آندھی کے اثرات نہ دیکھ فصیلوں پر
شاعر: جعفر ملک مرحوم، اٹک (کیمبل پور)
مجموعۂ کلام: دشت میں کھلا پھول
تبصرہ نگار: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
نظم
آندھی کے اثرات نہ دیکھ فصیلوں پر
میری جھونپڑی بھی ہے ریت کے ٹیلوں پر
انڈے بچے گھونسلے سب بے کار ہوئے
اتنی وحشت طاری ہوگی چیلوں پر
دل کی بستی اجڑی ہے سیلابوں میں
عقل کا دریا پھیل گیا ہے میلوں پر
ٹوٹ گئی تھی سوچ کی جب دیوار گری
اس کی اک تصویر پڑی تھی کیلوں پر
گدلے پانی میں سب منظر ڈوب گئے
اتنا برسا ٹوٹ کے بادل جھیلوں پر
پتھر کنکر بجری مٹی کیچڑ ریت
دھرتی ہوگی اب تقسیم قبیلوں پر
منزل آئی تو جعفر احساس ہوا
وقت گنوایا راہوں کی تفصیلوں پر
ادبی تبصرہ
جعفر ملک مرحوم کی نظم ’’آندھی کے اثرات نہ دیکھ فصیلوں پر‘‘ معاشرتی انتشار، انسانی بے بسی اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کی خوب صورت عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے آندھی، سیلاب، اجڑے گھونسلوں اور ریت کے ٹیلوں کے ذریعے انسانی زندگی کی بے یقینی اور معاشرتی ناہمواری کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ فصیلوں اور جھونپڑی کا تقابل امیر و غریب کے فرق کو نمایاں کرتا ہے، جب کہ دھرتی کی قبیلوں میں تقسیم کا ذکر ہماری اجتماعی سوچ پر گہرا سوال اٹھاتا ہے۔ نظم کا مقطع زندگی کا اہم سبق دیتا ہے کہ منزل کی تلاش میں راستوں کی تفصیلات میں الجھ کر قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ سادہ زبان، خوب صورت استعاروں اور گہرے احساسات سے آراستہ یہ نظم قاری کو اپنے ماحول، معاشرے اور رویوں پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ بلاشبہ جعفر ملک مرحوم کی یہ تخلیق ان کی فکری گہرائی اور سماجی شعور کا عمدہ نمونہ ہے۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔