ڈیجیٹل لٹریسی کیوں ضروری ہے؟
ہمارا ملک لاحاصل افواہوں، فضول بحثوں اور چٹخارے دار گپ شپ کا ٹی ہاوُس بنتا جا رہا ہے۔ جب سے سوشل میڈیا کو عروج حاصل ہوا ہے ہر رائے دہندہ خود کو دانش و حکمت کا تیس مار خان سمجھنے لگا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نیا ٹرینڈ چل جاتا ہے۔ پہلے پہل لگ حجاموں کے گرد جمع ہو کر ملکی صورتحال پر بحث کر کے دل ہلکا کرتے تھے، اب لوگ صبح سویرے سوشل میڈیا گروپس پر ڈیرے ڈال لیتے ہیں۔ فون پر روز ناپسندیدہ ویڈیوز اور منقول تحریں آتی ہیں۔ بعض دفعہ فون آن کرنے کے بعد انتظار کرنا پڑتا ہے کہ کب میسجز آنے کا طوفان بند ہوں۔
ہماری نوجوان نسل کا بڑا حصہ اپنا قیمتی وقت سوشل میڈیا ایپس پر ضائع کر رہا ہے۔ پاکستان دنیا میں اس وقت بھی ٹک ٹاک میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چند لوگوں نے ٹک ٹاک سے کروڑوں کمائے ہیں، لیکن اس کے بدلے میں معاشرے کو کیا ملا ہے؟ ایک دو دفعہ ٹک ٹاک کھولنے پر اندازہ ہوا کہ ہماری نوجوان نسل کی اجتماعی سوچ بیہودگی کے کس بدنما گٹر میں گرتی چلی جا رہی ہے۔ غیر اخلاقی چیلنجز، فحش حرکات اور توجہ حاصل کرنے کے لیے شرمناک حرکتیں اب "کانٹینٹ” کا نام پا چکی ہیں۔
سوشل میڈیا برا نہیں، بلکہ معلومات کا بہت بڑا خزانہ ہے۔ تعلیم، تحقیق اور آگاہی کے لیے اس سے بہتر پلیٹ فارم کوئی نہیں۔ لیکن ہم نے اس نعمت کو زحمت بنا لیا ہے۔ آج ہمارے ٹرینڈز میں سائنس، تاریخ یا فلسفے کا ذکر نہیں ملتا۔ اس کی جگہ سازشی تھیوریز، فرقہ وارانہ بحثیں اور ذاتی کردار کشی نے لے لی ہے۔ ایک دن کسی سیاسی لیڈر کی پرانی ویڈیو وائرل ہوتی ہے، دوسرے دن کسی اداکارہ کی ذاتی زندگی کو موضوعِ بحث بنایا جاتا ہے۔ اس فضول بحث و تمحیص میں اصل مسائل مہنگائی، تعلیم، صحت اور روزگار وغیرہ کہیں پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے اس منفی رجحان کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ نئی نسل کی منفی ذہن سازی کر رہا ہے۔ جب بچہ روزانہ بیہودہ چیلنجز اور فحش مواد دیکھے گا تو اس کی سوچ، زبان اور کردار پر اس کا اثر پڑے گا۔ سائیکالوجی کے ماہرین بھی مانتے ہیں کہ جو کچھ ہم بار بار دیکھتے ہیں، لاشعوری طور پر ہم ویسا ہی بنتے چلے جاتے ہیں۔ یوں آج کے یہ ٹرینڈز کل کے کردار تشکیل دے رہے ہیں۔
اس کا سدباب کیسے ہو؟ سب سے پہلے والدین کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ وہ بچوں کے موبائل پر نظر رکھیں، ان کو معیاری مواد کی طرف راغب کریں۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں "ڈیجیٹل لٹریسی” کی کلاسز لازمی ہونی چاہییں تاکہ نوجوانوں کو سکھایا جائے کہ سوشل میڈیا استعمال کیسے کرنا ہے، نہ کہ وہ سوشل میڈیا کے ہاتھوں استعمال ہونے لگیں۔
دوسرا، حکومت اور پیمرا کو چاہیے کہ غیر اخلاقی مواد پر سخت پابندی لگائیں۔ یوٹیوب، ٹک ٹاک اور فیس بک سے مطالبہ کیا جائے کہ پاکستانی قوانین کے مطابق مواد فلٹر کریں۔ صرف پابندی کافی نہیں، اس کا متبادل بھی دینا ہو گا۔ سرکاری سطح پر تعلیمی، سائنسی اور فنی مواد کو پروموٹ کیا جائے۔ انعام، اسکالرشپ اور مقابلے رکھے جائیں تاکہ نوجوان علم اور ہنر کے ٹرینڈز بنائیں۔
ہم سب سوشل میڈیا پر تربیت اور اسکے بہتر استعمال کے ذمہ دار ہیں۔ کوئی بھی تحریر، ویڈیو یا پوسٹ شیئر کرنے سے پہلے سوچیں کہ کیا یہ معلومات مفید ہیں؟ کیا اس سے کسی کی اصلاح ہو گی یا اس کے معاشرے پر منفی اثرات پڑیں گے اور وقت بھی ضائع ہو گا؟ اگر ہر شخص یہ ایک سوال خود سے کر لے تو سوشل میڈیا کا رخ خود بخود تعمیری اور مثبت رخ اختیار کر لے گا۔سوشل میڈیا ہمارا دشمن نہیں، ہماری ہی سوچ کا آئینہ ہے۔ اس میں وہی چہرہ نظر آئے گا جس کا ماسک ہم نے چڑھا رکھا ہو گا۔ ہمیں اپنا چہرہ، عادات اور اپنا ماسک بدلنا ہو گا۔
یاد رکھیں، موبائل ہاتھ میں تلوار کی طرح ہے۔ نادان کے ہاتھ میں ہو تو وہ اپنا ہی پاؤں کاٹ لیتا ہے، اور دانا کے ہاتھ میں ہو تو وہ قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔ ڈیجیٹل لٹریسی کا مطلب صرف "ایپ چلانا” نہیں، بلکہ "سوچ بدلنا” ہے۔ جب ہم اپنی انگلی کی ایک جنبش سے دنیا بدل سکتے ہیں، تو کیوں نہ اسے گالی کی بجائے دعا، بحث کی بجائے علم، اور ٹرینڈ کی بجائے تربیت کے لیے استعمال کریں؟ آئیے عہد کریں کہ ہم اسکرین کے قیدی نہیں، اس کے خالق ہیں کیونکہ کل کی نسل آج کے ہمارے کلکس کی محتاج ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |