دم چھلہ
صفدر علی حیدری
جو اس نے کہا، میں مانتا چلا گیا۔۔۔
سر جھکا کر تسلیم کرتا گیا۔
سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا
اتنا مت چاہو اسے، وہ بے وفا ہو جائے گا۔
بشیر بدر کا یہ شعر میرا پسندیدہ شعر تھا، مگر میری آنکھوں پر تو تابعداری کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔
میرا خیال تھا کہ اس کا خیال رکھ کر، اس کی ہر خواہش پوری کر کے، میں اسے رام کر لوں گا۔ مجھے یقین تھا کہ محبت میں ایک دوسرے کے لیے جھکنا پڑتا ہے، کچھ کھونا پڑتا ہے، کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مسلسل جھکتے رہنے سے کبھی کبھی انسان کے اندر کا آدمی مر جاتا ہے۔
حالانکہ برسوں سے میں اس کی بڑی بہن کو پسند کرتا تھا، مگر اس کی جذباتیت سے مجبور ہو کر بالآخر میں نے اسی سے شادی کر لی۔
شادی کی شاپنگ میں بھی اس نے اپنی من مانی کی۔
مہنگے لباس، جوتے، زیورات۔۔۔
پیسہ بے دریغ خرچ ہوتا رہا اور میں بھی لٹتا چلا گیا۔
میں شادی ہال میں فنکشن افورڈ نہیں کر سکتا تھا، مگر اس کی خواہش تھی کہ شادی یادگار ہونی چاہیے۔
میں نے یہ شرط بھی مان لی۔
اس نے کار مانگی تو بینک سے قرض لے کر کار بھی خرید لی۔
مجھے لگتا تھا، بس اب وہ خوش ہو جائے گی۔
شادی کے ایک ماہ بعد ہی اسے پرانا گھر کاٹنے کو دوڑنے لگا۔
ہم نے فلیٹ لے لیا اور اپنی دنیا الگ بسا لی۔
وہ شادی سے پہلے ایک اسکول میں پڑھایا کرتی تھی۔ شادی کے بعد اس نے پڑھانا چھوڑ دیا تو میں نے بھی خوشی کا اظہار کیا۔
مجھے لگا تھا، اب وہ گھر سنبھالے گی اور زندگی میں سکون آ جائے گا۔
مگر سکون شاید میری قسمت میں تھا ہی نہیں۔
وہ اکثر کھانا باہر سے منگواتی۔
میں نے اس کی خوشی کی خاطر یہ بھی قبول کر لیا، حالانکہ میں برسوں سے معدے کا مریض تھا اور باہر کا کھانا میری تکلیف بڑھا دیتا تھا۔
درد ہوتا تو دوا کھا لیتا۔
وہ خوش رہتی تو میں خود کو کامیاب سمجھتا۔
شادی کے کوئی ایک سال بعد وہ امید سے ہوئی تو میری آزمائش اور بڑھ گئی۔
ہر دوسرے دن معمولی سی معمولی تکلیف پر ہسپتال کے چکر لگتے۔
مجھے دفتر سے چھٹی لینا پڑتی۔
کبھی ٹیسٹ، کبھی دوا، کبھی ڈاکٹر۔
وہ کہتی:
"آپ میرے ساتھ نہ ہوں تو میں کیا کروں؟”
میں اس کے چہرے کو دیکھتا اور اپنی ساری تھکن بھول جاتا۔
مجھے لگتا، یہی محبت ہے۔
خدا خدا کر کے اس نے ایک بچے کو جنم دیا تو میں نے سوچا، اب شاید زندگی کچھ آسان ہو جائے گی۔
بچے کی پیدائش کے لیے بڑا آپریشن ہوا۔
میرے پچاس ہزار روپے لگ گئے اور مجھے دفتر سے بھی قرض لینا پڑا۔
میری ایک تہائی تنخواہ پہلے ہی قرض کی ادائیگی میں کٹنے لگی تھی، مگر بچے کو گود میں اٹھاتے ہی میں نے سارا حساب بھلا دیا۔
مجھے لگا، اب ہمارے اچھے دن شروع ہوں گے۔
چند دن بعد اس نے ضد شروع کر دی:
"بچے کا عقیقہ کرنا ہے۔”
"ضرور کریں گے۔”
"اور میری شاپنگ بھی ہو گی۔”
"وہ بھی ہو جائے گی۔”
اس نے تیس ہزار روپے مانگے۔
میں نے جیسے تیسے بندوبست کر لیا۔
مگر اب ایک اور مسئلہ سر اٹھا کر کھڑا ہو گیا۔
"میں آپ کے گھر والوں میں سے کسی ایک کو بھی عقیقے پر نہیں بلاؤں گی۔”
میں نے اسے حیرت سے دیکھا۔
"کیوں؟”
"میں موت کے منہ سے واپس آئی ہوں۔ کسی نے میری خیریت تک نہیں پوچھی۔ نہ ساس، نہ سسر، نہ نند، نہ دیور۔۔۔ کسی نے نہیں۔”
"بھئی، وہ آئے تھے۔۔۔ سب آئے تھے۔”
"کب؟”
"جب تم بے ہوش تھیں۔”
"اب تو ہوش میں ہوں۔ اب کیوں نہیں آئے؟”
میں نے گہری سانس لی۔
"تم نے خود ہی تو انہیں گھر آنے سے منع کر رکھا ہے۔ وہ کیسے آتے؟”
"وہ تو میں نے غصے میں کہہ دیا تھا۔”
"غصے میں کہی ہوئی بات بھی کبھی کبھی دلوں کے دروازے بند کر دیتی ہے۔”
وہ خاموش رہی۔
میں نے لہجہ نرم کیا۔
"اچھا، چھوڑو۔ آج دفتر سے واپسی پر ہم دونوں چلیں گے۔ خود جا کر دعوت دیں گے۔”
وہ ہنس پڑی۔
"دیکھنا، سر کے بل چل کر آئیں گے۔”
میں نے بھی مسکرانے کی کوشش کی۔
"ہو سکتا ہے۔ آخر بچے کی خوشی ہے۔”
مگر اس کے چہرے پر سختی واپس آ گئی۔
"جاتی ہے میری جوتی! آپ کے گھر والوں میں سے کوئی نہیں آئے گا۔ بس میں نے کہہ دیا۔”
"کیوں؟”
"جانتی ہوں میں انہیں۔ دشمن ہیں میرے۔”
"دشمن؟”
"جلتے ہیں میرے بچے سے۔”
میں اسے دیکھتا رہ گیا۔
"دیکھو۔۔۔”
"میں نے کہہ دیا ناں! کوئی نہیں آئے گا۔”
میں نے مزید بحث نہیں کی۔
ناشتہ کیے بغیر دفتر جانے لگا تو اس نے راستہ روک لیا۔
"بیس ہزار روپے چاہیے۔”
"کس لیے؟”
"بچے کی چیزیں لانی ہیں۔”
میں نے جیب ٹٹولی۔
پھر اس کے ہاتھ پر رقم رکھ دی۔
دروازہ کھولتے ہوئے ایک لمحے کو خیال آیا کہ شاید میں شوہر نہیں، کسی ایسی مخلوق کا کردار ہوں جو صرف حکم بجا لانے کے لیے پیدا ہوئی ہے۔
مگر میں نے اس خیال کو بھی جھٹک دیا۔
میں دفتر چلا گیا۔
"ہم پر قیامت گزر گئی تھی۔۔۔”
اس کی ماں کی آواز میں دکھ تھا۔
"ایک ماہ کا بھی نہیں ہوا تھا میرا شاہ زیب۔۔۔ یہ اس کے مرنے کی عمر تو نہ تھی۔”
وہ خاموش بیٹھی تھی۔
اس کے چہرے پر زخموں کے نشان اب بھی باقی تھے۔
ماں بولتی رہی:
"حادثہ ہی ایسا خوفناک تھا۔ یہی کیا کم تھا کہ بچے کی ماں بچ گئی؟ معمولی چوٹوں کے سوا اسے کچھ نہیں ہوا۔”
پھر اس نے بیٹی کو دیکھا۔
"بیٹا، تمہیں کچھ تو احتیاط کرنا چاہیے تھی۔ کیا ضرورت تھی اتنے چھوٹے سے بچے کو شاپنگ پر لے جانے کی؟”
وہ تڑپ کر بولی:
"تو کس کے حوالے کرتی؟ کون سا نوکر تھا گھر میں؟”
"یہ بھی تو تمہاری ضد تھی۔”
"بس کریں، امی۔۔۔ پلیز!”
"ایک بھرا پُرا گھر چھوڑ کر اکیلے رہنے کی ضد بھی تو تمہاری تھی۔”
وہ خاموش ہو گئی۔
اسے ہسپتال سے گھر منتقل ہوئے دو دن ہو چکے تھے۔
مگر وہ نہیں آیا تھا۔
نہ خود۔
نہ فون۔
اس نے پہلی بار بے چینی سے موبائل کی طرف دیکھا۔
"کیا امی کی بات ٹھیک ہے؟”
"کون سی بات؟”
"وہ۔۔۔ مجھ سے ناراض ہے؟”
ماں نے بیٹی کی طرف دیکھا۔
"مان لو اور لکھ لو یہ بات۔۔۔ وہ تم سے ناراض ہے۔”
وہ خاموش رہی۔
ماں نے آہستہ سے کہا:
"کچھ دن لینے نہیں آئے گا۔”
وہ اچانک ہنس پڑی۔
"امی! آپ بھی کمال کرتی ہیں۔ کیا میں نے خود مارا ہے اپنے بچے کو؟ یہ حادثہ تھا۔۔۔ ہو گیا۔ وہ بھلا مجھ سے کیوں ناراض ہونے لگا؟”
پھر اس نے موبائل اٹھایا، اسکرین دیکھی اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولی:
"آج کل میں دیکھیے گا۔۔۔ وہ دم چھلہ کتے کی طرح دم ہلاتا ہوا میرے آس پاس ہو گا۔”
دروازے کے باہر میں کھڑا سب کچھ سن رہا تھا۔
میں ٹھٹھک کر رک گیا۔
کمرے کے اندر وہی آواز تھی جس کے لیے میں نے اپنی مرضی، اپنی صحت، اپنی جمع پونجی، اپنی آسائشیں، حتیٰ کہ اپنے خاندان تک کو قربان کیا تھا۔
میرے کانوں میں صرف ایک جملہ گونج رہا تھا:
"وہ دم چھلہ کتے کی طرح دم ہلاتا ہوا میرے آس پاس ہو گا۔”
میری آنکھوں میں نفرت کے شعلے بھڑک اٹھے۔
غصے سے میرا چہرہ تپنے لگا۔
ایک لمحے کو جی چاہا، دروازہ کھولوں، اندر جاؤں اور پوچھوں:
"دم چھلہ کون ہے؟”
میں دروازے کی طرف بڑھا۔
پھر رک گیا۔
اندر سے بچے کی خالی چارپائی دکھائی دے رہی تھی۔
وہ چارپائی، جس پر چند دن پہلے میرا شاہ زیب سویا کرتا تھا۔
میرا غصہ اچانک کسی نامعلوم خلا میں جا گرا۔
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
کتنی عجیب بات تھی۔۔۔
جس شخص نے زندگی بھر میرا سر جھکائے رکھا، اس نے پہلی بار میرے سر کو خود بخود اٹھا دیا تھا۔
میں دروازے سے پلٹ آیا۔
نہ کوئی سوال کیا۔
نہ کوئی شکایت۔
نہ کوئی وضاحت۔
بس الٹے قدموں واپس مڑ گیا۔
شاید پہلی بار مجھے احساس ہوا تھا کہ محبت میں جھکنا خوب صورت ہے، مگر اپنی عزتِ نفس پر جھک جانا محبت نہیں ہوتا۔
اور شاید پہلی بار مجھے اپنے پسندیدہ شعر کا دوسرا مصرعہ بھی پوری طرح سمجھ آیا تھا:
اتنا مت چاہو اسے۔۔۔
وہ بے وفا ہو جائے گا۔
میں چلتا رہا۔
اس بار میرے قدموں کے ساتھ کوئی دم نہیں ہل رہی تھی۔

میرا نام صفدر علی حیدری ہے ۔ پیدائش علی پور ضلع مظفر گڑھ کی ہے لیکن پلا بڑھا اوچ شریف میں ہوں اور رہائش بھی اسی شہر میں ہے ۔ایم فل اردو ہوں ایک استاد ہوں اور پچھلے تیس سال سے پڑھا رہا ہوں ۔ لکھنے کا آغاز بچپن سے کیا ۔ کالم نگاری بھی کی نامہ نگاری بھی ،پھر افسانہ نگاری اور افسانچہ نگاری کی طرف متوجہ ہوا ۔اب تک میری بارہ کتب شائع ہو چکی ہیں پچیس کتب زیر طبع ہیں شائع شدہ کتب کی تفصیل حسب ذیل ہے میری ایک کتاب کالمز پر ہے ” شہر خواب ” ایک ناول ہے ” عمران بٹہ عمران ” چار کتابیں ادب اطفال پر ہیں ” گھڑی کی ٹک ٹک ” ” ایک پہیے کی سائیکل” ” کمزور چوزا ” ” منٹو میاں ” چار افسانوں پر ہیں "مٹھی میں کائنات” ” ناقابل اشاعت ” ” من و سلویٰ ” ” الف سے یے تک ” ایک افسانچوں پر ہے ” ایک صفحے کے افسانچے ” میری تمام کتابوں پر ایم فل ، ایم اے اور بی ایس کی سطح پر کام ہو چکا ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں