چھوٹی چڑیا اور بڑا سبق
ایک چھوٹی سی چڑیا تھی۔ وہ روز درخت پر بیٹھ کر باقی پرندوں کو گانا گاتے دیکھتی۔
اس کا دل بھی کرتا تھا کہ وہ بھی خوبصورت گانا گائے۔ لیکن جب وہ چہچہاتی تو آواز بہت باریک اور کمزور نکلتی۔
کوا اس کا مذاق اڑاتا: "تمہاری آواز تو ایسی ہے جیسے مکھی بھنبھناتی ہے!”
طوطا کہتا: "چھوڑو، تم سے نہیں ہو گا۔”
چھوٹی چڑیا کو بہت دکھ ہوا۔ وہ روتے ہوئے گھونسلے میں چلی گئی۔
اماں چڑیا نے پوچھا: "بیٹا کیا ہوا؟”
چڑیا بولی: "میں کبھی اچھا نہیں گا پاؤں گی۔ سب میرا مذاق اڑاتے ہیں۔”
اماں مسکرا کر بولیں: "بیٹا، درخت ایک دن میں بڑا نہیں ہوتا۔ پہلے بیج بنتا ہے، پھر پودا، پھر تنا۔ محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔ روز تھوڑی تھوڑی پریکٹس کرو۔”
اگلے دن سے چڑیا روز صبح سویرے اٹھ کر اکیلے میں گانا گاتی۔ پہلے آواز ٹوٹتی، پھر سنبھلتی۔
1 ہفتہ، 2 ہفتے… 1 مہینہ گزر گیا۔
ایک دن جنگل میں بہت تیز آندھی آئی۔ سب پرندے ڈر کر چھپ گئے۔ ایک ننھا بچہ گھونسلے سے نیچے گر کر شاخ میں پھنس گیا اور رونے لگا۔
سب خاموش تھے۔
اچانک درخت سے سب سے میٹھی اور اونچی آواز آئی۔ وہ چھوٹی چڑیا تھی!
اس کی آواز سن کر بڑے پرندے متوجہ ہوئے اور بچے کو بچا لیا۔
اس دن کے بعد کسی نے چڑیا کا مذاق نہیں اڑایا۔ سب نے تالیاں بجائیں۔
کوا شرمندہ ہو کر بولا: "معاف کر دو، تم نے ثابت کر دیا کہ چھوٹا ہونا کمزوری نہیں ہوتی۔”
چڑیا نے مسکرا کر کہا: "شکریہ۔ میں نے بس ہار نہیں مانی تھی۔”
سبق: 🌟
- محنت کا پھل ضرور ملتا ہے – چاہے دیر سے ہی ملے
- دوسروں کے مذاق سے گھبرانا نہیں چاہیے
- چھوٹا کام بھی بڑا کمال کر سکتا ہے جب نیت صاف ہو
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔