گِدھ
اس کی نظریں پھر سے آسمان کی وسعتوں میں کھو گئی تھیں۔ نیلا آسمان بے نیازی سے پھیلا تھا، جیسے زمین پر ہونے والی ہر اذیت سے بے خبر ہو۔ فضا میں کئی گِدھ اب بھی چکراتے پھر رہے تھے۔ ان کے دائرے کبھی تنگ ہوتے، کبھی پھیل جاتے—جیسے وہ زمین کے کسی راز پر نظر رکھے ہوئے ہوں۔ انہوں نے اپنے شکار کی بو پا لی تھی یا شاید وہ کسی متوقع شکار کے منتظر تھے؛ انتظار میں بھی ایک سفاک یقین چھپا ہوتا ہے۔
صبح سے یہ منظر بار بار اس کی نظروں سے آن ٹکراتا تھا، یا شاید اس کی نظریں خود اس منظر کے راستے میں آ جاتی تھیں۔ امتحان گاہ کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے بھی اسے یہی دائرے دکھائی دیتے رہے تھے۔ سوالیہ پرچے پر جھکی ہوئی آنکھوں کے پیچھے بھی گِدھوں کی پرچھائیاں منڈلاتی رہیں۔ جیسے کوئی اندیشہ اس کے لاشعور میں بسیرا کیے بیٹھا ہو۔
اس کا پیپر ختم ہو گیا تھا، مگر کوئی سواری اسے نہ مل سکی تھی۔ شہر کی فضا میں بے چینی تیر رہی تھی۔ شاید ابھی تک ہڑتال جاری تھی۔ ایک لڑکا لڑائی میں مارا گیا تھا۔ طلبہ نے لاش سڑک پر رکھ کر روڈ بلاک کر رکھی تھی۔ انصاف کے نام پر احتجاج تھا، مگر سڑکیں بند تھیں، راستے مسدود تھے، اور ہر شخص اپنی جان بچا کر نکلنے کی فکر میں تھا۔
“پیپر نہ ہوتا تو اتنا تردد کون کرتا…؟”
اس نے دل ہی دل میں سوچا تھا۔
کئی کلاس فیلوز کی لفٹ کی آفر وہ ٹھکرا چکی تھی—کسی کی ہنسی اسے کھوکھلی لگی تھی، کسی کی نیت مشکوک۔ وہ اپنی خودداری کو بوجھ نہیں بنانا چاہتی تھی، مگر اب پچھتاوا اس کے قدموں سے لپٹنے لگا تھا۔ تنہائی اکثر اصولوں کی قیمت مانگتی ہے۔
اس کے دل پر صبح سے گھبراہٹ کا غلبہ تھا، جو وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ اور اب تو وہ زور زور سے دھڑکنے لگا تھا—جیسے سینے کے پنجرے میں قید کوئی پرندہ صدائے احتجاج بلند کر رہا ہو۔ سڑک غیر معمولی طور پر سنسان تھی۔ ہوا میں عجیب سی گھٹن تھی، جیسے فضا بھی سانس روکے بیٹھی ہو۔
اچانک اس کے پاس ایک ویگن بڑے مشکوک انداز میں رکی۔ بریک کی چرچراہٹ نے سکوت کو چیر دیا۔ وہ سنبھلتی، اس سے پہلے ہی دو مردوں نے اسے بازوؤں سے پکڑ لیا۔ سب کچھ پلک جھپکتے میں ہوا۔ وہ چیخ بھی نہ پائی کہ اسے گیند کی طرح ویگن میں لڑھکا دیا گیا۔ دروازہ بند ہوا، انجن گرجا، اور گاڑی ہوا سے باتیں کرتی ہوئی دور نکل گئی۔
بعد کی کہانی مختصر ہے—مگر دل خراش۔
گاڑی شہر کی حدود سے نکل کر ایک انجان سنسان راستے پر جا پہنچی تھی۔ چلتی گاڑی میں وہ سب کچھ ہوا جس پر لفظ لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپتے ہیں۔ انسانیت نے اپنا چہرہ چھپا لیا۔ اس کے منہ پر لگی ٹیپ، پشت سے بندھے ہاتھ اور رسی سے جکڑے پاؤں—سب اس کی بے بسی کے گواہ تھے۔ وہ مزاحمت کرنا چاہتی تھی، مگر جسم قید تھا اور آواز محبوس۔
ایک نو دولتیے کی دوستی کی پیش کش ٹھکرانا کیا اتنا بڑا جرم تھا کہ وہ گِدھ اس کے نسوانی وقار کے پر نوچ ڈالتا؟ انا جب دولت سے مل جائے تو درندہ بن جاتی ہے۔
پھر جب اس نے اپنے مجرم کے ہاتھ میں چاقو چمکتا دیکھا تو اس کی آنکھیں خوف کے مارے حلقوں سے گویا باہر آ گئیں۔ دھوپ میں چمکتی دھار کسی فیصلے کی طرح سرد اور بے رحم تھی۔ ایک لمحہ—بس ایک لمحہ—اور پھر بے رحمی سے چاقو اس کے پیٹ میں اتار دیا گیا۔
گاڑی رکی۔ اسے ایک ویران میدان میں پھینک دیا گیا۔ دھول اڑی، گاڑی دور ہوتی گئی۔ وہ تڑپتی رہی—زندگی اور موت کے درمیان معلق۔ ہر سانس کسی نوکیلے پتھر پر رکھے قدم کی طرح تکلیف دہ تھی۔
تڑپتے تڑپتے اس کی نظریں ایک بار پھر آسمان کی جانب اٹھیں۔ وہی نیلا پھیلاؤ، وہی بے نیاز وسعت۔
فضا میں اڑتے گِدھوں میں یک دم ہلچل سی مچ گئی۔
ان کے دائرے سکڑنے لگے۔
زمین پر ایک اور شکار گر چکا تھا۔
Title Image by Herbert Aust from Pixabay

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |