج دونوں کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ "جب میں وہاں اس جیل میں تھا، میں نے مختلف سیلوں میں بہت سے لوگوں کو روتے ہوئے سنا۔ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے رہا کیا گیا، لیکن بہت سے بدقسمت لوگ اب بھی وہاں موجود ہیں۔”

    شیخ سلیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا، "میں صرف ان کی خاطر یہ بڑا خطرہ مول لے رہا ہوں۔ میں حکومت پر زور دے رہا ہوں کہ وہ جبری گمشدگیوں کے اس گھناؤنے جرم کو روکے”۔

    ذوالقرنین سائر نے وی او اے نیوز کو بتایا کہ جب متاثرین کو رہا کیا جاتا ہے، تو وہ اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانے کے لیے خاموشی اختیار کرتے ہیں۔

    ماضی میں یہی کچھ پاکستان میں بھی صدر جنرل ضیاءالحق کے دور میں ہوتا رہا مگر انہوں نے بھی اس سے کوئی سبق نہ سیکھا اور بلآخر 17اگست 1988ء کو بہاولپور میں ایک ہوائی حادثے کا شکار ہو گئے۔ آج بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد بھی اپنے اعمال کے کٹہرے میں ہیں۔ وہ بنگلہ دیش کی چوتھی بار وزیراعظم بنیں مگر تاحال امریکہ اور برطانیہ نے اسے ایک "پناہ گزین” کے طور پر بھی اپنے ملک میں جگہ دینے سے انکار کر دیا یے۔

    Title Image by Joseph Fulgham from Pixabay

  • بنگلہ دیش کا خونی انقلاب اور موتی چور کے لڈو

    بنگلہ دیش کا خونی انقلاب اور موتی چور کے لڈو

    بنگلہ دیش کا خونی انقلاب اور موتی چور کے لڈو

    بنگلہ دیش کا خونی انقلاب اور موتی چور کے لڈو

    یہاں ہر خاص و عام پاکستانی بنگالیوں کو بنگالی بھائی کہتا ہے۔ متحدہ پاکستان میں سنہ 1971ء میں سقوط ڈھاکہ سے پہلے تک کوئی بنگالی چاہے لاہور، فیصل آباد اور کراچی وغیرہ میں تھا یا ڈھاکہ، سلہٹ اور چٹاگانگ وغیرہ میں تھا ہر پاکستانی سرراہ ملنے والے دوسرے بنگالی کو صرف بنگالی کہنے کی بجائے "بنگالی بھائی” ہی کہہ کر پکارتا تھا۔ جب تک بنگلہ دیش نہیں بنا تھا تب تک ان دونوں ملکوں کو "متحدہ پاکستان” کہا جاتا تھا جیسا کہ آج امارات کی ساتوں ریاستوں کو متحدہ عرب امارات یا انگلینڈ کے تمام حصوں (اور کوونٹریز) کو یونائیٹڈ کنگڈم (یو کے) کہا جاتا ہے۔ تب متحدہ پاکستان دو حصوں پر مشتمل تھا۔ ایک کو "مشرقی پاکستان” اور دوسرے کو "مغربی پاکستان” کہا جاتا تھا۔

    میں انگلینڈ میں نو سال رہا ہوں اور وہاں بھی میں نے پاکستانی کمیونٹی کی اکثریت کو انہیں بنگالی بھائی کہتے دیکھا اور سنا ہے۔ بنگالی بھائیوں کے لیئے میرے دل اور دماغ میں اس گہرے تصور کی وجہ سے میں جب بھی کسی بنگالی ریسٹورنٹ یا کیفٹیریا سے گزروں تو میں کوئی نہ کوئی بنگالی ڈش ضرور ٹرائی کرتا ہوں۔ کام سے واپسی پر رستے میں پڑنے والے ایک بنگالی کیفٹیریا پر میں اکثر رک جاتا ہوں۔

    حسب معمول میں آج اس کیفٹیریا پر بیٹھا تو میں نے "ثنا پوری” اور "پیٹھا” کا آرڈر کیا۔ ویٹر نے مسکراتے ہوئے ثنا پوری تو میرے سامنے رکھ دی مگر پیٹھا کے بارے بتایا کہ "صاحب پیٹھا ختم ہو گیا ہے۔” ثنا پوری سفید خشک اور بھنے چاولوں کی ڈش ہے جس میں نمک مرچ اور سلاد مکس ہوتا ہے جبکہ پیٹھا بھی چاول اور میدے سے بنایا جاتا ہے مگر یہ بنگلہ دیشیوں کی ایک "سویٹ ڈش” ہے۔ میں نے ابھی ثنا پوری کا پیالہ ختم نہیں کیا تھا کہ اچانک ایک بنگالی بھائی نے میرے سامنے پڑی خالی پلیٹ میں ایک "موتی چور لڈو” رکھ دیا۔ میں نے سڑک پر پیچھے مڑ کر دیکھا تو دو بنگالی بھائی گزرنے والوں کے درمیان پاکستان کے بنے ہوئے مشہور موتی چور لڈو بانٹ رہے تھے۔

    یہ محض ایک واقعہ ہے مگر یہ ایک بہت ہی خوبصورت اور حسین اتفاق ہے کہ بنگالیوں نے بھائی ہونے کا اپنا حق ادا کر دیا۔ گزشتہ روز بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد نے جب بنگالی طلبہ کے احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور انڈیا بھاگنے پر مجبور ہوئی تو ان بنگلہ دیشی لوگوں نے اس خوشی میں یہاں پاکستان کے بنے ہوئے لڈو تقسیم کیئے۔

    یہ لڈو بانٹنے والے بنگالی بھائی اس مشرقی پاکستان کے بزرگوں کی اولاد تھے جنہوں نے متحدہ پاکستان کو توڑنے کے لیئے مجیب الرحمن اور انڈیا کی بغل بچہ "مکتی باہنی” کی سازش اور غداری کا ساتھ دیا تھا۔ اچھا ہوا بنگلہ دیش کی نوجوان نسل نے اس کا ازالہ کر دیا جس کا داغ دھونے کے لیئے ڈھاکہ میں مجیب الرحمن کے مجسمہ کو احتجاج کرنے والے طالب علموں نے توڑا اور اس کی دیگر تمام "باقیات” کو پاش پاش کر دیا جس مقصد کو حاصل کرنے کے لیئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انہوں نے کم و بیش 500 شہادتوں کا نذرانہ پیش کیا۔

    اس خونی انقلاب کے پیچھے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان محبت کے مقابلے میں ایک دوسرے کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت کی ایک پوری داستان ہے کہ 71ء کے عام انتخابات میں ایک طرف شیخ مجیب الرحمٰن اور دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے "کرسی” کے لالچ میں اس کی گھناونی بنیاد رکھی تھی۔ بھٹو کو فوجی ڈکٹیٹر ضیاءالحق نے پھانسی دی اور مجیب الرحمن اور اس کے خاندان کے تمام افراد کو بنگالی فوج نے گولی ماری جس میں ان کی بیٹی شیخ حسینہ واجد وہاں نہ ہونے کی وجہ سے بچ گئی تھی۔ جب بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو کو دو بار اقتدار ملا تو وہ لیاقت باغ میں گولی کا نشانہ بنیں اور حسینہ واجد 19سال بنگلہ دیش پر حکومت کرنے، اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور معاشی طور پر مستحکم کرنے کے باوجود وہ اپنے باپ کی لگائی ہوئی نفرت اور غداری کی آگ کا خود ہی نشانہ بن گئیں۔

    شیج حسینہ واجد جب تک بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں انہوں نے انڈیا کے ایجنٹ کے طور پر کام کیا۔ وہ اسی بنگلا دیش کی وزیراعظم رہیں جہاں 52 سے 53 سال پہلے غیر بنگالیوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تھے۔ باقاعدہ منصوبہ بندی سے بہاریوں کی نسل کُشی کی گئی تھی۔ آج اُن سب شہداء کی ارواح یقینا بہت خوش ہوئی ہونگی کہ ان پہ ظلم ڈھانے والوں کی اگلی نسل بھی ذلیل و خوار ہو رہی ہے۔ وہ مکتی باہنی جس نے کبھی مشرقی پاکستان میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا، آج بنگلہ دیش سے اُس کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ طلبہ کے احتجاج کا مقصد یہی تھا کہ سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں اس کوٹا سسٹم کو ختم کیا جاۓ جو مکتی باہنی کے اراکین کی اولادوں کے لئے مُختص یے۔ شیخ حسینہ واجد نے اس احتجاج کو کُچلنے کے لیئے ہر جابرانہ و قاہرانہ حربہ استعمال کیا لیکن عوامی جذبات کے سیلِ رواں کے سامنے نہ ٹھہر سکیں۔ احتجاج کرنے والوں نے ہر ظلم کا ڈٹ کر سامنا کِیا اور آخِرکار انھوں نے کرفیو کو توڑ کر اور جان کی بازی لگا کر وزیراعظم ہاوس پر قبضہ کر لیا جس کے بعد حسینہ واجد جان بچا کر بھارت بھاگ گئیں۔

    یہ واقعہ ایک غیرمعمولی موڑ ہے جو کامیابی کے بعد بنگلہ دیش کی نہیں بلکہ مشرقی پاکستان کی تاریخ بن گیا ہے جس کا سب سے بڑا اہم سبق یہ ہے کہ تاریخ کبھی بھی کسی سرکش، غدار یا باغی کو معاف نہیں کرتی ہے اور اسے انجام تک ضرور پہنچاتی ہے۔

    جس کا تازہ نمونہ یہی ہے کہ بپھرے ہوۓ عوام کا ایک سمندر تھا جو حسینہ واجد کی رہائش گاہ کے گرد غیض و غضب سے نعرے بازی کر رہا تھا۔ سچ کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دُہراتی ہے۔ پانچ عشرے قبل جس ڈھاکا میں پاکستان کے بانی قائدِ اعظم محمد علی جناح کی تصویروں کی بے حرمتی کی گئی تھی، اُسی ڈھاکہ میں آج اس کے بانی مجیب الرّحمٰن کی تصویروں پہ سیاہی اور جُوتے پھینکے گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ مجیب الرحمٰن کے قد آدم بتوں کو بھی توڑ دیا گیا۔ یہ وہ شخص تھا جو بنگلہ بوندھو یعنی قوم کا باپ کہلاتا تھا لیکن اب وہ قوم جس نے کل تک اسے باپ کا درجہ دیا تھا، آج اس کی نشانیوں کو پیروں تلے روند رہی تھی اور اس کی خوشی میں ملک و ملک موتی چور کے لڈو بانٹ رہی تھی۔ یہ منظر گویا زبان حال سے چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ "دیکھو مُجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو۔”

    بنگلہ دیش کے آرمی چیف نے کہا ہے کہ ملک میں فوج کا حکم چلے گا مگر مناسب وقت پر الیکشن کروا دیئے جائیں گے۔ ایسا ہوا تو اسمبلی میں حسینہ واجد کی پارٹی کا کوئی نمائندہ نہیں ہو گا اور خونی انقلاب سے گزرنے والے انہی انقلابی طلباء کو اقتدار کا سنگھاسن ملے گا جو پاکستانی حکومت کے لیئے بہترین موقع ہے کہ وہ بھارت کو بچھاڑ کر اپنے بنگالی بھائیوں کی محبت و دوستی کو گلے لگا لے۔