ڈیپریشن Depression یا ذہنی مغالطہ
ڈپریشن ایک نفسیاتی عارضہ ہے، جسمانی بیماری نہیں۔ ہلکے ڈپریشن کا علاج انسان خود بھی کر سکتا ہے، لیکن شدید حالت، خودکشی کے خیالات، یا جب روزمرہ کام بند ہو جائے تو فوراً ماہر نفسیات یا سائیکاٹرسٹ سے رجوع لازمی ہے۔ اسلام بھی علاج کا حکم دیتا ہے۔ "مایوسی حرام ہے” لیکن "دوائی لینا سنت ہے”۔
ڈپریشن کی بنیادی جڑ منفی سوچ ہے۔ خود کو مسلسل "بیمار” سمجھنے سے دماغ وہی سگنل لینے لگتا ہے اور مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ اپنے آپ کو منفی طور پر "مسیمیرائز” نہ کریں۔
ڈپریشن عموماً کسی شدید صدمے، بیماری یا مسلسل پریشانی سے پیدا ہوتا ہے۔ جب آدمی مایوس رہتا ہے تو سوچنے اور محسوس کرنے کا انداز متاثر ہوتا ہے۔ جہاں تنہائی زیادہ ہو، وہاں ڈپریشن زیادہ ہوتا ہے۔ انگلینڈ میں ہر ہفتے 100 میں سے 3 افراد میں اس کی تشخیص ہوتی ہے۔
ڈیپریشن کی علامات میں کام میں مشکل، دلچسپی ختم، توجہ نہ بننا اور غمزدہ وغیرہ رہنا شامل ہیں۔ ایک دن اس کی خطرناک سٹیج بھی آتی ہے۔ جب لگے "زندگی بے کار ہے”، یہیں رک جائیں اور فوری مدد لیں۔
سائیکو تھراپی کی 3 اقسام کارآمد ہیں۔ پہلی کاگنیٹو بیہیورل تھراپی” ( Cognitive Behavioral Therapy) یعنی مختصرا ‘سی بی ٹی” ہے جو سوچ بدل کر عمل کو بھی بدلتی یے۔ "میں ناکام ہوں” کو "میں سیکھ رہا ہوں” میں بدلیں۔ دوسری "ٹاک تھراپی” (Talk Therapy) ہے۔ دل کی بات کرنے سے "کتھارسس” (Catharsis) ہو جاتا ہے یعنی دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے اور الجھنیں خود حل ہونے لگتی ہیں۔ تیسری "روحانی تھراپی” (Spiritual Therapy) ہے۔ تصوف کے ٹولز ذکر، مراقبہ، شکر، توکل اور صبر وغیرہ ہیں۔ اہل مغرب اسے "ذہنی ارتکاز” (Mindfulness) کہتے ہیں۔ تنہائی میں غوروفکر اور لکھنا بھی زخم بھرتا ہے۔
میں نظریہ ہے کہ ڈپریشن ایک "ذہنی مغالطہ” (Mental Illusion) ہے جو منفی خیالات سے جنم لیتا ہے۔ منفی سوچ خودکشی ہے جس میں "ڈپریشن” سب سے اوپر ہے۔ دماغ کو مسلسل مایوسی کے کیمیکل نہ دیں۔ جسمانی کمزوری والے لوگوں نے بھی تاریخ بدلی۔ مشہور جان ایلٹن جنسی معذور تھا، لیکن 1997 میں ڈیانا کی موت پر اس نے "ہوا میں جلتا چراغ” (Candle in the Wind) گا کر دنیا ہلا دی۔
ہوا میں چراغ وہی جلاتے ہیں جو ڈپریشن کو طاقت بنا لیتے ہیں۔ کمزوریوں اور محرومیوں کو "احسان محرومی” نہ بننے دیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم ذہنی طور پر طاقتور ہیں یا کمزور ہیں۔
Title Image by omer yousief from Pixabay

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |