وہ جو خوف سرسری تھا
صفدر علی حیدری
ایک جی دار کی داستان عجیب
یہ نومبر کا مہینا تھا اور اماوس کی رات ۔ لگ بھگ کوئی ایک بجے کا عمل ہوگا جب ایک پراسرار سایہ سا گاؤں کے ایک مکان سے نکل کر گاؤں کے سنسان راستے پر چلنے لگ گیا تھا ۔ چلنے کے انداز سے پراسراریت چھلکتی تھی ۔ رفتار دھیمی ہی تھی اور انداز چوکنا ۔ پھر اچانک ہی وہ اس راستے سے ہٹ گیا جس پر لوگوں کی آمد و رفت ہوتی تھی ۔ اس نے ایک ایسا راستہ لے لیا جو کچھ پر خطر سا تھا ۔ سائے کی اس حرکت نے اس کی پراسریت اور بڑھا دی تھی ۔تارکی میں اس جھاڑ جھنکار سے اٹے راستے پر چلنا کسی چیلنج سے کم نہ تھا ۔ یہ راستہ بستی کے گھروں کے عقب سے ہو کر گزرتا تھا اور بستی والے اسے دن کے وقت شارٹ کٹ کے لیے استعمال کیا کرتے تھے ۔ بستی کے گھروں میں عموماً کتے بھی پائے جاتے ہیں جو بھونک بھونک کر متنبہ کرتے رہتے ہیں کہ ادھر آئے تو تمھاری خیر نہیں ۔ اسے بھی کئی بار ان کی خوف ناک آواز سنائی دی تھی جو اسے ٹھٹھکنے پر مجبور ضرور کر دیتی تھی مگر وہ لمحے بھر کو رکنے کے بعد پھر آگے بڑھنے لگتا تھا ۔
آسمان پر بادلوں کا راج تھا جس نے تاریکی کی تہہ مزید گہری کر دی تھی ۔ سرد رات کی تاریکی میں اسے دیکھ کر کسی بھوت کا گمان ہوتا تھا ۔ اس وقت کوئی اسے دیکھ لیتا تو سچ میں خوف سے چیخ اٹھتا ۔ کسی دم بارش آنے کو تھی ۔ کبھی کبھی بجلی چمکتی تو تاریکی کا پردہ چاک کر ڈالتی ۔
اچانک بادل اتنے زور سے گرجے اور روشنی چمکی کہ اس جی دار شخص کا بھی دل دہل کر گیا ۔ وہ بے ساختہ ٹھٹھک کر رک گیا ۔ کچھ دیر کو وہ سایہ اچانک روشنی میں نہا سا گیا ۔ ہیولے کے ہاتھ میں ایک ہتھوڑا تھا اور لکڑی کا ایک ڈنڈا جو کسی کھونٹے کے جیسا تھا ۔ اس کا لباس موسم کے مطابق نہیں تھا ۔ اس نے قمیص اور دھوتی پہن رکھی تھی ۔ وہ لباس کے معاملے میں خاصا لا پروا سا لگتا تھا ، یا شاید وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ موسم کا اثر جی داروں پر کم کم ہوتا ہے ۔ وہ بہر حال کسی خطرناک مہم پر نکلا ہوا تھا ۔ ارادے خطرناک معلوم ہوتے تھے ۔
چند لمحے رکنے اور اپنے خوف پر غالب آنے کے بعد اس نے پھر سے پیش قدمی شروع کر دی ۔ اب وہ پھر سے تاریک رات میں تاریکی کا حصہ بن گیا تھا ۔ وہ بے خوفی سے آگے بڑھا جا رہا تھا ۔ اب کی بار اس کی رفتار کچھ تیز ہو گئی تھی ۔ شاید وہ بارش سے قبل اپنی منزل پر پہنچ جانا چاہتا تھا ۔ نہیں چاہتا تھا کہ بارش سے اس کا پروگرام چوپٹ ہو کر رہ جائے ۔ سو اس کے قدم اب تیزی سے اٹھ رہے تھے ۔ کوئی دس بارہ منٹ مسلسل چلتے رہنے کے بعد ، وہ سایہ ایک تاریک سی دیوار کے قریب جا کر رک گیا ۔ یہ شاید کوئی اجاڑ سی جگہ لگتی تھی اور سب سے الگ تھلگ ۔ آس پاس کوئی عمارت نہ تھی ۔ وہ تھوڑی دیر وہاں کھڑا سن گن لیتا رہا اور پھر۔۔۔۔ برق رفتاری سے وہ اس چار دیواری پھلانگ گیا ۔ بھاری تن و توش کے باوجود اس کی پھرتی قابلِ دید تھی ۔ کسی شکاری جانور کی طرح وہ اچانک اچھلا تھا ۔ یوں جیسے پچکے ہوئے سپرنگ ہر سے دباؤ اچانک ہٹا لیا گیا ہو ۔ وہ اب وہ ایک قبرستان کے بیچ و بیچ کھڑا تھا ۔ گاؤں کا اکلوتا اور ” کرڑا ” قبرستان ۔ دن میں بھی لوگ جہاں جاتے ہوئے گھبراتے تھے ۔ بستی والے صرف مردہ دفن کرتے وقت وہاں جایا کرتے تھے اور وہ بھی بیسیوں لوگ ایک ساتھ اور دن کی روشنی میں ۔ مگر اس جی دار کو شاید اپنے آپ پر بلا کا اعتماد تھا ، جبھی تو مضبوط کاٹھی کا وہ دراز قامت شخص بڑی بے خوفی سے تاریک قبرستان میں یوں اتر گیا جیسے کوئی دروازہ کھول کر اپنے گھر کے صحن میں داخل ہو جائے ۔ رات کے اس پہر جب کہ پورا گاؤں گرم رضائیوں میں دبکا پڑا تھا ، کوئی ایسی تاریک اور ویران جگہ جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا مگر وہ ۔۔۔
پھر وہ ایک سمت کو ہو لیا ۔ کچھ آگے جا کر وہ ایک خستہ حال قبر کے پاس جا کر رک گیا ۔ شاید یہی اس کی منزل تھی ۔ اب اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا لکڑی کا ڈنڈا جس کا ایک سرا نوکیلا تھا ، قبر کے تعویز پر رکھا اور ہتھوڑے کی مدد سے اسے کیل کی طرح ٹھوکنے لگا ۔ وہ لکڑی کسی کھونٹے کے جیسے تھی ۔۔ ہوا اب تیز تیز چلنے لگی تھی ۔ اچانک سردی کی سنسناتی ہوئی لہر اس کے وجود میں تیرتی چلی گئی ۔ لمحہ بھر کو تو وہ بھی کپکپا اٹھا تھا ۔ پھر اس نے اپنے وجود کو سنبھالا اور جلدی جلدی لکڑی کا ٹکڑا قبر میں گاڑنے لگا ۔ اسے اس کام میں کچھ زیادہ دیر نہ لگی تھی ۔ اس کام سے فارغ ہو کر وہ مڑا ہی تھا کہ اسے زور کا جھٹکا لگا ۔ کسی نے اسے زور سے دھوتی پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا تھا ۔ ایک زوددار چیخ سناٹے کا سینہ چیرتی چلی گئی ۔۔ طویل اور شاید آخری ۔
اگلے دن قبرستان سے بستی والوں کو دلاور کی لاش ملی ۔ دلاور پہلوان کی لاش ۔ خاص بات یہ تھی کہ اس کی دھوتی کا ایک کونہ کھونٹے میں پھنسا ہوا تھا ۔۔۔
وہ شرط بھی ہار گیا تھا اور زندگی کی بازی بھی

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |