آئنسٹائن کے چیزوں کو بھولنے کی عادت
البرٹ آئنسٹائن صرف عظیم سائنس دان ہی نہیں تھے، فوکس کے معاملے میں بھی لاثانی تھے۔ ہو سکتا ہے یہ واقعات لطیفے ہوں، لیکن ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ جب دماغ ایک چیز پر زیادہ فوکس کرے تو باقی چیزیں بھول جاتی ہیں، یا لاشعور میں چلی جاتی ہیں۔ لوگ شاید اسے "پاگل پن” کہیں، لیکن یہ آئنسٹائن ہیں، جنہیں دنیا آج تک کا "ذہین ترین” انسان مانتی ہے۔
ایک دفعہ ریل گاڑی میں ٹکٹ چیکر نے آئنسٹائن سے ٹکٹ مانگا. وہ اپنی جیبیں ٹٹولنے لگے. ٹکٹ چیکر نے کہا کہ میں آپ کو جانتا ہوں، آپ ٹکٹ ڈھونڈنے کی زحمت نہ کریں. آئن سٹائن نے جواب دیا: "ٹکٹ ڈھونڈنا لازمی ہے کیونکہ مجھے یاد نہیں آ رہا کہ میں نے اترنا کہاں ہے.’! ٹیکسی والا واقعہ امریکہ، نیو جرسی، پرنسٹن میں پیش آیا۔ کہا جاتا ہے ایک دن آئنسٹائن انسٹیوٹ سے لیکچر دے کر نکلے اور ٹیکسی لی۔ کچھ دیر بعد ڈرائیور سے پوچھا: "کیا آپ کو پروفیسر آئنسٹائن کا گھر معلوم ہے؟” ڈرائیور نے کہا: "پورے پرنسٹن میں کون نہیں جانتا، 112 Mercer Street”۔ آئنسٹائن بولے: "میں آئنسٹائن ہوں اور مجھے اپنے گھر کا پتہ بھول گیا ہے، مجھے گھر چھوڑ آئیں۔”
اس واقعہ کی کوئی تصدیق شدہ تاریخ نہیں۔ یہ 1930 سے 1950 کے درمیان کا بتایا جاتا ہے جب وہ "ایڈوانس تحقیق کے ادارے” Institute for Advanced Study میں کام کرتے تھے۔ تاریخ دان کہتے ہیں یہ کہانی سچی نہیں، بلکہ ان کی "بھولکڑ” شخصیت دکھانے کے لیے بنائی گئی ہے؟۔
آئنسٹائن کے بارے اور بھی بہت سی کہانیاں ہیں۔ انہیں 5 سال کی عمر میں والد نے کمپاس لے کر دیا۔ سوئی ہمیشہ ایک طرف جاتی دیکھ کر سوچا "کوئی ان دیکھی طاقت ہے”۔ انہیں یہیں سے سائنس کا شوق شروع ہوا۔
ایک روز کسی نے پوچھا: "پروفیسر جرابیں کیوں نہیں پہنتے ہو؟” جواب ملا: "میں نے حساب لگایا ہے کہ 5 انگلیوں اور 2 جرابوں میں فرق ہمیشہ 3 کا رہتا ہے۔ ان پر وقت ضائع کرنا بیکار ہے۔” وہ لیکچر کے دوران مسلسل فارمولے لکھتے جاتے۔ آخر میں خود پوچھتے: "یہ آخری لائن کہاں سے آئی؟” پھر سوچ کر کہتے: "ہاں یاد آیا!”
وہ بال بنوانے اور لباس بدلنے پر زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے۔ بال کٹوانے سے انکار پر کہتے: "دریا کے بہاؤ کو کون روک سکتا ہے”۔ ان کا ماننا تھا بال اور کپڑوں پر سوچنا سائنس سے توجہ ہٹاتا ہے۔ نوکرانی نے کہا "آپ روز ایک ہی جیکٹ پہنتے ہیں”۔ بولے "5 جیکٹیں کیوں رکھوں، سب ایک جیسی ہوتی ہیں۔”
آئنسٹائن کو اداس ہونے پر وائلن بجانا پسند تھا۔ ایک بار گھر میں مہمان تھے اور شور تھا۔ الگ کمرے میں جا کر وائلن بجاتے ہوئے ایک مہمان سے کہا: "جب تک میں وائلن بجا رہا ہوں کوئی شور نہ کرے”۔ پھر خود ہی بھول گئے کہ گھر میں مہمان بھی ہیں۔
ان کہانیوں کی حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے 90 فیصد کہانیاں سچی نہیں ہیں۔ یہ ان کی "سادگی” اور "دنیا سے بے خبر” شخصیت کو مزاح میں پیش کرنے کے لیئے گھڑی گئی ہیں۔ لیکن یہ ضرور سچ ہے کہ آئنسٹائن چھوٹی باتیں بھول جاتے تھے کیونکہ ان کا دماغ ہمیشہ بڑے سائنسی سوالوں میں مصروف رہتا تھا۔
مصدقہ حقیقت یہ ہے کہ جب یادداشت اور تجربہ بڑھ جائے تو کچھ چیزیں واقعی لاشعور میں چلی جاتی ہیں۔ اگر آپ بھی چیزیں رکھ کر بھول جاتے ہیں تو پریشان نہ ہوں۔ بھولنا بیماری یا بڑھاپا نہیں، یہ زیادہ ذہین ہونے کی بھی علامت ہو سکتی ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |