افغانستان ایک ایسا ملک ہے جس کی تہذیب، ثقافت اور تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ فارسی، پشتو، ازبک، ترکمانی اور اب چترال سے افغانیوں کے انخلا کے بعد کھوار زبان میں شاعری کی روایات یہاں ہمیشہ سے زندہ رہی ہیں۔ رومانوی شاعری خصوصاً فارسی ادب میں نہ صرف محبت اور حسن کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ اس کے ذریعے روحانیت، تصوف اور انسانی جذبات کی گہرائیوں کو بھی بیان کیا جاتا رہا ہے۔ حافظ شیرازی، مولانا روم، عبدالرحمان بابا، خوشحال خان خٹک، محمد شکور غریب، مرزا محمد سیئر اور دیگر عظیم شعرا کی شاعری میں رومانی عناصر موجود ہیں، لیکن ان کا پیغام صرف دنیاوی محبت تک محدود نہیں بلکہ عشقِ حقیقی، اخلاقی اقدار اور انسانی تربیت پر بھی محیط ہے۔ افغانستان میں ماضی کی اسلامی حکومتیں اور علماء ان شعرا کی قدر کرتی آئی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں شاعری کی ایک منفرد حیثیت رہی ہے۔ اگرچہ قرآن مجید میں سورۃ الشعراء میں شعرا کے بارے میں تنبیہ کی گئی ہے، لیکن دنیا کی ساری زبانوں کے ادب میں حمد و نعت اور دیگر اسلامی شاعری میں ان شعرا کو سراہا گیا ہے۔ رسول مقبول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مجلس میں صحابی حضرت حسان بن ثابتؓ جیسے شعرا موجود تھے، جنہوں نے اسلام کے دفاع میں اشعار کہے۔ امام غزالیؒ، ابن قتیبہؒ اور دیگر علماء نے شعر و ادب کو ایک تعمیری فن قرار دیا، بشرطیکہ وہ اخلاقیات، شریعت اور سماجی ذمہ داریوں کے دائرے میں ہو۔ اسلام میں اخلاقی حدود کے ساتھ شاعری کو ممنوع قرار نہیں دیا گیا، بلکہ اسے جذبات و خیالات کے اظہار کا ایک باوقار ذریعہ مانا گیا ہے۔ عشقِ مجازی کو بعض اوقات عشقِ حقیقی کا تمہید بھی قرار دیا گیا ہے۔
افغانستان میں حالیہ قانون کے تحت رومانوی شاعری پر پابندی عائد کرنا، بظاہر اسلامی اخلاقیات کے تحفظ کے لیے کیا گیا قدم دکھائی دیتا ہے۔ اس قانون میں "دنیاوی محبت”، "لڑکے اور لڑکی کی تعریف” اور "دوستی کی ترغیب” جیسے موضوعات کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ افغانستان کے وزارتِ اطلاعات و ثقافت کی جانب سے نگران کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو اشعار اور تقاریر کی جانچ پڑتال کریں گی اور خلاف ورزی پر "شریعت اسلامی کے مطابق” سزا دی جائے گی جوکہ خوش آئند اقدام ہے۔ ناقدین یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ: کیا تمام رومانوی شاعری اخلاقی زوال کی نمائندہ ہوتی ہے؟ کیا ادب پر ایسی سخت نگرانی سے تخلیقی آزادی متاثر نہیں ہوگی؟ کیا شریعت کے نام پر ذاتی تشریح کو قانون کا درجہ دینا مناسب ہے؟ طالبان حکومت نے ادب کی آزادی پر قدغن نہیں لگائی ہے بلکہ غیر شرعی اشعار کی مخالفت کی ہے۔ لیکن مخالفین کا کہنا ہے کہ رومانوی شاعری پر پابندی صرف ایک صنفِ ادب پر پابندی نہیں، بلکہ ایک پوری فکری روایت کی سرکوبی ہے۔ ادب معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے، اور شاعری انسان کے اندرونی جذبات، محبت، درد، خوشی اور تصوراتی پہلوؤں کی عکاسی کرتی ہے۔ ایسی پابندی ادیبوں کو خود اظہار سے محروم کر سکتی ہے، جو فکری جمود کو جنم دے سکتی ہے۔ شرعی اصولوں کا محدود اطلاق شاعری پر بھی ہونا چاہئے۔ اگر شاعری میں فحاشی یا بداخلاقی کی ترویج ہو تو یقیناً شریعت میں اس کی گنجائش نہیں، لیکن ہر رومانوی شعر یا مشاعرہ فحاشی کا مظہر نہیں ہوتا۔ "دنیاوی محبت” پر مکمل پابندی اسلام کے اس پہلو سے تضاد رکھتی ہے جس میں فطری جذبات کو تسلیم کیا گیا ہے اور ان کے اظہار کو ایک باوقار انداز میں روا رکھا گیا ہے۔ ہر غزل پر پابندی سے ثقافتی تنوع کا نقصان ہوگا۔ افغانستان کے مختلف لسانی اور ثقافتی گروہ اس قانون سے متاثر ہوں گے، خصوصاً وہ قومیں جن کا شعری ورثہ رومانوی ادب سے جڑا ہوا ہے۔ یہ اقدام ایک یک طرفہ ثقافتی شناخت مسلط کرنے کا تاثر بھی دے سکتا ہے۔ موجودہ قانون کی زبان مبہم اور عمومی ہے۔ "دنیاوی محبت” یا "دوستی کی ترغیب” جیسے الفاظ کی مختلف تشریحات ہو سکتی ہیں، جو ماورائے عدالت کارروائیوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف شعرا بلکہ معاشرتی مکالمہ اور تقریر کی آزادی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسلامی معاشرہ تخلیقی اظہار اور اخلاقی اقدار کے درمیان توازن کا قائل ہے۔ افغانستان میں رومانوی شاعری پر مکمل پابندی عائد کرنا نہ صرف تاریخی و ادبی تسلسل کے منافی ہے بلکہ اسلامی اصولوں کی متوازن تشریح کے برخلاف بھی ہے۔ اگر اصلاح مقصود ہے تو اس کا راستہ سخت قوانین سے نہیں، بلکہ تعلیم، تربیت اور تنقیدی مکالمے سے نکلتا ہے۔ ایک بہتر طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ فحاشی و بے حیائی کے خلاف قوانین موجود رہیں، لیکن تخلیقی آزادی کو مناسب حدود میں رہتے ہوئے پروان چڑھنے دیا جائے۔ ایسا ماحول نہ صرف اسلامی روایات کے مطابق ہوگا بلکہ ایک صحت مند، متحرک اور باشعور معاشرے کی بنیاد بھی بنے گا۔
تبصرہ: صادق جاوید ( گڑھی اختیار خان ) عمرانیات ِ روحانی اور رجال الخیر کا مثالی پیکر…محمد یوسف وحید
علمی و ادبی مجلہ ’’ شعوروادراک‘‘ ۔ کتاب نمبر 5 (جنوری تا مارچ 2021ء) میں شامل خصوصی گوشہ’’ سید محمد فاروق القادری ‘‘ پر تبصرہ
راز ہائے طبق، انوار ہائے فلک، شہکار ہائے عمق اور بازگشت ِلاحاصل کا قلق ایسے حقائق ادق قلبِ آدم میں حیرت کدہ، عیاں اور تجسس ہائے نہاں قدرتِ کاملہ کے وہ کرشمے ہیں جو اس خاک کے پتلے کو ونفخت فیھا من روحی کی دل آویز نویدِ باکمال سنا کر قبل از یک ثانیہ نہ صرف جمادات سے یک لخت الگ کر دیتے ہیں بلکہ علم الآدم اسماء کلھا ایسی رمزِ دلفریب کے بل بوتے پر نہ صرف مسجود ِملائیکہ قرار دیے دیتے ہیں بلکہ حیرتِ حیراں کو بھی ازخود جواب دیے دیتے ہیں۔ مفہوماً الانسان سری و انا سرلہ تو ایک عارف کو شرح حقائق کے لیے مندرجہ ذیل الفاظ کو افضل ترین شعور کی افضل ترین لڑی میں پرونے میں سہولت کار کا کردار بدرجہ احسن میسر آ جاتا ہے کہ ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی چاہتے ہیں سو آپ کریں ہم کو عبث بدنام کیا قارئین کرام! اس مرحلے پر ہم آپ کی خدمت میں عطائے ربّ کی اور قسمت کی یاوری کے اتصال کی پروردہ، احمد بلامیم (م) اور احد بامیم (م) کی ذرہ نوازی پاک پنجتنؑ کی اُتم غم سازی۔ہم و ہم سرمن کنت مولا کی لاج داری،کلنا محمدؐ سے قلبی ربط داری،رجال لا یحزنوں کی ادائے داس داری،مریدی لاتخف کی خبرداری،خصوصاً مشائخ شاہ آباد شریف کی پاک نعلین برداری اور اپنے مرشد ِمن کی من داری کی نسبت سے محصولہ زنبیل ِمعمور اور نطقِ مامور سے اشغال ِروحانی سے ایک حرزِیمینی و دُرِیمانی حوالہ سماعت کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ عطا کی آرزوئوں کو آسانیاں اُچھال دیتا ہے مت دیکھو کون کہہ رہا ہے؟ بس دیکھو کیا کہہ رہا ہے مندرجہ بالا چند سطور اُصولِ آمادگی کے تحت آپ کی توجہ آمدہ اصلاحاتِ ثلاثہ پر مبذول کرانے کو معرض ِتحریر میں لائی گئی ہیں۔ جن کو نہ صرف بہ اذن ہائے دل حرز سماعت کرنے کی اشد ضرورت ہے بلکہ یہ باور کرانا بھی مقصود ہے کہ اگر ہم سعیٔ لاحاصل کے مرتکب ہوئے تو اپنے تمام خاکم بدہن نہ صرف نصف شبی جنبش قلم اپنے تمام تر محرکات سمیت اکارت جائے گی بلکہ ہاتھ لگیں گے وہی ڈھاک کے تین پات یعنی خدا ہی ملا نہ وصال ِصنم ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے نہ صرف قاری ِذی حشم بلکہ یہ خادمِ قلم بھی وہی راگ الاپنے کے سوا چارہ نہ پائے گاکہ تم اک گورکھ دھندا ہو قارئینِ ذی وقار! قسمت، یاوری اور آپ کی عقل ِسلیم کو فیصل مانتے ہوئے اور یہ جانتے ہوئے کہ تھی انا الحق مگر منصور کو کہنا نہ تھی یار کی محفل سے باہر یار کی محفل کی بات طشت ازبام کیے دیتے ہیں کہ مذکورہ بالا اصلاحات ِثلاثہ بالترتیب ہیں خیر البشرؐ…ابو البشر… بشر یاد رکھیں یہ اصلاحات سلسلہ در سلسلہ بلاشبہ فیوض ِاظہر وا بطن کی قاسم، قسیم و مقسوم ہیں۔ کہنے کو نعت سرورِ عالی وقار کی منہ میں زبان چاہیے پروردگار کی الغرض بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر، روز ِروشن کی طرح عیاں ہے کہ فضائل ہم قسم کو لذت اسریٰ سے نوازنے کے لیے مراقب حرا کرم فرمائے۔ ازحد عظیم ذاتِ کریم اور یثرب کے دُرِیتیم کے سواکسی کی ذیشانی پہ راضی نہ زلف دگر کی اسیری و ایاری کو قبولتے ہیں۔ نہ چکا چوند عالم درخور ِاعتنا مانتے ہیں بلکہ قلب ِمضطرب کی کائناتی ہمنوائی میں زلف و اللیل کے اتم دلکش پیچوں کا قصیدہ فقط اس انداز میں سنانا جانتے ہیں کہ واحسن منک ولم طرقط عینی واجمل منک لم تلد النساء خلقت مبرء امن کل عیب کانک قد خلقت ماتشاء معراج ِکمال پر فائز اس قطع کے بہت سے منظوم تراجم بھی فدایانِ جمال کے سہولت کار ثابت ہو چکے ہیں۔ ہم شاہد فاروق کا ترجمہ آپ کی نذر کرتے ہوئے تقدیم الی الخیر کی سعادت حاصل کیے چاہتے ہیں۔ نہ دیکھا میری آنکھوں نے کوئی تم سا حسیں جاناں صدف نے تم سا اُگلا ہی نہیں دُرِثمیں جاناں تمہیں پیدا کیا ہر عیب سے یوں پاک فرما کر کہ جیسے اپنی مرضی سے بنے ہو نازنیں جاناں ٭٭٭ وجہ وجودِ کائنات ، محبوب ذات فی ذات اصلِ حیات و کل حیات مشکل کشائے ہر جہات ٭٭٭ نگینے بکھرتے رہے جس کے کل پرتو زمانی و مکانی حدود و قیود سے بے نیاز مسابقت کے خواہاں ازلی رہے ٭٭٭ عرش است کمی پائے ز ایوان محمدؐ جبریل امیں خادم و دربان محمدؐ (سعدیؒ) ٭٭٭ چوں سوئے من گذر آری ، منِ مسکیں زِ ناداری فدائے نقشِ نعلینت کنم جاں یا رسول اللہ (حضرت جامیؒ) ٭٭٭ اتھاں میں مٹھڑی نت جاں بلب اُتھاں خوش وسدا وِچ ملک عرب (خواجہ غلام فریدؒ)
جس دن سے سے تیرے کوچے میں سویا ہوں خاک پر میری ہے گویا عرش پہ بستر لگی ہوئی تنہا فرید کو نہیں روح الامیں کو بھی ہے خاک تیرے تلووں کی منہ پر لگی ہوئی (خواجہ غلام فریدؒ)
قسمت جو یاوری کرے بن جاؤں گردِ راہ پھر قطب چومتا چلوں ان کی رکاب کو (خواجہ قطب الدین فریدی )
مندرجہ بالا سطور میں ہم نے کشش ِعکس ِجمالِ حق کی جھلک پیش کرنے کی سعیٔ سعادت فزا کی ہے۔ ورنہ الحمد للہ اتنی آشنائی ہے کہ ذکرِ یار آخر نہ شد شب آخر شد بلکہ ہمارا وجدان کہتا ہے کہ عمر ہا آخر شد عزیزان ِذی وقار!مذکورہ اصطلاحی مثلث کے اشہبِ خیال کو مہمیز کرنے سے پہلے آپ کو حکم روحانیت کا یہ نکتہ آپ کو یاد دلانا قریبِ قلب معلوم ہوا ہے کہ چشم اظہر کے لیے تو اس عالم بے ثبات کی چکا چوند پادشاہی اور بے وقعت کروفر کو درخور اعتنا لانے کی ہزاروں سبیلیں نکل سکتی ہیں۔جس کے تمثیلی و عارضی خاکے کا منہ حضرتِ غالبؒ کچھ اس طرح منہ چڑانے میں کامیاب رہے ہیں اور خوب رہے ہیں کہ بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشہ مرے آگے ہاں مگر ایسا نہیں ہے کہ اس کا کوئی مثبت پہلوسرے سے ہے ہی نہیں بلکہ ہے اور یقینی ہے۔مظفر وارثی نے یہ فرما کر فلسفہ اور روحانیتِ اتصال کی بہترین صورت میں داغ بیل ڈال دی ہے۔ کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے وہی خدا ہے حُبِ حضور تو شرطِ ایمانی ٹھہری آلِ اطہارؑ کے صدقے میں اللہ والوں سے قلبی لگائو ،مرشدِ کریم کی نظرِ ِکرم کا خصوصی تحفہ ملا ہے۔ تحدیثِ نعمت کے فریضۂ برتریں کی ادائیگی کے تقاضے نبھاتے ہوئے آپ کے سامنے حرز جان بنانے کے لائق الفاظ آپ کی نذر کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ اس آگاہی کے ساتھ کہ جے یار فرید قبول کرے سرکار وی توں سلطان وی توں نتاں کہتر، کمتر، احقر، ادنیٰ لاشے لا امکان وی توں ایک وقت میں ساری دنیا میں غوث۔ ایک ،قطب ۔چار،اوتار۔چھ،ابدال ۔چالیس اور اولیا ئے کرام تین صد رہتے ہیں۔دنیا کا سارا انتظام و انصرام ان ہی کے حوالے رہتا ہے۔ جن کا منشورکل ان صلا تی و نسکی و محیای ومماتی للہ رب العالمین ہوتا ہے جس سے وہ نہ ذرا برابر ہٹتے ہیں، نہ گھٹتے ہیں۔یہی وہ نفوسِ قدسیہ ہیں خیر ِبشر کے معنوی تسلسل ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہی نورانی تسلسل جس کے ڈانڈے صفہ کے نظام ِفیض رساں سے ملتے ہیں جس کے حصار میں چہار دانگ عالم کی صدری، قولی و عملی تربیت ایسے چراغ روشن ہوئے جن کی ایمان افروز کرنیں عرب و عجم کے ساتھ ساتھ دنیا کے ہر کونے میں آباد افراد ِعالم کے سینوں کو لگاتار منور کرتی چلی گئیں۔ جو قرنوں سے جہالت کی شب تیرگی میں گم کرتا رہااور اپنی مقسومی زبوں حالی کا نوحہ یوں پڑھ چکے تھے۔ چرخ پر بیٹھ رہا جان بچا کر عیسیٰ ہو سکا جب نہ مداوا ترے بیماروں کا ابتداء میں متذکرہ عمرانی و روحانی مثلث کے کردارِ ثانی ابو البشر کی جملہ کہانی ۔اثبات اور نفی ،خیر اور شر الغرض۔ادب و آداب ،تسلیم و رضا، حاصل و لاحاصل سے عبارت اس انقلابی و اصلاحی قصے میں وجود ِشہر اور احساس ِزیاں کے ذریعے اصلاح ِاحوال کا درس موجود ہے۔ جس میں پچھلی قومیں اکثر ناکام رہیں لیکن ملت ِمسلم کی باری آئی تو اس شعر کے مصداق کایا پلٹ ہو گئی کہ جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا جو نکتہ وروں سے حل نہ ہوا وہ راز اک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں ازل سے ابد تک میں سے وہ تریسٹھ (63)برس جنہیں نبی اکرم ؐ کی نسبت سے بہترین دور قرار دیا گیا ہے۔ حیات ِمبارکہ کی ظاہری تکمیل کے بعد نبوت کا سلسلہ رک گیا لیکن اصلاح ِ احوال کا مشن آئمہ، اصحاب عظام سے ہوتا ہوا اولیائے کرام اور صوفیا حضرات تک پہنچا۔جسے ستاروں سے منور و مزین کہکشاں کہنا زیادہ بہتر ہو گا ۔جس کے نورانی فیض سے ارض خدا کا چپہ چپہ ضیا بار ہوا۔ عرب ،عجم، ہند ،سندھ ،پورب، پچھم، اتر ،دکن میں جہاں جہاں نمود پائی وہ مقام اللہ والوں کے قدموں کی برکت سے عیون نور قرار پائے اور وہ برگزیدہ ہستیاں روحانی طبیب ثابت ہوئیں جنہوں نے ابوالبشر کے تسلسل و من منشرہ کے پروردہ ،قلبِ آزردہ کے غم اندوہ کو دستِ شفقت اور نظرِ کرم کی اثر آفرینی سے پل بھر میں کافور کر دیا۔ بارانِ نور کے یہ سلاسل صوفیا سے موسوم ہوئے اور دوائے دل بانٹتے ہوئے وہ طبیب کے اسمائے گرامی سے موسوم ہوئے۔ سلسلہ عالیہ قادریہ بلاشبہ منفرد واضح اور قانع مقام و منشور رکھتا ہے۔ جس میں اصلاحِ باطن سمیت مجموعی و اخروی فلاحِ انسانیت کو فوقیت حاصل ہے ۔جس میں اعمال و اشغال تزکیہ کے اطوار کڑے ضرور ہیں مگر قرب و قبول کی خاصیت نہایت واضع اوربدرجہ اتم رکھتے ۔جس میں مریدی لاتخف کا مژدہ ٔجاں فزاکی افادیت موج سل سبیل سے کسی طور کم نہیں ہے۔ عظیم روحانی آبشار کے ایک دھارے نے ضلع رحیم یار خان تحصیل خانپور کے مغرب میں تقریباً پندرہ کلو میٹر پر موجود تاریخی مگر عرصہ دراز سے سامراجی قوتوں کے نرغے میں خود غرضی کی عفریت عفریتی پاٹوں میں پسے قصبے گڑھی اختیار خان سے اٹھتی صدائے العطش کو شرف ِقبولت بخشا۔ دل کی دنیا کو حسن اخلاق صدری قوت اور وصفِ کرم کی معجزہ نمائی سے بدل کر رکھ دینے اور چشمِ عنایت کی وردانی تاثیر سے قلوب و اذہان کی کایا پلٹ ماہر اعظم اس وردانی و روحانی دھارے کومشائخ شاہ آباد شریف کے نامِ نامی اسم ِگرامی سے جانتی ہے۔ شاہ آباد شریف گڑھی اختیار خان سے مغربی سمت تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر پر موجود اللہ والوں کی بستی کا نام ہے جس میں اس شعر کو پیکر تمثیل و تسلیم میں ڈھالنے میں اپنے حصے کا کردار نہایت رمزیت، دلیری اور خوش اسلوبی سے ادا کیا کہ نگاہِ ولی میں وہ تاثیر رکھی بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی راقم الحروف کا وجدان کہتا ہے گڑھی اختیار خان روحانی طور پر کبھی بھی بے فیض نہیں رہا ہو گا اس کا نام ہی نہایت خدا رسیدہ اور اپنے وقت کے الٰہی طبقے کے سرخیل حاجی اختیار خاںؒ سے منسوب ہے جو ظاہراً ملت ِعباسیہ مگر باطناً ملت لاصفیا کے مشاہیر و سفیران میں نہایت چمکتے دمکتے ستارے کی مانند ہیں۔ گڑھی اختیار خان یونین کونسل میں سلسلہ سہروردیہ کے مشہور عالم بزرگ حضرت شیخ عبد الستارؒ کا مزار مبارک بھی صدیوں سے اخفا و اظہر حوالوں سے سکون ِقلب کے متلاشیوں کا مقام مطلوبہ بنا ہوا ہے۔ گیارہ شہید ِولیٔ کامل حضرت شاہ محمد فقیرؒ کے مزار مبارک سمیت کئی دیگر مقدس مزارات بھی اسی کی حدود میں روحانی مطب کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ حاجی اختیار خانؒ کا مزار بھی اپنی مثال آپ ہے۔ ساتھ ہی بلبلِ باغ ِفرید حضرت خواجہ محمد یار فریدیؒ ایسے عاشقِ رسول ؐ،خطیب ِمحبت ،صوفی شاعر اور حضرت خواجہ غلام نازک کریم کے مزارات مبارک یاد الٰہی کے مسلم مرکز مانے جاتے ہیں جسے حضرت خواجہ غلام قطب الدین فریدی کی دور اندیشی، محنت نے تصوف کا عالمی مرکز منوانے میں اپنا کردار خوب نبھایا ہے۔ مگر علم و فضل ،تفریر و تحریر، رشد و ہدی ،درس و تدریس، افکار و اشغال کو قلبی فتوحات کا ذریعہ بنا کر تسخیرِ قلوب کے جو کرشمے شہرہ آفاقی کے جو کارنامے مشائخ شاہ آباد کی فہم و فراست، باطنی توانائی ،کامل وجاہت اور حسنِ اخلاق نے نہ صرف مقامی و ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر کردار سازی و نیک نامی کے جھنڈے گاڑھے ہیں وہ رہتی دنیا تک خراج تبریک وُصولتے رہیں گے۔ دوائے دل کے نسخہ ہائے کیمیا کے موجود ہ محافظ اس طائفہ روحانیہ نے دین ِمتین کی خدمت اور ساغر صدیقی کے قلم سے تڑپتی روحوں کی ترجمانی میں اٹھی ہوئی اس قرینِ حقائق صدائے دلخراش کی داد رسی کے لیے ازعرب سوئے عجم رختِ سفر باندھا کہ پلا ساقیا کوئی جام غزالی بھٹکتی بصیرت لہو رو رہی ہے اس فیض رساں بابرکت سفر میں نمایاں سنگ ہائے میل بخارا، اچ شریف، گجرات، لاہور ،ملتان، ہندوستان اور شکار پور میں گڑھی اختیار خان سے قبل ڈیرہ گبولہ بھی قابل ذکر ہے۔ قسام ِدولتِ درد، شرارۂ عشق کے اشارہ کناں اور طبیبان ِروحانی سے سجی اس کہکشاں کے تابندہ ستاروں کے اسمائے گرامی ہیں۔ جنید زماں، سید العارفین حضرت مخدوم سید جلال الدین سرخ پوش بخاری ؒ، آپؒ کے لخت ِجگر حضرت مخدوم سید احمد کبیر بخاریؒ، ان کے فرزند ارجمند حضرت مخدوم سید جلال جہانیاں جہاں گشت اور ان کے فرزند ثانی حضرت مخدوم سید صدر الدین راجو قتالؒ۔حضرت سید محی الدین عبید القادریؒ، آپ ؒ کے فرزند قدوۃ الاولیاء حضرت سید جعفر شاہ بخاری سہروردی قادری جو مشائخ شاہ آباد شریف میں فرد ِاوّل واعظم ہیں۔ آپؒ کے بعد آپؒ کے فرزندِ ارجمند نامور عالم دین برہان الدین حضرت سید سردار احمد القادریؒ آپ کے فرزندِ ارجمند ،عربی ،فارسی اور اُردوکے عظیم صوفی شاعر، جس کے روحانی عطاروں میں صوفی شاعر اور عالمِ دین حضرت پیر الحاج سیّد محمد سیف الدین مغفور القادری ؒ ، حضرت پیر سیّد بہار علی شاہ القادری ، حضرت علامہ پیر سیّد مظفر علی شاہ القادری کے ساتھ ساتھ ایک ایسی علمی روحانی و ادبی شخصیت جو کسی تعارف کی محتاج نہیں بلکہ ایک لحاظ سے یہ پورا خانوادہ ہمیشہ کے لیے اسی شخصیت کے نام اور کام سے پہچانا جائے گا ۔ اس کارِ سعادت میں پیش پیش ہیں ۔ مری مراد آبروئے قلم ، موقر المحققین اور جانبازِ سادات حضرت علامہ پیر سیّد محمد فارو ق القادری ؒ ہیں ۔ نیز خاندانِ کوریجہ کے مقبول بارگاہ بزرگوں کا مسکن ہونے کا شرف بھی گڑھی اختیا رخان کو حاصل رہا ہے ۔ حضرت خواجہ دُر محمد کوریجہ جنہیں عوام ’’ حضرت دُر پاک ؒ ‘‘ کے نامِ نامی سے یاد کر تی ہے ۔ حضرت خواجہ گُل محمد سئیں المعروف بدھن سئیں کوریجہ کے علاوہ ہم نے بزرگوں سے دیگر بہت سے بزرگوں کے دم قدم سے مقبولانِ بارگاہ اَولیائے کرام کے بارے میں سُنا ہے جن کے دم قدم سے رونما ہونے والے فیو ض و برکات کے تذکرے زبانِ زدِ عام ملتے ہیں ۔ حضرت خواجہ دُر محمد کوریجہ ، حضرت خواجہ محمد یار فریدی ، حضرت خواجہ غلام نازک کریم نے جس فیضان کرم کی ترسیل کا حق اَدا کیا ہے ۔ اس کی تاریخ بہت قدیم ہے جب کہ بہارِ چشت کے فاضل مصنف نے حضرت خواجہ محمد یار فریدی ؒ کی آمد سے پہلے اس سرزمین کو بے آب و گیاہ کیوں لکھا ؟ جواب تو شاید و باید مگر بہت سے سوال جنم لینے کو بے تاب نظر آتے ہیں ۔ بہر حال گڑھی اختیار خان کی فضائیں جن شخصیات کے احسانات کو اُتارنا تو درکنا شمار کرنا بھی ناممکن پائیں گی ان ہی میں سے ایک سیّد محمد فاروق القادری ؒ بھی ہے اور نام بھی کافی ہے ۔ آپ نے علوم کو حق الیقین سے ہمکنار کر کے تحقیق کی کسوٹی پر پَرکھنا شروع کیا تو محققینِ عالم نے اپنی راہیں متعین کرنے کا جواز تلاش لیا ۔تقر یر و تحریر کا میدان ہو یا فکری مباحث کی محافل آپ کی رائے ہمیشہ حکم کا درجہ رکھتی تھی ۔ آپ نہایت حلیم الطبع مگر جلالی کیفیات سے وقار ِسادات کے امین نظر آتے تھے ۔ باتوں سے دل موہ لینے میں بھی ماہر اور ضروری تبخر میں بھی تیزگا م رہتے تھے ۔ مگر تبلیغی مقاصد کے لیے بندگانِ خدا کو کشش کر نے میں بھی لاثانی صلاحیتیوں کے مالک تھے ۔ ہاں مگرتصرف ِروحانی سے سیکنڈ سے بھی قبل فیصلہ فرمالیتے تھے کہ جوہرِ مطلوبہ سے محروم اَفراد جاتے نہ دِکھتے تھے ۔ سیرت و اَخلاق آپ کا من پسند موضوع رہا ہے اور مقالہ نویسی میں جو مقام آپ نے حاصل کیا اس کو بڑے بڑے فکری ڈاکٹر بھی ترستے رَہ جاتے ہیں ۔ اس کریم گھرانے سے محبت کرنے والوں کی بے شمار تعداد میں راقم الحروف کے دادا دادی ، نانا نانی ، والد اور والدہ کی والہانہ محبت بھی دیدنی رہی ہے اور قابلِ ذکر ہے یہ ناچیز گلزارِ محمد ی کے اس وردہ یگانہ کی اُلفت کا اَسیر بھی ہے اور شرف ِ ارادت سے امیر بھی ہے ۔ سادگی میں کمال رکھنے والے اس فخرِ سادات مرشدِ کریم کی عوام الناس سے مثالی شفقت دیکھ کر اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ یہ مردِ درویش فتوحاتِ مکیہ ایسی اَدق علمی سلطنت کو طشتِ ازبام کرنے پہ تلے گا تو شارحینِ اَسلاف کو ورطہ ٔ حیرت میں ڈال دے گا ۔ ملک عزیزکی زبوں حالی کو ’’ اَصل مسئلہ معاشی ہے ‘‘ کا نادر نمونہ دان کر دے گا ۔ معرفت کے تار چھیڑے گا تو انفاس العارفین کو دامانِ عافیت نصیب ہو جائے گا ۔ چمن میں دیدہ ور کا تصور کرے گا تو ایسے علمی جواہر پارے قرطا س و قلم کی جادوگری کے پلڑے میں ڈال دے گا کہ جس پر مقامی ملکی اور بین الاقوامی اداروں کی ھل من مزید کو قرار ملے گا حتیٰ کہ جامعتہ الازہر مِصر کو بھی آپ کی کتابوں کو شامل نصاب کر تے ہوئے فخر و انبساط کا اَحسا س ہوگا ۔ عالمی شہر ت یا فتہ صوفی اسکالر حضرت خواجہ غلام قطب الدین فریدی فرماتے ہیں کہ میں جب جامعتہ الازہر مِصر میں لیکچر کی غرض سے پہنچا تو دل میں ایک مُسرّت محسوس کر رہا تھا اور یہ مسّرت اس وقت مزید بڑھ گئی جب سیّد محمد فاروقؒ القادری کی کتابیں اور عقید ت مند مجھ سے پہلے وہاں موجود ملے اور میری توقیر میں بھی اضافہ ہوا کہ میں آپ کے قصّبے سے آیا تھا ۔ حضرت پیر علامہ سید محمد فاروق القادریؒ کی قلمی و قلبی فتوحات نے علمی، ادبی، روحانی، معاشی حوالے سے نہ صرف ناقابل ِفراموش تاریخ رقم کر دی ہے بلکہ روحانی و عصری تعلیم کے تمام تر تقاضے نبھاتے ہوئے ایک عظیم الشان ادارہ تعلیماتِ اسلامیہ اور منظم ترین خانقاہی نظام کے ساتھ ساتھ اپنی دُور اندیشی کو مزید دُور ِرس کرنے کے لیے نہ صرف رسم باقی باللہ گری ادا کر دی بلکہ راقم الحروف کے ایک قلبی واردات کے نتیجے میں برآمد ہونے کا اعزاز بخش دیا۔ یہ الفاظ حضرت خواجہ محمد یار فریدی کمپلیکس میں تصوف کے حوالے سے ایک عظیم الشان محفل میں اس ناچیز کی تقریر کے دوران ملنے والی پرچی کے جواب میں بے اختیار برآمد ہوئے تھے۔ جی صاحب تاریخ میں کن ابی ذر اور باقی باللہ بنانے کی رسم بھی محفوظ ہے۔مرے مرشد کریم (حضرت سید محمد فاروقؒ القادری) کے پاس یہ قوت اختیار ہے جب بھی چاہیں گے یہ حق استعمال فرما لیں گے۔الحمد للہ تینوں مرشد زاد ِامین امانت اور فخر اسلاف ہیں مگر اس ناچیز کے وجدان کے مطابق مرشد کریم نے حضرت پیر سید صبغت اللہ سہروردی پر رسم باقی باللہ گری کا نہایت کامیاب تجربہ فرمایا ہے۔ کسے کہ حسن رخِ دوست در نظر دارد محقق است کہ او حاصلِ عمر دارد متذکرہ بالا روحانی ہستیوں سے حسبی ،نسبی، قلبی و کسبی ربط کا شرف ِاعزاز پانے والوں کو رجال الخیر کہا جاتا ہے ۔جن کا ایک مثالی پیکر محمدیوسف وحید ہے جو شعور و ادراک کی شمع جلائے اس کی کرنوں کی ترسیل کے لیے نہ صرف مقام ِمطلوبہ تلاشنے بلکہ دیپ سے دیپ جلانے میں ہمہ وقت مصروف نظر آتا ہے۔ اصلاح ِاحوال کے مشن میں آقائے نامدارؐکے نعلین مبارک کا لہو سے بھر جانا اس سفر کی کٹھنائیوں کی بہترین مثال ہے اور دیگر بھی کئی ایک ہیں مگر یہ تو آپ بہتر جانتے ہیں کہ یہ دنیا ایک اسٹیج ہے اور ہر کوئی ایک کردار ہے۔عالمِ کردار کا یوسف کب اور کیونکر لیلیٰ ٔ ادب کا قیس بن گیا اس راز کو ہم بعد میں طشت از بام کریں گے تاکہ اس میدان میں نوواردوں کو ایک سچے ا ور کھرے رول ماڈل سے آشنا کر دیں ۔اس سے قبل تمام علمی، ادبی اور روحانی برادری کی ترجمانی کرتے ہوئے اس یوسف ِکردار اور قیسِ ادب کی خدمت میں نہایت خلوص کے ساتھ ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں کہ جس نے حضرت قبلہ علامہ پیر سید محمد فاروق القادریؒ ایسی عبقریٔ زماں شخصیت کی علمی، ادبی اور روحانی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کا نہ صرف احسن فیصلہ کیا بلکہ نہایت جانفشانی سے موسم کی شدت، سورج کی تلخی اور خصوصاً کرونا ایسی آسمانی آفت کے ہوتے کہ جس نے نہ صرف دور ِحاضر کی سب سے بڑی حقیقت قحط الرجال کو نہ صرف قحط العوام میں بدل کر رکھ دیا ہے بلکہ ہماری سماجی و ثقافتی سرگرمیوں کے سارے حسن کو ماند کر کے رکھ دیا ہے۔ الغرض گونا گو ںمشکلات کا سامنا کیا اور ادب کی خدمت کو فوقیت دی۔ اللہ کریم نے بھی اپنے پیاروں کے طفیل محمد یوسف وحید کو ہزاروں پر فوقیت دی اور وہ اس طرح کے ایک ولی کامل کے تذکرے سے مزین خصوصی گوشے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ’’شعور و ادراک‘‘ کے اس خزینے کانمبر ہے 5 اورآپ جانتے ہیں جیسا کہ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں کہ اصل میں کائنات کا انتظام و انصرام روحانی ہستیوں کے دم قدم سے چل رہا ہے تو یقینا اس فخر ِسادات کے تذکرے اور اس کے ذریعے ترسیلِ پیغام کے لیے سہولت کاری کی توفیق پر محمدیوسف وحید کو انعام و فیض ملے گا کیونکہ جہانِ فیض میں حاصل اسی کو پھول ہر دم ہیں کہ بندے جو بھی خدمت میں سراپا دھول ہر دم ہیں
بہرطور یہ ایک مشکل امر تھا جو اللہ کے کرم اللہ والوں کے تصرف اور خلوص و جانفشانی سے نہ صرف مشرف بہ تکمیل ہوا بلکہ ایک عظیم ادبی و روحانی پروجیکٹ کی داغ بیل بھی ڈال گیا جس کی نوید اسی گوشے کے دوسرے مضمون ’’صحبت ِیار آخرشد‘‘ میں حضرت سید صبغت اللہ سہروردی سنا چکے ہیں۔گوشے کے حسن ِترتیب اور افادیت پر بات کی جائے تو نہایت خوشگوار مسرت کا احساس ہوتا ہے جس میں اوّلیت اس حقیقت کو ہے جس میں دُھن کے پکے محمد یوسف وحید نے نہ صرف اس نعرہ ٔمستانہ کو حقیقت میں ڈھال دیا کہ رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی بلکہ کچھ ایسی ادبی خدمت بھی کر لی جو ناممکنات میں شامل رہی تھی۔ اس کا ایک پہلو نئے لکھاریوں کی تلاش ،ملاقات اور حاصلات کا مرحلہ خوش اسلوبی سے طے کر لینا ہے۔ یقینا اس گوشے میں بڑے جلیل القدر، رجال الخیر کے قلمی کارنامے موجود ہیں مگر پروفیسر سراج احمد قریشی صاحب،استاد محترم جناب فیاض احمد صاحب، استاد محترم جناب محمد رمضان صاحب اور راقم الحروف کے دیرینہ دوست جناب محمد مزمل خان صاحب سے تحریریں لکھوا لینا اس قیسِ ادب کا ہی امتیاز ہے کیونکہ یہ حضرت اپنی پیشہ ورانہ مصروفیت کے سبب وقت ہی نہیں نکال پاتے ہیں۔ جس تک قارئین کی رسائی محمد یوسف وحید کے ذریعے ہوئی ہے۔ یہی بنیاد بنے گا اور یہ صدقہ جاریہ جاری رہے گا اور وقت کے مؤرخ کو ماننا پڑے گا کہ جب کبھی راستہ حالات کا دھندلایا ہے کام آئی ہے زمانے میں ضیائے درویش
مجموعی طور پر علمی و ادبی مجلہ ’’شعور و ادراک‘‘ کا سلسلہ اشاعت نمبر 5‘دستور سے بڑھ کر بھانت بھانت کے سبق آموز ادبی، علمی اور روحانی نگینوں سے سجی ہے ۔جو برکت ہے عدد پانچ کی جس کی روحانی نسبتوں اور برکتوں سے انکار گویا کتاب ناممکنات کا سرنامہ ہے۔اہل ِفن حضرات خوب جانتے ہیں کہ غزل کی ردیف میں شاعر کے اندر سے انسان کا ایک روپ کارفرما نظر آ رہا ہوتا ہے جو کہ اس کی حساسیت اور قوت ِمشاہدہ کی بدولت سیرانی جہاں بن کر اپنے باطنی سفر کی داستانوں کے الگ الگ عنوانات کو الگ الگ ردیف میں پروتا جاتا ہے مثلاً کسی غزل کی ردیف دل ہے تو ہمیں یہ سمجھنے میں بالکل دیر نہ لگے گی کہ اس میں شاعر نے دل والوں کی بستی کے احوال و آثار کی کہانی سنائی ہے جس کا ہر شعر دل کی مخصوص واردات کے استخضارکا بہترین نمونہ لیے ہوئے ہے۔ بعینہ ایک نثر نویس حسنِ ترتیب میں عنوان بندی سے ردیف والا ہی کام لیتا ہے۔ ایک مہا عنوان کے تحت اس سے متعلق عنوانات پھر ہر عنوان پر مختلف مضامین ،مصنفین کے حفظ ومراتب کے تقاضوں کو نبھانے کی پوری کوشش کرتا ہے اور اگر وہ لیلیٰٔ ادب کے قیس بے مثال محمد یوسف وحید کی طرح تسخیر ِقلوب کا منتظر پڑھ چکا ہوتا ہے جس کی تاثیر فہرست پر پڑی نظروں کو اس جہانِ خاص کی سیر کروا کے ہی دم لیتی ہے جس سے آج تک وہ گزرا تو ہوتا ہے مگر دیکھ نہیں پایا ہوتا۔ راہ گزر کے چراغ ہیں ہم لوگ آپ اپنا سراغ ہیں ہم لوگ
محمد یوسف وحید
ہم نے اپنے آج کے ممدوح محترم قیسِ ادب مدیر مجلہ’’ شعوروادراک‘‘ محمد یوسف وحید کی ادبی فتوحات پر تمام تر محبان ِادب کی ترجمانی کرتے ہوئے کھلے دل سے ہدیہ ٔ تبریک پیش کرنے اور خود چنے کام کی کٹھنائیوں کے سامنے عرق ریزی، جانفشانی، خود فراموشی اور اپنے آپ کو وقف پراپرٹی سمجھ لینے والی اس کی ادائوں کو خراج تحسین پیش کرنے کی مقدور بھر جسارت کا تانا بانا ہی ’’خیر‘‘ کے تارِ لازوال سے بُنا ہے‘ اخلاص کو امام مان کر حسنِ عمل دمکتے موتیوں میںپروتے گئے ہیں۔ ہم الرجال الخیر کی تسبیح کس حد تک مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے اس کا فیصلہ آپ پر ہے۔آپ کی سہولت کے لیے کتاب نمبر 5میں ’’شعور و ادراک‘‘ کا ایک پرتو دکھائے دیتے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ فلاح انس واجب کے کتنے پہلو کتنی نفاست سے پروئے گئے ہیں اور کتنا وسیع تر علمی، ادبی و روحانی معلومات کو ابلاغ کی سہولت دان ہوتی چلی جا رہی ہے۔ القصہ محمد یوسف وحید الرجال الخیر میں اپنا مقام بنا چکے ہیں۔ ایں سعادت بزور بازو نیست تانہ بخشد خدائے بخشندہ حسن ترتیب خصوصی گوشہ سید محمد فاروق القادریؒ فہرست …گوشہ سیّد محمد فاروق القادریؒ نمبر نام مضمون نام مصنف صفحہ ۱ سیّد محمد فاروق القادری کی علمی و ادبی جہتیں محمد یوسف وحید (مدیر) 284 ۲ صُحبت ِ یار آخرِ شُد سیّد صبغت اللہ سہروردی 286 ۳ آبروئے علم و قلم…سید محمد فاروق القادری پروفیسر عون محمد سعیدی مصطفوی 289 ۴ تاریخ ساز شخصیت … سیّد محمد فاروق القادری ؒ ڈاکٹر عمر حیات الحسینی بوسن 292 ۵ علامہ سیّد فاروق القادری…شخصیت و خدمات سید زاہد نعیمی 301 ۶ سرنگوں ہیں پرچم اَدب کے جہاں میں صادق جاوید 311 ۷ گوہرِ باکمال …سیّد محمد فارو ق القادری ؒ معظمہ شمس تبریز 318 ۸ مصنف و مترجم…سید فاروق القادری اکمل شاہد کنگ 320 ۹ زینتِ قرطاس و قلم …سیّد محمد فاروق القادریؒ علامہ افتخار الحسن رضوی 322 ۱۰ صاحب ِ علم شخصیت…سید فاروق القادریؒ علامہ اسلم طاہر القادری 323 ۱۱ محقق و مترجم ، شاعر و ادیب سیّد محمد فاروق القادری ؒ انٹرویو : ڈاکٹر نذر خلیق 326 ۱۲ عالم دین، محقق، شاعر…سید محمد فاروق القادری پروفیسر رئیس نذیر احمد خان 337 ۱۳ محقق العصرسیّد محمد فاروق القادری،حیات و خدمات مرزا حبیب الرحمن 340 ۱۴ تعزیت نامہ محمد فیضان رضارضوی علیمی 344 ۱۵ نامور محقق و مترجم ….سیّد محمد فارو ق القادری سعدیہ وحید 345 ۱۶ آہ !…سید محمد فاروق القادری علامہ محمد حبیب احمد سعیدی 348 ۱۷ سیّد محمد فاروق القادری کی شخصیت صفدر بلوچ 350 ۱۸ سیّد محمد فاروق القادریؒ ….یادیں اور باتیں سردار محمد اکرم بٹر 352 ۱۹ طلوع سید ارشاد احمد عارف 354 ۲۰ سید محمد فاروق القادری …جلیل القدر شخصیت سراج احمد قریشی 356 ۲۱ سیّد محمد فاروق شاہ القادری کی تصنیفات نذیر احمد بزمی 362 ۲۲ رضائے الہٰی سے دارِ بقا کو … فیاض احمد 365 ۲۳ مدبّر ، مفکر اور انسان دوست شخصیت محمد مزمل خان 366 ۲۴ آسمانِ ادب و روحانیت کا شمس و قمر محمد رمضان 367 ۲۵ دبستانِ علم و ادب…سید محمد فاروق القادری جام ایم ڈی گانگا 369 ۲۶ قطعہ ٔ تاریخ وفات ( فارسی ) سید شاکر القادری 369 ۲۷ قطعہ ٔ تاریخ ِ وفات سید عارف محمود مہجورؔ رضوی 370 ۲۸ عبقری ٔ زماں شخصیت ۔ علامہ سیّد محمد فاروق القادریؒ سید عارف محمود مہجورؔ رضوی 372 ۲۹ منقبت بحضورمرشدِ کریم سیّد محمد فاروق القادری ؒ صادق جاوید 373 ۳۰ سید محمد فاروق القادریؒ دی یاد وچ شبیر ابنِ بے رنگ 375 ۳۱ عظیم مبلغ …سیّد محمد فاروق القادریؒ سعدیہ وحید 377 ۳۲ منفرد طرزِ تحریر کے مالک …سیّد مغفور القادری سعدیہ وحید 379 ۳۳ سیّد محمد فاروق القادریؒ …صاحبِ بصیرت ظفر اقبال جتوئی 381 ۳۴ مرشدِ من …سیّد محمد فاروق القادریؒ ( روداد عرس) صادق جاوید 383 مضامین سیّد محمد فاروق القادری ؒ ۱ شیخ محی الدین ابن عربی ؒ سیّد محمد فاروق القادری ؒ 393 ۲ سیدنا امامِ اعظم ابو حنیفہ ؒ سیّد محمد فاروق القادری ؒ 397
*بشکریہ سہ ماہی شعوروادراک خان پور ۔ شمارہ نمبر ۵ ، جنوری تا مارچ ۲۰۲۱ء ٭٭٭
دنیا میں بہت سی شریعتیں رائج ہیں۔ ہر ایک مذہب اپنی شریعت کو اعلیٰ مانتا ہے۔اس شریعت کی معرفت حاصل کرکے اس پر عملی زندگی گزارنے والے کو عارف کہا جاتا ہے۔ خدا کی رحمت سے تو حید کی منزل پر پہنچا ہوا عارف زمین کی طرح ہوتا ہے جس پر نیک و بد سبھی چل سکتے ہیں۔ وہ ان بادلوں کی طرح ہیں جو ان سب کو ایک جیسا سایہ دیتے ہیں، ۔ وہ اس ابر کی مانند ہے جو بلا امتیاز سب پر ایک جیسا برستا ہے۔ شریعت اور حقیقت کو مکمل طور پر جاننے والے عارف کے ذریعے کی گئی نقطہ چینی کو لمحہ بھر کے لئے ایک طرف رکھ کر سوچنا چایئے کہ ہم سب خدا کو پانے کے لئے ہی ساری عمر مندرو ں، مسجدوں، گرجا گھروں وغیرہ میں پوجا پاٹ، دعا وغیرہ کرتے رہتے ہیں۔ کیا ہمیں یہ سب کرنے کے باوجود کبھی نور الہیٰ کی ایک شعاع بھی نظر آتی ہے؟ یا ہماری روح اندر کی طرف سمٹی ہے، کیونکہ یہ راستہ یا ذریعہ مذہب کی ہر طرح کی شریعت سے بالاتر ہے۔ جب تک دل صاف نہیں ہوتا اور روح کا اللہ سے وصال نہیں ہوتا، ہماری دکھاوے کی مذہبی زندگی کا کوئی فائدہ نہیں۔ جب کوئی حقیقت شناس ہماری دیرینہ کمزوری کی طرف اشارہ کرتا ہے تو اسکا ہمارے اند ایک زبردست ردعمل ہوتا ہے۔ ہم خودی کے طابع ہوتے ہیں۔ یہ سوچ ہی نہیں سکتے کہ ہم دراصل سالہا سال تک غلط فہمی کا شکار ہو رہے ہیں۔ خودی اور لاعلمی کے سبب ہم صحیح بات کو بھی غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسکے برعکس جو لوگ حقیقت بیانی کا وار برداشت کرکے عقل و دانش سے کام لیتے ہیں ان کے اندر غلطی کااحساس پچھتاوے میں اور پچھتاوا حقیقت کو اپنانے کی دلیری میں بدل جاتا ہے۔ اور اس طرح وہ لوگ اندھیرے سے روشنی میں پہنچ جاتے ہیں۔ ہر انسان کا جنم کسی نہ کسی خاص مذہب و ملت میں ہوتا ہے۔
اسے اس مذہب کی شریعت ورثہ میں ملتی ہے لیکن روحانی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ انسان سچائی، قناعت اور بردباری وغیرہ جیسے نیک اوصاف اختیار کرے۔ یہ دونوں مرحلے عبور کرنے کے بعد اب طالب دماغی طور پر حقیقت کو سمجھے۔ اس کے بعد معرفت میں داخل ہونے کے قابل ہوتا ہے۔ اور آخر میں وہ ترقی کرتا ہوا خودی یعنی نفس کو ترک کرکے معرفت کی منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ گورو نانک صاحب نے بھی ”جب جی“میں پانچ کھنڈروں (روحانی طبقات) کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح صوفی درویشوں نے روح کے عروج کی پانچ منزلوں یعنی ملکوت، جبروت، لاہوت، ہوت الہوت اور ہوت کا بیان کرتے ہوئی روح کی طریقت اور حقیقت کے ذریعے معرفت تک رسائی کا اشارہ کیا ہے۔ شریعت راہ حقیقت میں پہلا قدم ہے۔ اس کا اصل مقصد مذہب اور عقبیٰ کی طرف رجحان بیدار کرنا ہے۔ لیکن معرفت کو پانے کا ذریعہ قلب کی صفائی اور کلمہ کی ریاضت ہی ہے۔ نامور صوفی شیخ گردوانی سچے صوفی عابد کے لئے جو ہدایات درج کرتے ہیں ان میں تمام زندگی کو ایسی سخت ریاضت کے طابع کیا گیا ہے کہ دنیا کی سخت سے سخت شریعت کا رنگ بھی اسکے سامنے پھیکا پڑجاتا ہے۔ یہ ہدایات اس طرح ہیں ہوش درم: یعنی ہر سانس رب کی حضوری کے احساس میں لینا نظر ربر قدم: ہر قدم رب کی حضوری کے احسا س سے اٹھانا سفر در وطن: ہمیشہ اپنے اصل گھر لوٹنے کا خیال دل میں رکھنا خلوت دار انجمن: دنیا میں رہتے ہوئے بھی دل سے تنہا رہنا یاد کردن: زبان یا روح کی زبان سے ہمیشہ خدا کا زکر کرتے رہنا بازگشت: نفس کو برے خیالات سے دور رکھتے ہوئے ذکر خدا میں مشغول رہنا یاد داشتن: ہمیشہ رب کی حضوری میں ہونے کا احساس ہونا اسکے برعکس مذہبی پیشہ ور اور خود غرض لوگ جنکی روزی مذہبی رسومات کے عمل پر منحصر ہے معصوم سادہ لوگوں کو طرح طرح کے توہمات میں پھنسا کر سچی روحانیت سے گمراہ کر دیتے ہیں۔ لوگ خدا کی راہ میں بھٹک رہے ہیں جبکہ وہ محبوب حقیقی ہر انسان کے اندر شہ رگ سے زیادہ قریب موجود ہے۔ انسان اور خدا کے مابین پیڑ اور باغ والا قدرتی رشتہ ہے اور انسان بھرموں کو ختم کرکے اپنے اندر ہی خدا سے وصال کر سکتا ہے۔ خدا کے ملنے کا ذریعہ اس طرح کے بیرونی اعمال نہیں بلکہ ہر انسان کے اندر گونجتا ہوا الہیٰ کلمہ ہے۔ گورو صاحب نے اپنی مشہور تصنیف ”آسادی وار“ میں ہندوٗوں جینوں بودھوں مسلمانوں اور جوگیوں کی ہر قسم کی شریعت پر نقطہ چینی کی ہے اور ہر طرح کی شریعت کو کلمہ کی کمائی کے مقابلے میں ادنیٰ اور بے قائدہ بتایا ہے۔ آپ نے منتر، دیو پوجا، تیرتھ یاترا اور مذہبی کتابوں کا مطالعہ، جنگلوں میں گھومنا، مالا پھیرنا دھونی رمانا، جگراتے کرنا، خاموشی اختیار کرنا، فاقے وغیرہ رکھنا کو لاحاصل عمل کہا ہے۔ فقیرانہ وضع قطع اختیار کرنے والے لوگ خدا کی عبادت سے نہیں بلکہ پیٹ بھرنے کی امید سے خوش ہو کر میزبانوں کی قصیدہ گوئی کرتے ہیں۔ کامل فقیر بھی ساری مخلوق کے یکساں ہمدرد ہوتے ہیں اسی لئے وہ کسی خاص مذہب و ملت سے بندھے نہیں ہوتے۔ فقیر کامل رب کے ساتھ وصال کے صحیح راستہ کی تائید اور غلط راستے کی تروید کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تاکہ لوگ غلط فہمیوں کا شکار ہو کر کہیں انسانی جنم کے بیش قیمت موقع کو گنوا نہ دیں۔ وہ لوگ عوام کی بھلائی کی خاطر طرح طرح کی اذیتیں برداشت کرکے بھی سچ کی مشعل روشن رکھتے ہیں۔ عبادت گاہوں کو مذہبی پیشہ ور لوگوں نے اپنا پیٹ بھرنے کا زریعہ بنا لیا ہے۔ جب تک دل سے سچی دعا نہیں نکلتی مندروں، مسجدوں میں ماتھا رگڑنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ حضرت عیسیٰ نے بھی کہا تھا کہ جو لوگ عبادت گاہوں کو بیو پار کا ذریعہ بنا لیتے ہیں انکو عبادت گاہوں سے باہر نکال دو۔ کیونکہ خدا کا گھر اس کی پرستش کے لئے ہے دکانداری کے لئے نہیں۔
خزاں کا موسم تھا راوی بڑی دھیمی اور باوقار رفتار سے بہتا جنوب کی طرف رواں دواں تھا۔ لیکن راوی کے پل پر وہی لوگوں کا اژدھام۔ گھڑ سوار، تانگے، بیل گاڑیاں، ہاتھی والے اور پیدل لوگ آ جا رہے تھے۔ پل کے لاہور والے سرے پر ایک مجذوب بیٹھا آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔
روشن چہرے، کشادہ پیشانی اور سرمئی زلفوں والے ایک شخص نے جب پل پر قدم رکھا تو مجذوب کی نگاہیں اس پر جم گئیں، اس کی رفتار اور چال ڈھال کو مجذوب نے بہت غور سے دیکھا پھر مسکرایا ایک نظر لاہور کی جانب دیکھا، ایک نظر راوی میں ڈوبنے کے قریب سورج کو دیکھا اور پھر سے نگاہیں اس روشن چہرہ شخص پر پر ٹکا دیں اور تب اس نے اشارے سے اس شخص کو بلایا ، وہ بندہ خدا انتہائی ادب سے سے مجذوب کے قریب بیٹھ گیا اور کہا : جی سرکار حکم فرمائیں تب مجذوب بولا ‘ معین الدین میں چالیس برس سے یہاں بیٹھا ہوں۔ اور تب سےاب تک یہاں سے ڈیڑھ آدمی گذرا ہے’۔ مخاطب نے جب اپنا نام سنا تو یقین ہوگیا کہ منزل قریب ہے۔ ادب سے گذارش کی کہ سرکار جب آپ نے اتنی مہربانی کی ہے کہ گنتی بتا دی اگر تعارف بھی کرا دیں تو احسان ہوگا۔ جس پل سے روزانہ ہزاروں گذرتے ہیں وہاں چالیس برس میں جو ڈیڑھ ہے کون ہے کہاں ہے۔ اس پر مجذوب نے کہا ‘ سُن معین الدین جو پورا تھا وہ علی ہجویری تھا اور جو آدھا ہے وہ تُو ہے۔ جا اس پورے کے قدموں میں بیٹھ جا تو بھی پورا ہو جائیگا ‘۔ تاریخ بتاتی ہے کہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ وہاں سے داتا علی ھجویری رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر تشریف لے گئے اور معتکف ہوئے۔ چلہ پورا ہونے پر آپ نے یہ شعر کہا
تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری اس موضوع پر لکھنا آسان نہیں ، اس لئے کہ جہالت ، ذاتی اور گروہی مفاد پر مبنی سیاست اور مولویت نے پاکستان میں کینسر کے مرض کی طرح پنجے گاڑھ رکھے ہیں ۔ حالت بہ ایں جا رسید کہ ایک مخصوص اور پیشہ ور ٹولے کے علاوہ کسی دوسرے کو اس وادی میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں بلکہ اگر کوئی ان سے رتی برابر اختلاف کرے تو فورا کفر اور غداری کے فتوے جاری ہوجاتے ہیں ۔ بیشمار محب وطن سیاسی کارکن ، علماء اور صلحاء ، سیاسی سوجھ بوجھ اور علمی و تبلیغی استطاعت رکھنے کے باوجود ، جہالت مافیاء کے خوف سے خاموشی کو ترجیع دینے پر مجبور ہوئے یا ملک چھوڑ کر کہیں اور جا بسے ہیں ۔ میں ، عالم ہوں نہ مولوی اور نہ ہی سیاست دان ۔ مجھے کسی فقہی یا شرعی مسئلے پر بات کرنی ہے اور نہ وعظ و نصیحت بلکہ ایک عام پاکستانی شھری کی حیثیت سے جو دیکھ رہا ہوں ، محسوس کررہا ہوں ،
معاشرے کی اس حالت اور سوچ پر اپنی رائے کا اظھار کرنا چاھتا ہوں ۔ اس سے پہلے کہ بات کو آگے بڑھاوں ، اس قومی دکھ اور کرب کا برملا اظھار کردینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام کے نام پر ، اللہ کے نام پر ، رسول اللہ ص کے نام پر حاصل کئے جانیوالے ملک کے ساتھ جو کھلواڑ ، بحیثیت مجموعی ہم سب نے اور بطور خاص نام نہاد ، مفاد پرست ، جھوٹے سیاست دانوں اور ان پڑھ اور مفتن ملاوں نے کیا ، اس کا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے ۔ میری باتیں تلخ ضرور ہونگی لیکن اگر آپ نے ٹھنڈے دل و دماغ سے ، گروہی و مسلکی عینکیں اتار کر ان پر غور کیا تو کوئی نقطہ آپ کو غلط نظر نہیں آئیگا اور حقیقت حال واضع ہوجائیگی ۔ آپ کوئی بھی ٹی وی چینل آن کریں ، کوئی سا بھی اخبار یا رسالہ اٹھا کر پڑھیں ، کسی بندے سے گفتگو کریں ، ایسا محسوس ہوگا کہ پاکستان میں تو سب اولیاء بستے ہیں بلکہ یہی تو انبیاء کرام کی سرزمین ہے ۔ صبح شام ، اٹھتے بیٹھتے ، اسلام ، اسلام اور اسلام کی گردان سننے کو ملیگی ۔ جس آبادی ، گاوں ، قصبے یا شھر میں چلے جائیں ، خوبصورت مسجدیں اور ان کے 100 سو فٹ بلند مینار نظر آئینگے ۔ آذان کا وقت ہو تو لاوڈ اسپیکروں کا شور زلزلہ پیدا کردیتا ہے ۔ مذھبی تقریبات کی بھرمار ، جس طرف دیکھو پیر فقیر ، باوے اور ڈھونگی اپنی اپنی دوکانیں چمکائے بیٹھے ہیں لیکن معاشرہ اخلاقی طور پر اندر سے اتنا کھوکھلا ہوچکا ہے کہ ، دودھ ، دہی ، گھی ، مصالحہ جات اور ادویہ سمیت کوئی بھی چیز خالص دستیاب نہیں ۔ ہر شے میں ملاوٹ ۔ آٹا ، چینی اور سبزیاں تک غائب کردی جاتی ہیں اور عوام کو ان اشیاء کی عدم دستیابی یا بڑھی ہوئی قیمتوں کے خلاف جلوس نکالنے پڑتے ہیں ۔ قصابوں کے ھاں بکنے والے گوشت ، (بالخصوص بڑے شھروں میں ) کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ حلال ہے یا حرام ۔ گدھے کا ہے یا کتے ذبح کئے گئے ہیں ۔ مرغیاں زندہ ذبح کرکے بیچی جارہی ہیں یا بیماری سے مرجانیوالے پرندوں کا گوشت بیچا جارہا ہے ۔ ڈاکٹری جیسے مقدس اور محترم پیشے کی دکانیں قطار اندر قطار نظر آئینگی لیکن اندر قصائی اور دولت کے پجاری بیٹھے ملینگے جن کا مقصد دکھی انسانیت کی خدمت نہیں بلکہ بنگلے ، زمینیں اور مارکیٹیں کھڑی کرنا ہے ۔ آپ کسی کنسٹرکشن ٹھیکیدار یا راج مستری کو ایک مرتبہ گھر میں آنے دیں پھر دیکھیں وہ آپ کی کیا درگت بناتا ہے ۔ پورے ملک میں رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔ تھانیدار اور پٹواری تو ویسے ہی بدنام ہیں ۔ آپ سوئی گیس ، بجلی ، پانی اور ٹیلیفون کا کنکشن تک بغیر جیب گرم کئے حاصل نہیں کرسکتے ۔ چوری ، ڈاکے ، اسٹریٹ کرائم ، زنا ، معصوم بچوں اور نہتی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں اور اغواء جیسے جرائم کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ منشیات ، ناجائز اسلحہ ، اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی جیسے گھناونے کاروبار کل بھی جاری تھے آج بھی جاری ہیں ۔ آذادی اظھار رائے کے نام پر درجنوں ٹی وی چینلز اور اخبارات ، جھوٹ اور افواہ سازی کی فیکٹریاں نہیں تو اور کیا ہیں ۔ پنجابی میں کہتے ہیں ” پیسہ ڈال تے بہہ جا نال ” ، جو خبر نشر کرانی ہو ، جس قسم کا بھی پروپیگنڈہ کرانا مقصود ہو ، پیسے کے زور پر ممکن ہے ۔ معاشرے کی مکمل تصویر کشی کروں تو کتاب بن جائے ۔ آخر اس کا ذمہ دار کون ؟ اگر کسی کی اولاد بگڑ جائے تو کہتے ہیں ، ماں باپ نے تربیت اچھی نہیں کی ۔ بتائیے اس سارے معاشرتی بگاڑ کا ذمہ دار کون ہے ؟ ظاھر سی بات ہے جنہوں نے اس سوسائیٹی کو پروان چڑھایا ۔ سیاسی بگاڑ کے ذمہ دار سیاستدان اور مذھبی و اخلاقی اقدار کی پستی کے ذمہ دار وہ سب ، جو منبروں ہر بیٹھ کر فرقہ واریت ، توھمات ، شرک اور بدعت کی تعلیم دیتے رہے ۔ جنھوں نے بھائی کو بھائی سے لڑایا ۔ مجھے حیرت ہوتی ہے جب یہ کہتے ہیں ، پاکستان اسلام کا قلعہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بنا تو اسلام کے نام پر تھا مگر اب یہ سیاستدانوں اور مولویوں کا قلعہ ہے جہاں عام آدمی ایک قیدی کی طرح زندگی گزار رہا ہے ۔ اگر میں غلط کہ رہا ہوں تو آپ اپنے علاقے کے کسی سیاست دان یا مولوی کے خلاف آواز اٹھاکر دیکھیں ، لگ پتہ جائیگا ۔ آپ اس معاشرے کی ذھنی پستی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ یہاں ، چوروں ، ڈاکووں ، لٹیروں اور نوسربازوں کے حق میں جلوس نکلتے ہیں ، جلسے ہوتے ہیں ، ٹاک شوز میں سرعام ان کے غلیظ کرتوتوں کا دفاع کیا جاتا ہے ۔ اخبارات اپنی شہ سرخیوں میں انہیں ھیرو بناکر پیش کرتے ہیں ۔ اس کے باوجود ہم اس خوش فہمی میں مبتلاء ہیں کہ چونکہ پاکستان اسلام کے نام پر اور 27 رمضان کو وجود میں آیا تھا لھذا گھبرانے کی کوئی بات نہیں ۔
،سیّدزادہ سخاوت بخاری
سرپرست اعلی
قارئین اس لمبی چوڑی تمہید کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ ہم کتنے اچھے مسلمان ہیں ۔ خدا اور رسول ص کے احکامات پر کس حد تک عمل کرتے ہیں ۔ کیا ہم نے وہ مقاصد حاصل کرلئے ہیں کہ جن کی خاطر لاکھوں جانوں کی قربانی دیکر یہ ملک حاصل کیا تھا ۔ اگر جواب ھاں میں ہے ۔ آپ ایک کامیاب ، مضبوط اور طاقتور قوم بن چکے ہیں تو ، ضرور بندوقیں اٹھاکر دنیاء بھر کے مسلمانوں کی مدد کے لئے نکل کھڑے ہوں ۔ کفار کو چیلینج کریں لیکن اگر 73 برس بعد بھی کشکول ھاتھ میں ہے ۔ قرضوں کے انبار تلے دبے ہیں ۔ سوئی گیس ، بجلی ، آٹا اور چینی کے حصول کے لئے جلوس نکالنے پڑ رہے ہیں ۔ روزی روٹی کی تلاش کے لئے در بہ در ٹھوکریں کھارہے ہیں تو عزت اسی بات میں ہے کہ پہلے اپنے گھر کو سنواریں ، اپنے پاوں پر کھڑے ہوں اور اس کے بعد اس بات پر غور کریں کہ عالم اسلام میں کیا ہورہا ہے ۔ کس کس نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور کیوں کیا ۔ پنجابی زبان کا ایک اور محاورہ یاد آگیا ، کہتے ہیں ، ” آپ نہ جوگی تے گوانڈ ولاوے "یعنی اپنے لئے گھر میں ہے کچھ نہیں اور گوانڈیوں کی مدد کرنا چاھتی ہے ۔ آخر میں اس بات کی وضاحت کردوں کہ میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں لیکن اگر کوئی دوسرا ملک اسے تسلیم کرتا ہے تو یہ ان کا داخلی معاملہ ہے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاھئیے اور بلاوجہ ان پر تنقید کرکے باھمی تعلقات نہیں بگاڑنے چاھئیں ۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ امہ یا امت مسلمہ کی اصطلاح کتابوں اور شاعری کی حد تک درست ہے ۔ اس سے آگے یا پیچھے کچھ بھی نہیں لھذا اس چکر سے باھر آکر پاکستانی معاشرے کی اصلاح و ترقی اور توانائی کا علم اٹھائیں ۔ ہمیں سب سے پہلے اپنی فکر کرنی چاھئیے کیونکہ ہم سارے مسلمانوں کے ٹھیکیدار نہیں ۔
تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری دھیان کی منزل( گزشتہ سے پیوستہ ) آپ یقینا سوچ رہے ہونگے کہ اتنی کٹھن منزل کون طے کریگا جس میں گھر بار ، بیوی بچے ، روزگار ، لین دین غرضیکہ پورے کا پورا کاروبار حیات ہی ٹھپ کرنا پڑ جائے ۔ یہی سوال ذھن میں رکھتے ہوئے میں نے دھیان کی اس منزل تک پہنچنے کے لئے دو راستے تجویز کئے ہیں ۔ ایک دائمی یا مکمل سنیاس اور دوسرا موقت یعنی عارضی ۔یاد رکھئیے دائمی سنیاس لینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں بلکہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ سنیاسی ، تیاگی اور گیانی جنہیں عرف عام میں ولی اللہ ، سینٹ (Saint) یا بھگت کہا جاتا ہے ، پیدائیشی طور پر اپنے اندر ایک مخصوص روح یا اسپیشل سوفٹ وئر ( Special Soft Ware ) لیکر اس دنیاء میں قدم رکھتے ہیں ۔ بھگتی اور ولائت کسبی نہیں کہ کسی ٹریننگ اسکول سے تربیت اور ڈگری لیکر ، ڈاکٹر اور وکیل کی طرح کوئی بھی شخص ولی یا بھگت ہونے کا دعوی کردے بلکہ یہ توعطائے خالق ہے ۔ اس ضمن میں فارسی کا ایک شعر یاد آگیا ، کہتے ہیں ، ” ایں سعادت بہ زور بازو نیست . تا نہ بخشد او خدائے بخشندہ ” یعنی اس مقام و مرتبے تک رسائی انسان کے بس کی بات نہیں جبتک کہ عطاء کرنے والا ( مالک و خالق ) اسے بخشیش یا انعام کے طور پر از خود عطاء نہ کردے ۔ قارئین کرام ، آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات ذھن نشین کرلیں کہ میری اس تحریر کا مقصد ہرگز تصوف پر لیکچر دینا نہیں ، کیونکہ ، یہ راہ بہت کٹھن ، پرپیچ ، اتنی عمیق ، دقیق اور پرخطر ہے کہ اگر کہیں ذرہ برابر لغزش ہوئی ، زبان یا قلم کے قدم پھسلے ، تو انسان راہ راست سے بھٹک کر گمراہی کی بھول بھلیوں میں جا پہنچتا ہے اور یہ کہ ، تصوف پہ گفتگو اور اسے سمجھنا عام آدمی کے بس کی بات بھی نہیں ۔ مضمون کی ابتداء میں لکھا ، زندگی کیا ہے ، کیا کبھی اس بات پر غور کیا ؟ پیدائیش سے موت یا ماں کی کوکھ سے قبر کی آغوش تک کا سفر ، عجیب سلسلہء واردات ہے جسے ہم کولہو کے بیل کی طرح آنکھوں پر پٹی باندھ کر گزار دیتے ہیں ۔ زمانہء حال میں جدید مشینوں کی مدد سے کھیتی باڑی کی جاتی ہے اور آبپاشی کے لئے زیر زمین سے پانی کھینچ کر کھیت تک پہنچانے کے لئے بجلی کی موٹریں اور پمپ ایجاد کر لئے گئے ہیں ۔ ایک چھوٹے سے بٹن کو دبائیں تو پانی خود بہ خود کھچ کر ایک جستی نالی یا پائپ کے ذریعے باہر آجاتا ہے جبکہ کچھ ہی زمانہ پہلے الیکٹرک موٹر اور واٹر پمپ کی بجائے رھٹ میں بیل جوت کر یہ ضرورت پوری کی جاتی تھی ۔ بیل کی آنکھوں پر کھوپے یا پٹی باندھ دیتے تھے تاکہ وہ دائیں بائیں ، ادھر ادھر نہ دیکھ سکے ، اسے یہ علم ہی نہ ہو کہ وہ کس سمت میں سفر کررہا ہے لھذا عالی مرتبت بیل چار سے چھ گنٹے تک ، اس وہم اور خوشی میں گھومتا رھتا تھا کہ ایک طویل فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ کسی نئی منزل تک پہنچ جائیگا لیکن اے کاش ایسا ہوتا ۔ اسے کیا معلوم کہ آنکھوں پر بندھی پٹی اسے احساس تک نہیں ہونے دیتی کہ وہ سیدھی سمت میں سفر کرنے کی بجائے گول گول گھوم رہا ہے ۔ اس کا مالک جب کھیتوں کو سیراب کرنے کے بعد اس کی آنکھوں سے پٹی ھٹاتا ہے تو بیچارہ بیل اپنے آپ کو اسی جگہ کھڑا پاتا ہے جہاں سے اس نے سفر کا آغاذ کیا تھا ۔ یاد رکھیں ” دھیان ” یا غور و فکر کے بغیر بسر کی جانیوالی زندگی بھی رھٹ کے اس بیل کی حالت جیسی ہے جو دن بھر کی مشقت کے بعد بھی وہیں کا وہیں کھڑا نظر آتا ہے ۔ دھیان کی منزل کا تقاضا ہے کہ نہ صرف ہماری آنکھیں کھلی رہیں تاکہ مشاھدے کی مدد اور رسد سے ہمارا شعور توانا ہو بلکہ ذھن پر کوئی پٹی بھی نہ بندھی ہو ، کوئی ایسا خول نہ چڑھا ہو کہ جو تاذہ ہوا کے جھونکوں کو اندر آنے سے روکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ، کچھ پانے ، حاصل کرنے ، سوچنے اور سمجھنے کی جستجوء بھی موجود ہونی چاھئیے ۔ اٹھنا ، بیٹھنا ،سونا جاگنا ، چلنا پھرنا ، کھانا پینا اور بچے پیدا کرنا توجبلت (Instinct) یا خداداد صلاحیت ، اہلیت اور ضرورت ہے اس کا عقل و خرد اور سوچ بچار سے کیا واسطہ ، یہی سب کچھ تو حیوانات اور چرند پرند بھی کرتے ہیں بلکہ انسانی اور حیوانی زندگی سے ملتی جلتی ، کئی ایک جبلی خصوصیات ( Inherited Values ) تو عالم نباتات میں بھی پائی جاتی ییں ۔ مثلا ، پودے ، پھول ، جڑی بوٹیاں اور درخت سب کے سب پیدا ہوتے ہیں ، جنم لیتے ہیں ، بیمار پڑتے ہیں ۔ ان پر بھی ، بچپن ، لڑکپن اور جوانی طاری ہوتی ہے ۔ خوراک اور پانی انہیں بھی درکار ہوتا ہے ۔ یہی نہیں ، بلکہ کھاد کی شکل میں مختلف وٹامنز کے طلب بھی رکھتے ہیں ۔ بیماری ان پر بھی حملہ کرتی ہے . انہیں باقائدہ دواء دارو کی حاجت پیش آتی ہے ۔ پھل ، پھول ، پتوں اور بیج کے نام سے بچوں کو جنم دیتے ہیں اور انہیں بھی موت کا ذائقہ چکھنا پڑتا ہے ۔ آپ جانتے ہونگے کہ عالم نباتات ، یعنی درختوں اور پودوں میں بھی انسانوں اور حیوانات کی طرح ، نر ( Male ) اور مادہ ( Female )کی تخصیص و تفریق موجود ہے ۔ یہ الگ بات کہ نر کم اور مادہ تعداد میں زیادہ ہوتی ہیں اور انہی کے بطن سے پھل ، پھول یا بچہ پیدا ہوتا ہے ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض گھروں میں موجود پھل دار درخت پھل نہیں دیتے اور بعض کے پھل ابتدائی حالت میں گرجاتے ہیں ۔ پھل بالکل نہ لگنے کی صورت میں جان لینا چاھئیے کہ یہ درخت نر , یعنی (Male Tree ) ہے ۔ اور کچا پھل گرجانے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ قریب میں کوئی نر ، Male درخت موجود نہیں کہ جسکا تولیدی مادہ یا ( Pollen ) اسے درکار ہے ۔ اس ساری بحث سے مراد اس نکتے کو سمجھنا ہے ، کہ جبلی طور پر انسان ، حیوان اور نباتات کئی ایک مشترکہ جبلی ( Instinct ) خصوصیات کے حامل ہیں لیکن اس کے باوصف حیوانات و نباتات اور انسان میں فرق یہ ہے کہ انسان کو خالق کائنات نے عقل کے نام سے ایک اضافی خوبی یا خاصیت عطاء کی ہے ، کہ جس کی مدد سے وہ سوچ اور سمجھ سکتا ہے ۔ حیوانات اور نباتات کے برعکس اپنی ذات کے بارے میں فیصلے کرسکتا ہے جبکہ اول الذکر فقط قانون قدرت کی پابندی سے ، سوچ و سمجھ اور آذادانہ فیصلے کی قوت سے محروم رہ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اسی فلسفے کو اقبال نے کیا خوب بیان کیا ہے : ” تقدیر کے پابند نباتات و جماداتمومن فقط احکام الہی کا ہے پابند ” اقبال کہتے ہیں تقدیر اور مقدر کی پابندی صرف درختوں ، پودوں ، پہاڑوں ، چٹانوں ، ٹیلوں اور ان دیگر مخلوقات پر عائد ہوتی ہے کہ جو سوچ اور سمجھ کی صلاحیت نہیں رکھتے اور کسی ایک جگہ پر مقید ہوکر زندگی گزارنے کے پابند ہیں جبکہ انسان مکمل طور پر آذاد ہے اور یہ آذادی اسے اس کی ساخت اور عقل نے عطاء کی ، وہ نباتات کی طرح ایک جگہ رک کر یا جمادات کی طرح بے جان اور ساکن و ساکت رہ کر زندگی گزارنے پر مجبور نہیں بلکہ اس کا جیون احکام الہی کا پابند ہے ۔ دھیان کے اس اسٹاپ تک پہنچنے پر علم ہوا ، کہ اگرچہ ، انسان ، حیوان اور نباتات ، جبلی طور پر بعض مشترکہ بنیادی خصوصیات کے حامل ہیں لیکن اس جنکشن یا دوراہے سے انسانی گاڑی ” عقل ” کا انجن لگاکر الگ لائین پر چڑھ جاتی ہے ۔ اس کا راستہ الگ ہوجاتا ہے اور یہیں سے آگے اس ایکسپریس کو دنیاء نے ” اشرف المخلوقات "( The Most Honorable Creatures )کے نام سے جانا ، پہچانا اور مانا ۔ اس مقام تک آکر ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ، عقل اور ارادہ ، انسان کو حیوانات و نباتات سے ممتاز کرتا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوا ، کیا عقل چند لوگوں کے حصے میں آئی یا ہر انسان کو عطاء کی گئی ۔ جواب یقینا یہی ہوگا کہ تمام بنی آدم اس نعمت خداوندی سے مستفید ہیں ، الا وہ محدودے چند افراد ، کہ جو ذھنی امراض ( Mentle Disorder) کا شکار ہوں ۔ جب ایسا ہی ہے ، سب انسان عقل کے مالک ہیں ۔ قدرت نے انہیں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں سے یکساں طور پر نوازا ہے تو کاروبار حیات کے رنگ اور روپ مختلف کیوں ہیں ۔ ( بحث جاری ہے )
بہت کم لوگ دنیاء میں ایسے ہوئے کہ جنہوں نے اس موضوع پہ غور کیا ، اس کی حقیقت کو جانا اور پھر اس کے چھپے راز اور رموز اوروں تک پہنچائے ۔ یہ موضوع جسقدر دلچسپ ہے اتنا ہی پیچیدہ اور مشکل بھی ۔ شاید اسی لئے چند گنے چنے لوگ ہی اس طرف متوجہ ہوئے جنھیں عالم مسیحیت میں سینٹ ( Saint ) یا مقدس شخص ، اسلام میں ولی اللہ ( Wali Allah )، یہودیت میں راھب ( Rahab ) اور کاھن ( Ka’han ) ، ھندو مت میں رشی ( Rashi) ، منی ( Muni ) ، یوگی ( Yogi ) اور سنیاسی ( Sanyasi ) ، بدھ مت میں ارہت ( Arhat ) اور مہاتما ( Muhatima ) ، جبکہ سکھ ایسے شخص کو بھگت ( Bhagtt )کہ کر پکارتے ہیں ۔ یہ القاب و خطابات انہیں اس لئے دئیے گئے کہ ان افراد نے زندگی کا راز پانے کی خاطر ، دنیاوی عیش و آرام ، مال و دولت اور ازدواجی زندگی تک کو ترک کرکے ، آبادیوں سے دور ، پہاڑوں ، جنگلوں اور ویرانوں کو اپنا مسکن بنایا اور من کی جوت جگاکر اس حقیقت کا کھوج لگانے میں مشغول رہے جسے ہم عرف عام میں زندگی کہتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ دنیاء بھر میں موجود مختلف مذاھب کی خانقاھیں ، چلہ گاھیں ، مزار ، معبد اور متبرک مقامات آبادیوں سے دور پہاڑوں کی چوٹیوں پر ، جنگلوں اور دشوار گزار مقامات پر پائے جاتے ہیں آخر اس کی وجہ کیا ہے ۔
عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ ایسے افراد دراصل اللہ ، بھگوان ، یزدان ، خدا ، ایشور یا گاڈ (GOD) کی قربت حاصل کرنے کی خاطر اس
ریاضت , تپسیا اور Exercise کو اپناتے ہیں , اگر ایسا ہے تو یہ قرب ، مسجد ، مندر ، دھرم شالا ، چرچ ، گوردوارے اور سینی گوک میں بیٹھ کر مالا جپنے سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے اس کے لئے ترک دنیاء اور ویرانوں میں بھٹکنے کی کیا ضرورت ہے ؟
اس سوال کا عام فہم اور سادہ جواب یہ ہے کہ اللہ کا قرب آخری اسٹاپ ہے ۔ اس تک پہنچنے کے لئے ایک طویل اور دشوار گزار راستے سے گزرنا پڑتا ہے ۔ قرب الہی حاصل کرنے سے پہلے ، عرفان زیست حاصل کرنا اولین شرط ہے ۔ جسطرح میٹرک کئے بغیر ایف اے ، ایف اے کئے بغیر بی اے اور بی اے کئے بغیر ایم اے کی سند حاصل نہیں ہوسکتی بعینہہ اسی طرح زندگی کو سمجھے بغیر ، زندگی پیدا کرنے والے خالق اور مالک تک رسائی ممکن نہیں ۔ پہلے مخلوق کو پہچانو ، اس کا شعور حاصل کرو تب جاکر کہیں خالق کے وجود سے آشنائی حاصل ہوگی ۔
اگرچہ اسلامی دنیاء میں ، تصوف یا مسلک صوفیاء ، ایک متناذعہ موضوع ہے اور علماء اسلام کا ” ایک بڑا گروہ ” اس کی حقیقت اور ضرورت سے واضع طور پر انکار کرتا ہے لیکن جب ہم دیگر ادیان اور مذاھب پر نظر دوڑاتے ییں تو ہمیں ہر جگہ تصوف کی مختلف شکلیں موجود نظر آتی ہیں ۔
میرے نزدیک تصوف ایک راستہ ہے ، کھوج لگانے کا ، تلاش کا ، حقیقت آشنائی کا ، حصول علم کا ، اس لئے اس کی مخالفت یا اسے کفر قرار دینا ، اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ٹھہرتا ہے اور وہ اس لئے کہ خود قرآن نے کئی آیات میں غور و فکر کی بار بار دعوت دی ہے ۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی کرتا چلوں کہ تصوف سے میری مراد پیری فقیری ، تعویذ گنڈے اور جھاڑ پھونک نہیں بلکہ غور و فکر اور تلاش حقیقت ہے ۔ مخلوقات پر غور و فکر سے منکشف ہونے والی ٹھوس حقیقتیں ہی آپ کے اندر خالق کائنات ( Creator of Universe ) کے تصور اور عقیدے کو مستحکم کرتی ہیں ۔
اس راہ پر چلنے والوں کو تین مناذل سے گزرنا پڑتا ہے ،
1۔ دھیان – ( غور و فکر )
2۔ گیان – ( آگہی )
3۔ نروان – ( نجات یا چھٹکارہ )
دھیان کی منزل کیا ہے ؟
اس سے قبل اولیاء اللہ ، سنیاسیوں اور بھگتوں کی بات ہورہی تھی کہ وہ کیوں سنیاس لیکر ویرانوں میں جابسے تو عرض ہے کہ ، انہوں نے زندگی کا گیان حاصل کرنے کی خاطر ویرانوں کا انتخاب کیا تاکہ روزمرہ کے ھنگاموں سے آذاد ہوکر اس مسئلے پر غور کیا جائے اور حقیقت تک پہنچ سکیں ۔ یاد رہے دھیان یا غور و فکر کے لئے کامل ارتکاذ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جسکا حصول ھنگامہ خیز زندگی میں ممکن نہیں ۔ اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ آپ کسی بھیڑ بھاڑ والی جگہ پر موجود ہوں اور فون کال آجائے تو وہ جگہ چھوڑ کر علیحدگی اور تنہائی میں جاکر بات سنتے ہیں تاکہ اسے ٹھیک طرح سے سمجھ سکیں ۔ اس مثال سے اندازہ لگالیں کہ اگر ایک عام آدمی کی فون کال سننے کے لئے ھنگامے سے دوری اختیار کرنا پڑتی ہے تو زندگی کی حقیقت کو جاننے کے لئے کیا کیا ضروری ہوگا ۔ اگر یہاں تک میں اپنی بات واضع کرسکا ہوں تو اب یہ بھی جان لیجئیے کہ ابدی حقیقتوں کو پانے کے لئے عمومی شور و غل اور بھیڑ بھاڑ سے ہی بچنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے مکمل یا موقت سنیاس لینا پڑتا ہے ۔ گھر بار ، بیوی بچے ، نفع نقصان اور دنیاوی لین دین ، سب کے سب ھنگامے ہیں ۔ ان کے ہوتے ہوئے ارتکاذ توجہ پیدا کرنا ممکن ہی نہیں ۔