اور کیا چاہیے تجھے صابر
چودہ کو ماننے والےاس صابر جاذب نے چودہ(2014ء) سے از سر ِ نو اپنی ادبی زندگی کا آغاز ” مناقب ِآل ِ محمدؑ وانصارِ آل ِ محمد ایسے متبرک موضوع سے "جرس ِ مودت ” کے عنوان سے کیا۔جوکہ بلاشبہ قابل ِ رشک آغاز ِ شعر گوئی ہے۔
صابر جاذب چوں کہ حق پرست اور حق کا علمبردار ہے لہذا قبل ازیں وادی تحقیق سے ” لیہ کی رثائی تاریخ اور ” برصغیر کی دوسو سالہ رثاثی تاریخ ایسے گوہر تلاشنے میں کامیاب و سرفراز ہوا۔
صابر صاذب ! قدیم و جدید کا حسین امتزاج ہے۔جس کا منہ بولتا ثبوت حال ہی میں ان کی حیران کن تصنیف A.Iعہد: ادب اور تنقید ” ایسا جدید ترین موضوع ہے۔آل ِ محمدؑ سے تَمَسّک رکھنے والا شخص یقینا” خوب پرکھ اور معرفت رکھتا ہو گا۔مذکورہ بالا کتاب جس کی دلیل ہے۔
ریڈیوسٹیشن لیہ کے علمی ، ادبی ، مذہبی ، ثقافتی اور تحقیقی و تنقیدی پروگرام گواہ ہیں کہ صابر جاذب کو خوب صورت اور جچی تلی گفت گو ، کا ہنر بھی کمال عطا ہوا ہے۔بھر پور جان دار اور شان دار اور باوقار انداز پیغمبری پیشہ تدریس سے وابستہ ہیں۔کتاب و قلم ہر کسی کےحصے میں کہاں
"یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پرگایا نہیں جاتا۔”
خوشی کی بات یہ ہے صابر جاذب نے اپنی ان کامیابیوں کو منزل اور معراج نہیں سمجھا۔قد آوری کے باوجود عجز و انکسار بڑھا۔یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔ان تھک انداز میں آگے آگے بڑھتے جارہے پیں۔یقینا” ان کی منزل آگے بہت بلند ہے۔جس کا فیصلہ آنےوالا کل کرے گا۔
اور کیا چاہیے تجھے صابر
پڑھنا لکھنا ترے مقدر میں
بات کی جائے اگر "جَرَسِ مَوَّدت” کی تو یہ مناقب ِ اہل ِ بیتؑ پر مشتمل ایمان افروز اور روح پرور مجموعہ ہے ۔جسے ناصر ملک نے اردو سخن چوک عظم لیہ سے دلی عقیدت ، محبت اورخلوص کے ساتھ شائع کیا ہے۔حال ہی میں منظر ِ عام پر آنے والے اس مجموعہ کا انتساب
” اس ذات کے نام
جس کے انتظار میں وقت بوڑھا ہو گیا "
جیسے رمزیہ اور عارفانہ پیرائے میں لکھا گیا ہے۔دیباچہ پروفیسر مہر اختر وہاب صاحب نے لکھا ہے۔جب کہ ڈاکٹر ریاض راہی صاحب نے ” شعیب جاذب کے فکری اثاثے کا امین : صابر جاذب ” کے عنوان سے پُر مغز مضمون لکھا ہے۔فرنٹ فلیپ پر ناصر ملک کا خوب صورت اظہاریہ ہے۔ بیک فلیپ پر اسلم اختر جونی صاحب کی جچی تُلی رائے ثبت ہے جب کہ بیک ٹائیٹل کی زینت ڈاکٹر محمد فضل صفی صاحب کی موضوع اور شاعر کے فن کا احاطہ کرتی خوب صورت تحریر موجود ہے۔جس سے نہ صرف صابر جاذب بل کہ لیہ بھر کی ادبی تصویر جامع انداز میں سامنے آ جاتی ہے۔196 صفحات کے اس دیدہ زیب مجموعہ میں نظموں ، اور قطعات کے ساتھ مجھے جس چیز نے زیادہ متاثر کیا ہے وہ صابر جاذب کی ایک کاوش نظموں کے ساتھ فرہنگ کا پیش کرنا ہے۔جس سے نہ صرف قاری کے لیے تفہیم میں آسانی پیدا ہوتی ہے بل کہ کتاب کی قدر و قیمت اور منزلت میں بھی اضافے کا باعث ہے۔ صابر جاذب واقعی مزاج آشنا استاد ہے۔تبھی تو اس نے اہل ِ بیتؑ ،مدینہ، مکہ ، کربلا، نجف سے متعلقہ تمام الفاظ کی ممکنہ حد تک قاری کو فرہنگ کی صورت معانی کی سہولت اور آسانی پیش کر کے قلم کاری کا خوب حق ادا کیا ہے۔یہ کتاب اہل ِ بیت شناسی کے حوالے سے بڑی معتبر کتاب ہے۔فکری و فنی پختگی کی حامل ایسی کتب کا مطالعہ قاری کے لیے خوش نصیبی سے کم نہیں۔ دعا ہے ان کی یہ کاوش بارگاہ ِ محمدؐ و آل ِ محمدؑ میں قبول ہو۔اور خالق ِ لوح و قلم صابر ِ جاذب صاحب کے رزقِ شعور میں مزید اضافہ فرمائے اور اجر ِ عظیم سے نوازے۔

اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔