تصوف کی مختصر تاریخ
تصوف کی مختصر تاریخ، اولیائے کرام، زوال اور جعلی پیری مریدی
اسلامی تصوف کی شروعات غار حرا سے ہوئیں جہاں محمد الرسول اللہ ﷺ عبادت الہی، تزکیہ نفس اور روحانی ریاضت کے لیئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔
یہ مقام مکہ مکرمہ سے تقریباً 4 یا 5 کلومیٹر کے فاصلے پر "جبلِ نور” کی چوٹی پر واقع ہے۔ روحانی معراج کے بعد غار حرا ہی میں نبی مکرم ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔
قرآن پاک میں اسی (تصوف) کو "تزکیہ نفس” کہا گیا ہے: "قد افلح من زکّٰھا” جس کے معانی ہیں: "بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا (الشمس:9)۔” قرآن حکیم کے اس حکم اور نبی معظم ﷺ کی اسی سنت پر جید صحابہ رضوان نے بھی عمل کیا۔ اصحابِ صفہ مسجد نبوی ﷺ کے چبوترے پر دنیا سے بے رغبت ہو کر اللہ ﷻ کی یاد میں سادہ زندگی گزارتے تھے۔ ان صحابہ کرام کا لباس عموما "صوف” (اون) کا ہوتا تھا۔ اسی نسبت سے بعد میں "تصوف” کی اصطلاح متعارف ہوئی اور تصوف کے سچے پیروکار "صوفی” کہلانے لگے۔ حضرت علیؓ، حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہ رضوان کی پاکیزہ اور زہد و تقویٰ والی زندگیاں تصوف اور صوفی تعلیمات کی پہلی اور ابتدائی مثالیں ہیں۔
اسلامی صوفیائے کرام نے تصوف کے 3 بنیادی ستون بتائے ہیں جو "تخلیہ”، "تحلیہ” اور "تجلیہ” ہیں۔ تخلیہ عربی لفظ ہے، جو ‘خلو’ سے ماخوذ ہے اور جس کے بنیادی معانی خود کو کسی بلند مقصد کے لیئے وقتی طور پر خالی کرنے، الگ ہونے اور تنہائی یا علیحدگی وغیرہ اختیار کرنے کے ہیں۔ فقہ میں تخلیہ سے مراد بری عادتوں اور گناہوں سے دل کو خالی کرنے کے ہیں جیسا کہ دل سے غرور، حسد، لالچ، اور دنیا کی محبت کو نکال دینا ہے۔
"تحلیہ” کا مطلب دل کو اچھی صفات سے سجانے کے ہیں یعنی پہلے دل کو برائی سے خالی کرو (تخلیہ)، پھر اچھائی سے بھرو (تحلیہ) یعنی دل میں صبر، شکر، توکل اور محبتِ باری تعالی پیدا کرو۔ جبکہ "تجلیہ” سے مراد اللہ تبارک و تعالی کا قرب ملنے کے ہیں۔ جب مومن کا دل اللہ کی محبت میں صاف ہو جاتا ہے تو وہ اللہ رب العزت کی طرف سے اس کے "نور” اور "تجلی” سے بھر جاتا ہے۔
جب اسلام پھیلا اور دنیا کی آسائشیں آئیں تو اللہ کے نیک لوگوں نے ارداتا سادگی اختیار کرنا شروع کر دی۔ ایسی سادہ زندگی گزارنے اور دنیا کی نرمی و آسائش سے بچنے والے کو "زاہد” کہتے ہیں۔ تصوف اختیار کرنے والے کا "صوفی” نام ساتویں صدی میں پڑا اور یہیں سے اس علم کو بھی "تصوف” کہا جانے لگا۔
حضرت خواجہ حسن بصریؒ (642- 728ء) پہلے بڑے صوفی بزرگ مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے نفس کی اصلاح اور خوفِ خدا پر زور دیا۔ علم تصوف میں رابعہ بصریؒ (717-801ء) نے "عشقِ الٰہی” کا تصور دیا جن کا ایک مشہور جملہ ہے کہ: "یا اللہ! اگر میں جنت کے لالچ میں تیری عبادت کروں تو مجھے جنت نہ دینا۔” اسی مد میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک قول ہے کہ، "ہم اللہ کی عبادت جنت کے لالچ میں نہیں کرتے بلکہ اس لیئے کرتے ہیں کہ اللہ تعالی عبادت کے لائق ہے”۔
پہلی بار "تصوف” کی باقاعدہ تعلیمات کو مرتب کرنے والے صوفی امام جنید بغدادیؒ (835-910ء) ہیں جنہیں "سید الطائفہ” یعنی صوفیاء کا سردار کہا جاتا ہے۔ انہوں نے تصوف کے اصول مرتب کیئے۔ حارث محاسبیؒ اور معروف کرخیؒ نے نفس کے محاسبے کا نظام دیا۔
بارویں صدی کے بعد جب تصوف کی تعلیمات بڑھیں تو تصوف اور صوفیائے کرام کے مختلف مکاتب فکر پیدا ہو گئے جنہیں "سلسلے” کہتے ہیں اور جن میں "قادریہ”، "چشتیہ”، "نقشبندیہ” اور "سہروردیہ” وغیرہ شامل ہیں۔ ہر سلسلے کا طریقہ تصوف اور تعلیمات تھوڑی الگ ہیں لیکن تصوف کے سب مکاتب فکر کا مقصد ایک ہی ہے جو انسان کی روح اور نفس کی پاکیزگی پر منتج ہوتا یے۔ تصوف کوئی نیا عقیدہ، مسلک یا خدانخواستہ کوئی فرقہ نہیں ہے۔ یہ اسلام کے باطنی پہلووں کا علم ہے جس کی اولین منزل "تزکیہ نفس” ہے جو نبی پاک ﷺ کی تعلیم "احسان” سے نکلا ہے۔ جبریلؑ نے نبی مکرم ﷺ سے پوچھا کہ: "احسان کیا ہے؟” تو آپ ﷺ نے فرمایا: "احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو”۔ یہی تصوف کی اصل پہچان ہے۔
تصوف کی بنیاد اپنے دل کی صفائی اور اسے اللہ سے اپنے تعلق کو جوڑ لینے میں ہے۔ جب کوئی عام انسان یا گنہگار بھی تصوف پر عمل کرتا ہے تو پھر اس کا دل اور دماغ اللہ اور کائنات کی قوتوں سے جڑ جاتا ہے جس پر زندگی کے اسرار و رموز کھلنے لگتے ہیں جس سے وہ "کرامات” سے متصف ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالی کے نیک بندے جب عبادت و ریاضت کرتے ہیں تو اللہ رب العزت انہیں مخفی علوم بھی عطا کر دیتا ہے جیسے کچھ اولیاء کرام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی دعائیں پوری ہوتی تھیں، ان کے ہاتھوں میں تھوڑی خوراک وافر ہو جاتی تھی، وہ ہوا میں اڑ سکتے تھے یا پانی وغیرہ پر چل سکتے تھے۔
برصغیر میں اسلام انہی سچے بزرگان دین اور اولیاء کرام کی نسبت سے پھیلا جو سب کے سب تصوف پر یقین رکھتے تھے۔ اسی لیئے انہیں "صوفیائے کرام” بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی روحانی تعلیمات، انسان دوستی اور اخلاقی اقدار نے معاشرے پر گہرے اور انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ برصغیر کے چند مشہور ترین اولیاء اللہ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری (لاہور) ہیں۔ آپ کو "داتا صاحب” کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ آپ کی کتاب "کشف المحجوب” تصوف میں بنیادی اور مستند ترین مآخذ میں شمار ہوتی ہے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری (بمقام بھارت) کو "سلطان الہند” کہا جاتا ہے اور آپ برصغیر میں سلسلہ چشتیہ کے بانی ہیں۔ آپ کی تعلیمات امن، محبت اور رواداری پر مبنی ہیں۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء (دہلی) سلسلہ چشتیہ کے عظیم صوفی بزرگ تھے۔ آپ خواجہ فرید الدین گنج شکر کے خلیفہ تھے۔ آپ کا مرکز دہلی تھا اور آپ کے مشہور ترین مریدوں میں امیر خسرو شامل ہیں۔ آپ کا مزار دہلی میں ہے۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی (ملتان) کی کرامات مشہور ہیں۔ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر سلسلہ چشتیہ کے اہم ترین بزرگ ہیں۔ آپ کی شاعری اور افکار بابا گرو گرنتھ (سکھ مت کی کتاب) میں بھی شامل ہیں۔ آپ کا مزار پاکپتن میں ہے۔ حضرت لال شہباز قلندر کا تعلق سلسلہ سہروردیہ سے تھا لیکن آپ اپنی درویشی اور قلندری شان کے لیئے مشہور ہیں۔ آپ کا مزار سیہون شریف، سندھ میں ہے۔ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی سندھ کے عظیم صوفی شاعر، روحانی پیشوا اور ولی کامل تھے۔ آپ کا کلام عشقِ حقیقی اور تصوف کا شاہکار ہے۔ ان اولیاء کرام کے دربار آج بھی روحانی سکون، اطمینان قلب اور محبت کے مراکز ہیں جہاں ہر مذہب اور رنگ و نسل کے لوگ بلا تفریق حاضری دیتے ہیں۔
تصوف پر عمل کرنے والے دل کی صفائی اور خدا سے قرب والے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے نفس کو لالچ اور انا سے مکمل طور پر پاک کر کے "کرامات” سے متصف ہو جاتے ہیں۔ اسی لیئے انہیں "عارف” بھی کہتے ہیں ان کے منہ سے نکلی ہوئی کوئی بات رد نہیں ہوتی۔
اسلام آباد میں واقع گولڑہ شریف میں سید مہر علی شاہ اور شورکوٹ شہر میں سلطان باہو کے مزارات خلائق کے لیئے منبع رشد و ہدایت ہیں۔ ولی کامل پیر مہر علی "رد مرزئیت” اور عظیم ولی اللہ سلطان باہو اپنے "صوفیانہ کلام” کی وجہ سے بہت مشہور ہیں۔ اسلامی تصوف پر مکمل عمل کرنے والے ان تمام صوفیائے کرام کا شمار اللہ کے برگزیدہ بندوں میں ہوتا ہے۔ یوں تصوف واقعی کوئی نیا دین یا فرقہ نہیں ہے، بلکہ تصوف کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرنے کا نام ہے۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ تصوف کی اسلامی تعلیمات کو "تصوف کے نام نہاد سلسلوں”، "پیری مریدی” اور ان کے پیروکاروں میں شامل "خرافات” نے گہنا دیا ہے۔ اب تصوف کو اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی کی بجائے اپنی ذاتی زندگی کے مقاصد اور دنیاوی عیش و عشرت کے لیئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسلامی امہ کی پسماندگی اور جہالت میں حقیقی تصوف کا یہ زوال بھی یقینا شامل ہے۔ ناجانے کتنے سادہ لوح اور ان پڑھ مسلمان بہت سارے "جعلی پیروں” کا نشانہ بنتے ہیں۔ اولاد اور جن نکالنے کے بہانے قتل تک کے واقعات آئے روز پیش آ رہے ہیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔