چائے کا ایک ٹھنڈا کپ
صفدر علی حیدری
وہ ہمیشہ چائے کے دو کپ بناتا تھا۔
ایک ظاہر ہے اپنے لیے، اور دوسرا…
دوسرا کسی کے لیے نہیں۔
بس ویسے ہی۔
ایک کپ اٹھا کر وہ ہونٹوں سے لگا لیتا اور دوسرا کپ اس کے سامنے دھرا رہتا تھا۔ چائے ٹھنڈی ہو جاتی لیکن کوئی اس کو اپنے ہونٹوں کے قریب نہیں لے جاتا تھا، وہ بھی نہیں۔
پہلے پہل لوگوں نے پوچھا بھی۔
"دو کپ کیوں بناتے ہو؟”
وہ مسکرا کر بات ٹال دیتا۔
"عادت ہے۔”
حالاں کہ یہ عادت نہیں تھی، یاد تھی۔
ایسی یاد جو انسان کے گھر سے زیادہ اس کے اندر آباد ہوتی ہے۔
کبھی اس میز کے دوسری طرف بھی کوئی بیٹھا کرتا تھا۔ چائے کی بھاپ کے ساتھ باتیں اٹھتی تھیں، ہنسی بکھرتی تھی، شکایتیں جنم لیتی تھیں اور پھر انہی کپوں کے درمیان دم توڑ دیتی تھیں۔
پھر ایک دن وہ شخص چلا گیا، ہمیشہ کے لیے۔
لیکن عجیب بات یہ تھی کہ جانے والا تو چلا گیا، اس کے لیے رکھا جانے والا کپ نہیں گیا۔
سال گزر گئے۔
کپ بدلتے رہے، چائے کی پتی بدلتی رہی، موسم بدلتے رہے، مگر دوسرا کپ اپنی جگہ قائم رہا۔
اس روز بھی اس نے دو کپ بنائے۔
ایک سے چائے پیتا رہا اور دوسرا یونہی سامنے رکھا رہا۔
اچانک اس کی نظر ٹھنڈی ہوتی چائے پر پڑی تو وہ مسکرا دیا۔
ایک اداس، تھکی ہوئی مسکراہٹ۔
"کتنی عجیب بات ہے…”
وہ خود سے بولا۔
"اب مجھے تمہارا انتظار بھی نہیں، لیکن تمھارے حصے کی چائے بنانا آج بھی نہیں بھولا۔”
اور اسے پہلی بار احساس ہوا کہ بعض لوگ زندگی سے چلے جاتے ہیں، مگر روزمرہ کی چند معمولی چیزوں میں ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔
جیسے پرانی کتاب میں رکھا ہوا سوکھا پھول۔
جیسے کسی دروازے پر لٹکتی خاموش دستک۔
اور جیسے ہر صبح میز پر رکھا ہوا…
چائے کا ایک ٹھنڈا کپ۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |