مہمان پرندے بندوقوں کے نشانوں پر
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
اٹک شہر کے کنارے پر آج شام ڈھلنے لگی تھی۔ آسمان پر سورج کی آخری کرنیں بکھری ہوئی تھیں اور سردیوں کی خنکی فضا میں اتر رہی تھی۔ اسی خاموش منظر میں میری نظر آسمان کی بلندیوں پر پڑی تو پرندوں کا ایک جھنڈ شمال سے جنوب کی طرف محوِ پرواز تھا۔ وہ ایک منظم ترتیب کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہے تھے، جیسے کسی نادیدہ راستے پر اپنی منزل کی طرف رواں ہوں۔ میں ابھی اس منظر کو دیکھ ہی رہا تھا کہ آسمان کی دوسری سمت سے تین مزید جھنڈ نمودار ہوئے۔ بلند آسمان پر پھیلے ان پرندوں کی پرواز نے دل کو اپنی طرف متوجہ کرلیا یہ کوئی معمولی پرواز نہیں تھی۔ یہ موسم سرما کے وہ مہمان تھے جو برف پوش علاقوں سے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے پاکستان کے دریاؤں، جھیلوں، تالابوں اور آبی مسکنوں کا رخ کرتے ہیں۔ ان کے پروں میں ایک طویل سفر کی داستان تھی؛ ایک ایسا سفر جس میں سردی، برف، پہاڑ، دریا اور بے شمار فاصلے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پاکستان پہنچ کر یہ پرندے کچھ عرصہ ہمارے آبی علاقوں کو اپنا مسکن بناتے ہیں، خوراک تلاش کرتے ہیں، پانی پر تیرتے ہیں اور پھر موسم بدلنے پر دوبارہ اپنے دور دراز وطنوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔
آسمان پر ان کی پرواز دیکھتے ہوئے ایک خیال نے اچانک اس خوب صورت منظر کو ایک دوسرے رخ سے دیکھنے پر مجبور کردیا۔ یہ پرندے ہمارے لیے مہمان ہیں، مگر کیا ہم بھی ان کے لیے واقعی ایک محفوظ میزبان ہیں؟ جو پرندے ہزاروں میل کا سفر طے کرکے ہمارے ہاں پناہ اور خوراک کی تلاش میں پہنچتے ہیں، کیا ان کی منزل پر ان کے استقبال میں خاموش جھیلیں اور پرسکون دریا ہوتے ہیں یا کہیں ان کے منتظر بندوقوں کے دہانے بھی ہوتے ہیں؟
یہی وہ سوال ہے جو ان مہمان پرندوں کی خوب صورت پرواز کو ایک سنجیدہ حقیقت سے جوڑ دیتا ہے۔ آسمان پر آزادی سے اڑتے یہ پرندے جب ہمارے دریاؤں اور جھیلوں پر اترتے ہیں تو بعض مقامات پر ان کے لیے قدرتی مسکن کے ساتھ ساتھ شکاریوں کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے۔ یوں ہزاروں کلومیٹر کا محفوظ سفر طے کرنے والے یہ پرندے کبھی کبھی اپنی منزل پر پہنچ کر بندوقوں کے نشانوں پر آجاتے ہیں۔ اور شاید اسی لیے آج شام آسمان پر گزرتے ان پرندوں کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہی الفاظ ابھرے مہمان پرندے، بندوقوں کے نشانوں پر یہ پرندے محض آسمان پر اڑتے ہوئے خوب صورت جاندار نہیں بلکہ ایک ایسے قدرتی نظام کا حصہ ہیں جس میں موسم، دریا، جھیلیں، دلدلی علاقے، خوراک اور محفوظ مسکن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ سردیوں کی شدت جب وسطی ایشیا، سائبیریا، روس، منگولیا، قازقستان، کرغیزستان، ازبکستان، تاجکستان، افغانستان اور شمالی چین کے بعض علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے تو وہاں پانی جم جاتا ہے، برف کی تہیں بچھ جاتی ہیں اور خوراک کے ذرائع محدود ہونے لگتے ہیں۔ ایسے میں یہ پرندے نسبتاً گرم علاقوں اور خوراک کی دستیابی کی تلاش میں ہزاروں کلومیٹر کا سفر شروع کرتے ہیں اور پاکستان پہنچتے ہیں ان پرندوں میں بطخ کی مختلف اقسام، دم دار بطخ، عام ٹیل، چمچ نما چونچ والی بطخ، گیڈوال، عام غوطہ خور مرغابیاں اور کونجیں شامل ہیں۔ سر پر دو دھاریوں والا ہنس، سرمئی ہنس، عام سارس، نازک سارس، صحرائی تلور، کالا لک لک اور دیگر کئی انواع کے پرندے بھی سردیوں کے موسم میں پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض پرندے چند دن قیام کرتے ہیں، بعض کئی ہفتوں تک رہتے ہیں جبکہ کچھ انواع موسم کے ایک بڑے حصے تک پاکستان کے آبی اور مرطوب علاقوں کو اپنا عارضی مسکن بنائے رکھتی ہیں۔
پاکستان کی جغرافیائی ساخت نے اسے ان مہاجر پرندوں کے لیے ایک اہم راستہ بنا رکھا ہے۔ دریائے سندھ، کابل، جہلم، چناب اور زیریں سندھ کے علاقے، جھیلیں، تالاب، آبی ذخائر، دلدلی زمینیں اور ساحلی علاقے ان پرندوں کو پانی، خوراک اور پناہ فراہم کرتے ہیں۔ سندھ کی منچھر، کینجھر اور ہالیجی جیسی جھیلیں ہوں یا پنجاب کے چشمہ بیراج اور تونسہ بیراج کے علاقے، خیبر پختونخوا میں دریائے کابل اور دریائے سندھ کے کنارے ہوں یا بلوچستان کے ساحلی اور مرطوب علاقے، سردیوں میں ان مقامات پر مہمان پرندوں کی موجودگی قدرت کے ایک خوب صورت منظر کو جنم دیتی ہے ضلع اٹک بھی اس قدرتی منظرنامے سے الگ نہیں۔ یہاں دریائے سندھ اور دریائے ہرو کے کنارے، بروتھا جھیل، باغ نیلاب، نالہ نندانہ، کالا چٹا نیشنل پارک کے اطراف موجود جھیلیں، چشمے اور تالاب ایسے مقامات ہیں جہاں موسم سرما میں مختلف مہاجر پرندے نظر آتے ہیں۔ کہیں یہ پانی میں تیرتے دکھائی دیتے ہیں، کہیں کناروں پر خوراک تلاش کرتے ہیں اور کہیں آسمان پر جھنڈ کی صورت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں۔ ان پرندوں کے لیے یہ مقامات محض قیام گاہیں نہیں بلکہ ان کی زندگی کے سفر میں اہم پڑاؤ ہیں، جہاں انہیں پانی کے ساتھ آبی پودے، مچھلیاں، کیڑے مکوڑے، بیج اور دوسری غذائیں میسر آتی ہیں ان مہمان پرندوں کی آمد ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ قدرت نے دنیا کو مختلف جغرافیائی خطوں میں بانٹنے کے باوجود جانداروں کے لیے کوئی مصنوعی سرحد قائم نہیں کی۔ ایک پرندہ سائبیریا کی برف پوش وادیوں سے اڑتا ہے، ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے، مختلف ملکوں اور علاقوں کے اوپر سے گزرتا ہوا پاکستان کے کسی دریا، جھیل یا تالاب تک پہنچتا ہے۔ اس سفر میں اسے راستے کا علم کس طرح ہوتا ہے، وہ منزل تک کیسے پہنچتا ہے اور ہر سال اپنے مقررہ راستے کو کیسے پہچان لیتا ہے، یہ سب قدرت کے حیرت انگیز نظام کا حصہ ھے
مگر یہی خوب صورت سفر بعض اوقات پاکستان پہنچ کر بندوق کی آواز میں گم ہو جاتا ہے۔ کچھ شکاری مہاجر پرندوں کی آمد کو شکار کے موسم کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے لیے پہلے سے تیاری کی جاتی ہے، مناسب مقامات تلاش کیے جاتے ہیں اور پھر پانی پر تیرتے یا آسمان پر اڑتے ان پرندوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک فائر سے پورا جھنڈ منتشر ہو جاتا ہے، کوئی پرندہ زخمی ہو کر پانی میں گر جاتا ہے اور کوئی ہمیشہ کے لیے اس طویل سفری سلسلے سے نکل جاتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ مسلسل جاری رہے تو مہاجر پرندوں کی تعداد میں کمی کے ساتھ ساتھ آبی ماحولیاتی نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔
تقریباً تیس پینتیس سال پہلے اٹک شہر سے تعلق رکھنے والے ایک شکاری کا واقعہ آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ وہ محکمہ تعلیم سے وابستہ تھے اور شکار کا شوق رکھتے تھے۔ ایک سردیوں کے موسم میں دریائے ہرو اور دریائے سندھ کے سنگم کے قریب وہ شکار کے لیے بیٹھے ہوئے تھے۔ سردی کا موسم تھا، دریا کا پانی نسبتاً پرسکون تھا اور دور پانی میں مرغابیاں تیر رہی تھیں۔ شکاری خاموشی سے مناسب موقع کا انتظار کر رہا تھا۔ اچانک بندوق کی آواز نے دریا کے کنارے کی خاموشی توڑ دی۔ پانی پر تیرتا ہوا جھنڈ ایک دم پھڑپھڑایا اور مختلف سمتوں میں بکھر گیا۔ ان میں سے ایک مرغابی گولی کا نشانہ بنی اور پانی پر گر پڑی
شکاری نے جب اس پرندے کو اٹھایا تو اس کی ٹانگ کے ساتھ ایک چھوٹا سا ٹیگ بندھا ہوا تھا۔ ٹیگ پر اس جگہ کا پتہ درج تھا جہاں سے یہ پرندہ، یعنی سائبیریا کے کسی علاقے سے، سفر پر روانہ ہوا تھا۔ ساتھ یہ ہدایت بھی موجود تھی کہ اگر یہ پرندہ شکار ہو جائے تو اسے شکار کرنے والا شخص اس مقام کی اطلاع دے۔ شکاری نے پرندے کا پاؤں، اس کے ساتھ بندھا ٹیگ اور تحریر محفوظ کرلی۔ بعد میں یہ چیزیں اس کے ڈرائنگ روم میں بھی دکھائی دیتی رہیں۔
ذرا تصور کیجیے، ایک طرف سائبیریا کی برفانی سرزمین اور دوسری طرف اٹک میں دریائے ہرو اور دریائے سندھ کا سنگم۔ ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرنے والا ایک چھوٹا سا پرندہ اپنے پاؤں میں بندھے ایک مختصر سے ٹیگ کے ذریعے اپنی پوری داستان سنا رہا تھا۔ وہ ٹیگ محض ایک کاغذ یا شناختی علامت نہیں تھا بلکہ اس پرندے کے طویل سفر کا گواہ تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ قدرت کے بنائے ہوئے راستے انسان کی بنائی ہوئی سرحدوں سے کہیں وسیع ہیں آج جب ہم ان مہاجر پرندوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں صرف شکار کے قابل پرندے نہیں بلکہ قدرت کی ایک بڑی امانت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ان کی موجودگی ہمارے دریاؤں، جھیلوں، تالابوں اور دلدلی علاقوں کی ماحولیاتی اہمیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ اگر آبی مسکن محفوظ ہوں گے، پانی کے ذخائر آلودگی سے محفوظ رہیں گے اور شکار پر مؤثر نگرانی ہوگی تو یہ پرندے ہر سال اسی طرح ہمارے علاقوں کا رخ کرتے رہیں گے ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں، ضلعی انتظامیہ، متعلقہ محکمہ جات اور سول سوسائٹی ان مہاجر پرندوں کے تحفظ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ محکمہ وائلڈ لائف، فاریسٹ فورس اور دیگر متعلقہ ادارے اپنے اپنے علاقوں میں نگرانی کا نظام مؤثر بنائیں، غیر قانونی شکار کی روک تھام یقینی بنائیں، قدرتی مسکنوں کی حفاظت کریں اور شکار سے متعلق قوانین پر مؤثر عمل درآمد کرائیں۔ ضلعی انتظامیہ مقامی سطح پر نگرانی اور آگاہی کے اقدامات کو مؤثر بنائے، جبکہ سول سوسائٹی اور مقامی آبادی بھی ان مہمان پرندوں کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے یہ پرندے ہر سال آتے ہیں، کچھ عرصہ ہمارے دریاؤں، جھیلوں اور تالابوں کے کناروں پر گزارتے ہیں اور پھر موسم بدلنے کے ساتھ دوبارہ اپنے طویل سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی پرواز میں قدرت کا ایک پیغام پوشیدہ ہے: زمین صرف انسان کی نہیں، اس پر بسنے والی ہر مخلوق کا بھی حق ہے۔ اگر ہم ان کے راستے محفوظ رکھیں گے تو آسمان ہر سال ان مہمانوں کی پرواز سے آباد رہے گا، دریا ان کی آوازوں سے گونجتے رہیں گے اور ہماری آنے والی نسلیں بھی اس قدرتی منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گی۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔